Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

“دو سال پہلے میں بنٹی نامی آدمی سے ملا وہ اپنے علاقے کا جانا مانا بدماش ہے، بہت سے ناجائز کام وہ آسانی سے کروا دیتا ہے، تب میرے ریسٹورنٹ میں فائینلشنی بہت مسلے تھے ایک دم بند ہونے والا تھا، میں یہ بات گھر میں ابا کو بھی نہیں بتا سکتا تھا، کیونکہ فیملی بزنس کو چھوڑ کر میں نے اپنے شوق کے تحت سب سے لڑ کر ریسٹورینٹ کھولا تھا۔ جو پہلے تو بہت اچھا چلا پھر اچانک مشکلات آنا شروع ہوئیں، دوستوں سے اگر پیسہ مانگتا تو کبھی نا کبھی ابا کو پتہ چل جاتا، اگر ابا کو سب بتاتا تو وہ بند کرنے کا ہی کہتے، تبھی میں بنٹی سے ملا، اسنے مجھے تب اسنے ڈھیڈ کڑور۔ دیے تھے انہی پیسوں کو کام میں لگا کر میں نے دوبارہ سے ریسٹورنٹ کو کھڑا کیا۔ بہت اچھا تو نہیں ریسٹورینٹ ٹھیک ٹھاک چلنے لگا، ایک سال گزر گیا، میں آہستہ آہستہ اسکے پیسے اتارتا گیا۔ پھر اچانک اسنے دباؤ زیادہ ڈالنا شروع کر دیا۔ تب ایک کڑور اتارے والا رہتا تھا۔ تب میں نے وکیل کے ساتھ اور بینک کے بندے کو میں جانتا تھا انکےساتھ مل کر میں نے پچاس لاکھ نکواۓ اور اسے دے دیے، اور اب بچاس لاکھ ابھی بھی رہتے ہیں، وہ میرے پاس نہیں ہیں، اور اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا کرو، اگر نا دیے تو وہ حشمت ولا کے پیپرز جو میں نے انہیں گرنٹی کے طور پر دیے تھے وہ اسکو استعمال کر کے گھر پر قبضہ کر لین گے اور وہ ایسا بہت پہلے سے کر رہے ہیں” وہ اپنا سر پکڑے اسے سب۔ بتا رہے تھے۔

“واٹ ایک منٹ ابھی آپ نے کیا بولا، حشمت ولا کے پیپرز انہیں دے دیے، اف چاچو ایسا کیوں کیا؟” وقار کو اب معاملے کی سینسٹی ویٹی کا احساس کو رہا تھا۔ وہ بری طرح ایک گینگ کے چکر مین پھنس گے تھے۔

“یہی تو مسلہ ہو گیا اب پتہ نہیں کیا ہو گا پیسے بھی نہیں ہیں” طلحہ صاحب بہت پریشان دیکھائی دے رہے تھے۔

“اچھا اپ ریکس کریں دیکھتے ہیں اگر کوئی حل نکلتا ہے” وقار انہیں اتنی ٹینشن لیتے دیکھ بولا کہی انکی طبعیت خراب نا ہو جاۓ۔ وہ انہیں خود حشمت ولا چھوڑ کر آیا۔ اور اب اس نئے مسلے کے بارے میں سوچنے لگا۔ ابھی وہ آفس میں بیٹھا اسکا حل سوچ رہا تھا کہ کیسے اس سب سے نکلا جاۓ۔

“ایک منٹ چاچو نے بولا انہوں نے پچاس لاکھ نکالے تھے، تو یہ باقی کے ایک کڑور کس نے نکالے” وقار کو ایک دم انکی بات یاد آئی وہ فوراَ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اور فائلز کو دوبارہ دیکھنے لگا، جہاں پر اسکے بارے میں کچھ نہیں لکھا تھا، اب وہ پریشان ہو گیا آخر اس کمپنی میں ایسا کون ہے جو انکی پیٹھ پیچھے پیسے نکال رہا ہے، اور انکے کپڑوں کا مٹریل خراب کر رہا ہے، اور اہم بات اگر اتنے پیسے اچانک نکالے گے تو کسی کو پتہ کیوں نہیں چلا، یقیناً وہ بہت شاطر ہو گا۔

“اف یہ سب کیا ہو رہا ہے” سوچتے سوچتے اسکے سر میں درد ہونے لگ گیا۔ صبح کا ویسے بھی وہ بھوکا تھا، تبھی اپنے لیے اسنے ایک کافی منگوائی۔

**************************************

“رامین کھانا دو، بہت بھوک لگی ہوئی ہے” عثمان رات کو بارہ بجے گھر آیا تو سبھی سو چکے تھے، وہ کمرے میں آیا تو دانین اور عمر سو رہے تھے۔ رامین اسکے جگانے پر اُٹھ کر بیٹھنے لگی اس سے اُٹھا نا گیا وی دوبارہ لیٹ گی۔

“عثمان میری طبعیت ٹھیک نہیں آپ خود لے لیں” وہ اپنے اوپر کمبل لیتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات سن کر کوٹ اتارتے عثمان کے ہاتھ رُکے۔ وہ پلٹا۔

“کیا بکواس کی تم نے، جبھی تمہیں کام بولا تمہاری طبعیت خراب ہو جاتی ہے، ویسے سارا دن بری خوش رہتی ہو، جب مین گھر آجاتا ہوں تبھی منہ لٹک جاتا ہے” وہ اسکا کمبل کھینچتے ہوۓ بولا۔ رامین نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔ اج صبح سے اسے چکر آ رہے تھے۔ وہ کہی نا کہی جانتی تھی، ایسا کیوں ہو رہا ہے، وہ ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتی تھی۔ پر شہیر کے دوست آ گے تو انکے لیے کھانا بنانے لگ گئی۔ اور کافی تھک چکی تھی۔ اب اس میں ہمت نہیں تھی۔

“عثمان اپ ہوش میں تو ہیں کیا بول رہے ہیں، میں کب ایسا کرتی ہوں؟ کم ازکم سوچ کر ہی بول لیا کریں” وہ زبردستی بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔

“واہ بری زبان آ گئی ہے بالکل اپنے اس سو کالڈ بھائی پر گئی ہو” عثمان اسکا منہ دبوچتے ہوۓ بولا۔

“بس بہت ہوا عثمان اپکو زرا خیال نہیں جب دیکھو وقار کو لے کر مجھے طعنے دیتے رہتے ہو، اپکو میری اب زرا پرواہ نہیں، میں بیمار ہوں یا نہیں اپکو اس سے فرق ہی نہیں پرتا انفیکٹ مجھ سے میری ذات سے ہی اپکو فرق نہیں پڑتا اپکو تو اپنا غصہ اپنی انا سب سے عزیز ہے” رامین نے اسکا ہاتھ جھٹکتے چلا کر کہا۔ عثمان کو اسکی حرکت پر بہت غصہ آیا۔

“بری زبان نکل آئی یے تمہاری، بھائی کی شہ پر ہی نکلی ہے” عثمان غصے میں کچھ بھی بول رہا تھا۔ رامین سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔

“کھانا چاہیے نا میں لا کر دیتی ہوں، پر خدارا بس کریں، مجھ سے اب مزید اپکی یہ فضول بے رخی برداشت نہیں ہوتی” وہ روتے ہوۓ ہاتھ جوڑ کر بولی۔ عثمان نے غصے سے دانت پیسے اور اگے بڑھی۔ دو قدم بھی وہ چلی نہیں کہ وہی وہ لہرا کر گڑنے لگی، تبھی جھٹ سے عثمان نے اسے پکڑ لیا۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔

“رامین کیا ہوا رامین” وہ اسکا چہرہ تھپتھا کر بولا۔ پاس پرے جگ سے پانی لیا اور اسکے چہرے پر چھڑکا پر وہ بے ہوش ہی رہی۔ بنا انتظار کیے اسنے اسے باہوں میں اُٹھایا اور باہر کی طرف بڑھا۔ کچن سے پانی کا جگ لے کر نکلتی شگفتہ بیگم نے عثمان کو یوں جاتے ہوۓ دیکھا تو فوراً اسکے پیچھے آئیں۔ عثمان نے دو الفاظ میں انہیں بتایا۔ اور رامین کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر سیٹ بیلڈ لگائی، اور سیٹ کو پیچھے کی طرف کیا۔ شگفتہ بیگم اندر سب کو بتانے چلی گئیں۔ عثمان نے گاڑی گھر سے باہر نکالی۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال پہنچ گیا۔ اس سارے وقت میں اسے خود پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ اپنے غصے میں وہ کیا کیا بول گیا۔

ہسپتال پہنچتے ہی رامین کا فوری چیک اپ ہوا۔ اور فوراً اسے ایک ڈرپ لگا دی گئی۔

“اپکی وایف پریگنٹ ہے اور کافی کمزور لگ رہی ہیں، انکا اچھے سے دھیان رکھیں، لگ رہا ہے کافی سٹریس لے رہی ہیں جو انکے اور بچے کے لیے ٹھیک نہیں” داکٹر اسے سب بتا رہی تھی۔ اور عثمان کی سوئی پریگنٹ لفظ پر اٹک گئی۔ وہ بول بھی رہی تھی اسکی طبعیت خراب ہے پھر بھی وہ کیا کچھ نا بولتا گیا۔ بار بار گھر سے فون ا رہا تھا۔ عثمان نے انہیں پریگینسی کی خبر سنائی۔ عمر چار سال کو ہو چکا تھا اسکے بعد آج انکو یہ خبر سننے کو ملی سبھی بہت خوش تھے۔ رامین کو تھوڑی دیر میں ہوش آ گیا۔ عثمان پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔

“تم نے صبح کا کچھ کھایا کیوں نہیں تھا؟” وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔ رامین نے ایک جھکٹے میں اپنا ہاتھ چھڑوایا۔

“آپکو اس سے کیا” وہ چہرہ دوسری جانب کرتے ہوۓ بولی۔ عثمان اُٹھ کر اسکے پاس بیڈ پر بیٹھا۔ اور اسکا چہرہ سیدھا کیا۔

“ایم سوری، میں غصے میں زیادہ بول گیا” اسکے ماتھے سے بال پیچھے کرتے ہوۓ وہ ہولے سے بولا۔ رامین کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ آنسوں گال پر بہے۔

“عثمان آپکو احساس بھی نہیں آپ ہر وقت جو مجھے بلاوجہ کے طعنے دیتے ہیں، مجھے کتنا دکھی کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے آپکو اب مجھ سے محبت بھی نہیں رہی” رامین روتے ہوۓ بولی۔ عثمان نے اسکے آنسوں صاف کیے۔

“سوری میری جان، آج کے بعد ایسا کبھی نہیں کروں گا، پرامس، اور محبت تو خود سے زیادہ کرتا ہوں بس تمہارے بھائی کو دیکھ کر غصہ کنٹرول نہیں ہوتا اور سب تم پر نکل جاتا ہے، مانتا ہو بہت غلط کر رہا ہوں، ایم سوری” عثمان اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔

“جو بھی وقار نے کیا اس میں میرا کیا قصور، اور اب اپکو بھی دل برا کر کے اسے معاف کر دینا چاہیے” وہ اُٹھ کر بیٹھتے ہوۓ بولی، اسے لگا ابھی عثمان اسکی بات سن رہا ہے تو سب بول دے ورنہ اسکے موڈ کا کیا پتہ۔

“رامین آج یہ بات بولی ہے اسکے بعد میں تمہارے منہ سے نا سنو، تم میری بیوی ہو، اور اسکی بہن، اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو میرے سامنے اپنے بھائی کی طرفداری کبھی مت کرنا، اور فل حال میں اسکا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا” وہ سر د انداز میں بولتے رامین کو چپ کروا گیا۔ رامین نے چہری جھکا لیا۔ اور اپنے ہاتھ ہر لگی ڈرپ کو دیکھنے لگی۔۔

“ابھی فل حال مجھے اپنی بیوی کے ساتھ، گھر میں نئے آنے والے ننھے مہمان کے بارے میں بات کرنی ہے” عثمان نے اسکا گال سہلاتے ہوۓ بولا۔وہ بہت محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ رامین چونکی کیا جو وہ سوچ رہی تھی وہ سچ تھا۔

“سچ میں” وہ حیرانگی سے بولی عثمان نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ رامین ہلکا سا شرمائی، عثمان نے اسے سینے سے لگا لیا۔ اور ایک دفع اور معافی مانگی۔ رامین خوش تھی کہ بچے کی بات پر ہی سہی کیا پتہ وہ بدل جاۓ اور اب پہلے کی طرح طعنے دینا چھوڑ دے۔ رامین نے اسے بنا کچھ کہے ایک موقع دے دیا۔ دو گھنٹے بعد وہ گھر آگے۔

********************************
وقار ساری رات اس مسلے کے بارے میں سوچتا رہا، ایک ہی حل اسے نظر آیا۔ اسی کے بارے میں بات کرنے کے لیے وہ صبح صبح ہی حشمت ولا پہنچ گیا۔ گاڑی سے نکل کر وہ اندر کی جانب بڑھنے لگا، جب باہر سے حشمت صاحب علیزے کے ساتھ واک سے آ رہے تھے۔

“ارے وقار میاں تم کب آۓ؟” حشمت صاحب اسے اندر جاتے دیکھ بولے، وقار انکی آواز پر پلٹا۔ سامنے وہ دونوں کھڑے تھے۔

“آغا جی ابھی آیا، چاچو سے تھوڑا سا کام تھا” وقار ایک نظر علیزے کو دیکھ کر بولا۔ جو اسے اگنور کیے گارڈن کی طرف دیکھ رہی تھی۔

“اچھا! آفس میں سب کیسا چل رہا ہے؟” حشمت صاحب اگے چلتے ہوۓ بولے وقار انکے ساتھ چلتا ساری اپ ڈیٹ دینے لگا۔ وہ پچھلے چار پانچ دن سے علیزے سے بالکل بات نہیں کر رہا تھا جو اب علیزے کو عجیب لگ رہا تھا۔ وہ بات کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ پر پھر بھی چاہتی تھی وہ اس سے بات کرے، وہ خود اپنے احساسات کو لے کر کنفیوز تھی۔ چلتے ہوۓ تینوں اندر آۓ۔

“آغا جان میں چاچو سے مل کر آتا ہوں” وہ انہیں صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ بولا۔ اور طلحہ صاحب کو ڈھونڈنے انکے کمرے میں چلا گیا۔ جہاں وہ موجود نہیں تھے۔

“عروج طلحہ چاچو کہاں ہیں؟” یونی کے لیے تیار ہو کر عروج کمرے سے باہر نکلی وقار نے اسے وہی روک لیا۔

“بھائی! آپ کب آۓ؟ اور زینب کو کیوں نہیں لاۓ؟” عروج وقار کو دیکھتے ہی بولی۔

“چاچو سے کام ہے، تم اج خود آ جانا اور زینب سے مل لینا” وقار نے مسکرا کر جواب دیا۔

“اوکے، وہ چاچو شائد اوپر چھت پر ہیں، تھوری دیر پہلے میں نے انہیں جاتے ہوۓ دیکھا” عروج نے اسے بتایا۔ تبھی شہیر کی آوازیں آئیں وہ کب سے اسے بلا رہا تھا، وقار اسکی بات سنتے ہی اوپر چھت کی طرف گیا۔ چھت سے بھاگ کر نیچے آتی ہوئیں شگفتہ بیگم دیکھیں۔

“چچی کیا ہوا؟” وقار جلدی سے انکے پاس آیا۔ انکے چہرے کی ہوائیاں اُڑئیں ہوئیں تھیں

“تمہارے چاچو اوپر بے ہوش پڑے ہیں” وہ بتاتے بتاتے رو دیں۔ وقار انکی بات سنتا بھاگ کر اوپر گیا۔ شگفتہ بیگم کی بات عروج بھی سن چکی تھی۔ گھر میں افراتفری پھیل چکی تھی۔

“چاچو! اُٹھیں” وقار نے انکا چہرہ تھپتھپایا۔ پر وہ بے سود بے ہوش پڑے تھے۔

“بابا کو کیا ہوا؟” عثمان اور شہیر اوپر آگے۔ تینوں نے مل کر طلحہ صاحب کو نیچے لایا۔ اور گاڑی میں ڈال کر ہسپتال کی طرف بھاگے۔

“یا اللہ یہ میرے بچوں کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے، کوئی نا کوئی بیمار پڑ رہا ہے، انہیں اپنی حفاظت میں رکھ” حشمت صاحب وہی صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولے ابھی رات کو رامین ہسپتال سے آئی تھی۔

طلحہ صاحب کو جاتے ہی چیک کیا گیا۔ انکا بی پی کافی ہائی تھا جسکی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گے، جو کہ ٹینشن کی وجہ سے ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے انکا ٹریٹ منٹ کیا۔ اگلے ایک گھنٹے میں وہ ہوش میں آ گے۔ عثمان، اور وقار ہی انہیں ہسپتال لاۓ تھے۔ انکے پیچھےشہیر شگفتہ بیگم کو اور انکے ساتھ علیزے بھی آ گئی۔ شگفتہ بیگم روۓ جا رہیں تھیں۔
جاری ہے