Koi Sath Ho by Ujala Naaz NovelR50555
Last updated: 1 March 2026
Koi Sath Ho (Episode 01)Koi Sath Ho (Episode 02)Koi Sath Ho (Episode 03)Koi Sath Ho (Episode 04)Koi Sath Ho (Episode 05)Koi Sath Ho (Episode 06)Koi Sath Ho (Episode 07)Koi Sath Ho (Episode 08)Koi Sath Ho (Episode 09)Koi Sath Ho (Episode 10)Koi Sath Ho (Episode 11)Koi Sath Ho (Episode 12)Koi Sath Ho (Episode 13)Koi Sath Ho (Episode 14)Koi Sath Ho (Episode 15)
Koi Sath Ho by Ujala Naaz
حویلی میں اب بھی خاموشی کا راج تھا ۔۔ یہ صبح کے دس بجے کا وقت تھا ۔۔۔ ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی تیزی سے باہر آئی تھی ۔۔ وہ اب سیڑھیاں اتر رہی تھی ۔۔ اس کا رخ دائیں جانب کچن کی طرف تھا ۔۔ کچن میں آؤ تو تین ملازمہ ناشتے اور دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں ۔۔ جبکہ ان کے ساتھ کوئی درمیانی عمر کی خاتون کھڑی انہیں کچھ سمجھا رہی تھیں ۔۔۔
’’ شہزاد شاہ کا ناشتہ جلدی سے لگاؤ ۔۔ ذرا بھی دیر ہوگئ تو ناراض ہونگے وہ ‘‘ ان کے کہنے پر ایک ملازمہ اب جلدی سے اس کام میں لگ گئ تھی ۔۔
’’ تائی ۔۔ ‘‘ وہ لڑکی اب کچن کے دروازے پر کھڑی انہیں پکار رہی تھی ۔۔ تائی نے پلٹ کر اسے دیکھا اور ایک مسکراہٹ انکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔
’’ ارے تم آج جاگ گئ ۔۔ ‘‘ اسے کہہ کر وہ دوبارہ ملازمہ کی جانب متوجہ ہوئی تھیں ۔۔ ’’ اسکا ناشتہ بھی تیار کرو جلدی سے ‘‘
’’ وہ کہاں ہے ؟ ‘‘ اس نے پوچھا تھا ۔۔ جس پر تائی کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئ تھی ۔۔
’’ وہ ہمارے جاگنے سے پہلے ہی چلا گیا تھا ۔۔ ایک خط چھوڑ گیا بس ‘‘ اس کے قریب آکر کہا تھا ۔۔
’’ کیسا خط ؟ ‘‘ اس نے بےچینی سے پوچھا تھا ۔۔
’’ یہی کہ وہ واپس جارہا ہے اور کچھ عرصے تک نہیں آئے گا ‘‘ تائی کہہ کر کچن سے باہر نکلی تھیں ۔۔ اور وہ انکے پیچھے آئی تھی ۔۔
’’ کیا مطلب واپس چلا گیا ؟ ایسے کیسے جاسکتا ہے وہ ؟ کسی کو بھی بتائے بنا ؟ ‘‘ اس کے تیور بدلے تھے ۔۔
’’ زویا ۔۔۔ ‘‘ سخت لہجے میں اس کا نام لیا تھا۔۔
’’ تم بھول رہی ہو کہ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ۔۔ اسے کوئی بھی یہاں آنے اور یہاں سے جانے سے روک نہیں سکتا ‘‘ وہ کہہ کر پلٹ چکی تھیں جبکہ زویا وہی کھڑی انہیں جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔
کچھ دیر بعد وہ ناشتہ کرنے کے لئے ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔ درمیان میں شہزاد شاہ ۔۔ انکے دائیں جانب سادیہ شاہ اور بائیں جانب زویا ۔۔۔
’’ وہ چلا گیا ؟ ‘‘ شہزاد شاہ نے سادیہ بیگم کی جانب دیکھ کر کہا تھا۔۔
’’ جی ۔۔ صبح سویرے ہی نکل گیا تھا ۔۔ لکھ کر گیا ہے کہ کچھ عرصے کے لئے جارہا ہوں ‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ۔۔
’’ یہ ہمیشہ ایسے ہی جاتا ہے ‘‘ نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔
’’ مگر اسےبتا کر جانا چاہئے نہ تایا ابو ‘‘ زویا کہ بات پر انکے چلتے ہاتھ رکے تھے ۔۔
’’ وہ کسی کو بتا کر جانے کا پابند نہیں ہے ‘‘ انہوں نے اسے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔ جس پر زویا خاموش ہوگئ تھی۔۔ اسے اسکا اس طرح جانا اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
’’ جمشید کہاں ہے ؟ ‘‘ شہزاد صاحب نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ وہ بھی صبح چلے گئے تھے ‘‘ سادیہ بیگم نے جواب دیا تھا ۔۔ اور اس کے بعد مکمل خاموشی ہوگئ تھی۔۔
