Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“نہیں پاپا اب مزید نہیں اب اس سب کا فیصلہ ہو کر رہے گا، بول کمینے دے گا طلاق یا نہیں” عثمان دوبارہ سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔

” علیزے میری بیوی ہے اور میرے بچے کی ماں ہے طلاق تو میں کسی قیمت پر نہیں دوں گا، میرے جیتے جی تو میں اسے اس رشتے سے آزاد نہیں کروں گا، ہاں میرے مرنے کے بعد ضرور آزاد ہو جاۓ گی” وقار نے سخت لہجے میں بولا اور ایک نظر علیزے کو دیکھا جو اب ان دونوں کو دیکھ رہی تھی، وقار کی بات پر سب کے دل جو سکون ہوا۔ ایا عثمان تو جوش جذبات والا انسان ہے۔ یہاں پر وقار نے عقل کا مظاہرہ کیا۔

“کمینے سالے، پہلے میری بہن کی زندگی برباد کی اب اسے اس انچاہے رشتے میں باندھ کر رکھنا چاہتا ہے” عثمان نے دو تین مکے مزید اسکے منہ اور پیٹ پر مارے وقار اسے جواباً نہیں مار رہا تھا۔ طلحہ چچا نے عثمان کو پیچھے کرنے کی کوشش کی پر وہ بہت جوش اور غصے میں تھا۔

“پہلے جو بھی ہوا وہ میری غلطی تھی، پر اب میں ان سب غلطیوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں، میں اس رشتے کو اپنانا۔۔۔۔” وقار بول رہا تھا کہ عثمان نے اسکے پیٹ میں لات ماری وہ پیچھے کی طرف لہرایا اور اسکا سر پاس کھڑی گاڑی کے سامنے شیشے پر لگا۔ اور کافی زور سے لگا جسکی وجہ سے گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ اور اسکے سر سے خون کو فوارہ پھوٹا دس سیکنڈ کے اندر چہرہ خون سے بھر گیا۔ وقار کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔

“وقار!” کئی آواز اسکے نام کی سنائی دیں۔ وقار نے اپنا سر ہاتھوں میں لیا۔ انکھوں کے سامنے پہلے دھند اور پھر تاریکی چھا گئی۔ اور وہ وہی لڑکھڑا کر زمین پر گڑتے ہی بے ہوش ہو گیا۔ اسکے گرتے ہی علیزے کو لگا اسکا دل بند ہو گیا۔ عثمان نے پریشانی سے اسے دیکھا۔

“وقار میرے بچے اُٹھو” عابدہ بیگم روتے ہوۓ بھاگ کر اسکے قریب ائیں پر وہ تو بے ہوش ہو چکا تھا۔

“چچا جلدی کریں بھائی کو ہسپتال لے کر جانا ہے” شہیر چلاتے ہوۓ بولا۔ طلحہ چچا بے جلدی سے گاڑی نکالی،اور وقار کو بیک سیٹ پر لٹایا۔ عابدہ بیگم نےا سکا سر اپنی گود میں رکھا۔ اور اسکے ماتھے پر اپنا دوپٹہ رکھ دیا تا کہ خود بند ہو سکے پر خون رک ہی نہیں رہا تھا۔ اشرف صاحب کا تو اسکے یوں خون میں لپٹے دیکھ کر ہی دل بند ہونے لگا۔ پر ہمت کر کے وہ بھی گاڑی میں بیٹھے۔ طلحہ چچا نے گاڑی بھگائی۔ شہیر دوسری گاڑی میں بیٹھا، ہاشم صاحب اور حشمت صاحب دونوں سوۓ ہوۓ تھے انہیں اس سچویشن کا پتہ ہی نا تھا۔ باقی سب اندر چلے گے۔ عثمان گاڑی لے کر نا جانے کہاں نکل گیا۔ علیزے بھوجل قدموں کو گھسیٹی اس گاڑی کے پاس آئی جہاں پر اسکا خون لگا تھا۔ کانپتے ہاتھ سے اسنے ٹوٹے ہوۓ شیشے پر ہاتھ لگایا۔ جہاں اسکا خون لگا تھا۔ پھر وہ روتے ہوۓ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اور اپنے ہاتھ پر لگا اس شخص کا خون دیکھنے لگی، جسکے لیے آج تک اتنا کچھ ہو جانے کے باجود اسکے دل سے صرف دعا ہی نکلتی تھی۔ جس سے چاہ کر بھی وہ نفرت نہیں کر پائی تھی۔ جو بچپن سے اسکے دل دماغ سوچوں، خوابوں میں بسا ہوا تھا، جو اسکا پیار تھا اسکا شوہر تھا۔ روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئی۔


وقار کو جلدی سے ٹریٹ مینٹ دیا گیا۔ سر پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوا تھا۔ ڈاکٹرز نے فوری اسکا ٹریٹ مینٹ کیا تھا۔ وہ اب بالکل ٹھیک تھا۔ بس ہوش میں نہیں تھا ڈاکٹرز کے مطابق وہ رات کے کسی پہر یا صبح تک ہوش میں آ جاۓ گا۔ عابدہ بیگم تو روتے ہوۓ سورتیں پڑھ پڑھ کے پھونک رہیں تھیں۔ شہیر انہیں چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر چپ ہوتیں پھر جب وقار کے ماتھے پر پٹی اور ہاتھ پر سوئی لگی دیکھتیں تو رو دیتیں۔ ان سالوں میں کئی بار اسکے لیے روئیں تھیں۔ انکا اکلوتا بیٹا تھا۔ اسکی جدائی پر وہ بہت روتیں تھیں۔ اسکے آنے کے بعد بھی انکا کئی بار دل کیا اسے سینے سے لگا لیں پر پھر پرانی باتیں درمیان میں آجاتیں۔۔


“یا اللہ میں ان سے لاکھ ناراض سہی پر کبھی یہ نہیں چاہا انکو کچھ ہو، اللہ وقار کو ٹھیک کر دے۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا۔ میں ان سے بحث نا کرتی تو عثمان بھائی کو غصہ نا اتا اور یہ سب نا ہوتا، اب میں انکی زندگی سے نکل جاوں گی جب سے ہماری شادی ہوئی کے سب خراب ہو گیا۔ میری وجہ سے یہ سب ہوا” وہ روتے ہوۓ اللہ نے دعائیں کر رہی تھی۔

“مما! مجھے اپکے پاس سونا ہے نیچے ڈر لگ رہا ہے” تبھی آیان اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔اسنے علیزے کی گود میں لیٹ کر انکھیں بند کر لیں ۔

“رو مت کچھ ہی دیر میں وہ مان جاۓ گا، بچے ایسے ہی ہوتے ہیں” وقار کی کچھ دیر پہلے کہی بات اسکے کان میں گھنجی۔ آیان کے رویے پر غم زدہ ہو کر اسنے اتنی ساری باتیں کہ دی تھیں۔ اور اب وہ خود اسکے پاس آیا تھا۔ وقار کی بات سچ ثابت ہوئی۔ علیزے کے گالوں پر آنسوں بہ رہے تھے اسنے آیان کا ماتھا چوما۔ اور اسے سینے سے لگایا۔ اور بیڈ پر لے آئی۔ اسے سُلا کر اسنے شہیر کو میسج کیا۔ اور وقار کا پوچھا۔

“آپی وہ ٹھیک ہیں، میں چچی کو گھر چھوڑنے آ رہا ہوں۔ صبح تک بھائی بھی گھر آ جائیں گے” شہیر کا میسج پڑھ کر اسے راحت ملی۔ اسنے نم آنکھوں سے آیان کے ماتھے سے بال پیچھے کیے اور اسکے ماتھے کو چوما۔ اسکے یوں کرنے چومے پر سوتے ہوۓ آیان کے ماتھے پر بل پڑے۔ علیزے کو خوبصورت سا منظر ذہین میں آیا۔ اس منظر کو یاد کرتی وہ دواباری غمگین ہوئی۔


عثمان تین بجے کے قریب گھر واپس آیا، سبھی اپنے اپنے کمروں میں تھے، وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رامین جاۓ نماز کے اوپر بیٹھی رو رو کر دعا کر رہی تھی، اسے ابھی تک وقار کی طبعیت کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی تھی، اسنے شہیر اور اشرف صاحب کو کافی بار کال کی پر انکا نمبر مل نہیں رہا تھا۔ وہ بہت پریشان تھی اسی لیے اپنے رب سے اپنے اکلوتے بھائی کی صحت کی دعائیں مانگنے لگی، لاکھ ناراضگی صحیح پر اسکا وقار کے ساتھ خون کا رشتہ تھا۔
عثمان نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنی گھڑی اُتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی، اور خود گہرا سانس لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

“اتنی لمبی لمبی دعائیں مت مانگو تمہارا بھائی مرا نہیں ہے بچ گیا ہے معمولی سی چوٹ ہی لگی ہے” وہ موبائل نکال کر اسے یوز کرتے ہوۓ بولا۔ رامین نے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور جاۓ نماز کو فولڈ کر کے رکھا اور اسکی اُور دیکھا۔

“کیسی باتیں کر رہے ہیں اللہ نا کرے اسے کچھ ہو، بہت خون نکلا تھا اسے بہت گہری چوٹ لگی ہے اسی لیے تو بے ہوش ہو گیا، اپکو اس سے لڑنے کی کیا ضرورت تھی، اگر کچھ ہو جاتا؟” وہ اپنا دوپٹہ سر سے اتارتے نم لہجے میں بولی۔

“ہنہہ اب اس چیز میں بھی تم مجھے ہی غلط کہنا، آخر کو تمہارے بھائی کی جو بات ہے، اور تم لڑنے کی بات کر رہی ہو میرا بس چلے تو میں اسے اس گھر میں داخل بھی نا ہونے دوں، میری بہن کی زندگی برباد کر کے اب منہ اُٹھا کر چلا آیا معافیاں مانگے، سالے کو زندی زمین میں گھاڑ دوں گا” عثمان غصے میں چلایا۔

“آپ اس معاملے کو سکون سے بھی تو حل کر سکتے ہیں، کیوں فضول میں بار بار لڑائی کرتے ہیں” رامین اسکےپاس بیڈ پر بیٹھ کر سمجھانے لگی۔

“رامین میڈم تم مجھے بلاوجہ یہ نصحتیں مت کرو، تمہارے بھائی کو اب پتہ چلے گا کہ اسنے کس کی بہن کی زندگی برباد کی، اپنی بہن جو بس رہی ہے، اگر اسی دن تمہارا قصہ ختم کرتا تب جا کر اسے احساس ہوتا” عثمان لیٹ کر اپنے اوپر کمبل لیتے نہائیت ہی سخت الفاظ بول گیا۔ رامین نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا وہ کمر کے بل لیٹا ہوا تھا اسنے آنکھیں بند کی تھیں وہ پچھلے پانچ سالوں سے اسے بہت بار وقار کی وجہ سے طنز تو مارتا رہتا تھا۔ پر اتنی بری بات اسنے آج پہلی بار کی تھی۔ رامین اپنی بھیگی آنکھیں لیے بیڈ کی دوسری طرح کروٹ لے کر لیٹ گئی۔

“تو ہمارے رشتے کی اپکی نظر میں بس اتنی سی اوقات تھی،ایک منٹ میں کہاں سے کہاں کھڑا کر دیا” رامین نے ایک نظر مُڑ کر اسے دیکھا جو اتنی بری بات کر کے اب آرام سے سو رہا تھا۔ رامین کو یاد تھا بچپن سے دونوں کی منگنی ہو چکی تھی، دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، عثمان کا دن اسکے ہاتھ کی چاۓ پی کر ہوتا اور رات اسکے ساتھ ڈھیروں باتیں کر کے ہوتی۔ دونوں کے درمیان دوستی محبت کا ایک مظبوط رشتہ بن چکا تھا۔ پر جو بھی ہوا اسکے بعد عثمان بالکل بدل ہی گیا، وہ ہر وقت بات بے بات پر غصہ کرنے لگا۔رامین چپ کر کے سب سنتی رہتی گھر میں سواۓ علیزے کے کسی کو عثمان کے رویے کا معلوم نہیں تھی، کیونکہ سب کے سامنے وہ ہنستی مسکراتی رہتی، کمرے کی باتوں کو کمرے تک ہی چھوڑ کر جاتی۔ پر شائد اب یہ بات کمرے تک نہیں رہنے والی تھی۔


چار بجے وقار کو ہوش آ گیا۔ وہ آس پاس دیکھنے لگا۔ اشرف صاحب اسکے ہوش میں اتے ہی پاس آۓ۔

“وقار تم ٹھیک ہو” انہوں نے پریشانی سے پوچھا۔وقار نے ہاں میں گردن ہلائی۔ وہ پاس کرسی پر بیٹھے، طلحہ صاحب نے ڈاکٹر کو بلوایا۔ وہ اندر آیا اور اسکا چیک اپ کیا۔ چھے بجے تک انکو ڈسچارج ملنا تھا۔ اب وقار کافی نارمل تھا وہ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ اشرف صاحب نے اسکی طرف دیکھا۔

“میرے بیٹے کی وجہ سے تم اس حالت میں ہو اسکے لیے معافی چاہتا ہوں” اشرف صاحب نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ وقار نے جھٹ سے انکے ہاتھ پکڑکر نیچے کر دیے۔

“تایا جان کیسی باتیں کر رہے ہیں، عثمان نے جان بوجھ کر تو نہیں کیا غلطی سے ہو گیا۔ آپ تو جانتے ہیں ہمیشہ سے وہ غصے کا تیز ہی تھا۔ اور معافی تو مجھے مانگنی چاہیے، میری وجہ سے اپکو بہت تقلیف ہوئی۔ اللہ کی قسم تایا جان جان بوجھ کر میں نے وہ سب نہیں کیا تھا مجھ سے وہ سب ہو گیا، جو اب میں بدل نہیں سکتا” وقار نے ندامت بھرے لہجے میں کہا۔

“ہممم جانتا ہوں، اور اس معاملے کو غصے اور جذبات سے حل نہیں کر پائیں گے۔ میں جانتا ہوں تم سب ٹھیک کرنا چاہتے ہو اس رشتے کو واپس اپنانا چاہتے ہو۔ پر وقار اب اس سب کا فیصلہ علیزے کرے گی اسے تمہارے ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔ تم اسے مناؤ، ہم خود تم دونوں کا رشتہ ختم نہیں کرنا چاہتے، اور کون سا ماں باپ اپنے بچوں کا گھر توڑنا چاہتا یے۔ تم بس علیزے کو منا لو باقی سب میں سھنمبال لوں گا” اشرف صاحب نے گہرا سانس لے کر کہا۔ وقار نے ہاں میں سر ہلایا۔ چھے بجے کے قریب انکو چھٹی مل گئی۔ اور وہ گھر کی اُور روانہ ہو گے۔

***