Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koi Sath Ho (Episode 03)

Koi Sath Ho by Ujala Naaz

اسے ہوش میں آئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا ۔۔ اور اس ایک ہفتے میں وہ جیسے یہاں کی عادی ہوگئ تھی ۔۔ اس نے دوبارہ ماسٹر کے بارے میں مصطفی اور مایا سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کے سامنے اپنی مرضی سے ہی آئے گا ۔۔ اس کےکچھ بھی کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا ۔۔ اب وہ بلکل نارمل تھی ۔۔ یعنی جسمانی لحاظ سے وہ بلکل ٹھیک تھی ۔۔۔ جہاں تک بات روح کی ہے ؟ تو اس پر تو بہت زخم تھے ۔۔ جن میں روز درد اٹھتا تھا ۔۔

یہ شام کا وقت تھا۔۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑی باہر کا منظر دیکھ رہی تھی ۔۔ ایک وقت تھا کہ وہ اس منظر میں کھو جایا کرتی تھی ۔۔ اسے دنیا کی خوبصورتی ایٹریکٹ کرتی تھی ۔۔ مگر اب اسے سمجھ آیا ۔۔

دنیا خوبصورت تو صرف تب لگتی ہے جب آپکی زندگی خوبصورت ہو ۔۔۔ اگر زندگی میں خوبصورتی نہ رہے تو دنیا کا یہ حسن کسی کام کا نہیں ۔۔۔

اسے اس منظر میں وہ صبح یاد آئی تھی ۔۔جو اگلے دن اس نے اسلام آباد میں دیکھی تھی ۔۔ وہ ماما پاپا کی وجہ سے بہت پریشان تھی ۔۔ ماما کے کہنے پر وہ یہاں آگئ تھی ۔۔ مگر اسکا دل مری میں ہی ان کے پاس تھا ۔۔۔ اس نے جلدی سے جاکر یونیورسٹی میں فارم جمع کروایا تھا ۔۔ وہ سب جلدی سے ختم کر کے واپس مری جانا چاہتی تھی۔۔ اس کے لئے یہاں رکنا مشکل ہورہا تھا۔۔ یونیورسٹی سے نکلتے ہی اس نے اپنی واپسی کے ٹکٹ بک کروائے تھے ۔۔ وہ اپنی کسی دوست سے بھی نہیں ملنا چاہتی تھی ۔۔ اس وقت اسے بس ماما سے ملنا تھا ۔۔ گھر آکر اس نے جیسے تیسے دو گھنٹے گزارے تھے ۔۔ اور پھر وہ واپس مری جانے کے لئے روانہ ہوگئ تھی ۔۔ ایک عجیب سی بے چینی تھی اس کے دل میں ۔۔ ایسالگ رہا تھا کہ جیسے کچھ برا ہونے والا ہے ۔۔ کچھ بہت برا ۔۔۔ جانے وہ کیا تھا ؟ مگر کچھ تو تھا ۔۔۔ کچھ تو تھا جس نے اسے اسلام آباد میں آدھا دن بھی گزارنے نہیں دیا تھا ۔۔۔ اور جانے اب اسے یہ راستہ اتنا لمبا کیوں لگ رہا تھا ۔۔؟ وہ بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی ۔۔ شام کے اندھیرے بھی پھیل چکے تھے ۔۔ جب وہ مری میں پہنچی تھی ۔۔اس نے فوراً ہی رائڈ بک کی تھی ۔۔ ماما پاپا میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ واپس آگئ تھی۔۔ ظاہر ہے اگر انہیں بتا دیتی تو وہ اسے کبھی نہیں آنے دیتے ۔۔ گاڑی جیسے جیسے گھر کی جانب جارہی تھی ۔۔ اسکا دل زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔ اپنی کیفیت اسے خود بھی نہیں معلوم تھی ۔۔ اور پھر ۔۔۔ اسے محسوس ہوا ۔۔ کہ دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو ۔۔ گاڑی رکی تھی ۔۔۔ وہ بجلی کی رفتار میں باہر نکل کر اپنے گھر کی جانب بھاگی اور اس کے سامنے رک گئ تھی ۔۔ اسکا گھر آگ کی لپیٹ میں تھا ۔۔

’’ ماما ۔۔۔۔ پاپا ‘‘ اس کی زبان جیسے الفاظ اداکرنا بھی بھول گئ تھی ۔۔ کانپتے وجود کے ساتھ وہ گھر کی پچھلی جانب بھاگی تھی ۔۔ ماما اور پاپا کے کمرے کی کھڑکی کے پاس آکر اس نے دیکھا ۔۔ وہ دونوں اندر ہی تھے ۔۔ ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔ ان کی نظر بھی اس پر پڑھ چکی تھی۔۔ اس نے انہیں پکارنا شروع کیا تھا ۔۔ وہ کھڑکی پر زور سے ہاتھ مار رہی تھی ۔۔۔

’’ بھاگ جاؤ امل ۔۔۔۔ بھاگ جاؤ ۔۔ بھاگو ‘‘ وہ مسلسل اسے ایک ہی بات کہہ رہے تھے ۔۔۔ اور وہ جنونی انداز میں کھڑکی پر مکے مار رہی تھی۔۔ جس نے گرم ہونا شروع کیا تھا ۔۔ مگر اسے پرواہ نہیں تھی کسی بھی چیز کی ۔۔۔۔

’’ کن سوچوں میں گم ہو سلیپنگ بیوٹی ؟ ‘‘ کسی کی آواز اسے ماضی سے باہر لے آئی تھی ۔۔۔

’’ تم رو رہی ہو ؟ ‘‘ مصطفی نے اسکے پاس آکر کہا تھا ۔۔

’’ میں رور رہی ہوں ؟ ‘‘ اس نے اپنے گالوں کو ہاتھ لگایا تھا ۔۔ وہاں نمی تھی ۔۔ وہ مسکرائی تھی ۔۔

’’ مجھے معلوم ہی نہیں ہوا ‘‘ آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ ماضی کو اتنا یاد کرنے سے کچھ حاصل ہوتا ہے کیا ؟ ‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔

’’ ماضی کیا کچھ حاصل کرنے کے لئے یاد کیا جاتا ہے ؟ ‘‘ سوال کے جواب میں بھی ایک سوال ہوا تھا ۔۔

’’ بلکل ‘‘ مختصر جواب تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘ مختصر سوال تھا ۔۔

’’ کوئی سبق ، کوئی منزل یا کوئی مقصد ‘‘ کہتے ہوئے اس نے اپنی نظریں کھڑکی سے باہر کے منظر کی جانب کی تھیں ۔۔

’’ ماضی اس لئے نہیں ہوتا کہ اسے یاد کر کے ہم اپنے زخموں کو تازہ کریں ، اس تکلیف کو دوبارہ سہیں ۔۔ بلکہ ماضی تو اس لئے ہوتا ہے کہ ہم ان زخموں کی وجہ کو یاد کر کے اس سے سبق سیکھیں اور اس وجہ کو دوبارہ پیدا نہ ہونے دیں ۔۔ تاکہ ہمارا حال۔۔ ہمارے ماضی جیسا نہ ہو ۔۔ کیونکہ ہمارا آج ۔۔ کل ہمارا ماضی ہی تو بنتا ہے ‘‘ اس کی بات پر وہ جانے کتنے ہی لمحے مصطفی کو دیکھتی رہی تھی ۔۔ جو سامنے کے منظر کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اور پھر کچھ لمحوں کے بعد اس نے گہری سانس لے کر اپنی نگاہوں کو رخ بھی سامنے کیا تھا ۔۔

’’ ماضی کے درد کی وجہ کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کے لئے ۔۔ اس وجہ کو ختم کرنا بھی تو ضروری ہے نہ ؟ ‘‘ وہ کھوئے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی ۔۔ مصطفی نے اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔۔ جب تک وجہ ختم نہیں ہوگی ۔۔ تب تک ہم سب ٹھیک کیسے کر سکتے ہیں ؟ ‘‘ اس کے جواب پر وہ کچھ لمحے مزید خاموش رہی تھی ۔۔۔

’’ ماسٹر نے تمہارے لئے مسیج دیا ہے ‘‘ اس خاموشی کو مصطفی نے توڑا تھا ۔۔

’’ کیا ؟ ‘‘ وہ حیران ہوئی تھی ۔۔

’’ وہ چاہتے ہیں کہ تم اپنی پڑھائی کمپلیٹ کرو ۔۔ انہوں نے تمہارا ایڈمیشن یہی قریب ایک یونیورسٹی میں کروا دیا ہے ‘‘ مصطفی کی بات پر اس کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔

’’ میں نہیں پڑھونگی ‘‘ حتمی انداز میں کہتے ہوئے وہ پلٹ کر بائیں جانب رکھے صوفے پر جاکر بیٹھی تھی ۔۔

’’ کیوں ؟؟ کیا تم آگے نہیں بڑھنا چاہتی ؟ ‘‘ مصطفی اس کے سامنے جاکھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ بلکل بڑھنا چاہتی ہوں ۔۔ مگر میں تمہارے ماسٹر کی غلام نہیں ہوں کہ وہ جہاں کہے گا میں وہاں چلی جاؤنگی ‘‘

’’ کیا فرق پڑھتا ہے اس سے ؟ تم نے آگے بڑھنا ہے تو اس کے لئے پڑھنا تو ہوگا نہ ؟ پھر جہاں انہوں نے ایڈمیشن کروایا ہے وہیں پڑھ لو ‘‘ وہ اسے سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔

’’ پڑھونگی ۔۔ ضرور پڑھونگی ۔۔ مگر اپنی مرضی کی یونیورسٹی میں ۔۔ جاکر اپنے ماسٹر سے کہہ دو ۔۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ میں پڑھوں ؟ تو ایڈمیشن میرا ہوچکا ہے ۔۔ بس مجھے وہاں جانے دے ‘‘ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا تھا ۔۔ جانے اس لے دماغ میں کیا چل رہا تھا ۔۔

’’ اور کہا جانا ہے آپ نے میڈم ؟ ‘‘ طنزیہ انداز تھا ۔۔

’’ اسلام آباد ‘‘ مختصر جواب تھا مگر مصطفی کے لئے حیران کن ۔۔۔

’’ امپاسیبل ۔۔۔ وہ تمہیں کبھی وہاں نہیں جانے دینگے ‘‘ اس نے حتمی انداز میں انکار کیا تھا ۔۔

’’ اور میں کبھی اسکی مرضی سے نہیں چلونگی ‘‘ امل کا انداز بھی اٹل تھا ۔۔ وہ بس خاموشی سے اسے دیکھتا رہ گیا تھا ۔۔



وہ اس وقت کچن میں موجود اپنے لئے کافی بنا رہاتھا جب اسکا موبائل بجا تھا ۔۔۔

’’ ہیلو ‘‘

’’ میں اسلام آباد پہنچ چکا ہوں‘‘ کچھ دیر رک کر دوسری جانب شخص کی بات سنی تھی ۔۔

’’ نہیں ۔۔ میں کل سے یونیورسٹی جاؤنگا ۔۔ تین مہینے لیٹ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ کام کور کرنا ہوگا مجھے ۔۔ اس لئے تھوڑا بزی رہونگا کچھ دن ‘‘ اس نے کافی کا کپ لے کر لاؤنچ میں آکر کہا تھا ۔۔

’’ میں اسے بھولا نہیں ہوں شہزاد صاحب ۔۔ مگر ابھی میں کچھ وقت اپنی پڑھائی کو دینا چاہتا ہوں ‘‘ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ چہرے پر سنجیدگی تھی ۔۔

’’ اوک ‘‘ کہہ کر کال کٹ کی تھی ۔۔ اور پھر اس نے ایک اور نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بیل جانے کے بعد کال ریسیو کر لی گئ تھی ۔۔

’’ کیسی ہو تم ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ چہرے پر اب نرمی تھی ۔۔

’’ ٹھیک ہوں میں بھی ۔۔ اسلام آباد آچکا ہوں واپس ‘‘ کافی کا ایک گھونٹ لیا تھا ۔۔

’’ وہ کیسی ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ انداز بہت الجھا ہوا تھا ۔۔

’’ ایسی باتیں مت کیا کرو پلیز ۔۔ میں پہلے ہی بہت ڈسٹرب ہوں ‘‘ کافی کا کپ رکھ کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔۔ جانے آگے سے کیا جواب آیا تھا ؟ جو اس کا سر بھی جھک گیا تھا ۔۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا تھا مگر شاید اگلی جانب لائن کٹ کر دی گئ تھی ۔۔ موبائل رکھ کر صوفے کی پشت پر سر ٹکائے وہ اب گہری سوچ میں الجھ گیا تھا۔۔

اسے آج بھی وہ صبح یاد تھی جب شہزاد صاحب نے اسے اپنے سٹڈی روم میں بلایا تھا ۔۔۔۔

’’ آپ نے بلایا مجھے ؟ ‘‘ شہزاد صاحب کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے پوچھاتھا ۔۔

’’ ہاں فرہاد ۔۔ آؤ بیٹھو ‘‘ اسے سامنے رکھی کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گیا تھا۔۔

’’ تم جانتے ہو میں تم پر سب سے زیادہ اعتبار کیوں کرتا ہوں ؟ ‘‘ وہ اسکی جانب متوجہ ہوکر کہہ رہے تھے ۔۔

’’ کیوں کرتے ہیں ؟ ‘‘ اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔ جانے آج وہ ایسی بات کیوں کر رہے تھے ؟

’’ کیونکہ تمہیں بچپن سے جانتا ہوں میں ۔۔ بلکل اپنے باپ کی طرح ہو تم ۔۔ وہ میرا بہت وفادار ملازم تھا ۔۔ اپنے ہر رشتے کے ساتھ بہت مخلص ، اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتا تھا وہ ۔۔ اپنوں کی خاطر ہر مشکل سے گزر جانے والا ‘‘ وہ کہہ رہے تھے ۔۔ اور ان کا ایک ایک لفظ اسے کسی خطرے کی علامت لگ رہا تھا ۔۔

’’ ٹھیک کہا آپ نے ‘‘ اس کے پاس کہنے کے لئے اور کچھ تھا ہی نہیں ۔۔

’’ بلکل ۔۔ اور اس اعتبار کو مزید پختہ کرنے کا وقت آچکا ہے ۔۔ تمہیں ایک بہت بڑا کام کرنا ہے فرہاد ۔۔ جان پر کھیل کر ‘‘ وہ اسے غور سے دیکھتے کہہ رہے تھے ۔۔

’’ کیا کام ؟ ‘‘ سانس رکی ہوئی تھی ۔۔۔ آج اسے شہزاد صاحب کے ارادے خطرناک لگ رہے تھے ۔۔

’’ آگ لگانی ہے ۔۔ زندہ انسانوں کو ۔۔۔ کسی بھی نشانی کو چھوڑے بنا ‘‘

اور اسے لگا کہ جیسے دل کی دھڑکن رک گئ ہو ۔۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے اسکا وجود کانپ گیا ہو ۔۔۔

گاڑی کی آواز نے اسے اس کے خیالوں سے باہر نکالا تھا ۔۔۔ وہ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔۔ اسے لگا جیسے اسکا پورا جسم اب بھی کانپ رہا ہو ۔۔

’’ کیا حال ہے فرہاد ؟ ‘‘ احمد نے اندر آتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ‘‘ دھیمی آواز میں جواب دیا تھا ۔۔ ہاتھوں سے بالوں کو جکڑا ہوا تھا۔۔۔۔

’’ تم ٹھیک لگ تو نہیں رہے ۔۔۔ کیا بات ہے ؟ ‘‘ اسے غور سے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کوئی بات نہیں ہے احمد ۔۔ بوجھ ہے ۔۔۔ بہت بڑا ‘‘ اس نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔ اسکی آنکھیں لال ہورہی تھیں ۔۔

’’ تم کیا کر کے آئے ہو فرہاد ۔۔ بتاؤ مجھے ‘‘ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ گناہ ۔۔۔ گناہ کر کے آیا ہوں ؟ ‘‘ اس کے جواب نے احمد کو کچھ دیر کے لئے خاموش کردیا تھا ۔۔

’’ کون سا گناہ ؟ ‘‘ اس نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔

’’ آگ ۔۔ آگ لگائی ہے میں ‘‘ اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ کہاں ؟ ‘‘ ایک اور سوال ہوا تھا ۔۔

’’ انسانوں کو ۔۔۔ زندہ انسانوں کو ‘‘ اور اس کے جواب نے احمد کے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی ۔۔



وہ اس وقت لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا ۔۔ نظر سامنے سکرین میں موجود ٹی وی لاؤنچ پر تھی جہاں وہ مصطفی کے ساتھ بیٹھی کوئی مووی دیکھ رہی تھی ۔۔ کچھ دیر بعد ڈور بیل بجی تھی ۔۔ایک گہری سانس لےکر وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں واپس آیا تھا ۔۔ دروازہ کھول کر اس نے سامنے کھڑی لڑکی کی جانب دیکھا اور واپس پلٹ کر اپنے صوفے پر آکر بیٹھ گیا تھا ۔۔

’’ کیسی ہو تم ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ انداز سنجیدہ تھا ۔۔

’’ ٹھیک ہوں ماسٹر ۔۔ مگر ایک مسئلہ ہے ‘‘ اس کے سامنے کھڑے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ تمہیں یہاں آنے سے منع کیا تھا میں نے ‘‘ لہجہ سخت تھا ۔۔

’’ سوری ماسٹر مگر ۔۔ بات ہی کچھ ایسی تھی ‘‘ اس نے سر جھکا کر کہا تھا ۔۔

’’ بیٹھو ‘‘ سامنے رکھے صوفے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔

وہ خاموشی سے وہاں بیٹھ گئ تھی ۔۔ مگر کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی ۔۔

’’ مجھے تمہارے بولنے کا اور کتنا انتظار کرنا ہوگا مایا ؟ ‘‘

’’ وہ ۔۔۔ وہ یہاں نہیں پڑھنا چاہتی ۔۔ اسلام آباد جانا چاہتی ہے ۔۔ اپنی پرانی یونیورسٹی میں پڑھنے ‘‘ اس نے جلدی سے کہا تھا ۔۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی تھی۔۔

’’ اوک ‘‘ پرسکون انداز میں جواب آیا تھا ۔۔

’’ اوک ؟؟ ‘‘ وہ حیران ہوئی تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔۔ اگر وہ وہاں پڑھنا چاہتی ہے تو ٹھیک ہے۔۔ کل اسے وہاں پہنچا دینا ‘‘ وہ کہہ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔ یعنی بات ختم ہوگئ تھی ۔۔ ؟؟

’’ مگر ماسٹر ۔۔ وہاں خطرہ ہے ‘‘ اس نے بھی کھڑے ہوکر کہا تھا ۔۔

’’ میرے ہوتے ہوئے اسے کبھی کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا مایا ۔۔۔ اب تم جاسکتی ہو ‘‘ وہ بات ختم کر کے واپس سٹڈی روم کی جانب چلا گیا تھا ۔۔ جبکہ وہ کچھ دیر رکنے کے بعد وہاں سے واپس جاچکی تھی ۔۔۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اسے لاؤنچ میں وہ دونوں نظر آئے تھے ۔۔۔ دونوں نے اسے دیکھا تھا ۔۔ امل دوبارہ ٹی وی کی جانب متوجہ ہوگئ تھی جبکہ مصطفی اس کے چہرے کی سنجیدگی دیکھ کر ٹھہر گیا تھا ۔۔وہ فوراً اپنے کمرے کی جانب گئ تھی ۔۔

کمرے میں آکر ابھی وہ بیٹھی ہی نہیں تھی کہ دروازے پر ناک ہوا تھا ۔۔

’’ آجاؤ مصطفی ‘‘ تھکی ہوئی آواز میں کہا تھا ۔۔ وہ اندر آکر خاموشی سے اسکے سامنے بیٹھ گیا تھا ۔۔

’’ کیا بات ہوئی ان سے ؟ ‘‘ کچھ دیر بعد اس نے پوچھا تھا۔۔

’’ کل ہم اسلام آباد میں ہونگے ‘‘ اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ مت کرو ۔۔۔ ‘‘ وہ حیران ہوا تھا ’’ وہ مان گئے ؟ ‘‘

’’ انہیں منانا تو پڑا ہی نہیں ۔۔ وہ تو جیسے اسکی ہر بات اسکے منہ سے نکلتے ہی مان جاتے ہیں ‘‘ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر کہا تھا ۔۔

’’ تم پریشان ہو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ کیا نہیں ہونا چاہتے ؟ ‘‘ جواب میں بھی سوال ہوا تھا ۔۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر اب کمرے میں چکر لگا رہی تھی ۔۔

’’ تمہیں اندازہ ہے وہاں کون ہمارا انتظار کر رہا ہے ؟؟ ‘‘ مسلسل چلتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی ۔۔

’’ کون ؟ ‘‘ پرسکون انداز میں سوال پوچھا تھا ۔۔

’’ خطرہ ۔۔۔ بہت بڑا خطرہ ۔۔ اور یہ صرف اسے نہیں ہے ‘‘ ہاتھ اٹھا کر کمرے کے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔

’’ یہ ہم سب کے لئے ہے ۔۔ اور میں ؟ میں کیا کرونگی مصطفی ۔۔؟ میں نے ماسٹر سے بہت بڑی بات چھپائی ہے ۔۔انہیں سب پتہ چل جائیگا ‘‘

’’ انہیں کچھ پتہ نہیں چلے گا مایا ۔۔ اور اگر چل بھی گیا تو وہ تمہیں سمجھیں گے ‘‘

’’ مگر میں ۔۔ میں خود کو کیسے سمجھونگی ؟ ‘‘ وہ بہت زیادہ الجھی ہوئی تھی ۔۔

’’ میری بات سنو ۔۔۔ بیٹھو یہاں ‘‘ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھایا تھا ۔۔

’’ تمہیں کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ کبھی نہ کبھی تو ہمیں یہ سب فیس کرنا ہی ہے ۔۔ اسے ہمیشہ قید کر کے تو نہیں رکھ سکتے ہم ۔۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں نہ میں ؟ ‘‘ مایا نے سر ہلایا تھا ۔۔

’’ تم ان باتوں کو لے کر پریشان ہونے کے بجائے ۔۔ یہ سوچوں کہ تم دوبارہ ہسپتال جوائن کرلوگی ۔۔ اپنی روٹین میں واپس آجاؤگی ۔۔ باقی میں ہوں نہ تمہارے ساتھ ۔۔ کوئی خطرہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔ اوک ؟ ‘‘ اس نے دوبارہ سر ہلایا تھا ۔۔ وہ اب کھڑا ہوا تھا ۔۔

’’ اب تم ریسٹ کرو ۔۔ میں جاکر اسے دیکھتا ہوں ‘‘ وہ کہہ کر کمرے سے باہر جانے کے لئے پلٹا تھا ۔۔

’’ مصطفی ‘‘ اس کے قدم رکے تھے ۔۔ مگر وہ پلٹا نہیں تھا ۔۔

’’ خطرہ ان سے نہیں ۔۔۔ خطرہ مجھ سے ہے ۔۔ میں جانتی ہوں کہ ہم ساتھ ہیں ۔۔ مگر پریشانی یہ ہے کہ ۔۔ کیا وہاں جانے کےبعد ۔۔ میں تم لوگوں کا ساتھ دے سکونگی ؟ ‘‘ اور اس کے الفاظ نے مصطفی کو پلٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔



یہ اسلام آباد کا ائیر پورٹ تھا ۔۔ وقت دوپہر تین بجے کا تھا ۔۔ مگر ان دنوں یہاں کا موسم بے حد خوشگوار ہونے کی وجہ سے شام کا وقت لگتا تھا ۔۔ وہ تینوں ائیر پورٹ سے باہر نکلے تھے ۔۔۔ مایا، مصطفی اور امل ۔۔۔

اس نے آنکھوں سے گلاسس ہٹا کر آسمان کی جانب دیکھا تھا ۔۔ کتنا سکون محسوس ہورہا تھا اسے۔۔ یہ وہی شہر تھا جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری اچھے دن گزارے تھے ۔۔ماما پاپا کے ساتھ ۔۔۔ اپنی کالج لائف اور پھر یونیورسٹی ۔۔۔

اور یہ وہی شہر تھا ۔۔ جہاں سے جانے کے بعد اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا ۔۔ آج ۔۔ تین ماہ بعد وہ اس شہر میں واپس آئی تھی ۔۔۔ اپنی ماما کی خواہش پوری کرنے ۔۔ اور ۔۔ اپنا انتقام لینے ۔۔۔

’’ امل ؟ ‘‘ مایا کی آواز اسے خیالوں سے باہر لائی تھی ۔۔

’’ چلو ‘‘ اسے پیچھے آنے کا اشارہ دے کر وہ دونوں کیب کی طرف چلنے لگے تھے ۔۔ اس نے ایک گہری سانس لے کر تین قدم آگے بڑھائے تھے مگر اسے رکنا پڑا تھا ۔۔ کسی وائیلٹ زمین پر گرا تھا ۔۔

’’ ایکسکیوزمی ؟ ‘‘ زمین سے وائیلٹ اٹھاتے ہوئے اس نے اس شخص کو آواز دی تھی ۔ مگر شاید اس نے آواز سنی نہیں تھی ۔۔ وہ اب اس کے پیچھے آئی تھی ۔۔

’’ ایکسکیوزمی مسٹر ۔ بات سنیں پلیز ‘‘ اس نےدوبارہ کہا تھا ۔۔ اور اب وہ شخص پلٹا تھا ۔۔

بلیک ٹی شرٹ کے اوپر جیکٹ پہنے ۔۔ بائیں کلائی پر قیمتی کھڑی ۔۔ ہاتھ میں چابیوں سے بھری کی چین ۔۔ ہلکی بئیرڈ ، گہری آنکھیں ، لمبے گردن تک آتے کالے بال ۔۔ کچھ دیر کے لئے وہ رک کر اس شخص کو دیکھنے لگی تھی ۔۔

’’ جی ؟ ‘‘ اس نے سوالیاں نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ وہ ۔۔ آپکا وائیلٹ گر گیا تھا ‘‘ اس نے وائیلٹ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔

’’ اوہ ۔۔ تھینک یو ‘‘ وائیلٹ لیتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ کوئی بات نہیں ‘‘ وہ مسکرا کر پلٹی تھی ۔۔ اور وہ بھی مسکرایا تھا ۔۔ مگر اس کی مسکراہٹ کےمعنی کچھ اور ہی تھے ۔۔ وہ مایا اور مصطفی کے پاس جاچکی تھی ۔۔ اور وہ وہی کھڑا اسے تب تک دیکھا رہا ۔۔ جب تک کہ وہ وہاں سے جاچکے تھے ۔۔

ایک گہری سانس لے کر وہ اپنا وائیلٹ جیکٹ کی جیب میں رکھتے ہوئےاپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد اس نے گاڑی اپنے فلیٹ کے سامنے روکی تھی ۔۔ گاڑی سے باہر نکل کر وہ لفٹ کی جانب گیا اور چھٹے فلور کو بٹن پش کیا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ اپنے فلیٹ میں موجود تھا ۔۔ یہ تین کمروں کا فلیٹ تھا ۔۔ جس میں دوبیڈ روم اور ایک ڈرائینگ روم تھا ۔۔ ٹی وی لاؤنچ ۔۔ ٹیرس کے علاوہ امیرکن سٹائل کا کچن بھی۔۔ والز اور فرنیچر بلو اور وائیڈ کنٹراس کا تھا ۔۔

اپنے کمرے میں آکر اس نے ایک نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔۔

’’ اسلام و علیکم پروفیسر صاحب ‘‘ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ وہ کل سے یونیورسٹی آرہی ہے ۔۔ اور آپ نے مجھے اسکے ایک ایک پل کی ریپورٹ دینی ہے ۔۔ جانتے ہیں نہ آپ ؟‘‘ انداز بے حد سنجیدہ تھا ۔۔

’’ آپ فکر مت کریں ۔۔ میری نگاہیں اسی پر ہونگی ‘‘ دوسری جانب سے جواب سن کر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔

’’ شکریہ آپ کا ‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔

’’ کوئی بات نہیں ‘‘ دوسری جانب سے کہا گیا تھا اور اس نے کال کٹ کردی تھی ۔۔

’’ ہماری ملاقات بہت قریب ہے ۔۔ سلیپنگ بیوٹی ‘‘ دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا تھا ۔۔۔



اس نے پوری رات جاگ کر گزاری تھی ۔۔ اپنے شہر میں آنے کے بعد اس شہر کی یادیں بھی تازہ ہوگئ تھیں ۔۔ مگر اس کے اندر اب بھی بے چینی تھی ۔۔ وہ اپنے گھر جانا چاہتی تھی ۔۔ جہاں وہ سب رہتے تھے ۔۔ مگر یہ ابھی ممکن نہیں تھا ۔۔ وہ یہاں آکر بھی ان کے ساتھ رہنے پر مجبور تھی ۔۔ اور سچ یہ بھی تھا کہ وہ وہاں رہ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔ اس نے خود سے ایک وعدہ کیا تھا ۔۔ وہ جس مقصد کے لئے یہاں آئی تھی ۔۔ اسے پورا کئے بنا وہ وہاں نہیں رہے گی ۔۔

ایک آخری نظر اس سے سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے پر ڈالی تھی ۔ جہاں اسکا عکس نمایاں تھا ۔۔

بلو ٹاپ ، بلیک ڈراؤزر پہنے ، گلے میں لپٹا ہوا دوپٹہ ، کاندھے سے نیچے آتے ڈارک براؤن بالوں کی پونی ٹیل بنائی ہوئی ، زیور کے نام پر دائیں کلائی پر ایک گھڑی ، میک اپ میں آنکھوں پر کاجل اور ہونٹوں پر لائیٹ پنک گلوز لگا کر وہ اس سادے حلیے میں بھی پرکشش لگ رہی تھی ۔۔ بیگ کاندھوں سے لگا کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔

یہ چار کمرے اور ایک گیسٹ روم ، ٹی وی لاؤنچ ، اوپن کچن اور ٹیرس پر مشتمل ایک بڑا فلیٹ تھا ۔۔ جس کے والز اور فرنیچر پرپل اور بلیک کے کامبنیشن کے تھے ۔۔ کمرے سے نکل کر وہ کچن کے کاؤنٹر کی جانب آئی تھی ۔۔ جہاں مصطفی پہلے سے موجود تھا ۔۔

’’ واؤ ! لگتا ہے یونیورسٹی پر قیامت ڈھانے کا پلین ہے ؟ ‘‘ اسے آنکھ مارتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ میری کافی ؟ ‘‘ اس کی بات اگنور کر کے وہ شیلف کے پاس رکھی چئیر پر بیٹھی تھی ۔۔

’’ بلکل میڈم ۔۔ یہ لیں ‘‘ اسے کافی کا کپ تھمایا تھا ۔۔

’’ تمہیں کچھ باتیں سمجھنی ہونگی امل ‘‘

’’ کیسی باتیں ‘‘ کافی کا گھونٹ لیا تھا ۔۔

’’ تمہیں وہاں بہت سنبھل کر رہنا ہوگا ۔۔ میں نہیں جانتا کہ باس کیسے تمہیں یہاں لانے پر مان گئے ؟ مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ یہاں تمہارے لئے خطرہ ہے ۔۔ وہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ تمہارا شہر ہے ۔۔ اس لئے تمہیں ڈھونڈنا اب بھی چھوڑا نہیں ہوگا انہوں نے ‘‘ وہ رکا تھا ۔۔

’’ میں یہ سب جانتی ہوں مصطفی ۔۔ کوئی نئ بات کروں ‘‘ اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔

’’ دیکھو بیوٹی فل گرل ۔۔ ماسٹر نے کہا ہے کہ تمہیں سنبھل کر رہنا ہے ۔۔ اور کسی سے بھی جلد دوستی نہیں کرنی ۔۔ تمہیں کسی کے بھی قریب نہیں ہونا ۔۔ اور نہ ہی کسی کو تم تک پہنچنے دینا ہے ۔۔ تمہاری سیفٹی کے لئے یہ ضروری ہے ۔۔ سمجھ رہی ہو نہ تم ؟ ‘‘ اس نے شیورٹی کے لئے پوچھا تھا ۔۔

’’ سمجھ گئ ‘‘ ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہہ کر وہ وہاں سے باہر نکل گئ تھی ۔۔ جہاں نیچے ڈرائیور اسکا انتظار کر رہا تھا ۔۔

’’ چلی گئ وہ ؟ ‘‘ مایا نے اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔ وہ بھی ہسپتال جانے کے لئے تیار ہوچکی تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔۔ تم بھی جارہی ہو ۔۔ میں تو اکیلا بور ہی ہوجاؤنگا ‘‘ اسے اب اپنا خیال آیا تھا ۔۔

’’ بور ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ تم ہمارے لئے اچھا سا لنچ ریڈی کر سکتے ہو ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ اگر تم لنچ پر آنے کا وعدہ کرو ‘‘ وہ تو اس کے لئے بھی تیار تھا ۔۔

’’ مجھے افسوس ہے کہ میں تمہاری خواہش پوری نہیں کرپاؤنگی ۔۔ اتنی لمبی چھٹی کے بعد جارہی ہوں ۔۔ مگر پریشان مت ہو میں ڈنر پر تمہیں ضرور جوائن کرونگی ‘‘

’’ یہ بھی ٹھیک ہے ‘‘ وہ مان گیا تھا ۔۔

’’ تم کیا سوچ رہے ہو ؟ ‘‘ اس کے پاس آکر مایا نے پوچھا تھا ۔۔

’’ مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ‘‘ اس کے چہرے پر فوراً سنجیدگی آئی تھی ۔۔

’’ کیسی گڑبڑ ؟ ‘‘

’’ وہ بہت پرسکون ہے ۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے ‘‘ وہ واقعی پریشان تھا ۔۔

’’ اس کے دماغ میں صرف غصہ ہے مصطفی ۔۔ اور اگر وہ پرسکون ہے تو یہ تو اچھی بات ہے نہ ؟ ‘‘ وہ اسکی بات کا مطلب نہیں سمجھ پارہی تھی ۔۔

’’ لیکن مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ماسٹر سے جنگ کرنے والی ہے ‘‘ مصطفی کی بات پر مایا حیران ہوئی تھی ۔

’’ ماسٹر سے جنگ ۔۔۔ ‘‘ اس وہ باقاعدہ ہنسنے لگی تھی۔۔

’’ تم پاگل ہوگئے ہو مصطفی ۔۔ جاکر آرام کرو ‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے چلی گئ تھی جبکہ وہ وہی کھڑا کچھ سوچ رہا تھا ۔۔

’’ جنگ تو ہوگی ۔۔۔ میری چھٹی حس کہہ رہی ہے ‘‘ خود سے کہہ کر وہ اپنے کمرے کی جانب مڑ گیا تھا ۔۔



’’ امل ‘‘ وہ کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی تھی ۔۔ اس نے پلٹ کر دیکھا اور مسکرائی ۔۔

’’ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز ۔۔ فائینلی تمہیں خیال آگیا یونیورسٹی آنے کا ‘‘ وہ اسے دیکھ کر بہت خوش تھی ۔۔

’’ ہاں ۔۔ تم سناؤ کیسی ہو ؟ ‘‘ اتنے عرصے بعد اپنی پرانی دوست کو دیکھ کر اسے بھی بےحد خوشی ہوئی تھی ۔۔

’’ میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔ تم بتاؤ ایڈمیشن کے بعد تم تو غائب ہی ہوگئ تھی ۔۔انکل آنٹی کیسے ہیں ؟ ‘‘ اس کے سوالوں پر اس کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔ وہ بلکل خاموش ہوگئ تھی ۔۔

’’ کیا ہوا ؟؟ سب ٹھیک ہے نہ ؟ ‘‘ اس کے چہرے کی اداسی دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

’’ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے شانزے ۔۔ سب ختم ہوگیا ‘‘ اس کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگی تھیں ۔۔

’’ ارے ارے ۔۔ کیا ہوگیا ہے امل ؟؟ بتاؤ مجھے ؟ ‘‘ وہ اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔ اس کے آنسوؤں نے اسے پریشان کردیا تھا۔۔

’’ وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے شانزے ۔۔ ماما پاپا اب نہیں رہے ‘‘ بھیگی آواز میں کہتے ہوئے وہ رونے لگی تھی ۔۔ اور شانزے کے پر آسمان گرا تھا ۔۔

’’ یہ ۔۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ‘‘ وہ حیرانگی کی انتہاہ پر تھا ۔۔

’’ ہوگیا ۔۔ وہ سب کچھ ہوگیا ہے جو تم سوچ بھی نہیں سکتی ‘‘

’’ تم ۔۔ آؤ ۔۔ ہم کیفے ٹیریاں میں جاکر بات کرتے ہیں ۔۔ چلو ‘‘

کچھ دیر بعد وہ کیفے کی کرسیوں پر ایک دوسرے کے سامنے موجود تھیں ۔۔ امل نے اسے اس رات کا سارا واقع سنا دیا تھا ۔۔ مگر اس نے پوری حقیقت نہیں بتائی تھی ۔۔ وہ جانتی تھی کہ یہ باتیں وہ کسی سے نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔

’’ تم اب کہاں رہ رہی ہو ؟ ‘‘ شانزے نے کچھ دیر بعد اس سے پوچھا تھا ۔۔

’’ ایک کزن ہے میری یہاں۔۔ اس کے ساتھ رہ رہی ہوں ‘‘ اس نے جھوٹ کہا تھا ۔۔وہ اسے یہ سب نہیں بتانا چاہتی تھی ۔۔

’’ مجھے یقین نہیں آرہا امل ۔۔ صرف چند عرصے میں کیا سے کیا ہوگیا ہے ؟ ‘‘ امل کے ہاتھ کر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے کہاتھا ۔۔

’’ ایک رات ۔۔ صرف ایک رات میں ہوا یہ شانزے ‘‘ اس نے جیسے غلطی سدھاری تھی ۔۔ اور شانزے خاموش تھی۔۔

’’ تم بتاؤ ۔۔۔ منگنی ہوگئ تمہاری ؟ ‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا تھا۔۔

’’ ہاں ۔۔ دو مہینے پہلے ہی ہوئی ہے ‘‘

’’ بہت بہت مبارک ہو تمہیں ۔۔۔ آخر محبت حاصل کرہی لی تم نے ‘‘ امل نے اسے چھیڑا تھا ۔۔

’’ بس اللہ کا کرم ہے ‘‘ اسے غور سےدیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ ‘‘ اسے مسلسل خود کو دیکھتے پاکر اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ تم نے خود کو سنبھال لیا ہے ۔۔ خوشی ہوئی مجھے اسکی ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ سنبھالنا تو پڑھتا ہے نا خود کو ؟ آخر نہ چاہتے ہوئے بھی ۔۔ زندگی تو گزارنی ہے ‘‘ ایک اداس مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔

’’ ایسے مت کہو امل ۔۔ زندگی جینے کے لئے ہوتی ہے ۔۔ اسے جیو ‘‘ وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی ،۔۔

’’ ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔ زندگی جینے کے لئے ہوتی ہے ۔۔ مگر اپنے نہیں ۔۔ دوسروں کے لئے ‘‘ اسکی بات کے جواب پر شانزے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس نے اسے بولنے سے روک دیا تھا ۔۔

’’ چھوڑو ان باتوں کو ۔۔ یہ بتاؤ کہ احمد سے کب ملوا رہی ہو ؟ ‘‘ بات کا رخ موڑ لیا گیا تھا ۔۔

’’ آج ہی ۔۔ وہ آف ٹائم میں آئیگا پھر ملواتی ہوں تم سے ‘‘

’’ ارے واہ ۔۔۔ تو اسکا مطلب کہ وہ تمہیں پک اینڈ ڈراپ دے رہا ہے ؟ ‘‘ انداز چھیڑنے والا تھا ۔۔

’’ ہماری ایسی قسمت کہاں ؟ اپنے باس کو پک کرنے آتا ہے وہ ‘‘

’’ باس کو ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔

’’ ہاں ۔۔ جس کے لئے کام کرتا ہے وہ ۔۔۔ وہ صاحب بھی یہی پڑھتے ہیں ۔۔ ہماری اپنی کلاس میں ۔۔ قسم سے اتنا ہینڈسم بندہ ہے وہ کہ بس ‘‘ اس نے ایک آہ بھری تھی ۔۔

’’ شرم کرو شانزے ۔۔ منگنی ہوچکی ہے تمہاری اور تم اپنے فیانسی کے باس پر نظر رکھ رہی ہو ؟ ‘‘ ہنستے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ہاں تو منگنی ہونے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ بندہ کسی دوسرے کی تعریف نہیں کرسکتا ‘‘ کاندھے اچکا کر کہا تھا ۔۔

’’ حد ہوگئ ہے ‘‘

’’ حد نہیں ۔۔۔ تم بھی دیکھوگی تو یہی کہوگی ۔۔ ویسے امل۔۔ ‘‘ اب وہ آگے کو جھکی تھی ۔۔

’’ بندہ ہے بہت اچھا ۔۔ ہینڈسم ہے ، اکیلا ہے اور سب سے بڑی بات بہت اعلی جاب بھی ہے اس کے پاس ، اور پھر اس ڈگری کے بعد جرنلسٹ بھی بن جائیگا ۔۔ میں سوچ رہی ہو تمہاری ملاقات کروا دیتی ہوں اس سے ۔۔ دیکھنا تمہارا فیوچر بن جائیگا ‘‘ اس نے تو جیسے ساری پلیننگ ہی کر لی تھی ۔۔

’’ خدا کا خوف کرو شانزے ۔۔ کیا کیا سوچتی رہتی ہو تم بھی۔۔ چلو اب کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے ‘‘ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔

’’ ارے ٹھیک کہہ رہی ہو میں ۔۔ تمہیں سوچنا چاہتے ۔۔ بہت اعلی بندہ ہے وہ اور پھر اتنے اونچے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے اس کا ۔۔ بہت لکی ہوگی وہ لڑکی جسے اتنا پرفیکٹ بندہ ملے گا ‘‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے بولتی ہوئی آرہی تھی ۔۔

’’ اونچے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے کیا ہوتا ہے شانزے ؟؟ اینڈ آئی ایم ناٹ انٹرسٹڈ ‘‘ کلاس اب قریب تھی ۔۔

’’ کیا ہوتا ہے کا کیا مطلب ۔۔ وہ صرف اٹھتا بیٹھتا نہیں ہے ۔۔۔ شہزاد شاہ کا خاص بندہ ہے وہ ۔۔۔۔ وہ دیکھو ۔۔ سامنے بیٹھا ہے ۔۔ کتنا ہینڈسم ہے نہ ۔۔ دیکھو اس کے ساتھ والی چئیر خالی ہے ۔۔ تم جاکر بیٹھ جاؤ وہاں ۔۔ میں کہہ رہی ہو تم دونوں ساتھ بہت اچھے لگوگے ۔۔۔ اتنا امیر جیجو ہوگا میرا۔۔۔ اف !! احمد کی بھی پروموشن کروا دینا پلیز ۔ْ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

اور جانے وہ کیا کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔ مگر امل کی سماعت تو جیسے ختم ہوگئ تھی ۔۔۔ اسے شانزے کا کہا کوئی لفظ نہیں سنائی دے رہا تھا ۔۔۔

وہ سامنے بیٹھے اس شخص کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جو اپنی کرسی کی پشت پر سر رکھے آنکھ موندھے بیٹھا تھا ۔۔۔

’’ شہزاد شاہ کا خاص بندہ ہے وہ ‘‘ بس یہی الفاظ تھے ۔۔ جو مسلسل اس کے کانوں میں گونج رہے تھے ۔۔۔

اسکا وقت ٹھہر گیا تھا ۔۔ وہ پتھر بن گئ تھی ۔۔

اور پھر۔۔۔

اس نے محسوس کی تھی ۔۔۔ اپنے قدموں کی حرکت ۔۔۔

اور پھر ۔۔۔

’’ کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں ؟ ‘‘ اس نے خود کو کہتے سنا تھا ۔۔۔

اس شخص نے آنکھ کھول کر اسے دیکھا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *