No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
“نہیں ہو گا میرے پاس ڈریسز کے بیس ڈائینز تھے دس یہاں آ جائیں گے تو کوئی خاص فرق نہیں پرے گا” وہ بہت ہی عام سے لہجے میں جھوٹ بول رہا تھا۔ جسے سچ میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہو۔ علیزے نے اسکی طرف دیکھا۔ تبھی وقار کی نظر اس پر پڑی۔ جسطرح سے وہ دیکھ رہی تھی وقار نے فوراً نظریں چُرائیں، مانو اسے پتہ چل گیا ہو کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔
“تو ٹھیک ہے تم تصویریں منگواؤ، رات کو پریس کانفرس رکھو اسکے بعد اس پر کام شروع کرو، اور دوسری بات جب تک یہ فینسی ڈریس کا کام لورا ہو کر ڈریسز مارکیٹ میں نہیں آ جاتے تب تک وقار تم اس کام کو دیکھو گے تو کل سے آفس بھی جانا شروع کر دو” حشمت صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر بولے۔ سب نے حیرانگی سے حشمت صاحب کو دیکھا۔
“دادا جان اسکی کوئی ضرورت نہیں میں سب دیکھ لوں گا” عثمان کو انکی بات بالکل بھی ہضم نا ہوئی۔
“جو میں نے کہ دیا وہی آخری ہے جاؤ اب آفس” حشمت صاحب نے غصے ست عثمان کو کہا وہ دانت پیستا ایک گھوری وقار کو ڈالتا باہر چلا گیا اشرف صاحب بھی افس کے لیے نکل گے۔ وقار گارڈن میں آ کر احد سے فون پر بات کرنے لگا اسے سب سمجھانے لگا۔
“وقار یار پھر ہم کیا کریں گے؟” احد اسکی ساری بات سمجھ تو گیا تھا پر یہاں کی بھی تو فکر تھی۔
“ہم اس دفع کوئی ڈریس نہیں نکالیں گے سمر کلیشن ہی نکالو بس ” وقار نے فوراً کہا۔
“تم جانتے ہو اس سے کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟” احد کو اسکی باتیں عجیب لگیں۔
“یارا اب نقصان کس کو دیکھے گا یہاں اگر میری اتنی سی قربانی سے کوئی ایک بھی معاف کر دے تو میں زیادہ خوش ہوں گا” وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔۔ احد نے بھی اسکی بات سمجھ لی اور کچھ دیر بات کرنے کے بعد کال کاٹ دی۔ وقار اسکی میل کا انتظار کرنے لگا۔ علیزے گارڈن میں آئی وہ اسے ہی دھونڈ رہی تھی۔ وہ چلتی ہوئی وقار کے پاس آئی۔
“اپ نے جھوٹ کیوں بولا کہ اس سب کی وجہ سے اپکا نقصان نہیں ہو گا، میں جانتی ہوں اپ جھوٹ بول رہے ہین بیس آرٹیکل کوئی نہیں بناتا بہت مشکل سے دس ہورے ہوتے ہیں، تو اب آپ کیا کریں گے” اسکے چہرے پر واضع غصہ تھا۔ وقار کو محسوس ہو گیا اب مزید جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
“تم اتنا کیوں سوچ رہی ہو، سب ٹھیک ہے، دیکھ نہیں رہی مجھے دادا جان نے مجھے آفس جانے کا کہا مطلب اب میں اور زیادہ دن یہاں اس گھر میں رہ سکتا ہوں” وہ مسکرا کر بولا۔ اور علیزے کو لگا ا ج شائد اسنے سالوں بعد اسے یوں مسکراتے دیکھا اسکی مسکراہٹ کا ساتھ آج اسکی چمکتیں آنکھیں بھی دے رہیں تھیں جن میں وہ ہمیشہ خود کو ڈوبتا پاتی تھی اور آج بھی وہ خود کو ڈوپتا پا رہی تھی تبھی اسنے نظریں چُڑائیں۔ اسکا نظریں چُرانا وقار نے اچھے سے محسوس کیا۔
“میں تو بس اس لیے کہ رہی تھی بلاوجہ ہماری وجہ سے اپکی کمپنی کو نقصان ہو گا، خیر مجھے کیا” اسنے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔
“میری کمپنی کا اتنا نا سوچو، میری وجہ سے اس گھر میں رہنے والے ہر شخص نے بہت جھیلا ہے، تو اگر میری چھوٹی سی قربانی سے تھوڑی سی خوشی مل سکتی ہے تو اس سے بہتر بات کیا ہے” وہ گہرا سانس لے کر پر سکون ہو کر بولا۔
“اچھی بات ہے کریں سبکو خوش اگر ایسا کرنے سے اپکے ضمیر میں چھپے پچھتاوے کو تھوری سی راحت ملتی ہے تو اس سے بہتر واقعی کچھ نہیں” علیزے طنزیہ انداز میں بولتی بنا اسکا جواب سنے پلٹ گئی۔
“ہممم میڈیم کو اچھے سے کاونٹر جواب دینا آگیا ہے انٹرسٹنگ” وہ اسکے یوں طنز مارنے پر ہنسا تھا۔ اسے اچھے سے یاد تھا جب پہلے وہ اس سے ملتا تھا تو وہ ایک ڈری سہمی اور چپ چاپ سی لڑکی تھی اور آج وہ کانفیڈینٹ لڑکی بن چکی تھی۔ جو بہت اچھے سے جانتی تھی کسی کو کیسے چپ کروانا ہے۔
شام کے وقت ایک کانفرس ہوئی جس میں یہ سارا معاملا حل ہو گیا۔ اور بہت ہی اچھے سے ساری باتیں ختم ہوئیں، اور نیو کلیشن کے ڈیزائینز دیکھ کر سبھی حیران تھے کیونکہ آج سے پہلے انکی کمپنی نے ایسے ڈیزائینز نہیں نکالے تھے۔ سبھی کانفرس سے فری ہو کر حشمت ولا پہنچے۔ صبح جس بات پر سبھی اتنا پریشان ہو رہے تھے اب وہ حل ہو چکی تھی۔ سبھی خوش تھے۔ حال میں بیٹھے اب شادی کی پلینگز ہو رہیں تھیں۔
“میں نے تو جب نیوز سنی، ایک پل کے لیے میں بلینک ہو گیا مطلب میرے ہوتے ہوۓ یہ سب کیسے ہو سکتا ہے، یہ میری ہی غلطی تھی جو اسکو اتنا لائیٹ لیا پر شکر ہے اب سب ٹھیک ہے” معاذ ابراہیم جو کہ عثمان کے بگل میں بیٹھا تھا وہ اس سچویشن پر بولا۔
“ہاں اللہ کا شکر ہے ہم بچ گے۔ ورنہ کافی نقصان ہو سکتا تھا” عثمان نے مسکرا کر بولا۔
” ہاشم انکل!” آیان دور سے بھاگتا ہوا ہاشم کے گلے لگا۔ ہاشم نے بھی اسے زور سے گلے بھیچا۔۔ آیان معاذ کے کافی کلوز تھا۔
“ہاشم بیٹا تمہاری ماما اور بہن کیسی ہیں؟” فائزہ بیگم نے معاذ سے پوچھا۔
“جی بالکل ٹھیک ہیں انفیکٹ وہ بھی آنے کی ضد کر رہیں تھیں، پر میں نے کہا کل چلی جائے گا، اور مسکان کا تو اپکو پتہ ہے مشل کی بیسٹ فرینڈ ہے وہ دونوں ہر وقت بس شادی کی شاپنگ کی باتیں کرتی رہتی ہیں” معاذ بولتے بولتے ہنس دیا۔ آیان اسکی گود میں بیٹھا اسکا فون پکڑے گیم کھیل رہا تھا۔ علیزے کیچن سے چاۓ کی ٹرے اُٹھاۓ ان سب کی طر ف آ رہی تھی۔ پنک کلر کی لانگ فراق اور ہم رنگ کا ڈوپٹہ کندھے پر ڈالے، بالوں کو کیچر میں ڈالے وہ بہت ہی عام سے حلیے میں تھی، پر بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔ معاذ کی نظر اسکی طرف اُٹھی اور اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اسی پل اسنے چہرہ موڑ لیا۔ پاس بیٹھے عثمان نے یہ بہت اچھے سے نوٹ کیا۔ وہ چلتی ہوئی سب کو چاۓ سرو کر رہی تھی۔
“کل لہنگے کی میچنگ جیولری لے لیں گے اسکے بعد مجھے مہندی کے گرارے کے ساتھ ڈوپٹہ لینا ہے” عروج اپنی چیزوں کی لسٹ مشل کو سنا رہی تھی دونوں چھت سے واپس آ رہیں تھیں اور عروج مسلسل اپنی چیزوں کی بات کر رہی تھی۔ ایک چیز کو سو دفع یاد کروا رہی تھی۔
“عروج مجھے لگ رہا ہے میری نہیں تمہاری شادی ہو رہی ہے حد ہے سن چکی ہوں تمہارے لہنگے کے ساتھ جیولری، مہندی کے سوٹ کے ساتھ دوپٹہ یلو کلر کا، اور کچھ میری بہن” مشل اب چڑ چکی تھی بار بار ایک ہی بات سن کر۔
“لو ابھی بول رہی ہو سب سنا ہے اور ابھی بھول گئی یلو نہیں پنک ڈوپٹہ” عروج اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔ جیسے مشل تمہاری تو یاداشت کمزور ہو گئی ہے۔ اور مشل کو بہت غصہ آیا وہ اپنا غصہ پیتی نیچے اترنے لگی جب اسکی نظر لاونج سے اینٹر ہوتے وقار اور زبیر پر پڑی۔ وقار زینب کا ہاتھ پکڑے موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ اور زبیر کی تو پہلی نظر ہی مشل پر پڑی چہرہ کھل اُٹھا اور مشل جو کچھ دیر پہلے غصے میں تھی اسکے چہرے پر بھی لالی بکھری۔
“اُووو تو سیاں جی کے آتے ہی تیور بدل گے” عروج اسے چھیرتے کندھے سے کندھا مارتے ہوۓ بولی۔ مشل نے اسے گھورا اور سیڑھیاں اترنے لگی۔
“احد میں اس مسلے پر رات کو بات کروں گا تم میلز سینڈ کر دو میں خود ان سے بات کر لیتا ہوں” وقار موبائل پر احد سے کوئی بات کر رہا تھا۔
” السلام علیکم ! ” زبیر نے اگے بڑھ کر سبھی کو سلام کیا۔
“ارے ماشااللہ وعلیکم السلام!” اشرف صاحب اُٹھ کر اسکے گلے لگتے ہوۓ بولے۔۔۔
“آغا جان!” زنیب وقار کا ہاتھ چھڑواتے بھاگ کر حشمت صاحب کے سینے سے لگی۔ اور حشمت صاحب نے مسکراتے ہوۓ اسے گود میں بیٹھایا اور باتیں کرنے لگے۔ وقار فون بند کرتا ان سب کے پاس آیا۔
“آیان بری بات بولا ہے نا کسی کا موبائل نہیں لیتے واپس کرو، اور یہ وقت اپکا موبائل پر گیمز کھیلنے کا نہیں ہے، پڑھائی کا ہے چلو شہیر چاچو کے پاس جاؤ وہ سٹڈی میں اپکا انتظار کر رہے ہیں۔ ” علیزے کو ہمیشہ سے اسکا بلاوجہ موبائل چلانے پر غصہ اتا تھا۔ اسکے مطابق وہ بگڑ جاۓ گا۔ شہیر احمد اور آیان کو پڑھاتا تھا۔ علیزے ن اس سے موبائل پکڑا اور معاذ کو واپس کیا۔ایان رونے لگ گیا
“علیزے تو کیا ہو گیا، آیان ابھی بچہ ہے، تھوڑی دیر کھلینے دیں” معاذ نے مسکراتے ہوۓ کہا اور واپس اسے فون پکڑانے لگا ۔ وقار ان تینوں کو دیکھ رہا تھا۔ نا جانے کیوں اسے غصہ آ رہا تھا۔ وہ انکو اگنور کرنے کے لیے دائیں صوفے پر بیٹھا اور موبائل پر بلا وجہ کی انگلیاں چلانے لگا۔
“مجھے نہیں لینا میں اپنے ڈیڈ سے لے لوں گا، ڈیڈ آپ موبائل دو” آیان معاذ کی گود سے نکل کر دائیں طرف صوفے پر بیٹھے وقار کی گود میں چڑھتے ہوۓ بولا۔ لاونچ میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ کوئی ایک لفظ نہیں بول پایا۔ سبھی نے اب تک آیان سے چھپایا ہوا تھا کہ وقار اسکا ڈیڈ ہے۔ ڈیڈ کا لفظ سنتے وقار کی سانس بھی کچھ پل تھم سی گئی۔ آج اسنے پہلی دفع اسے ڈیڈ کہ کر پکارا تھا وہ بھی سب کے سامنے یہ سب اسکے لیے بہت معانی رکھتا تھا۔ وہ ابھی اسے سینے سے لگاتا تبھی علیزے غصے سے ان دونوں کے پاس آئی اور آیان کو بازو سے زور سے پکڑا اور کھینچ کر اسکے گال پر تھپر مارا۔ وقار ایک دم سے کھڑا ہوا۔
“علیزے تمہارا دماغ خراب ہے” فائزہ بیگم نے غصے سے کہا۔ آج تک آیان کو کسی نے سوئی تک چبھبے نہیں دی تھی اور آج پہلی دفع علیزے نے اسے کھینچ کر تھپڑ مارا تھا۔ایان زور سے رونے لگ گیا۔
“علیزے پاگل ہو گئی ہو؟” وقار نے آیان کو پکڑ کر سینے سے لگایا وہ بری طرح رو رہا تھا۔
“ہاں ہو گئی ہوں پاگل اور آپ مجھ سے اور میرے بچے سے دور رہیں سمجھ آئی” وہ بری طرح چیخ کر بولی اور آیان کو اسکے بازوں سے کھینچ کر سینے سے لگایا اور پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ سبھی حیرانگی سے اسکا ری ایکشن دیکھ رہے تھے۔ اور وقار سب کے سامنے یوں شرمندہ ہوتے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔
“یہ کب واپس آیا؟” معاذ دور جاتے وقار کو دیکھتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔
“دادا جی بہت ہی اچھا ہو گا اگر مشل کی شادی کے بعد میری بہن کا کوئی فیصلہ ہو جاۓ اگر آپ لوگ نہیں لیں گے تو میں خود لے لوں گا” عثمان سنجیدگی سے بولا۔
