Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555 Koi Sath Ho (Episode 10)
Rate this Novel
Koi Sath Ho (Episode 10)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھی ایک فائل سٹڈی کر رہی تھی جب دروازے پر دستک دی گئ تھی ۔۔
’’ آجائیں ‘‘ فائل سے نظر اٹھا کر اس نے آنے والے کو دیکھا ۔۔ اور اسکی آنکھیں حیرت اور پھر غصے سے بھرنے لگی تھیں۔
’’ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ اپنی کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے آنے والے سے پوچھا تھا ۔۔
’’ تم سے ملنے آیا ہوں ‘‘ اطمینان سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ میں تم سے ملنا نہیں چاہتی ۔۔ چلے جاؤ یہاں سے ‘‘ وہ اب بھی بے حد غصہ تھی ۔۔ اس کے منع کرنے کے باوجود وہ اس کے سامنے آچکا تھا ۔۔
’’ چلا جاؤنگا مایا ۔۔ تم سے بس کچھ پوچھنا ہے میں نے ۔۔ بیٹھ جاؤ ‘‘ کرسی کی جانب اشارہ کیا تھا ایسے جیسے یہ آفس اسکا ہو۔
’’ کیا پوچھنا ہے ؟ ‘‘ بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ وہ لڑکی ۔۔۔ یہیں تمہارے ساتھ رہتی ہے نہ ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا اور مایا کو ایک خوف نے گھیرا تھا ۔۔
’’ سوچنا بھی مت ۔۔ اس کے بارے میں کچھ سوچنا بھی مت فرہاد ۔۔ وہ جہاں بھی ہے ۔۔ میں تمہیں اس تک پہنچنے کی اجازت نہیں دونگی ‘‘ انگلی اسکی جانب اٹھاتے ہوئے اسے وان کیا تھا ۔۔
’’ جہاں بھی نہیں ۔۔ وہ یہی ہے ۔۔ تمہارے ساتھ ۔۔ مجھے بس میرے سوال کا سچ سچ جواب دو مایا ۔۔ اس کے بعد چلا جاؤنگا میں ‘‘ اسکی آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ وہ میرے ساتھ نہیں ہے ‘‘ مایا نے کہا تھا ۔۔ اور وہ اسکی آنکھوں میں سچ دیکھ چکا تھا ۔۔ اسے اس سچ کی توقع نہیں تھی مگر تھا تو یہ سچ ہی ۔۔
’’ اوک ‘‘ وہ کہہ کر کھڑا ہوا اور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
مایا نے ایک گہری سانس لی تھی ۔۔ شکر ہے کہ امل ان دنوں واقعی اس کے ساتھ نہیں تھی ۔۔ ورنہ وہ یقیناً اسکا جھوٹ پکڑ لیتا ۔۔
اس نے موبائل اٹھا کر کسی کا نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔
’’ تم کب واپس آؤگے مصطفی ؟ ‘‘ کال ریسیو ہوتے ہی اس نے پوچھا تھا ۔
’’ ہم شام تک پہنچ جائیں گے ۔۔ راستے میں ہی ہیں ۔۔ ‘‘ ایک ریسٹورانٹ میں بیٹھے مصطفی نے اس سے کہاتھا ۔۔
’’ اوک ۔۔ جلدی آجاؤ بس ‘‘ اپنے بال کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ سب ٹھیک ہے مایا ؟ ‘‘ مصطفی اسکی آواز میں پریشانی بھانپ گیا تھا ۔۔
’’ سب ٹھیک ہے ۔۔ تم آجاؤ۔۔ پھر بات کرتے ہیں ‘‘
’’ اوک ۔۔ اچھا سا ڈنر تیار رکھنا ہمارے لئے ‘‘ سامنے بیٹھی امل کو آ نکھ مارتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں معلوم ہے مجھے ۔ فکر مت کرو سب اچھا ہوگا ‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے کال کٹ کی تھی ۔۔ اور ایک گہری سانس لے کر دوبارہ اسی فائل کی جانب متوجہ ہوگئ تھی ۔۔
’’ کیا کہہ رہی تھی مایا ؟ ‘‘ اپنی کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے اس نے مصطفی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ کچھ نہیں ۔۔ لگتا ہے بہت یاد کررہی ہے مجھے ‘‘ گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔
’’ تم بھی کچھ کم یاد نہیں کررہے اسے ‘‘ انداز چھیڑنے والا تھا ۔
‘’ تمہارے ہوتے ہوئے کسی اور کو یاد کیسے کر سکتا ہوں میں سلیپنگ بیوٹی ‘‘ اسکی جانب جھکتے ہوئے معنی خیز اندازمیں کہا تھا ۔۔
’’ بلکل ایسے ہی جیسے ابھی کر رہے ہو ‘‘ گہری مسکراہٹ کے ساتھ جواب آیا تھا ۔۔
’’ نہیں نہیں امل ۔۔ تم جیسا سوچ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہے ‘‘ مصطفی نے اسے جیسے یقین دلانا چاہا تھا ۔۔
’’ مگر میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں ‘‘ کاندھے اچکاتے ہوئے معصومانہ انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ اٹھو اب ۔۔ آگے سفر بھی کرنا ہے ہم نے ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔ انداز صاف بھاگنے والا تھا ۔۔
’’ اوک اوک ۔۔ چلو ‘‘ ہنستے ہوئے وہ اٹھی تھی ۔۔
’’ اللہ ماسڑ پر رحم کرے ۔۔ پتہ نہیں کیسے برداشت کریں گے تمہیں وہ ‘‘ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ جیسے میں اسے برداشت کررہی ہوں ‘‘ جواب حاضر تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ ہاں ۔۔ ٹھیک کہا آپ نے میڈم ۔۔ دونوں ہی برابر ہو ‘‘ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ٹاپک چینچ کر لیا ہے تم نے مگر کچھ بھولی نہیں ہوں میں ‘‘ کہتے ہوئے وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی ۔۔ وہ واپس اسلام آباد جارہے تھے ۔۔ کل نکاح کے بعد اسکی ماسٹر سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔۔ وہ فوراً وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔ یہ اچھا بھی تھا ۔۔ وہ ماسٹر کا مزید سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں تھی ۔۔ اسے کچھ وقت بھی چاہئے تھا ۔۔ سوچنے کے لئے ۔۔ آنے والے وقت کے لئے خود کو تیار کرنے کے لئے ۔۔ وہ دونوں صبح سویرے ہی اسلام آباد کے لئے نکل چکے تھے ۔۔ امید تھی کہ آج شام تک وہ وہاں پہنچ بھی جائیں ۔۔ چند گھنٹوں نے ہی سب کچھ بدل لیا تھا ۔۔ اور آنے والے بدلاؤ کے لئے ۔۔ اسے بہت کچھ سوچنا بھی تھا ۔۔۔
حویلی میں آؤ تو ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی یہاں خاموشی کا راج تھا ۔۔ ایسے جیسے یہاں کوئی تھا ہی نہیں ۔۔ مگر اگر ٹی وی لاؤنچ کے دائے جانب موجود گیسٹ روم میں آؤ تو یہاں تین لوگ موجود تھے ۔۔ جبکہ گیسٹ روم کے دروازے پر زویا کھڑی اندر موجود لوگوں کی باتیں سننے میں مصروف تھی ۔۔
’’ نائل کو گھر آئے ہوئے اس بار زیادہ لمبا عرصہ نہیں ہوگیا بھائی صاحب ‘‘ جمشید صاحب نے سامنے بیٹھے شہزاد شاہ سے کہا تھا ۔۔
’’ تمہیں تو معلوم ہے جمشید۔۔ اسکی پرانی عادت ہے یہ جب تک کسی کیس کو حل نہیں کر لیتا وہ گھر نہیں آتا ۔۔ ضرور کسی نئے پچیدہ کیس کو حل کرنے میں مصروف ہوگا ‘‘ شہزاد صاحب کی جانب سے جواب آیا تھا ۔۔
’’ وہ تو ٹھیک ہے بھائی صاحب مگر ایسا کب تک چلے گا ؟ میں اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا ۔۔ زویا کی پڑھائی ختم ہوئے بھی سال گزر گیا ہے ۔۔ اب میں اسکی شادی کرنا چاہتا ہوں ‘‘ جمشید صاحب نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔ جبکہ شہزاد صاحب نے اب سادیہ بیگم کی جانب دیکھا تھا ۔۔ جنہوں نے نظریں پھیر لی تھیں ۔۔ جیسے وہ کچھ چھپانا چاہتی ہوں ۔۔
’’ تم اسکی فکر مت کرو جمشید ۔۔ زویا کی شادی ہم بہت دھوم دھام سے کریں گے ۔۔ وہ ہماری بھی بیٹی ہے ‘‘ شہزاد صاحب نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
’’ مگر میں اب اور انتظار نہیں کرنا چاہتا بھائی صاحب ۔۔میں چاہتا ہوں کہ اس بار جب وہ آئے تو آپ اس سے بات کر کے کوئی تقریب رکھیں ۔۔ میں اس فرض کو اب جلد ادا کرنا چاہتا ہوں ‘‘ وہ کہہ وہاں سے جانے لگے تھے جب دروازے کے پاس کھڑی زویا جلدی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی ۔۔
’’ کیا آپ اس سے بات کریں گے ؟ ‘‘ جمشید کے جاتے ہی سادیہ بیگم نے ان سے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔ لگتا ہے اب بات کرنے کا وقت آگیا ہے ‘‘ ایک گہری سانس لیتے ہوئے شہزاد شاہ نے کہا تھا ۔۔
’’ اگر اس نے انکار کردیا تو ؟ ‘‘ سادیہ بیگم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا ۔
’’ ایسا نہیں ہوسکتا سادیہ ۔۔ میں اپنے بھائی کو زبان دے چکا ہوں ۔۔ اور ویسے بھی خاندان میں زویا کے علاوہ کوئی بھی لڑکی اس کے معیار کی نہیں ہے ۔۔ وہ مان جائے گا ‘‘
’’ اللہ کرے ایسا ہی ہو ‘‘ سادیہ بیگم بس دعا ہی کر سکتی تھیں ۔۔ مگر دل یہ ماننے سے انکاری تھا ۔۔ جانے کیوں ؟
وہ رات دس بجےکے قریب فلیٹ پر پہنچے تھے ۔۔ اپنے وعدے کے مطابق مایا نے انکے لئے ایک اچھے ڈنر کا انتظام کیا تھا۔۔ کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں ہی اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے تھے ۔۔
صبح نو بجے کے قریب وہ تیار ہوکر اپنا بیگ کاندھے سے ٹکائے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔ مگر خلافِ توقع آج اسے مصطفی کی جگہ مایا کچن میں چائے بناتی نظر آئی تھی ۔۔
’’ یہ تم اتنی صبح صبح کہا جارہی ہو ؟ ‘‘ اسے تیار دیکھ کر مایا نے پوچھا تھا ۔۔
’’ یونیورسٹی ۔۔ اور کہاں جاسکتی ہوں ؟ ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ رات کو ہی تو انتی لمبی ڈرائیو کے بعد آئے ہو تم دونوں ۔۔ آرام کرنا چاہئے آج ۔۔ کل چلی جانا یونیورسٹی ‘‘
’’ نہیں ۔۔ میرا ویسے ہی بہت لاس ہوچکا ہے ۔۔ اب میں اور حرج نہیں کرنا چاہتی ۔۔ مصطفی سورہا ہے ؟ ‘‘ گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ ہاں ۔۔۔ کافی تھک گیا ہے نا ‘‘
’’ اوک ۔۔ میں چلتی ہوں پھر ‘‘وہ کہہ کر دروازے کی جانب بڑھی تھی ۔۔
’’ ناشتہ تو کر لو ‘‘
’’ ابھی میں بہت جلدی میں ہوں مایا ۔۔ وہی کچھ کھا لونگی ۔۔ مصطفی اٹھے تو اسے بتادینا پلیز ۔۔ اوک بائے ‘‘ وہ جلدی سے کہہ کر باہر نکلی تھی ۔۔ مصطفی کی گاڑی کی چابی جو اس نے کل رات ہی چھپ کر اٹھا لی تھی ، اسے ہاتھ میں گماتے ہوئے وہ مصطفی کی گاڑی کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔ جانے کتنے عرصے بعد آج اسکا ڈرائیونگ کرنے کا دل چاہ رہا تھا ۔۔
گاڑی یونیورسٹی کے باہر روک کر وہ باہر نکلی تھی ۔۔ تازی ہوا نے اسکے بالوں کو اسکے چہرے کے گرد بکھیر دیا تھا جسے وہ انگلیوں کی مدد سے اپنے چہرے سے ہٹاتی گاڑی کو لاک کر کے یونیورسٹی کے جانب بڑھی تھی ۔۔ لائیٹ پنک کلر کی ٹاپ، بلیک ڈراؤزر ، اسی کے ساتھ کا دوپٹہ گلے میں لپیٹے ، کمر کے قریب تک بکھرے کھلے بال جنہیں یونیورسٹی میں کھلا چھوڑنا اسکی عادت نہیں تھی مگر آج دیر سے آنکھ کھلنے کی وجہ سے اسے انہیں باندھنے کی فرصت بھی نہیں ملی تھی ۔۔ اور اب وہ ہوا کی وجہ سے بار بار اسکے چہرے کو ڈھک کر اسے تنگ کر رہے تھے ۔۔۔ میک اپ تو وہ ویسے بھی نہیں کرتی تھی ۔۔ بے بی پنک کلر کی لائیٹ لپ گلو لگائی تھی ۔۔ اس وقت بھی وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی تیزی سے کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی جب اچانک کسی مضبوط وجود سے ٹکرائی ۔۔اور دونوں ہی کے ہاتھ میں پکڑی کتابیں نیچے گریں تھیں ۔۔
’’ ائی ایم سو سوری ۔۔ ‘‘ سامنے کھڑی شخص کو دیکھے بنا وہ کتابیں اٹھانے کے لئے نیچے جھکی تھی ۔۔
’’ امل ؟ ‘‘ اس شخص کی حیران کن آواز پر اس نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ ارے فرہاد ۔۔ کیسے ہیں آپ ؟ ‘‘ کتابیں اسکی جانب بڑھاتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔
’’ کچھ دیر پہلے تک تو ٹھیک نہیں تھا ۔۔ مگر اب سب ٹھیک ہوگیا ہے ‘‘ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ؟ کیا ہوا تھا کچھ دیر پہلے اور اب ؟‘‘ ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ تم کہا ں تھی اتنے دنوں امل ۔۔ کتنی کالز کی تھیں میں نے تمہیں ‘‘ جانے اسکی آواز میں ایسا کیا تھا کہ امل کو چونکنا پڑا تھا ۔۔ وہ اسکے لئے فکرمند تھا ؟ کیسے بے چینی تھی اسکی آواز میں ؟ اور یہ کیسا شکوہ کررہا تھا وہ اس سے ؟
‘‘ میری کزن کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔۔ آپ کیوں کالز کر رہے تھے ؟ کوئی کام تھا کیا ؟ ‘‘
’’ تم یاد آرہی تھی بہت ۔۔ اس لئے کالز کرلیں ‘‘ جواب حاضر تھا ۔۔ ایسا جواب جو امل کو لاجواب کر گیا تھا ۔۔
’’ آج ہی میں نے صبح مصطفی کا چہرہ نہیں دیکھا تھا ‘‘ وہ بس سوچ کر رہ گئ تھی ۔۔
’’ کلاس شروع ہونے والی ہے ۔۔ چلو ‘‘ فرہاد نے اسے اندر جانے کا راستہ دیتے ہوئے کہا تھا ۔۔اور وہ خاموشی سے اندر چلی گئ تھی ۔۔
اسکی آنکھ دوپہر کے ایک بجے کھلی تھی ۔۔ گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔ آنکھیں اب بھی نیند سے بھری ہوئی تھی۔۔ جانے اسکی نیند اتنا سونے کے بعد بھی پوری کیوں نہیں ہوتی تھی ؟ جمائی روکنے کے لئے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ کچن کی جانب آیا تھا ۔۔ ارادہ چائے بنانے کا تھا مگر مایا کو وہاں کام کرتے دیکھ کر اسے وہی رکنا پڑا تھا ۔۔
’’ زہے نصیب ۔۔ آج تو صبح صبح ڈاکٹرنی کا دیدار ہوا ہے ۔۔ لگتا ہے پورا دن کسی مرض میں گزرنے والا ہے ‘‘ شیلف کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ پہلی بات تو یہ صبح نہیں بلکہ دوپہر کا وقت ہے ۔۔ اور دوسری یہ کہ تم مرض کی فکر مت کرو ۔۔ مرض کو بھی کبھی مرض ہوا ہے بھلا ؟ ‘‘ چائےکا کپ اسکے سامنے رکھتے ہوئے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔
’’ یہ مرض بھی تو آپکا ہی لگایا ہوا ہے جناب ۔۔ دوا بھی کر دیجئے ‘‘ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔
’’ کیوں نہیں ۔۔ ڈاکٹرز کا تو کام ہی یہی ہوتا ہے ۔۔۔ رکو ذرا میں ابھی انجیکشن لاتی ہوں ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھی تھی ۔۔
’’ انجیکشن ! ‘‘ وہ تقریباً چیختے ہوئے کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ ہاں ظاہر ہے ۔۔ دل کا مرض ہے تمہیں۔۔ تو دل میں انجیکشن تو لگانا ہوگا نا ‘‘ معصومیت سے کہا تھا ۔۔
’’ کس نے کہا مجھے مرض ہے ؟؟ بلکل ٹھیک ہوں میں ۔۔ دیکھو ۔۔ بلکل ہشاش بشاش ‘‘ ہاتھ کی مٹھی سینے پر مارتے ہوئے اس نے جیسے یقین دلایا تھا ۔۔
’’ تم کہتے ہو تو مان لیتی ہوں ‘‘ مسکراتے ہوئے وہ دوبارہ چولہے کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔
’’ کیا بنا رہی ہو ؟ ‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ سرپرائز ہے ۔۔دیکھ لینا بعد میں ‘‘ پتیلی کو ڈھک کر چولہا بند کرتے ہوئے وہ اس کے قریب آئی تھی ۔
’’ آج ہاسپٹل نہیں گئ تم ؟ ‘‘
’’ نہیں ۔۔ سوچا آج کا دن تم دونوں کے ساتھ گزاروں ‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے وہ اسکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔
’’ تو اسے بھی جگاؤ نہ ۔۔ مجھے تو لگتا تھا کہ ایک میں ہی یہاں زیادہ سوتا ہوں مگر وہ میڈم تو اب تک نہیں جاگیں ‘‘ اسے اب امل کا خیال آیا تھا ۔۔
’’ وہ بہت پہلے جاگ بھی چکی ہے ۔۔ اور جا بھی چکی ہے ‘‘
’’ جاچکی ہے ؟؟ کہاں ؟ ‘‘ چائے کا کپ رکھتے ہوئے اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ یونیورسٹی ۔۔ میں نے منع کیا تھا مگر کہنے لگی کہ کافی لاس ہوگیا ہے پہلے ہی اسکا ۔۔ اس لئے جانا ضروری ہے ‘‘
’’ حد ہوگئ ہے امل ۔۔ تم کبھی نہیں سدھر سکتی ۔۔۔ کیسے گئ ہے وہ ؟ ‘‘ اس نے دوسرا سوال کیا تھا ۔۔ واپس آتے ساتھ ہی امل نے اسے پریشان کرنا شروع کردیا تھا ۔۔
’’ فکر مت کرو ۔۔ تمہاری گاڑی کی چابی چرا کر گئ ہے ‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے مصطفی کو اطلاع دی تھی ۔۔
’’ کیا بات ہے ! یہ لڑکی مجھے کبھی سکون سے نہیں رہنے دیگی ‘‘ اس نے امل کو کوسا تھا ۔۔
’’ مصطفی ۔۔ ‘‘ مایا کی سنجیدہ آواز پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوا تھا ۔۔
’’ وہاں کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ اس نے ایک سوال کیا تھا جس کے جواب پر مصطفی نے گہری سانس لی تھی ۔۔
’’ کچھ نہیں ۔۔ ماسٹر نے اسے کچھ دن قید کیا ۔۔ اور پھر آخری وارننگ دے کر چھوڑ دیا ‘‘ چائے کا کپ دوبارہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اور وہ ایگریمنٹ ؟؟ کیا تھا وہ ؟ ‘‘
’’ ماسٹر نے امل سے وعدہ کیا ہے کہ وہ شہزاد شاہ کو سزا دلوائیںگے ۔۔ اور اس کے بدلے امل کو انکی ہر بات ماننی ہوگی۔۔ تمہیں تو معلوم ہے امل کسی کی کہاں سنتی ہے ؟ اس لئے ماسٹر نے پکے کام کئے ہیں ۔۔ اگر وہ انکی بات نہیں مانے گی تو شہزاد شاہ کو بھی بھول جائے ‘‘ مصطفی کے جواب پر مایا کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔
’’ کیا وہ واقعی امل کا ساتھ دینگے ؟ ‘‘ اس نے کنفرم کرنا چاہا تھا ۔۔
’’ تم انہیں جانتی ہو مایا ۔۔ وہ کوئی بھی کیس نامکمل نہیں چھوڑتے ‘‘ سنجیدگی سے جواب دیا گیا تھا ۔۔
’’ مگر یہ کیس الگ ہے مصطفی ۔۔ یہاں سامنے کوئی غیر نہیں ہے ۔ سب اپنے ہیں ‘‘ مایا نے لفظ ’ اپنے ‘ پر زور دیا تھا۔۔ اور مصطفی اس کی وجہ سمجھ گیا تھا۔۔
’’ انصاف یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کون اپنا ہے اور کون پرایا ؟ انصاف بس یہ دیکھتا ہے کہ سامنے مجرم ہے پھر چاہے وہ کوئی بھی ہو ‘‘ مصطفی کہتے ہوئے کھڑا ہوا تھا ۔۔
’’ تمہیں تیار رہنا ہوگا مایا ۔۔ ہر اپنے کی سزا کے لئے ‘‘ سنجیدگی سے کہتا وہ واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔۔ جبکہ مایا کسی گہری سوچ میں گم ہوچکی تھی ۔۔۔
کمرے میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے اپنا موبائل اٹھا کر امل کو کال ملائی تھی ۔۔
’’ کہا ہو تم ؟ ‘‘ ایک روب سے پوچھا تھا ۔۔
’’ مسلمان پہلے سلام کرتے ہیں مصطفی ‘‘ کیمپس سے باہر ایک بینچ پر بیٹھتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔
’’ اسلام و علیکم میڈم ۔۔ کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ کہاں ہیں ؟‘‘ کمال کا ضبط تھا ۔۔
’’ و علیکم اسلام مصطفی ۔۔ میں یونیورسٹی میں ہوں اس وقت ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔ مصطفی کو پریشان کرنے میں اسے سب سے زیادہ مزہ آتا تھا ۔۔
’’ اور میری گاڑی کہاں ہے ؟ ‘‘ اگلے سوال پر امل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔۔
’’ چابی تو میرے بیگ میں ہے ۔۔ پر گاڑی بیگ میں نہیں ہے ‘‘
’’ تم مجھے اٹھا سکتی تھی ۔۔ میں خود تمہیں ڈراپ کرتا امل ۔۔ اکیلی کیوں چلی گئ تم گاڑی لے کر ‘‘ دبا ہوا غصہ تھا ۔۔
’’ تم تھکے ہوئے تھے تو میں نے سوچا جگانا مناسب نہیں ہے اور ویسے بھی آج میرا بہت دل چاہ رہا ہے ڈرائیونگ کرنے کا‘‘
’’ چاہ رہا ہے کا کیا مطلب ہے ؟ امل ۔۔ کیا کرنے والی ہو تم ؟ ‘‘ اسے کسی خطرے کا احساس ہوا تھا ۔۔
’’ فرہاد کے ساتھ لنچ پر جارہی ہوں ۔۔ پھر لانگ ڈرائیو ۔۔ تم پریشان مت ہونا ۔۔ میں شام تک آجاؤنگی ‘‘ بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے وہ دلکشی سے کہہ رہی تھی ۔۔
’’ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ؟؟ پاگل تو نہیں ہوگئ ہو تم ؟؟ ماسٹر جان سے مار دینگے تمہیں ‘‘ اور اس وقت مصطفی کا حال ایسا تھا کہ جیسے کسی بھی وقت وہ کسی بھی دیوار پر سر مار سکتا تھا اپنا ۔۔
’’ اوہ ۔۔ میں تو ڈر گئ ‘‘ اس نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی تھی ۔۔
’’ تم بھول رہی ہو ۔۔ ایگریمنٹ کے مطابق تم انہیں انفارم کئے بنا کسی کے ساتھ کہیں نہیں جاسکتی ‘‘ اس نے جیسے اسے یاد دلایا تھا ۔۔
’’ تمہیں کس نے کہا ہے میں اسے انفارم نہیں کرونگی ؟؟ انفارم ہی کرنا ہے نہ تو میں مسیج کررہی ہو اسے ۔۔ یہ بات الگ ہے کہ ایگریمنٹ میں کہیں جانے سے روکنے والی کوئی بات نہیں ہوئی تھی ‘‘ شیطانی مسکراہٹ امل کے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی ۔۔
’’ امل ۔۔ امل ۔۔ !! تم ابھی واپس آؤ ‘‘ اسے اب سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اسے سمجھائے ۔۔
’’ سوری باس ۔۔ بائے ‘‘ اور یہ کہہ کر اس نے کال کٹ کر دی تھی ۔۔ جبکہ مصطفی اسکا نام لیتا ہی رہ گیا تھا ۔۔
’’ مایا ۔۔۔ مایا ‘‘ کچھ دیر بعد وہ تیار ہوکر مایا کو پکارتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔
’’ کیا ہوا ؟ ‘‘ اپنے کمرے سے باہر نکلتی مایا نے پوچھا تھا ۔۔
’’ اپنی گاڑی کی چابی دو جلدی ‘‘ وہ بہت جلدی میں نظر آرہا تھا ۔۔ مایا فوراً کمرے کے اندر گئ اور چابی لے کر باہر آئی تھی۔۔
’’ کہاں جارہے ہو ؟ ‘‘ چابی اسکے حوالے کی تھی ۔۔
’’ کسی کا دماغ ڈھکانے لگانے ‘‘ وہ کہہ کر تیزی سے وہاں سے جاچکا تھا جبکہ مایا کاندھے اچکاتے ہوئے اپنے کمرے میں واپس آگئ تھی ۔۔
’’ خیریت ہے ؟ اکیلے بیٹھے مسکرایا جارہا ہے ؟ ‘‘ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شانزے نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ بلکل خیریت ہے ۔۔ تم بتاؤ احمد کے کیا حال ہیں ؟ ‘‘ مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’بہت اچھے حال ہیں انکے ۔۔ تم بتاؤ ؟ احمد کے باس کے کیا حال ہیں ؟ ‘‘ انداز اسے چھیڑنے والا تھا ۔
’’ یہ تو تمہیں مجھے بتانا چاہیے ۔۔ میں تو آج آئی ہوں یونیورسٹی ‘‘
’’ ہاں مگر آتے ساتھ پہلا ٹکراؤ بھی تو انہیں سے ہوا ہے نہ تمہارا ۔۔ اور کلاس میں بھی ساتھ تھے تم دونوں ۔۔ اور ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہہ بھی رہے تھے ۔۔ سب دیکھ رہی تھی میں ‘‘ اس نے جیسے امل کو اپنی جاسوسی کی مہارت بتائی تھی ۔۔
’’ اتنا دھیان تم اگر پڑھائی پر دو تو میرے خیال سے ٹاپ کرسکتی ہو تم ؟ ‘‘ کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ٹاپ تو کوئی بھی کرسکتا ہے میری جان ۔۔ مگر دوستوں کی پل پل کی خبر رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ‘‘ گردن اکڑاتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک فرمایا آپ نے ۔۔ بائے ‘‘ اسے کہہ کر وہ آگے بڑھ گئ تھی ۔۔
باہر آتے اسکی نظر اپنی جانب تیزی سے آتے مصطفی پر پڑی تھی ۔۔ اور اس کے چہرے پر موجود غصہ دیکھ کر امل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی ۔۔
’’ چلو میرے ساتھ ‘‘ اسکا بازو تھامے وہ اسے اپنی گاڑی کی جانب لے کر جارہا تھا ۔۔
’’ مگر مایا کی گاڑی ؟ ‘‘ اشارہ مایا کی گاڑی کی جانب کیا تھا ۔۔
’’ چپ کر کے چلو یہاں سے ‘‘ اسے گاڑی کے اندر بٹھاتے ہوئے وہ فوراً ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔
’’ تو پھر ہم کہاں لنچ کرنے جارہے ہیں ؟ ‘‘ اسکی جانب دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔۔
’’ تم بہت تیز ہو امل ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ ‘‘ سڑک پر نظر جماتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
’’ تیز ہونا پڑتا ہے مصطفی ۔۔۔ یہ جو دنیا ہے نہ یہاں رہنے کے لئے خود کو تیز کرنا پڑتا ہے ۔۔ ورنہ یہ لوگ ہمیں جینے نہیں دینگے ‘‘ اسکے انداز میں بھی اب سنجیدگی تھی ۔۔
’’ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ؟ صاف صاف کہہ دیتی کے باہر جانا چاہتی ہوں ۔۔ میں آجاتا ‘‘ وہ اب سمجھا تھا امل کے جھوٹ کو ۔۔ وہ جواب میں خاموش رہی تھی ۔۔ کچھ دیر بعد مصطفی نے گاڑی ایک ریسٹورانٹ کے سامنے روکی تھی ۔۔
وہ دونوں ایک کونے پر رکھی میز کی جانب آکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔۔ اپنا آرڈر دینے کے بعد امل اسکی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔
’’ میں نہیں چاہتی تھی کہ تمہیں مایا سے مزید جھوٹ کہنا پڑے ‘‘ سنجیدگی سے کہی گئ امل کی بات پر مصطفی نے اسے ناسمجھی سے دیکھا تھا ۔۔
’’ تو تم نے اس لئے مجھ سے جھوٹ بول کر مجھے یہاں بلایا ؟ کیا یہ جھوٹ تمہارے حصے میں کم گناہ لائے گا امل ؟ ‘‘ وہ اسکی پالیسی سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔
’’ بات گناہ کی نہیں ہے مصطفی ۔۔ بات چھپانے کی ہے ۔۔ میں نہیں جانتی نائل شاہ کیا سوچ رہا ہے ۔۔ آگے کیا ہوگا ۔۔ مگر ایک بات تو کنفرم ہے ۔۔ کہ ہمیں اس ایگریمنٹ کی سچائی سب سے چھپا کر رکھنی ہے ۔۔ مایا سے بھی ۔۔ ‘‘ سمجھانے والے انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ اس نے پوچھا تھا مجھ سے ۔۔ اور میں نے اسے وہی بتایا ہے جو ہم دونوں نے ڈیسائیٹ کیا تھا ‘‘ ویٹر نے آکر کھانا سرو کرنا شروع کیا تھا ۔۔ تب تک دونوں خاموش رہے تھے ۔۔۔
’’ یہ پہلا اور سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔۔ جو ہم نے اس سے کہا ہے ۔۔ اور میں نہیں چاہتی ہے ہمیں مزید کوئی جھوٹ کہنا پڑے ۔۔ اس لئے میں نے ایسی سچویشن بنائی کہ ہم سچ کہہ کر اپنا کام کرسکتے ہیں ۔۔ یہ سب اسی طرح چلے گا مصطفی ۔۔ گھر میں ہم اس بارے میں بات نہیں کر سکتے ۔۔ اور باہر آنے کا بہانہ تو چاہئے ‘‘ سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ اپنی پلیٹ کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔۔
‘’’ تم بہت بہادر ہو امل ‘‘ کچھ دیر تک اسے دیکھتے رہنے کے بعد اس نے کہا تھا ۔۔
’’ وقت انسان کو بہادر بنا دیتا ہے ۔۔ اور یہ ہمارے بس میں نہیں ہوتا ۔۔ کبھی کبھی ۔۔ بار بار دکھوں کی ضرب لگنے کے بعد انسان اتنا پکا ہوجاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ کوئی بھی دکھ اسے مزید دکھی نہیں کر پاتا ۔۔ وہ اس دکھ میں بھی مسکرا جاتا ہے ۔۔ اور پھر لوگ کہتے ہیں ۔۔ تم بہت بہادر ہو ‘‘ پھیکی مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی لئے اس نے کہا تھا۔۔
’’ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔ ‘‘ وہ اس سے زیادہ کچھ کہہ نہیں پایا تھا ۔۔ اور وہ کہتا بھی تو کیا ؟ اس کے آنکھوں دیکھا ہی تو تھا سب ۔۔ مگر پھر بھی اس نے وہ آگ نہیں دیکھی تھی جو امل نے دیکھی تھی ۔۔
’’ کھانا کھاؤ نا ۔۔ اتنا اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ فرہاد کے ساتھ کیفے ٹیریا میں کافی پی تھی میں نے ‘‘ ایک آنکھ دباتے ہوئے اس نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔ اور بس ۔۔ مصطفی کے چہرے کی اداسی فوراً اس کی پرانی حیرت میں بدلی تھی۔۔
’’ کہہ دو کہ تم جھوٹ کہہ رہی ہو ‘‘ اسکی جانب جھکتے ہوئے اس نے ایک امید سے پوچھا تھا۔۔
’’ سوری باس ۔۔ مگر اس بار میرے اندر کی سچی لڑکی نے یہ کہا ہے ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ ماسٹر کو معلوم ہوا نہ امل تو وہ تمہیں دن میں تارے دِکھا دینگے ‘‘ اس نے ایک بار پھر امل کو ڈرانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔
’’ تم پریشان مت ہو دن میں چاند دکھانا مجھے بھی آتا ہے ‘‘ جواب حاضر تھا ۔
اور اس سے پہلے کہ مصطفی کوئی جواب دیتا ۔۔ اس کے موبائل کی مسیج ٹیون نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی ۔۔
اس نے موبائل نکال کر مسیج پڑھا تھا ۔۔ اور پھر ۔۔ اس کے چہرے کے تعصورات بدلے تھے ۔۔ اس نے فوراً سامنے بیٹھی ۔۔ اپنے کھانےکے ساتھ انصاف کرتی امل کی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ تمہارے چاند کی تو کوئی خبر نہیں ۔۔ مگر تارے تمہاری راہوں میں پلکے بچھانے کے لئے تیار ہیں سلیپنگ بیوٹی ‘‘ طنزیہ انداز میں کہا تھا ۔۔
’’ کیا مطلب ؟ ‘‘ ناسمجھی سے اس کے جانب دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔ جبکہ مصطفی نے اسے جواب دینے کے بجائے موبائل اسکی جانب بڑھایا تھا۔۔ اس نے مصطفی کے ہاتھ سے موبائل لے کر مسیج پڑھا تھا ۔۔
’’ رات دس بجے تم مجھے اپنی اس سلیپنگ بیوٹی کے ساتھ میرے سامنے نظر آؤ ‘‘
مختصرمیسج تھا ۔۔ مگر ماسٹر کی سنجیدگی ان الفاظ سے صاف ظاہر ہورہی تھی ۔۔
’’ اس انسان کی سروس کچھ زیادہ ہی فاسٹ ہے ‘‘ موبائل میز پر رکھتے ہوئے امل نے کہا تھا ۔۔
’’ فلحال تو اپنی سروس کی تیاری کرو ۔۔۔ سلیپنگ بیوٹی ‘‘ اسے بغور دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔ جبکہ امل تو اب مسکرا بھی نہیں سکی تھی ۔۔
’’ دعا ہے رات تارے آسمان پر ہی چمکتے ہوئے ملیں ‘‘ مصطفی نے ایک اور جملہ اچھالا تھا ۔۔ اور امل بس اسے گھورتی ہی رہ گئ تھی ۔۔۔
