Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 05)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

اس نے ایک ہاسپٹل کے سامنے گاڑی روکی تھی ۔۔

گاڑی سے نکل کر وہ اب اندر آیا تھا ۔۔ ریسیپشن پر جانے کےبجائے وہ لفٹ کی جانب بڑھا اور چوتھے فلور پر پہنچ گیا ۔۔

یہاں وہ پہلے ریسیپشن پر گیا تھا۔۔ جہاں ایک لڑکا بیٹھا کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔

’’ مجھے ڈاکٹر مایا سے ملنا ہے ۔۔ابھی ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ لڑکے نے اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔

’’ کیا آپ نے پائنمنٹ لی ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ مگر آپ انہیں بتائیں کہ مصطفی آیا ہے ‘‘ اس کا جواب سننے کے بعد اس نے ٹیلیفون کا ریسیور اٹھایا تھا۔

’’ ڈاکٹر مایا آپ سے ملنے کوئی مسٹر مصطفی آئے ہیں ؟ ‘‘ دوسری جانب جواب سنا تھا ۔۔

’’ اوک ‘‘ کہہ کر ریسیور واپس رکھا تھا ۔۔

’’ آپ جاسکتے ہیں ‘‘ اس نے کہا اور اپنے کام میں گم ہوگیا ۔۔ جبکہ مصطفی اب آگے بڑھا تھا ۔۔

وہ اپنے آفس میں بیٹھی ایک فائل پڑھ رہی تھی جب دروازہ کھلا اور مصطفی کا چہرہ سامنے آیا تھا ۔۔

’’ میں آجاؤں ؟ ‘‘ کہتے ہوئے وہ اندر آیا تھا ۔۔

’’ تم آچکے ہو مصطفی ‘‘ کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ ظاہر ہے ۔۔ تم نے مجھے انکار تھوڑی کرنا تھا ‘‘ کہتے ہوئے وہ بھی سامنے بیٹھ چکا تھا ۔۔

’’چائے پیو گے یا کافی ؟ ‘‘ ریسیور اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ‘‘ وہ سنجیدہ ہوا تھا ۔۔

’’ وہ تو میں سمجھ گئ ہوں ۔۔ تم کبھی ہسپتال نہیں آتے وہ بھی صرف مجھ سے ملنے ‘‘ کہتے ہوئے اس نے ریسیور واپس رکھا تھا ۔۔

’’ شام کا انتظار نہیں ہورہا تھا مجھ سے ۔۔ اس لئے آگیا ‘‘

’’ کہو ‘‘

’’ کیا تم نے کسی کو بتایا ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔مایا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ وہاں ایک خوف تھا ۔۔ جانے کس سے ؟ کیا مایا سے ؟

’’ کیا ؟ ‘‘ وہ سمجھی نہیں تھی ۔۔

’’ ہمارے یہاں آنے کا ۔۔ میرا مطلب ہے مایا ۔۔۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ ہم یہاں اکیلے نہیں ہیں ‘‘

’’ تم مجھ پر شک کر رہے ہو مصطفی ؟ ‘‘ اسے اچانک ہی غصہ آیا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ میں شک نہیں کر رہا ۔۔ میں صرف تم سے ایک سوال کر رہا ہوں مایا ۔۔ مجھے سمجھو ‘‘ وہ اسے اصل بات نہیں بتا سکتا تھا ۔۔

’’ کیا سمجھوں میں ؟ یہ کہ تم مجھ پر شک کر رہے ہو ؟ تمہیں لگتا ہے کہ میں امل کے بارے میں کسی کو بتاسکتی ہوں؟ ‘‘ وہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔ مصطفی بھی کھڑا ہوا تھا۔۔

’’ تم اوور ریئیکٹ کیوں کر رہی ہو مایا ۔۔ میں نے ایک آسان سا سوال کیا ہے ۔۔ تم مجھے سیدھا سیدھا جواب دے دو ؟ ‘‘ اسے واقعی مایا کا ردعمل سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔

’’ نہیں بتایا میں نے کسی کو بھی ۔۔۔ اب خوش ؟ جاؤ پلیز تم یہاں سے ‘‘ کہتے ہوئے اس نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔۔

’’ اوک ‘‘ وہ کہہ کر اس کے آفس سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔ جبکہ مایا اب دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھی اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا ۔۔۔

اسی وقت اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ اس نے کال کرنے والے کا نام پڑھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔ اس نے کال کٹ کر دی تھی ۔۔ وہ اس وقت بات نہیں کرسکتی تھی ۔۔ مصطفی نے اسے الجھا دیا تھا ۔۔۔

مایا کے آفس سے نکل کر اب وہ مزید پریشان ہوگیا تھا ۔۔ اسے مایا کا ردعمل کچھ عجیب لگ رہا تھا ۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس سے کچھ چھپا رہی ہو ؟ مگر کیا ؟؟ اور یہی چیز اسے مزید ڈرا رہی تھی ۔۔ وہ امل کے لئے فکرمند تھا ۔۔



یہ شیشے کی بنی ایک شانداز عمارت تھی ۔۔ جس کے چوتھے فلور پر آؤ تو یہاں پورا سٹاف اپنے اپنے کام میں مصروف نظر آرہا تھا۔۔ کسی کی نظریں کمپیوٹر اور ہاتھ کی۔بورڈ پر چل رہے تھے ، کوئی پرنٹر سے بہت سارے پیپرز نکال رہا تھا ۔۔ کوئی فائلز کا بنڈل لے کر یہاں سے وہاں جارہا تھا ، تو کوئی ٹیلیفون کان سے لگائے ہاتھوں سے کچھ لکھنے میں مصروف تھا ۔۔ دیکھو تو یہاں ہر انسان اپنے اپنے کام میں مصروف اور ایک دوسرے سے لاپرواہ نظر آرہا تھا ۔۔۔ ایسے میں لفٹ کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک شخص باہر آتا ہے ۔۔ درمیانی عمر ، بلو پینٹ کوٹ پہنے ، ہاتھ میں ایک فائل پکڑے وہ سیدھا چلتا ہوا ان سب کے درمیان سے گزرتا ایک آفس کے سامنے پہنچا تھا ۔۔ اس نے رک کر اپنی ٹائی ٹھیک کی ۔۔ اور ایک لمبی سانس لے کر دروازے پر ناک کیا تھا ۔۔

’’ کم ان ‘‘ بے حد سنجیدہ آواز آئی تھی ۔۔ اور اس شخص نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا ۔۔

اس بلڈنگ کی طرح یہ آفس بھی شاندار اور کافی بڑا تھا ۔۔۔ جہاں کی ہر شے قیمتی تھی ۔۔۔ مگر میز کی دوسری جانب بیٹھا شخص نہایت ہی سنجیدہ تھا ۔۔ وہ شخص اب اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔

’’ ماسٹر ‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا تھا ۔۔ اور سامنے بیٹھے شخص نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ کیا رپورٹ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ میں نے ان سب کی معلومات جمع کر لی ہے ماسٹر ‘‘ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل انکی جانب بڑھائی تھی ۔۔ جسے ماسٹر نے لے کر کھولا اور اب وہ اس میں موجود کاغذات کو دیکھ رہا تھا ۔۔

’’ اس لڑکی کا نام شانزے ہے ۔۔ یہ اور امل ۔۔۔ ‘‘ ماسٹر نے اسے سخت نظروں سے دیکھا تھا ۔۔

‘’ میرا مطلب ہے میڈم ۔۔۔ سوری ماسٹر ‘‘ وہ ڈر گیا تھا ۔۔

’’ کہو ‘‘ کہتے ساتھ ہی وہ دوبارہ فائل کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔

’’ شانزے اور میڈم کالج فرینڈز ہیں ۔۔ ایک نارمل گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ۔۔ گھر میں صرف والدین کے علاوہ ایک بھائی اور بھابھی بھی ہے ۔۔۔ پہلا لڑکا احمد ہے ۔۔ اسکا تعلق بھی ایک عام گھرانے سے ہے ۔۔ ایک بہن ہے اسکی جوکہ چھوٹی ہے ۔۔ تعلیم اپنی مکمل کرچکا ہے۔۔ یہ شانزے کا منگیتر ہے اور اس تیسرے شخص کا اسسٹنٹ اور ڈرائیور ہے ۔۔ اس کے علاوہ وہ دونوں بہت اچھے دوست بھی ہیں ۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ ماسٹر نے اب فائل کا ایک اور صفحہ پلٹا تھا ۔۔ وہاں ان تینوں کی تصاویر تھیں ۔۔۔ اس نے تیسرے شخص کی تصویر اٹھائی تھی ۔۔

’’ اور یہ کون ہے ؟ ‘‘ تصویر پر نظر جماتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ اس کا نام فرہاد ہے ۔۔ یہی کا رہنے والا ہے ۔۔ اکیلا رہتا ہے ۔۔ والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا ۔۔ دولت کی کمی نہیں ہے ۔۔ باپ کافی دولت چھوڑ گیا تھا اسی کو استعمال کر کے اپنی تعلیم پوری کر رہا ہے اور اس کے بعد میڈیا جوائن کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔۔ اس کی میڈیا میں اچھی جان پہچان بھی ہے ‘‘ اس نے رک کر ایک گہری سانس لی تھی ۔۔۔ ماسٹر اب بھی تصویر کو گھور رہے تھے ۔۔

’’ مگر ۔۔۔۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ ہچکچا رہا تھا ۔۔ جانے کیوں ؟

’’ مگر ؟ ‘‘ ماسٹر نے اسے دیکھے بنا پوچھا تھا ۔۔

’’ یہ معلومات نکلی ہے ۔۔ ‘‘ اس کی بات پر ماسٹر نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ جب میں اس کی تحقیقات کر رہا تھا ۔۔ تو مجھے معلوم ہوا کہ گزرے ہوئے تین مہینوں کا کوئی رکارڈ نہیں ہے۔۔ وہ ان تین مہینوں میں گھر نہیں تھا ۔۔۔ جب میں نے اسکی گہرائی سے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ وہ شہر سے باہر تھا ۔۔۔ ماسٹر ۔۔۔ ‘‘ وہ پھر سے رکا تھا ۔۔ اور ماسٹر کو لگا کہ وہ کوئی دھماکہ کرنے والا ہے ۔۔۔

’’ وہ شہزاد شاہ کے ساتھ کام کرتا ہے ۔۔۔ وہ تین مہینے وہی تھا ‘‘ اور دھماکہ ہوگیا تھا ۔۔ ماسٹر اپنی جگہ سے فوراً کھڑا ہوا تھا۔۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا اسے یقین ہے ؟ مگر وہ پوچھ نہیں سکا ۔۔ کیونکہ اسکا دل اور دماغ اس بات پر یقین کر چکے تھے ۔۔۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے جانے کا اشارہ دیا تھا ۔۔ وہ شخص فوراً آفس سے باہر نکلا تھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ وہ اپنے آپ پر مزید قابو نہیں کر پایا ۔۔۔ پھر۔۔ میز پر رکھی ساری چیزیں ایک زور دار آواز کے ساتھ نیچے گری تھیں ۔۔۔

دونوں ہاتھ میز پر ٹکائے ۔۔ وہ سر جھکائے لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا ۔۔۔ پھر اس کی نظر زمین پر گری ایک تصویر پر پڑی تھی ۔۔

امل اس لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔ مسکراتی ہوئی ۔۔۔

وہ جنونی انداز میں آگے بڑھا ۔۔ وہ تصویر اٹھائی ۔۔ اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے ۔۔

اب وہ اس لڑکے کے ساتھ نہیں تھی ۔۔ اب دونوں الگ تھے ۔۔۔

’’ یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا ‘‘ امل کی تصویر کو دیکھتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا ۔۔ آواز خطرناک حد تک سنجیدہ تھی ۔۔ آنکھیں لال تھیں ۔۔۔ اور پہلی بار ۔۔ ہاں ۔۔۔ پہلی بار اسے امل مسکراتی ہوئی بری لگی تھی ۔۔ بہت بری ۔۔۔



وہ یونیورسٹی سے واپس آئی تو گھر پر کوئی نہیں تھا ۔۔ وہیں لاؤنچ کے صوفے پر وہ سر پکڑے بیٹھ گئ تھی ۔۔۔ اسے اب بھی خوف آرہا تھا ۔۔ اور اسے اب خوف کیوں آرہا تھا ؟ اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا بات پریشان کر رہی تھی ۔۔؟ وہ تو خود اس کے پاس گئ تھی ۔۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ شہزاد شاہ کا بندہ ہے ۔۔ اسے اس شخص سے خطرہ ہے۔۔ وہ اسے پہچان لے تو مار دیگا ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ وہ مطمئن تھی کہ اس نے اسے پہچانا نہیں تھا ۔۔۔ اس رات وہ لوگ اسکا چہرہ نہیں دیکھ سکے تھے ۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے نہیں پہچانے گا ۔۔۔ مگر آج ان تین مہینوں کے ذکر پر اسے اس شخص سے خوف آرہا تھا ۔۔۔ مگر اسے خوف کیوں آرہا ہے ؟ وہ تو اب مرنے سے بھی نہیں ڈرتی تھی ۔۔۔ پھر اس شخص سے کیوں ۔۔؟؟

جانے کتنی ہی دیر اسی سوچ میں گزری تھی ۔۔۔ کسی کا ہاتھ اپنے کاندھے پر محسوس کر کے وہ چونکی تھی ۔۔

اس نے دیکھا ۔۔۔ سامنے مصطفی کھڑا اسے سوالیاں نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔

‘‘ تم آج جلدی آگئ ؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ‘‘ وہ اس کے لئے فکرمند تھا ۔۔۔

’’ ہاں ۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔۔ ‘‘ تھکے ہوئے انداز میں کہا تھا ۔۔۔ مصطفی اب اسکے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔۔

’’ کیا ہوا طبیعت کو ؟ ‘‘

’’ سر میں درد ہے ‘‘ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہاتھا ۔۔

’’ اصل بات بتاؤ امل ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ اور امل نے گہری سانس لی تھی ۔۔

’’ وہ آج مجھ سے مدد مانگ رہا تھا ‘‘ اس نے سر جھکا کر کہا تھا ۔۔

’’ کیسی مدد ؟ ‘‘

’’ وہ تین مہینے یونیورسٹی نہیں آیا تھا ۔۔۔ اسے پریویس اسائنمنٹس چاہئے تھے ‘‘ امل نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور مصطفی نے دیکھا ۔۔ اسکی آنکھیں لال تھیں ۔۔

’’ تم تو جانتی تھی سب ۔۔ پھر اب کس بات نے حیران کیا ہے تمہیں ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ وہ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔ جیسے اسے پڑھ رہا ہو۔۔۔

’’ ہاں ۔۔ ٹھیک کہا تم نے ۔۔ میں تو سب جانتی تھی مصطفی ۔۔ مگر اس کے منہ سے سننے کے بعد ۔۔۔ جانے مجھے کیا ہوگیا ؟ وجود کانپنے لگا تھا میرا ۔۔ مجھے اس سے خوف آنے لگا تھا مصطفی ‘‘ وہ اپنی ہی حالت پر حیران تھی ۔۔

’’ تم خوفزدہ نہیں ہو سلیپنگ بیوٹی ‘‘ مصطفی نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

’’ میں ہوں ۔۔ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔۔

’’ نہیں ہو ۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہا تھا۔۔۔

’’ مگر مجھے محسوس ہورہا ہے ‘‘ وہ اسے حیرانگی سے دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔

’’ غلط ہورہا ہے ۔۔ تم اس سے خوفزدہ نہیں ہو ۔۔ تم بس اس رات سے خوفزدہ ہو ۔۔۔ وہ رات تمہاری کمزوری ہے امل ۔۔۔ اسے یاد کرتی ہو ۔۔ اسے تازہ کرتی ہو تو دوبارہ اسی حالت میں پہنچ جاتی ہو تم ۔۔ تمہیں اگر کسی سے خوف ہے تو وہ بس وہ رات ہے ۔۔ تمہیں اس رات کو تازہ ہونے سے روکنا ہوگا بیوٹیفل گرل ‘‘ نرمی سے ایک ایک لفظ ادا کیا تھا ۔۔ امل کچھ دیر اسے دیکھتی رہی تھی۔۔۔

’’ مگر میں اسے بھول نہیں سکتی مصطفی ‘‘

’’ میں جانتا ہوں اس رات کو بھولنا تمہارے لئے ناممکن ہے ۔۔۔ مگر تم اسے اپنی کمزوری مت بناؤ ۔۔ بلکہ اسے اپنی طاقت بنا لو ۔۔۔ ایسے جیسے اسے یاد کر کے تمہارا وجود کانپنے کے بجائے تمہیں حوصلہ دے ۔۔ ‘‘ اس کی بات پر امل بے اختیار مسکرائی تھی۔۔

’’ وہ رات مجھے حوصلہ کیسےدے سکتی ہے مصطفی ؟ ‘‘ انداز مزاق اڑانے والا تھا ۔۔

’’ بلکل دے سکتی ہے ۔۔ زندگی کے دیئے ہوئے درد آپکو توڑ ضرور دیتے ہیں ۔۔۔ مگر اس کے بعد آپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں ۔۔ کیونکہ پھر انسان اپنی رفوگری خود کرتا ہے ۔۔۔‘‘ وہ رکا تھا ۔۔۔ اور پھر مسکرا کر امل کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔

’’ اور جو انسان اپنی رفوگری کرنا سیکھ لے ۔۔۔ اسے زندگی بھی دوبارہ توڑ نہیں پاتی ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔۔ اور کچھ دیر کے لئے امل ٹھہر گئ تھی ۔۔۔ مصطفی کے الفاظ اس کے دل پر اثر کر رہے تھے ۔۔

’’ یہ مشکل ہے ۔۔ مگر جانتی ہوں کہ ناممکن نہیں ہے ۔۔۔ ‘‘ وہ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

’’ کیا لنچ نہیں کرواؤگے مجھے ؟ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور مصطفی کا منہ بن چکا تھا ۔۔۔

’’ تم ایک کام کرو ۔۔۔ واپس بیٹھ جاؤ ۔۔ ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کیوں ؟ ‘‘ وہ انجان بنی تھی ۔۔

’’ کیونکہ اب تم نے میری جیب پر نظر رکھنی شروع کردی ہے ‘‘ اس نے کہا تھا اور امل مسکرائی تھی ۔۔

’’ ہاں تو کیوں نہ رکھو ۔۔۔ دوست ہوتے ہی اسی لئے ہیں ۔۔۔ چلو اب ‘‘ وہ اب دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔

’’ واہ ۔۔ لنچ کی بات آئی تو فوراً دوستی یاد آگئ ۔۔۔ دونوں ایک ہی جیسے ہو ‘‘ گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے وہ اس کے پیچھے آیا تھا ۔۔

’’ کون دونوں ؟ ‘‘

‘’ تم اور ماسٹر ‘‘ کہتے ساتھ ہی اس نے گاڑی کا دروازہ اسکے لئے کھولا تھا ۔۔

’’ پلیز ۔۔۔ اپنے اس ماسٹر کا ذکر کر کے میرا موڈ نہ خراب کرو ‘‘ کہتے ساتھ وہ اندر بیٹھی تھی ۔۔

’’ اوک میم ‘‘ وہ بھی اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا ۔۔ کچھ دیر بعد گاڑی وہاں سے آگے نکل چکی تھی ۔۔

اور اسی سڑک پر کافی پیچھے ایک اور کار کھڑی تھی ۔۔۔ جس میں موجود شخص نے ان کے جانے کے بعد گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔ ساتھ ہی موبائل پر کسی کو کال ملائی تھی ۔۔

’’ کام ہوگیا ہے باس ۔۔ میں آرہا ہوں بس ‘‘ کہہ کر اس کے کال کٹ کی تھی ۔۔ اور گاڑی کا رخ دوسری جانب موڑ دیا تھا ۔۔



وہ اس وقت ٹیرس پر رکھی کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔ نظریں آسمان کی جانب تھیں۔۔ اور سوچ ۔۔۔ وہ بس ایک ہی انسان پر اٹکی تھی ۔۔۔ امل ۔۔۔ امل۔۔۔ امل ۔۔۔ بس یہی ایک نام اس کے دماغ میں گونج رہا تھا ۔۔۔ وہ بہت خوبصورت ہے ۔۔ جب پہلی بار اس پر نظر پڑی تو اس کے دماغ میں آنے والا پہلا خیال ہی یہی تھا ۔۔ وہ بہت سادہ تھی ۔۔ اور اس سادگی میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ پھر جب اس نے ساتھ بیٹھنے کا پوچھا ۔۔ تو وہ انکار نہیں کر سکا ۔۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی کے ساتھ بیٹھا ہو ۔۔ وہ ہمیشہ اکیلے بیٹھنا پسند کرتا تھا ۔۔ اگر مجبوری میں کسی کو ساتھ بٹھایا ہی ہو تو وہ کوئی لڑکی نہیں ہوسکتی تھی ۔۔ اسے لڑکیوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔۔۔ کیونکہ اس کی دلچسپیاں تو کہیں اور تھیں ۔۔۔ اور یہی خیال اسے پریشان کر رہا تھا ۔۔ کہ کہی وہ ان دلچسپیوں کا حصہ تو نہیں تھی ؟

وہ لڑکی ۔۔۔۔ اس رات ۔۔ وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا ۔۔ مگر اسے آج بھی یاد تھا ۔۔ اسکا بھاگنا ۔۔ اپنی جان بچانے کے لئے ۔۔ وہ بھاگ رہی تھی ۔۔ زخمی حالت میں بھی وہ رکی نہیں تھی ۔۔ درد میں بھی وہ ہمت نہیں ہاری تھی ۔۔ اور اس کی یہی ہمت اسکی ہمت توڑ گئ تھی ۔۔۔ وہ اسکا چہرہ نہ دیکھ کر بھی دیکھ رہا تھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں کرب ۔۔۔ وہی کرب اسکا سکون چھین چکا تھا ۔۔ اس نے اس لڑکی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی ۔۔ مگر وہ اسے کہیں نہیں ملی تھی ۔۔ مگر وہ مطمئن تھا ۔۔ اسے یقین تھا کہ وہ جہاں بھی ہوگی ۔۔ اس جیسے لوگوں سے مخفوظ ہوگی ۔۔ وہ زندہ ہوگی ۔۔ اور کہی نہ کہی شاید وہ چاہتا تھا ۔۔ کہ وہ زندہ ہو ۔۔۔ کیونکہ ضمیر ایک اور بوجھ برداشت نہیں کرپائے گا ۔۔

مگر آج ۔۔۔ آج اسے اس کرب کی ایک جھلک ۔۔۔ صرف ایک ہلکی سی جھلک امل کی آنکھوں میں دکھائی دی تھی ۔۔ اور وہ ڈر گیا تھا ۔۔۔ امل وہ نہیں ہوسکتی ۔۔ امل وہ نہیں ہونی چاہئے ۔۔ وہ اتنی معصوم صورت نہیں ہوسکتی ۔۔ امل تو وہ پہلی لڑکی تھی جس کے لئے دل کچھ محسوس کرنے لگا تھا ۔۔۔ امل تو ایسی تھی کہ اسے دیکھتے ہی اسکی حفاظت کرنے کا دل چاہتا تھا ۔۔۔ اس کے ساتھ رہنے کا دل چاہا تھا ۔۔ اس سے باتیں کرنے کا دل چاہا تھا ۔۔ اور اس کی پسند بننے کا دل چاہا تھا ۔۔ امل وہ کیسے ہوسکتی ہے ؟

’’ اور اگر وہ امل ہی ہوئی تو ۔۔۔ ؟ تو کیا کروگے تم ؟ ‘‘ دل نے ایک سوال کیا تھا اور اس سوال پر وہ ڈر گیا تھا ۔۔۔

’’ نہیں ۔۔ وہ امل نہیں ہوگی ۔۔ ایسا نہیں ہوگا ‘‘ اس نے اپنے آپ کو تسلی دی تھی ۔۔

’’ اور اگر ہوئی تو کیا کروگے تم ؟ ‘‘ اب کی بار دماغ نے سوال کیا تھا۔۔۔ یہ دل اور دماغ بھی کبھی کبھی ایک ہی بات کرتے ہیں ۔۔۔ اور ایسا ہوجائے تو انسان دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔۔

اگر ایسا ہوا تو ؟؟ اسکا جواب وہ خود سے نہیں لے پارہا تھا ۔۔۔ اسکے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔۔۔ ان تین مہینوں میں اس نے صرف ایک ہی دعا کی تھی ۔۔ کہ وہ لڑکی اسے کبھی نہ ملے ۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا ۔۔ کہ اگر وہ لڑکی اسے مل گئ تو ناچاہتے ہوئے بھی ۔۔ اسے مارنا ہوگا ۔۔۔ یا پھر۔۔۔ اسے شہزاد شاہ کے حوالے کرنا ہوگا ۔۔۔

تو کیا وہ امل کو مار دے گا ؟؟ تو کیا وہ اسے شہزاد شاہ کے حوالے کر دے گا ؟ اس نے خود سے پوچھا تھا ۔۔ اور دوسری جانب۔۔ خاموشی تھی ۔۔۔ مکمل خاموشی ۔۔۔

’’ باس ؟ ‘‘ اور اس خاموشی کو ایک آواز نے توڑا تھا ۔۔۔ وہ جھٹکے سے سیدھا ہوا تھا ۔۔ سامنے احمد کھڑا تھا ۔۔ جانے وہ کب یہاں آیا تھا ؟

’’ تم کب آئے ؟ ‘‘ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ بس ابھی ہی آیا ہوں ۔۔۔ تم ٹھیک ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ ٹھیک ہوں میں ۔۔ کیا معلومات ملی تمہیں ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ انداز سنجیدہ تھا ۔۔ اور دل پھر سے دعا کرنے لگا تھا ۔۔ امل وہ نہ ہو ۔۔۔ امل وہ نہ ہو ۔۔

’’ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کچھ ؟ ‘‘ احمد نے ایک سوال کرنا چاہا تھا ۔۔ اسے اب بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ فرہاد نے اسے کیوں امل کی انفارمیشن نکالنے کا کہا ہے ؟

’’ نہیں احمد ۔۔ پلیز ابھی مجھ سے کوئی سوال مت کرو ۔۔۔ مجھے صرف وہ سب بتاؤ جو تم نے معلوم کیا ہے ‘‘ اس کے جواب پر احمد نے اسے غور سے دیکھا تھا ۔۔ وہ بہت بے چین لگ رہا تھا ۔۔

’’ اوک ‘‘ اس نے کہہ کر ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ اور فرہاد کی سانس رک گئ تھی ۔۔۔

’’ وہ اسکول لائف سے یہی رہتی ہے ۔۔ اکلوتی ہے ۔۔ پڑھائی میں بھی بہت اچھی رہی ہے ۔۔ اس کے فادر ایک ہوٹل کے مینیجر ہیں ۔۔ گریجویشن کے فوراً بعد انکا ٹرانسفر ناران میں ہوگیا تھا ۔۔ تو وہ اسے لے کر ناران چلے گئے تھے ۔۔ میں نے رکارڈ نکلوایا ہے ۔۔ وہ چار مہینے ناران اپنی فیملی کے ساتھ رہی اور پھر ماسٹرز کے لئے واپس ابھی کچھ دن پہلے ہی یہاں واپس آئی ہے ۔۔۔‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔ اور فرہاد نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔

’’ مگر ۔۔۔ ایک بات عجیب ہے ‘‘ احمد نے کہا تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘

’’ وہ یہاں اپنے گھر میں رہنے کے بجائے کسی فلیٹ میں رہ رہی ہے ۔۔ وہاں اس کے ساتھ میں نے ایک لڑکے کو بھی دیکھا ہے ۔۔۔جبکہ جہاں تک مجھے شانزے نے بتایا تھا ۔۔ وہ میریڈ نہیں ہے ‘‘ احمد کی بات پر فرہاد کے چہرے کے تعصورات خطرناک حد تک بگڑے تھے ۔۔

’’ تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ‘‘ سخت لہجے میں کہا تھا ۔۔

’’ میں نے صرف وہ کہا جو میں دیکھ کر آیا ہوں ۔۔ ابھی بھی وہ اسی لڑکے کے ساتھ لنچ کرنے گئ ہے ۔۔ میں نے خود دونوں کو جاتے دیکھا تھا ‘‘ اور احمد کی بات پر جانے کیوں مگر اسے بے حد غصہ آیا تھا ۔۔

’’ تم جاسکتے ہو ‘‘ کہتے ساتھ وہ کھڑا ہوا تھا ۔۔ چہرہ غصے سے لال تھا ۔۔

’’ تمہیں کیا ہوا ؟ ‘‘ احمد اسے حیرانگی سے دیکھتا کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ جاؤ احمد ‘‘ اس بار آواز اونچی تھی اور احمد خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔ وہ جانتا تھا کہ فرہاد غصے میں آپے سے باہر ہوجاتا تھا ۔۔ مگر اسے اب بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ اسے غصہ کس بات پر آیا ہے ۔۔۔ ؟؟



وہ جب یونیورسٹی پہنچی تو کلاس شروع ہوچکی تھی ۔۔ جلدی سے اندر آکر وہ سب سے پیچھے رکھی خالی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ جبکہ دائیں جانب موجود فرہاد نے اسے سوالیاں نگاہوں سے دیکھا تھا ؟ وہ اس کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھی تھی آج ؟ جبکہ وہ اسکا انتظار کررہا تھا۔۔ مگر امل کی توجہ اپنے بیگ سے نوٹ بک نکالنے کے بعد پروفیسر کے لیکچر پر تھی ۔۔ آج وہ بہت ریلیکس تھی ۔۔ مصطفی کی باتوں نے اسے واقعی بہت حوصلہ دیا تھا ۔۔۔

لیکچر کے درمیان ہی اسے محسوس ہوا کہ اس کے ساتھ بیٹھا شخص اپنی جگہ سے دبے پاؤں اٹھا تھا ۔۔ اور پھر کوئی اور وہاں آکر بیٹھا تھا۔۔۔ اس نے اب اسکی جانب دیکھا اور وہ حیران رہ گئ ۔۔۔ فرہاد اس کے ساتھ آکر بیٹھ چکا تھا ۔۔ اور اسکی توجہ پروفیسر پر تھی ۔۔ ایسے جیسے جانے کب سے وہ یہاں بیٹھا انہیں کو سن رہاہو ؟ امل نے کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد اپنی توجہ بھی پروفیسر کی جانب کی تھی ۔۔

’’ کیسی ہیں آپ ؟ ‘‘ دھیمی آواز تھی ۔۔ وہ اسکی جانب دیکھ نہیں رہا تھا ۔۔ مگر بات اس سے ہی کر رہا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ۔۔ اور آپ ؟ ‘‘ اس نے بھی بنا دیکھتے پوچھا تھا ۔۔

’’ بے چین ہوں ‘‘ سچائی سے جواب دیا گیا تھا ۔۔

’’ کیوں ؟ ‘‘

’’ آپکی وجہ سے ۔۔ ‘‘ اور اس جواب نے امل کو اسکی جانب دیکھتے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔ وہ اب بھی پرسکون تھا ۔۔ مگر امل کو اسکا جواب سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔ کیا وہ اسے پہچان چکا ہے ؟

’’ میری وجہ سے ؟ ‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا تھا ۔۔

’’ جی ۔۔ آپ کی وجہ سے ‘‘ اس نے اب امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔ کچھ دیر دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھتے رہے تھے جب فرہاد نے یہ خاموشی توڑی تھی ۔۔

’’ کیا آپ میرے ساتھ کافی پیئے گیں ؟ ‘‘ اور اسکے سوال پر امل مسکرائی تھی ۔۔

’’ شیور ‘‘

اور پھر کلاس ختم ہونے کے کچھ دیر بعد وہ دونوں کیفے ٹیریا میں ساتھ بیٹھے تھے ۔۔ دونوں کے سامنے کافی کے کپ رکھے تھے جس میں سے بھاپ نکل رہی تھی ۔۔ یقیقناً وہ کافی گرم تھی ۔۔

’’ ویسے یہ عجیب نہیں ہے ؟ ‘‘ فرہاد نے اسے کہا تھا ۔

’’ کیا ؟ ‘‘

’’ یہی کہ ہم دوست بن چکے ہیں اور پھر بھی ہم ایک دوسرے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ؟ ‘‘ اس کے الفاظ پر امل نے حیران ہوکر اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ کیا ہم دوست بن چکے ہیں ؟ ‘‘ جو سوچ رہی تھی وہ کہہ بھی دیا تھا ۔۔

’’ تو کیا نہیں بن سکتے ؟ ‘‘ سوال کے جواب میں بھی سوال ہوا تھا ۔۔

’’ آفکورس ۔۔ کیوں نہیں ‘‘ امل نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ یہی تو وہ چاہتی تھی ۔۔

’’ تو پھر بتائیں ۔۔‘‘ فرہاد نے آگے کی جانب جھک کر کہا تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘ وہ سمجھی نہیں تھی ۔۔

’’ جو دوستوں کو ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے ۔۔۔ اپنے بارے میں بتائیں امل ‘‘ فرہاد اب اس کے منہ سے سب سننا چاہتا تھا ۔۔ جو بات اسے کل سے پریشان اور بے چین کر رہی تھی ۔۔ وہ اسے کلئیر کرنا چاہتا تھا ۔۔

’’ پہلے آپ بتائیں ۔۔۔ ‘‘ امل نے کہا تھا ۔۔

’’ اوک ۔۔ ‘‘ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔۔

’’ میرا نام فرہاد ہے ۔۔ یہاں اکیلا رہتا ہوں ۔۔ میں بہت چھوٹا تھا جب میرے پیرینٹس کا انتقال ہوا تھا ۔۔ پاپا لائر تھے ۔۔ اس لئے مجھے انکے بعد کوئی خاص مشکلات کا سامنا نہیں کرناپڑا ۔۔ انہیں کے پیسوں سے تعلیم مکمل کر رہا ہوں ۔۔ ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔ شاید اسے پاپا یاد آئے تھے ۔۔

’’ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ۔۔ کوئی جاب وغیرہ ؟ ‘‘ وہ اس سے جو جاننا چاہتی تھی وہ پوچھ بھی رہی تھی ۔۔

’’ جرنلسٹ بننے کا ارادہ ہے ۔۔ میڈیا جوائن کرونگا ۔۔ فلحال تو اسی مقصد کے لئے محنت کررہا ہوں ‘‘ کاندھے اچکا کر کہا تھا۔۔

’’ گڈ ‘‘ کاپی کا ایک سپ لیتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اب آپکی باری ‘‘ وہ اب دوبارہ آگے کو جھکا تھا ۔۔۔ امل دیکھ سکتی تھی ۔۔ اسکی آنکھوں میں بے چینی تھی۔۔

’’ میرا نام امل ہے ۔۔ ماما ہاؤس وائف ہیں اور پاپا ایک ہوٹل کے مینیجر ہیں ۔۔ کچھ مہینے پہلے انکا ٹرانفسر ناران کی برانچ میں ہوا اور ہم تینوں وہان چلے گئے ۔۔ ماما کی خواہش تھی کہ میں اپنی ڈگری کمپلیٹ کروں ۔۔ تو انہوں نے مجھے یہاں بھیج دیا پڑھنے کے لئے ۔۔ حالانکہ میں یہاں آنا نہیں چاہتی تھی ۔۔ مگر انکی خواہش مجھے یہاں لے آئی ‘‘ وہ کہہ کر خاموشی ہوئی ۔۔ آخری الفاظ کہتے ساتھ اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔ فرہاد سمجھ چکا تھا کہ اسے اپنے پیرنٹس کی یاد آرہی ہے ۔۔

’’ تو ۔۔ یعنی آپ بھی اکیلی رہتی ہیں ؟ ‘‘ فرہاد نے پوچھا تھا ۔۔

’’ نہیں ۔۔ ‘‘ اس نے کہا تھا ۔۔

’’ پھر ؟؟ ‘‘ اور یہی تو وہ سوال تھا جسکا جواب فرہاد کے لئے بے حد ضروری تھا ۔۔۔

’’ میں گھر میں اکیلی نہیں رہنا چاہتی ۔۔ اس لئے اپنے کزنز کے فلیٹ میں انکے ساتھ رہتی ہوں ۔۔ ‘‘ کافی کا ایک اور سپ لیتے ہوئے اس نے فرہاد کی جانب غور سے دیکھا تھا ۔۔ وہ کچھ حیران ہوا تھا ۔۔

’’ کزنز ؟؟ ‘‘ اس نے زور دے کر پوچھا تھا ۔

’’ یس ۔۔ میرا ایک میریڈ کزن کپل یہاں رہتا ہے ۔۔ انہیں کے فلیٹ میں رہ رہی ہوں میں ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔ اور فرہاد نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔

’’ احمد ۔۔۔ تم تو گئے ۔۔۔ ‘‘ اس دل میں احمد کو دھمکی دی تھی ۔۔

’’ گڈ ‘‘ اور پھر وہ کہتا ہوا مسکرایا تھا ۔۔۔ امل بھی مسکرائی تھی ۔۔۔ دونوں اب اپنی کلاس کی جانب جارہے تھے ۔۔

فرہاد کے چہرے پر اب کوئی بے چینی نہیں تھی ۔۔ وہ مسکرا رہا تھا ۔۔

اور امل اسکی مسکراہٹ دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔۔ اسے گزری ہوئی رات یاد آئی تھی ۔۔ جب مصطفی اس کے پاس آیا تھا ۔۔

’’ یہ لو ‘‘ ایک فائل اسکی جانب بڑھائی تھی ۔۔

’’ یہ کیا ہے ؟ ‘‘ اس کے ساتھ سے فائل لیتے ہوئے امل نے پوچھا تھا ۔۔

’’ تمہاری ڈیٹیلز ہیں ۔۔ تمہارا بیک گراؤنڈ اور پاسٹ ۔۔ سب کچھ اس میں موجود ہے ۔۔ اس پورے ڈیٹے کو یاد کرلو تم ‘‘ اس کی بات پر امل نے حیران ہوکر اسے دیکھا تھا ۔۔

’’ میں اپنے بارے میں سب جانتی ہوں مصطفی ۔۔ مجھے کیا ضرورت ہے کچھ یاد کرنے کی ؟ ‘‘ فائل رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ مجھے معلوم ہے ۔۔ مگر یہ وہ ڈیٹیلز ہیں تو تمہیں انوسٹیگیٹ کرنے کے بعد کسی کو معلوم ہونگی ۔۔۔ اس لئے انہیں یاد کرو۔۔۔وہ فرہاد ۔۔۔ اب تک یہ سب جان چکا ہوگا ‘‘ مصطفی کی بات پر اس نے سمجھ کر سر ہلایا تھا ۔۔

’’ تم تو بہت کام کے بندے ہو ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ تمہاری حفاظت کرنا تو میرا اولین فریضہ ہے سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ ‘‘ اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا ۔۔ وہ ہنسی تھی ۔۔

’’ اور اس میں فرہاد کی بھی ڈیٹیلز ہیں ۔۔ وہ ۔۔ جو وہ تمہیں بتائے گا ۔۔۔ ‘‘ اب وہ دوبارہ حیران ہوئی تھی ۔۔

’’ اور تمہیں کیسے معلوم کہ وہ مجھے کیا بتائے گا ؟ ‘‘ اس نے پوچھاتھا ۔۔

’’ کیونکہ میں مصطفی ہوں بیوٹیفل گرل ۔۔ تمہاری پاسٹ ہائیڈ کرسکتا ہوں ۔۔ تو کسی اور کا پریزنٹ ہیک بھی کرسکتا ہوں۔۔‘‘ فخریہ انداز میں کہا تھا ۔۔

’’ اوہ ۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ تمہارا کام کتنا پائیدار ہے ‘‘ اس نے کہا تھا ۔

’’ ضرور دیکھنا ۔۔ اور ایک اور بات ۔۔ ‘‘ مصطفی جاتے جاتے رکا تھا ۔۔

’’ میں اور مایا ۔۔ میریڈ کپل ہیں ۔۔ ‘‘ اور مصطفی کی اس بات نے اسے اچھل کر کھڑا ہونے پر مجبور کردیا تھا ۔۔

’’ کیا ۔۔۔ !!! یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟؟ ‘‘ وہ حیرانگی کی انتہاہ پر تھی ۔۔

’’ افوہ سلیپنگ بیوٹی ۔۔۔ سکیورٹی کوڈ بھی تو ضروری ہوتا ہے نہ ؟ ‘‘ وہ کہہ کر پلٹ چکا تھا ۔۔ اور امل نے اسکی بات سمجھ کر فائل اٹھائی تھی ۔۔ اسے سب یاد کرنا تھا ۔۔

’’ چلیں ‘‘ فرہاد کی آواز اسے سوچوں سے باہر لائی تھی ۔۔ وہ اسے کلاس کے اندر جانے کا کہہ رہا تھا۔۔

’’ چلیں ۔۔۔ ‘‘ مسکرا کر کہتئ وہ اندر آئی تھی ۔۔ مگر ۔۔۔ اس بار یہ مسکرہٹ مصطفی کے لئے تھی ۔۔ اسکے کام کے لئے تھی۔۔۔

’’ ویلڈن مصطفی ‘‘ دل میں اسے شاباشی دے کر وہ فرہاد کے ساتھ بیٹھ چکی تھی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *