Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

وہ لرزتے قدموں سے کمرے میں داخل ہوا سبھی افراد نے آنے والے کو دیکھا، ایک پل اسکی طرف دیکھ کر سبھی نے رخ موڑ لیا، انکا یہ رویہ دیکھ کر وقار کا دل کٹا تھا۔

” السلام علیکم ” وہ بہت ہمت کر کے بولا تھا۔ اور قدم اُٹھتا اشرف تایا کے قریب آیا، اگلے ہی پل وہ اپنی کرسی سے اُٹھے اور کمرے سے نکل گے، وہ بھلا اس شخص کو کیسے بولاتے جس نے ماضعی میں ان سب کے ساتھ اتنا غلط کیا ہو۔ وقار نے انکے یوں اُٹھ کر جانے پر گہرا سانس لیا اور باقی دونوں کی طرف دیکھا، آغا جان تو لاتعلق سے بنے اخبار کو پڑھنے لگے، جو وہ پڑھ کم دیکھ زیادہ رہے تھے اور طلحہ صاحب نے اپنا موبائل نکال کر اسے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وہ انکی بے رخی کو سہتا وہی کرسی پر بیٹھا اور ہاشم صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا، وہ اسے اپنی عمر سے کافی کمزور لگے، ہاتھ بہت بوڑھے بوڑھے لگنا شروع ہو گے تھے چہرا پیلا پر گیا تھا اور آنکھوں کے گرد گڈھے نمایاں تھے۔

“بابا” وہ لڑکھڑاتے ہوۓ لہجے میں بولا تھا، آنسوں پلکوں کی بار کو توڑے گال پر بکھرے۔ ہاشم صاحب کی انگیوں میں جنمبش سی ہوئی۔

“وووققااار” انہوں نے آہستہ آہستہ اسکا نام لیا۔ وقار نے جھٹ سے انکی طرف دیکھا۔

“میرےےے بیٹے تم تم آ آ گے گے۔ میںنن جانتتا تھاا تم آؤ گے” وہ لڑکھڑاتے بامشکل اپنی بات مکمل کر رہے تھے۔

“ایم سوری بابا میں پہلے نہیں آ پایا ” وہ بولتے بولتے رو دیا تھا۔ اپنے ہاتھوں میں پکڑے انکے ہاتھ پر اپنا سر ٹکا دیا۔

” چل خیر ہے میرےے مرنےے سے پہلےےے تو آ گیا نا، اوےے اتنےےے سے ہاٹ اٹیک سےے تیرا باپپ نہیں مرنے والا تھا” ہاشم صاحب ہلکا سا ہنس کر بولے۔ آغا جان نے اپنی نم آنکھیں صاف کیں۔

“ایسا مت بولیں بابا اللہ اپکو میری عمر بھی لگا دے” وہ روتے ہوۓ بولا۔

“اوۓ گدھے تیری ماں بھی یہی کہتییی ہے، بھلا اتنی عمر لے کر کیا کروں گا” وہ ہلکا سا ہنس کر بولے تھے۔

“چاچو اتنی عمر لے کر مزید ہینڈسم ہو جائیے گا، ویسے بھی بوڑھے لگ رہے ہیں دیکھیں اپکے سامنے آغا جان کتنے گبڑو جوان لگتے ہیں لگتا ہی نہیں ہمارے دادا ہیں ایسا لگتا ہے میرے چھوٹے بھائی ہیں” شہیر ماحول کو خوشگوار کرنے کے لیے درمیان میں کودا تھا کیونکہ زینب یہ سب حیرانگی سے دیکھ رہی تھی اور اپنے ننھے سے ذہین سے سمجھنے کی نا کام کوشش کر رہی تھی۔ ہاشم صاحب کا قہقہ بلند ہوا۔

” ڈیڈ! دادا جان کو کیا ہوا ہے؟” زینب اگے بڑھ کر وقار کے پاس ا کر سوالیہ لہجے میں بولی۔ سب کا دھیان اب اس پانچ سال کی اس نیلی آنکھوں والی بچی پر ہوا، سب یہ تو جانتے تھے وقار کی ایک بیٹی ہے اسکے اگے وہ اسکے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔

“بس تھوڑی سی طبعیت خراب ہوئی ہے” وقار نے ہاشم صاحب کی طرف دیکھ کر کہا۔ جو کہ اپنی پوتی کی طرف مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔

“ڈیڈ یہاں سے اُٹھیں، میں ایک منٹ میں داداجی کو ٹھیک کر دیتی ہوں” وہ وقار کا ہاتھ پکڑے اسے اسکی جگہ سے اُٹھاتے ہوۓ بولی۔ سبھی نے اسکے یوں صفائی سے اُردو بولنے کو نوٹ کیا۔ وہ کرسی پر چڑھی اور بیڈ پر بیٹھی۔

“جب ڈیڈ کو بخار ہوتا ہے میں تب یہی کرتی ہوں اور ڈیڈ ٹھیک ہو جاتے ہیں آپ بھی ٹھیک ہو جائیں گے” وہ اگے بڑھی اور انکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولی۔ ہاشم صاحب اس ننھی بچی کی حرکت پر بے ساختہ مسکراۓ۔ انہوں نے اپنے کمزور ہاتھوں سے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ کچھ دیر بعد وہ علحیدہ ہوئی اور باقی سب کی طرف دیکھنے لگی۔ بیڈ سے نیچے اتر کر وہ چلتی ہوئی آغا جان کے قریب آئی۔

” السلام علیکم! آغا جان ” وہ اپنا ننھا ہاتھ آگے کرتے ہوۓ بولی۔ اسکے اس انداز پر بے ساختہ آغا جان نے ہاتھ ملا لیا۔ وقار کو دل کے ایک کونے میں سکون سا محسوس ہوا، اس سے نا سہی پر اسکی بیٹی سے تو وہ بات کر رہے ہیں۔ ویسے ہی وہ طلحہ چچا سے ملی جنہوں نے مسکرا کر اس سے باتیں کئیں۔

“شہیر دنوں کو لے کر گھر چلے جاؤ، کچھ دیر میں عثمان آجاۓ گا،اسے نہیں معلوم کہ یہ یہاں آیا ہے اور میں نہیں چاہتا ہسپتال میں کوئی بدمزگی ہو” کمرے میں داخل ہوتے اشرف صاحب نے کہا۔

“پر تایا جی” وقار ابھی کچھ بول ہی رہا تھا جب انہوں نے ٹوکا۔

“میاں تم یہاں اپنے ماں باپ سے ملنے آۓ ہو، ملو ہم نہیں روکیں گے، پر یہ بلا وجہ کے رشتے گاڑھنے کی ضرورت نہیں، تایا کا رشتہ اسی دن ختم ہو چکا تھا جس دن۔۔۔ “وہ کہتے کہتے روکے تھے۔ اور اسے اگنور کر کے اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گے۔

” بھائی چلیں” شہیر نے اسے یوں چپ چاپ دیکھا تو فوراً بولا وہ ان دونوں کو لیے ہسپتال سے نکلا۔ وہ جانتا تھا یوں اچانک سب ٹھیک نہیں ہو جاۓ گا ابھی اسے بہت کچھ فیس کرنا ہے وہ جو کر چکا تھا اسکا خامیازہ تو بُگھتنا تھا۔ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد انکی گاڑی حشمت ولا کے گیٹ پر رُکی، وہ سامنے اس برے سے ولا کو دیکھ رہا تھا جہاں اس نے اپنی زندگی کا ایک حصہ گزارا تھا۔ گیٹ کھل چکا تھا۔ گاڑی پورچ میں جا کر رُکی۔

“چلیں اتریں بھائی” جب کچھ دیر تک وہ اپنی جگہ سے نا ہلا تو شہیر بولا۔ وہ چونک کر اپنے خیالوں سے نکلا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ زینب شہیر کے ساتھ ہنستی مسکراتی اندر کی طرف بڑھی، وقار ہمت کرتا اگے بڑھا۔ داخلی دروازے سے وہ تینوں اندر داخل ہوۓ۔ سبھی جانتے تھے وہ آنے والا ہے ، اسی کیے حال مکمل خالی تھا شائد سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔۔

“ماما کہاں ہیں؟” شہیر اونچی آواز میں شگفتہ بیگم کو بلانے لگا۔

“کیا ہے، کیوں چیخ رہے ہو” شگفتہ بیگم ہاتھ میں بیلن لیے کیچن سے باہر نکلتیں غصے سے بولیں،تبھی انکی نظر وقار اور زینب پر پڑی۔

“دیکھیں وقار بھائی آۓ ہیں” وہ اگے بڑھ کر خوشگوار لہجے میں بولا۔

” میں نے ہسپتال میں سب کے لیے کھانا پیک کر دیا ہے، لے جاؤ” وہ سِرے سے ان دونوں کو اگنور کرتیں شہیر سے بولیں۔ اور واپس کیچن میں چلی گئیں۔ وقار کو عجیب سا لگا، شگفتہ چچی اسے بالکل اپنے بچوں سا ٹریٹ کرتیں تھیں۔ اور اب وہ اس سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کر رہیں تھیں۔

“رامین آپی! وقار نے سامنے دیکھا تو سیڑیوں کے ساتھ بنے کمرے سے دو سال کے بچے کو چپ کروانے کی کوشش میں لگی رامین نکلی۔ جو کہ شہیر کا شور سن چکی تھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کمرے سے نکلی۔ سامنے پورے پانچ سال بعد اپنے بھائی کو دیکھ رک بے ساختہ اسکی آنکھیں بھیگیں۔

” کیسی ہیں؟” وہ اسکے قریب آکر بولا۔ یہ سوچتے ہوۓ کہ وہ تو جواب دے گی۔

“تم جیسے بھائی کے ہوتے ہوۓ اسکی بہنیں کیسی ہو سکتی ہیں؟” نا چاہتے ہوۓ اسکا لہجہ تلخ ہوا تھا۔ اسکے الفاظوں نے وقار کے دل کو زخمی کیا۔

“مجھے معا۔۔۔” وہ ابھی کچھ بولنے ہی والا تھا جب رامین بنا کچھ سنے کیچن کی طرف بڑھی کیونکہ وہاں سے اسنے عمر کا فیڈر لینا تھا۔ وہ وہی چپ سا ہو گیا۔ وہ پلٹنے ہی والا تھا جب اسے دو لڑکیوں کی آوازیں آئیں۔

“وقار بھائی” اسنے آواز کی سمت دیکھا تو روتی ہوئیں عروج اور مشل کھڑیں نظر آئیں۔ وہ دونوں بھاگ کر اسکے سینے سے لگیں اور رونا تیز کر دیا۔

“آپکو میری بالکل یاد نہیں آئی نا” عروج روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ وقار کو بھی رونا سا ا گیا۔

“اور میری بھی” مشل بھی بولی۔

” اف گندی لڑکیوں دور رہو میرے بھائی کا کوٹ خراب کر دیا، دیکھو ناک لگا دی” شہیر انہیں دور کیا۔ عروج نے چہرے صاف کرتے غصے سے اسے دیکھا۔

“بھائی ہیں میرے جو مرضعی کروں، تم مجھے تنگ مت کرو، بھائی میں نے آپکو بہت مس کیا” وہ دوبارہ سے روتے ہوۓ اسکے گلے لگی۔ وقار اسکے انداز پر ہلکا سا ہنسا۔ وہ خود دونوں سے پانچ سال بعد مل رہا تھا خود بھی وہ کافی ایموشنل ہو گیا تھا۔

“مجھے تم دونوں کی بہت یاد آتی تھی، دل کرتا تھا بھاگ کر تم دونوں کے پاس آجاؤ پر۔۔۔ ” وہ بولتےبولتے روکا تھا۔

“چاچو! یہ یہاں سب رو کیوں رہے ہیں، وہاں ہسپتال میں بھی دادا جی رو رہے تھے اور یہاں پھپو بھی ” زینب صبح سے انکا برتاؤ دیکھ کر کافی پریشان ہو گئی۔ عروج اور مشل کی نظر اب اس پر پڑی۔

“بھائی یہ ؟” عروج نے زینب کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔

“زینب ہے میری بیٹی” وقار ہولے سے بولا۔ انکو یہ تو پتہ تھا وقار کی ایک بیٹی ہے پر اسکا نام نہیں پتہ تھا۔

“ہیلو! کیسی ہو کیوٹی؟” مشل نیچے زمین پر بیٹھے زینب کے گال کھینچتے ہوۓ بولی۔

“ایم فائین” وہ مسکرا کر بولی۔

عروج، مشل تم زینب کو اپنے پاس رکھو میں ماما سے مل کر آتا ہوں” وقار بول کر پلٹا نیچے سیڑھیوں کی دوسری جانب بنے کمرے کی طرف بڑھا دروازے کے سامنے آ کر کھڑا ہوا، بہت ہمت کر کے اسنے دروازے کو دکھیلا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ اسکی نظر بیڈ پر سوئیں عابدہ بیگم پر پڑی۔ وہ شائد سو رہیں تھیں، یا سونے کا ناٹک کر رہیں تھیں۔

“امی ! وہ انکے قدموں کے پاس بیٹھ کر انکے پاؤں پر ہاتھ رکھتے لڑ کھڑا تے لہجے میں بولا تھا۔ عابدہ بیگم نے اسی پل آنکھیں کھولیں۔

” جاؤ یہاں سے” وہ اپنے پاؤں پیچھے کرتے ہوۓ بولیں

“کیا میری غلطی اتنی بری تھی،کہ پانچ سال بھی سزا کے لیے کم تھے؟ اتنے سال میں نے کیسے کاٹے ہیں میں جانتا ہوں” وہ انکے پاؤں کو دوبارہ سے چھوتے ہوۓ بولا۔ایک آنسو انکے پاؤں پر گِڑا۔

“وقار میاں جو تم نے کیا تھا اسکے لیے پانچ سال تو کیا پانچ صدیاں بھی کم ہیں، اپنے باپ سے مل لیا نا اب موقع دیکھتے ہی واپس چلے جانا” وہ اپنے پاؤں دوبارہ کھینچتے ہوۓ بیڈ سے اترئیں۔اور ایک نظر اسے دیکھے بنا کمرے سے باہر نکل گئیں۔

وقار وہی زمین پر بیٹھا اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا رہا،یہ سزا کیا کم تھی آج اسکی اپنی ماں نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا وہ ماں جو دن میں دس دفع صرف اسکی خیریت پوچھنے کے لیے فون کیا کرتی تھی۔ خود کو سھنمبالتا وہ کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکلا۔ حال مکمل خالی تھا۔ سیڑھیاں چڑھتا وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا، دروازہ کھولا تو کمرہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ وہی بلیک اور وائیٹ کی کمبی نیشن سے سجایا وہ اسکا بیڈروم تھا۔ جسکی ہر چیز اسکی پسند کی تھی۔ کسی نے ایک پرسنٹ تبدیلی نہیں کی تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی صفائی کی گئی ہو۔ یقیناً اسکے آنے کا سن کر کمرے کا تالا کھولا گیا ہو گا اسکی نظر بیڈ کے ٹھیک سامنے خالی دیوار پر پڑی، کچھ یاد آیا تو سر جھٹک کر وہ اپنی الماری کی طرف بڑھا، الماری کا دروازہ کھولا تو اسکے سارے کپڑے ترتیب سے ٹنگے ہوۓ تھے، اسنے ایک ٹی شرٹ اور پینٹ پکڑی اور واشرم میں فریش ہونے چلا گیا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔