Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

ازقلم فاطمہ طارق
“اچھا ہو گا یہاں سے چلے جائیں” وہ سخت لہجے میں بولی۔ عثمان نے گہرا سانس لیا۔ اور اسکی طرف دیکھا۔
پھولے پھولے گالوں میں وہ اسے ناراضگی میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

“یہ والی ناراضگی کچھ زیادہ ہی لمبی نہیں ہو گی؟ ایک مہینا ہو گیا ۔ا ب بہت زیادہ ہو رہا ہے، پلیز بس کرو اور چلو میرے ساتھ، پتہ کتنے دنوں سے صحیح سے سو نہیں پا رہا بہت یاد آتی ہے، مس کرتا ہے، چلو نا ناراضگی ختم کرتے ہیں” عثمان اسکے گالوں پر آۓ بالوں کو پیچھے کرتے ہوے بولا۔ رامین نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔ وہ اسکی ناراضگی جتنانے کے انداز پر مسکرایا۔

“او تو آپکو یاد ہے ایک مہینا ہو گیا۔ عثمان سچ میں ایک مہینا ہو گے، اور ویسے بھی آپ تو طلاق دے رہے تھے، ابھی بھی دے دیں اتنے مہینے خاموش کیوں رہے ابھی تک تو نئی شادی بھی ہو جانی تھی۔” وہ طنزیہ لہجے میں بول رہی تھی۔ چہرے پر ناراضگی تھی۔ عثمان کو بھی اپنی اس دن کی حرکت یاد آئی۔

“تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسا کر سکتا ہوں، اپنی جان کو چھوڑ کر خود زندہ کیسے رہ سکتا ہوں، اور تم تو جانتی ہو تمہارا شوہر بہت پاگل بدتمیز، کھڑوس ، اور ڈفر ہے ایسی بکواس کر دی۔ اسکے لیے معاف کر دو پلیز اب مزید میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا” وہ اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔

“عثمان آپکو یہ سب آسان لگ رہا ہے، میں سچ میں بہت دکھی ہوں ، ان سالوں میں آپ نے کیا کچھ نہیں بولا مجھے اور میں ہر دفع معاف ہی کرتی رہی۔ عورت ہوں نا اپنے بچوں کے لیے معاف تو کرنا ہی پڑتا ہے، اور آپ ٹھہرے مرد بات کر کے یوں بھول گے جیسے کبھی کی ہی نا ہو، کتنی آسانی سے چھوڑ رہے تھے، جیسے مجھ سے تو کوئی واسطہ ہی نا ہو” رامین ابکی بار رونے لگ گئی۔ وہ روتے روتے بول رہی تھی۔ عثمان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔ ایسے معافی نہیں ملنے والی۔

“رامین میرے لیے وہ سب آسان نہیں تھا، میں شائد علیزے کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی سینسٹو تھا، جانتا ہوں اس دوران بھی بہت غلط تھا اسکا احساس مجھے ہے، میں نے وہ سب غصے میں کیا تھا، تم یہ بھی اچھے سے جانتی ہو کتنی محبت کرتا ہوں، اپنی زبان اور غصے کی وجہ سے میں نے تمہیں بہت ہرٹ کیا اور پچھلے چھے مہینے سے اسکی سزا تمہاری ناراضگی کی صورت میں پا رہا ہوں۔ مجھے لگا تم خود ا جاؤ گی پر مجھے معلوم نہیں تھا میری بیوی اتنی ضدی ہے” عثمان اسکی طرف دیکھتے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔ اور رامین سوں سوں کرتے اسکی سن رہی تھی۔

“کیا بھروسہ آپ دوبارہ ویسی بات نہیں بولیں گے غصے میں طعنے نہیں ماریں گے” وہ روٹھے ہوۓ لہجے میں بولا۔

“مر کر بھی ایسا دوبارہ نہیں بولوں گا وعدہ میری جان ” وہ اسکے دونوں ہاتھوں کا بوسہ لیتے ہوۓ بولا۔

“دیکھتے ہیں آپ کتنے اپنے الفاظوں پر کھڑے ہوتے ہیں” رامین نے آنکھیں گھماتے ہوۓ بولا۔

“تو مان گئی میری بیوی، پتہ ہوتا اتنی جلدی مانوں گی تو اپنی ضد کو پرے چھوڑ کر کب کا آگیا ہوتا” وہ مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور عمر کو تھوڑا سا سائیڈ پر کیا اور اسکے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ اور اسکے گرد بازو پھیلا دیے۔
“ویسے تھوڑی دیر پہلے دوسری شادی والی بات کیا ابھی بھی سکتی ہے؟” عثمان نے اسے چھیرتے ہوۓ کہا۔

“جان نکال دوں گی” رامین اسکے کندھے پر تھپڑ مارتے ہوۓ بولی۔

“اوکے اوکے ” وہ ہنسا تھا۔ رامین نے سکون سے اسکے سینےسے سر ٹکا دیا۔

“ہیپی برتھ ڈے” کچھ پل بعد وہ ہولے سے بولی۔ عثمان مسکرایا۔۔

“زیادہ جلدی نہیں یا دآ گئی؟” وہ اسکا چہرہ اوپر کرتے ہوۓ بولا۔

“ہاں تو میں ناراض تھی نا، ایسے میں وش کرتی تو ناراضگی کا کیا کرتی” رامین دانت نکال کر بولی۔ عثمان نےا سکے گال کھینچے۔ اور ماتھے سے بال ہٹاتے بوسہ دیا۔

“سوری میں آپکو گفٹ نہیں دے رہی غصے میں لیا ہی نہیں” وہ اسکے ہاتھ پر انگلیاں گھماتے ہوۓ بولی۔

“مجھے تم اس سے بھی پیارا گفٹ دے رہی ہو” اسنے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی۔ وہ پل میں سرخ ہوئی۔ اور اسکے سینے میں منہ چھپا دیا۔ عثمان نےہنستے ہوۓ اسے سینے میں بھیچا۔ اور اپنی انکھیں سکون سے موندھ دیں جانتا تھا آج تو سکون کی نیند ملے گی۔اتنے دنوں سے جس سکون کی تلاش میں وہ تھا اج وہ مل گیا۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ سو گیا۔ رامین اسے سوتا دیکھ سیدھا ہوئی اور اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی۔

وہ جانتی تھی عثمان نے وہ سب غصے میں بولا پر اسکی غلطی کا احساس کروانے کے لیے اسنے اسے بلایا نہیں تھا۔ اور آج جب وہ خود معافی مانگنے آیا تو اسنے معاف کر دیا۔ اور معاف کیوں نا کرتی جانتی تھی۔ وہ اس سے کتنی محبت کرتا یے۔ اور وہ خود بھی اسکے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ مزید ناراضگی کا کوئی فائدہ بھی نہیں تھا۔ تھوڑے سے نخرے دیکھا کر مان جانے میں ہی تو مزہ ہے۔

“”””””
وہ ڈنر تیار کر رہی تھی۔ امریکہ آۓ اسے ایک مہینا ہو چکا تھا۔ اس ایک مہینے میں ہی وقار نے پرو کر دیا تھا کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے، وہ صبح نو بے آفس جاتا اور چھے بجے کے قریب واپس آ جاتا باقی کا سارا وقت وہ بچوں اور علیزے کو دیتا۔ علیزے اسکے سنگ بے حد خوش تھی۔ آیان یہاں آکر بہت خوش تھا۔ زینب سے علیزے کو جُڑنے میں کچھ وقت لگا پر اب ان دونوں کی بہت اچھی دوستی تھی۔ وہ اسے ماما کہ کر پکارتی اور وہ اسے بالکل اپنے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتی۔ آیان کو زینب کے سکول میں داخل کروا دیا۔ ویک اینڈ کو وقار ان تینوں کو لیے باہر جاتا اور سارا دن انکے ساتھ بیتاتا۔ وہ اپنی اس چھوٹی سی دنیا میں بہت خوش تھے۔ علیزے کھانا خود بناتی گھر کے سارے کام تو ورکرز کر دیتے تھے۔ وہ کافی بور ہوتی تو پاکستان کال ملا لیتی۔

وقار گھر پہنچا، وہ کیچن میں کھانا بنا رہی تھی۔ وہ سیدھا کیچن میں آیا۔ موبائل پر وہ کسی کو میل کر رہا تھا۔

“کیا بن رہا ہے” موبائل کو بند کرتے وہ علیزے کے پیچھے ایا اور اسکے کندھے سے تھوڈی نکاتے ہوۓ پوچھا۔

“صبح اپ ہی بریانی کی فرمائیش کر کے گے تھے اور اپ کے وہ دو انمولوں نے ہمیشہ کی طرح ماما ہمیں میکرونی کھانی ہے کی فرمائش کی ہے” علیزے کافی چڑی ہوئی تھی۔ وقار اسکی بات سن کر ہنسا۔ اسکا رخ اپنی طرف موڑتے اپنے بازو اسکے کندھوں کر گرد باندھے۔

“کیا بات ہے؟ پہلے تو کھانا بناتے اتنا غصہ نہیں آیا۔ کوئی بات ستا رہی ہے؟” وہ اسکی انکھوں میں انکھیں ڈالے بولا۔ علیزے نے نظریں چُڑائیں۔

“کل بھائی کی برتھ دے ہے میں نے میسج کیا انہوں نے پڑھ کر بھی کوئی جواب نہیں دیا، میں نے کال کی انہوں نے کاٹ دی” بولتے بولتے اسکی آنکھوں سے پانی نکلتا گالوں پر بہا۔

“اُو تو یہ بات ہے، چلو میں ابھی بات کرواتا ہوں” وقار اسکے گالوں کو صاف کرتے ہوۓ بولا۔ اور ساتھ ہی عثمان کے نمبر پر کال ملا دی۔

“میری کال وہ نہیں اُٹھاتے آپ! تو بہت دور کی بات ہے، نہیں اُٹھائیں گے، آپ نے انہیں زیادہ ہرٹ کیا ہے میں نے نہیں دیکھنا نہیں اُٹھائیں گے” وہ چکن میں چمچ مارتے ہوۓ بولی۔ وقار اسکی بات پر مسکرایا۔

“ہاں جگر کیا حال ہے؟” تبھی فون میں سے عثمان کی آواز آئی۔ علیزے کی تو انکھیں ہی پھٹی رہ گئیں۔

“میں ٹھیک تو سنا” وقار مسکرا کر جواب دیتا علیزے کو چڑا گیا۔ علیزے غصے سے اسے گھور رہی تھی۔ اور جلدی سے اسکے پاس آتے موبائل کا رخ اپنی طرف کیا۔

“میری کال کاٹ دی میسج تک کا جواب نہیں دیا اور وقار سے کیسے جگر جگر کر کے باتیں کر رہے ہیں کیا میں اتنی بری ہوں بھائی” بولتے بولتے وہ رو دی۔ عثمان اور وقار مسکرا دیے۔

“بس کر اب مزید مت ستا، بات کر لے” وقار نے ہنس کر بولا۔ علیزے نے دنوں کو دیکھا ۔

“ارے میری روتلو بہن چپ کر جاؤ میں ناراض نہیں ہوں، میں نے میسج دیکھے تھے، بس جان بوجھ کر مزید ستانے کے لیے اگنور کیا سوری” عثمان کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ بولا۔

“اب مجھے آپ دنوں سے بات نہیں کرنی” علیزے اپنی بریانی کی طرف آتے ہوۓ بولی۔

“ارے اس میں میرا کیا قصور” وقار تو بات نا کرنے کا سن کر حیرانگی سے بولا۔

“آپ تو چپ ہی رہیں، بھائی سے دوستی ہو گی اور مجھے بتایا بھی نہیں” وہ اپنا غصہ اب اس پر نکال رہی تھی۔ عثمان دونوں کو لڑتے دیکھ مسکرایا۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی وقار نے اسے کافی میسج کیے تھے کہ اسے بات کرنی ہے پر وہ اگنور کرتا گیا۔ پھر وقار نے اسے ایک میل بھیجی جس میں ڈاکومینٹس تھے، عثمان اسے دیکھ کر شاک ہوا، اس میں طلحہ صاحب نے جو پچاس لاکھ روپے نکالے تھے اسکے ڈاکومینٹس تھے یہ تو اسے معلوم تھا۔ اسکے نیچے جو ڈاکومینٹس تھے، اس میں باقی کے بچاس لاکھ اور مزید کچھ پیسے نکالے گے تھے اور نکالنے والے کام نام پڑھ کر وہ شاک ہوا تھا وہ اور کوئی نہیں بلکہ معاز تھا۔ اسکا دوست جس پر اسنے اتنا یقین کیا۔ سارے ثبوت اسکے سامنے تھے۔ اسنے آفس جاتے ہی اس سے پہلے پوچھا، وہ ایسے کام پہلے بھی کرتا تھا، اور عثمان کا دوست بن کر گھر مین گھسنے کا پلین تھا۔ اور عثمان تو اس سے علیزے کی شادی بھی کروانے کے لیے تیار تھا۔ اب جا کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔ اسنے معاز کے خلاف کیس کیا، اسے پولیس ایرسٹ کو کے لے گئی۔ اسکے بعد عثمان نے وقار سے بات کی، دونوں کے درمیان جو دیوار تھی وہ آہستہ آہستہ گڑ گئی۔ کل علیزے کے میسج دیکھ کر وہ مسکرایا جواب دینے ہی والا تھا کچھ شرارت سوجھی تو کال بھی کاٹ دی۔ وہ اپنے برے رویے کی معافی بھی مانگنا چاہتا تھا۔ آج فری ہو کر وہ کال کرنے والا تھا اس سے پہلے وقار کی کال آ گئی۔

“تمہاری اس بھائی نے ہی مجھے بتانے سے منع کیا تھا” وقار نے سارا قصور اس پر ڈال دیا۔

“بھائی میں کیا اتنی بری ہوں میرے سے اتنا ناراض ہیں؟” وہ نم انکھوں سے سکرین پر نظر آتے عثمان کو دیکھتے بولی۔

“پگلی، بھائی بھلا اپنی بہنوں سے ناراض ہوتے ہیں، ہاں پہلے تھوڑا سا ناراض تھا پھر مجھے خود کی غلطی کا احساس ہوا، میں نے تم دنوں کے ساتھ کافی روڈ بی ہیو کیا ، اسکے لیے سوری” وہ کان کو پکڑتے ہوۓ بولا۔

“ایسے مت کریں، میں بالکل ناراض نہیں بلکہ اب خوش ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ کافی دیر دونوں باتیں کرتے رہے۔ وقار چینج کر کے واپس آیا۔ تب تک کھانا تیار تھا۔ علیزے ٹیبل پر لگا چکی تھی۔ آیان اور زینب بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ چاروں نے مل کر کھانا کھایا۔ علیزے ناراضگی جتا رہی تھی۔ کیونکہ اسنے اس سے چھپایا۔ اور وقار اسکی ناراضگی دیکھ مسکرایا۔ کھانے کے بعد برتن صاف کر کے وہ باہر آئی تو سامنے وہ تینوں کوٹ پہنے ایان اور زینب سر پر ٹوپی پنے پاؤں میں جوگرز،ڈالے کہی جانے کو تیار تھے۔

“آپ سب اس وقت کہاں جانے کی تیاری میں ہیں؟” اسنے کمر پر ہاتھ رکھے تینوں کو گھورتے پوچھا۔

“ہم واک پر جا رہے ہیں، اور ابھی تو سات بجے ہیں دیر تھوڑی ہوئی ہے باہر بہت پیارا موسم ہے جلدی سے یہ کوٹ پہنوں، اور یہ مفلر بھی، اور ہاں یہ ٹوپی بھی” وقار اگے بڑھ کر جلدی جلدی اسے پہنانے لگا۔

“اف وقار کیا کر رہے ہیں؟ میں بچی تھوڑی ہوں” علیزے نے توپی اتارے منہ بسور کر بولا۔اور جوگرز پہن کر ان کے ساتھ باہر آئی۔ وہ چاروں چلتے ہوۓ ساتھ بنے پارک میں آۓ جہاں لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ آۓ تھے۔ دونوں بچے جھولے لینے چل دیے۔ علیزے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہلکی ہلکی سی ہوا چل رہی تھی جو موسم کو اور ٹھنڈا بنا رہی تھی۔ وہ اپنے ہاتھ رگڑ رہی تھی۔ وقار نے اگے بڑھ کر اپنا کوٹ اسکو پہنایا۔

“میں ٹھیک ہوں آپکو ٹھنڈ لگ جاۓ گی” وہ فکر مندی سے بولی۔

“نہیں لگتی، اپنی حالت دیکھو سردی کی وجہ سے کانپ رہی ہو” اسکی ناک لال ہو رہی تھی۔ وقار نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور گرمائیش دینے لگا۔ وہ اسکے کیرنگ انداز پر مسکرائی۔ تھوڑی دیر پہلے والی ناراضگی کہی جا سوئی تھی۔ ان دونوں میں اسنے ہر پل محسوس کروایا تھا کہ اسکا فیصلہ غلط نہیں ہے۔ اسنے معاف کر کے کچھ غلط نہیں کیا، اسے ایک چانس دے کر چاروں کی زندگی کو بچا لیا۔ وہ اس ایک مہینے میں بہت خوشیاں محسوس کر چکی تھی۔ اور اسکے سنگ ابھی اور کرنی تھیں۔ اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔

“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟” وقار نے اسے کہی اور ہی جہاں میں کھویا پایا تو پوچھا۔

“کہی نہیں” وہ نفی میں سر ہلاتی بچوں کی طرف بڑھی۔ وقار ٹھٹکا اسکی انکھیں نم کیوں تھیں۔ وہ پریشان ہوا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گھر آ گے آتے ہی علیزے نے بچوں کو کمرے میں سلا دیا۔ صبح سکول بھی جانا تھا۔ وہ کان نپٹا کر کمرے میں آئی۔ کمرہ خالی تھا اسنے بالکنی میں دیکھا تو وہ وہی ریلنگ کے ساتھ کھڑا باہر کی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکے پاس چلی آئی۔

“کیا ہوا آپ یہاں کیا کر رہے ہیں سردی ہے” وہ اسکے پاس آ کر بولی وہ جو خیالوں میں تھا اسکی اواز پر چونکا۔ اور اسکی طرف دیکھا۔

“علیزے ایک سوال پوچھوں؟” اسنے ہمت کر کے بولا۔ علیزے اپنے گرد چادر کو ٹھیک سے لیتی ہاں میں سر ہلا گئی۔

“کیا تم خوش ہو؟ آئی مین کہی تم پریشان تو نہیں ہو؟ یا میرے سے ناراض تو نہیں؟” وقار نے ہمت کر کے پوچھا۔

“آپکو ایسا کیوں لگا؟” علیزے نے سوالیہ انداز میں کہا۔ وہ اسکی وجہ جاننا چاہتی تھی۔

“کچھ دیر پہلے پارک میں میں نے تمہاری آنکھیں نم دیکھیں اسی لیے” وہ ہولے سے بولا۔ اور چہرہ جھکا گیا۔ علیزے اسکی بات سن کر مسکرائی۔اور اگے بڑھی اسکا چہرے کے دونوں اطراف ہاتھ رکھے چہرہ اوپر کیا۔

“وہ تو خوشی کی وجہ سے تھی۔ میں بہت خوش ہوں، آپکے ساتھ زندگی گزارتے مجھے سکون مل رہا ہے، مجھے احساس ہو رہا ہے میرا فیصلہ غلط نہیں تھا، میرا آپکو معاف کرنا غلط نہیں تھا اور اسکو آپ نے پروف کیا ہے، آپکی محبت، کیر کو دیکھ کر آنکھیں نم ہوئیں تھیں” وہ مسکرا کر بول رہی تھی اور وقار کو اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہو رہا تھا ورنہ پچھلے ایک گھنٹے سے ہزاروں سوچیں اسکے دماغ میں آ رہیں تھیں۔

“ہممم شکر ہے کوئی سیریس بات نہیں، بالکل پاگل ہو اس میں رونے والی کیا بات تھی، میں ہمیشہ اپنی علیزے کا ایسے ہی خیال رکھوں گا، زندگی میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش پوری زندگی کروں گا” وہ اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔

“پرانی باتیں بھول جائیں، میں آپکے سنگ خوش ہوں” علیزے اسکے گرد حصار مظبوط کرتے ہوۓ محبت بھرے لہجے میں بولی۔

“آئی لو یو علیزے” وہ اسکا ماتھا چومتے ہوۓ بولا تھا۔ علیزے ہولے سے مسکرائی، اور اپنی انکھیں بند کر لیں۔ وقار جانتا تھا اسکا جواب نہیں آۓ گا۔

“آئی لو یو ٹو وقار” وہ ہولے سے بولی۔ وقار کو یقین نا آیا۔ اسنے جواب دے دیا۔ دونوں وہاں کھڑے کافی دیر باتیں کرتے رہے۔ ایک دوسرے کے سنگ زندگی کے خواشگوار لمحے گزار رہے تھے، زندگی کو اسکی خوبصورتی کو محسوس کر رہے تھے۔ کبھی کبھی کسی انسان کو اسکی غلطی ہی تلافی کے لیے ایک موقع دے دینے سے کافی چیزیں بدل سکتیں تھیں، جانتی ہوں ایک دفع یقین ٹوٹ جاۓ تو اسکو جُڑنے میں وقت لگتا ہے، پر اگر کوئی اپنے عمل سے آپکو یہ بھروسہ دے کہ وہ یہ موقع ڈیزو کرتا ہے تو اسکو ایک موقع دینا چاہیے۔ کبھی کبھی ایک موقع آپکی پوری زندگی بدل سکتا ہے

ختم شدہ۔۔