Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

ایک ہفتہ گزر چکا تھا، وقار نے اپنی علیزے اور بچوں کی ٹیکٹس کروا لیں تھیں، وہ چاروں آج دوپہر کی فلائٹ سے امریکہ جا رہے تھے، مریم بی کل ہی امریکہ چلی گئیں تھیں۔ یہاں آنے کی وجہ سے کمپنی میں کافی مسلہ ہو رہا تھا، اور زینب کے بھی فائنلز تھے، ساری پیکنگ وہ کر چکے تھے۔ رامین کو فائزہ بیگم سمجھا کر واپس گھر لے کر جا چکیں تھیں، عثمان اس دن کے بعد سے بہت بدلا بدلا سا تھا، وہ گھر کم ہی آتا اور بہت خاموش خاموش سا رہتا۔

“بہت جلد دوبارہ آؤں گا، روئیں تو مت” وقار عابدہ بیگم کے گلے ملتے ہوۓ بولا۔ وہ کافی رو رہیں تھیں۔

“پہلے اتنے سالوں بعد آۓ تھے اب دوبارہ سے جا رہے ہو سب کام ختم کر دو اور واپس آ جاؤ” عابدہ بیگم اسے گھورتے ہوۓ بولیں۔

“ایسے سب ختم نہیں کر سکتا، وعدہ کرتا ہوں جلد آؤں گا، اپنی پیاری ماں کے بغیر میں بھی زیادہ دیر نہیں رہ سکتا” وقار نے انکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔ سبھی ماں بیٹے کا پیار دیکھ رہے تھے۔ علیزے باقی سب سے مل رہی تھی۔

“اگر میری بیٹی کو زرا سا بھی دکھ دیا تو وہی آ کر ماروں گا” وہ اشرف صاحب سے ملنے آیا تو انہوں نے کان سے پکڑ کر بولا۔ وہ چلایا۔

“بالکل ماریے گا آپکا حق ہے” وہ ہنس کر بولا۔

آیان اور زینب حشمت صاحب کی گود میں بیٹھے ہوۓ تھے، وہ بار بار انکو پیار کر رہے تھے،۔ گھر کی رونیں کا رہیں تھیں۔

“آغا جی! اپنا خیال رکھیے گا، دوائیاں وقت پر لیجیے گا” علیزے حشمت صاحب کے سینے سے لگتی نم آواز میں بولی۔ انہوں نے بھی آنکھیں پوچھتے ہاں میں سر ہلایا۔

سبھی سے مل کر وہ گاڑی میں بیٹھنے لگے ،جب دروازے سے عثمان کی گاڑی اندر داخل ہوئی، انکو تیار ہوا دیکھ وہ سمجھ گیا وہ جا رہے ہیں۔ گاڑی سے باہر نکل کر وہ بنا ملے اندر جانے لگا جب علیزے اور وقار اسکے سامنے آۓ۔

“ملے گا نہیں” وقار نے بہت امید سی بولا۔

۔
“اب میری بہن نے فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ رہے گی تو بھلا اب میں کیا کر سکتا ہوں، خوش رکھنا اسے” عثمان علیزے کو ایک نظر دیکھ کر وقار اے مخاطب ہوا۔ علیزے کو اسکے الفاظ تقلیف دیے۔ وہ جانتی تھی وہ بہت ناراض ہے۔

“معاف کر دے نا یار بس کر اب” وقار اسکے گلے لگتے ہوۓبولا۔

“میرے معاف کرنے نا کرنے سے کیا ہوتا ہے، تمہاری فلائیٹ ہے جاؤ” عثمان نے اسے علحیدہ کرتے ہوۓ بولا۔ وقار کو کافی برا لگا۔ علیزے نے نم نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا جسنے ہر موڑ پر اسکا ساتھ دیا تھا، آج وہ اس سے کس قدر ناراض تھا۔ وہ دونوں کو اگنور کرتے اندر کی طرف بڑھا۔

“چلو علیزے” وہ اندر بڑھتے عثمان کو دیکھ رہی تھی، آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے، وقار نے اسے کندھوں سے پکڑتے گاڑی میں بیٹھایا۔ سبھی انہیں ہاتھ ہلا کر باۓ کر رہے تھے۔ شہیر انکو ایرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا آدھے گھنٹے میں وہ ایرپورٹ پہنچے۔ شہیر سے خدا حافظ کہتے وہ اندر کی طرف بڑھے۔

جہاز میں بیٹھے، علیزے نے کھڑی سے باہر دیکھا۔ جہاز ہوا میں اُڑ رہا تھا، پاکستان کا ساتھ اسکے ہاتھوں سے لمہ با لمہ چھوٹ رہا تھا۔ اسنے اپنی گود میں بیٹھے آیان کو سینے سے لگایا۔ اسکے ساتھ والی جگہ پر زینب اور اسکے ساتھ وقار بیٹھا تھا۔ انکے ساتھ سیٹ خالی تھی جو کہ آیان کی تھی پر وہ ڈر رہا تھا اسی لیے علیزے کی گود میں بیٹھ گیا۔ وہ آیان کو پانی پلا رہی تھی، جب زینب کی خود پر ٹکی نظروں کو دیکھتے اسنے اسکی طرف دیکھا۔ وہ فوراً نظریں ہٹا گئی۔ اور اپنے بیگ سے ٹبلٹ نکال کر اسے چلانے لگی۔ علیزے نے اسکی آنکھوں میں ایک پل کے لیے دیکھا تھا پر جو اداسی اور ادھورا پن اسے محسوس ہوا۔ اسکا دل بھیگا۔ وہ اسے آیان کے ساتھ پیار کرتے دیکھ رہی تھی۔ اور شائد اداس ہو گئی تھی۔

“سو مائی پرنسس کیا کھیل رہی ہے؟” وقار نے بھی اسکا انداز نوٹ کیا تبھی اسکے کندھوں کے گرد بازو لپیٹ کر بولا۔

“گیمز” وہ ہولے سے بولی۔ آیان تو سو چکا تھا۔ علیزے کے دماغ میں اب زینب گھوم رہی تھی۔اسنے یہ رشتہ دوبارہ قبول کیا تھا۔ اسکے ساتھ اسے زینب کو بھی ماں کا پیار دینا تھا۔ ان دنوں میں وہ دھیان نا دے پائی پر ابھی زینب کی نظروں میں چھپی محرومی کو اسنےدل سے محسوس کیا اور خود سے وعدہ کیا اب وہ اسے اتنا پیار دے گی کہ وہ پچھلے سارے غم بھول جاۓ گی۔

وہ لوگ امریکہ لینڈ کر چکے تھے، وقار کا ڈرائیور گاڑی لے کر پہلے ہی ریڈی تھا، آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد وہ لوگ گھر پہنچے، آیان اور زینب دونوں سوۓ ہوۓ تھے۔ اتنے لمبے سفر کے بعد وہ تھک بھی چکے تھے۔ وقار نے زینب کو کندھے سے لگایا، علیزے بھی آیان کو کندھے سے لگاۓ گھر میں داخل ہوئی۔ اتنے برے گھر کو دیکھ وہ کافی حیران ہوئی، باہر کافی برا لان تھا جسکی ایک طرف گھاس لگا ہوا تھا اور ساتھ بیٹھنے کا انتظام تھا۔ گھر کے اندر داخل ہوں تو ایک برا سا لوینگ روم تھا، کافی کمرے بیچے تھے، اور ساتھ کیچن تھا، اوپر بھی کافی کمرے تھے، سبھی کو بہت اچھے سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔ وقار نے اسے بچوں کے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا، زینب اور آیان کے لیے وہاں دو بیڈ لگے ہوۓ تھے، یہ کام اسنے کچھ دن پہلے ہی کروایا تھا۔ دونوں کو لٹا کر دونوں باہر آۓ۔ سارا سامان انکے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔

“سو بیگم کیا ہم آپکو ہمارا کمرہ دیکھائیں” وقار نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے شوخ لہجے میں کہا۔

“افکورس” وہ بھی مسکرا کر بولی۔ وقار اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔

بلیک اینڈ وائٹ کلر کی کمبینیشن میں فل کمرہ ڈیکوریٹ تھا۔

“نائیس” وہ پورے کمرے کو دیکھتے ہوۓ بولی۔

“اتنے لمبے سفر سے تم تھک گئی ہو گی، آرام کر لو میں آتا ہوں” وقار کبڈ سے دو فائلز پکڑتے ہوۓ مسکرا کر بولا۔

“آپ کہاں جا رہے ہیں؟” علیزے کو اسکا اس وقت جانا بالکل پسند نا آیا۔ وہ ابھی ابھی تو آے تھے۔

“میں آفس جا رہا ہوں کافی کام پھیلا ہوا ہے، سب سمیٹنا ہو گا ورنہ کاف نقصان ہو سکتا ہے” وہ اسکے قریب آ کر بولا۔

“کبھی کام سے فرصت بھی لے لیا کریں ،ہر وقت کام کام کام،” وہ چڑتے ہوۓ بولی، وہاں پاکستان میں بھی اسنے کام ہی کیا تھا۔

“میڈیم کیا چاہتی ہو کنگال ہو جاؤں پھر خود ہی بولو گی بیکار شوہر ملا” وہا سے چھیرتے ہوۓ بولا۔

“فائن جائیں، میں تھک چکی ہوں میں تو لمبی تان کر سونے والی ہوں” وہ ناک چڑھاتے ہوۓ بولا۔

“اوکے مائی وائفی، انتظار مت کرنا میں لیٹ ہو جاؤں گا” وہ اسکی ناک دباتے ہوۓ بولا۔ اور کمرے سے چلا گیا۔ علیزے کپڑے لیے واشروم میں گھسی، نہا کر فریش ہوئی اور پھر لمبی تان کر سو گئی۔


اس بات کو ایک مہینا بیت چکا تھا ، رامین بہت خاموش خاموش سی رہنے لگی تھی، گھر کے کاموں اور عمر کو سھنمبالنے میں سارا دن گزر جاتا، عثمان آفس کے کام کی وجہ سے کافی مصروف رہتا، رامین کافی ناراض تھی، اور اس بات سے وہ زیادہ دکھی تھی کہ ان دنوں میں ایک دفع بھی عثمان نے اسے منانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اوپر کمرے میں شفٹ ہو گئی تھی اور گھر میں کسی نے ان دونوں سے اس متعلق بات نہیں کی، وہ خود ہی اپنا رشتہ سنوار لیں سب یہی چاہتے تھے، پر ناراضگی اتنی لمبی ہو جاۓ گی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

عمر کو آج بہت بخار تھا، سمیر کے ساتھ وہ ہسپتال سے ہو کر آئی تھی۔

“رامین اب کیسی طبعیت کے میرے بچے کی؟” عابدہ بیگم نے اسے آتے دیکھا تو فوراً اسکے پاس آئیں اور سوۓ ہوۓ عمر کے سر پر پیار کیا۔

“بخار ہلکا سا کم ہوا ہے، پوری رات نہیں سویا اب کہی جا کر سویا ہے، میں اسے کمرے میں سلا آؤں” رامین انہیں جواب دے کر اسے لیے اوپر کمرے میں آئی۔ خود وہ رات سے ایک پل نہیں سوئی تھی۔ خود وہ پریگینسی کے ساتویں مہینے میں تھی، اوپر لاتے لاتے اسکی حالت خراب ہو گئی۔ اسکے ساتھ ہی وہ بیڈ پر دراز ہوئی۔ تبھی عروج جوس کا گلاس لے کر آ گئی۔ جو کہ عابدہ بیگم نے ہی بنا کر بجھوایا تھا۔ اسنے خاموشی سے جوس پیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔ عروج باہر آ گئی۔

“ہاۓ پاٹنر! سن ” وہ جا رہی تھی تبھی سمیر نے اسے روکا۔ عروج نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا۔ حشمت صاحب نے دو ہفتے پہلے ہی دنوں کا رشتہ طے کیا تھا دو ہفتے میں انکا نکاح تھا۔ اور پڑھائی کے بعد رخصتی۔

“کیا ہے؟”

“یار بولا نا سوری اب اتنا ناراض ہو گی تو کیسے رہوں گا” سمیر معصوم سا منہ بنا کر بولا۔ دونوں کی کل سے لڑائی چل رہی تھی کیونکہ سمیر نے اسے دوست کے گھر لے جانے سے منع کر دیا تھا۔

“جیسے ابھی رہ رہے ہو رہنا اسی طرح ویسے بھی میں تمہارے لیے اہم تھوڑی ہوں، اس دن بھی سبکے سامنے کتنے برے انداز میں بات کی” وہ منہ بسورتے ہوۓ بول رہی تھی۔

“اچھا یہ لے کان پکڑ کر معافی مانگتا ہوں، ویسے میں باہر پیزہ کھانے جا رہا ہوں اگر چلنا ہے تو بتاؤ” سمیر نے اسے لالچ دیا۔

” اگر پیزہ کے ساتھ آئس کریم بھی ہو گی تب چلوں گی” عروج نے ساتھ شرط رکھ دی۔ اور اپنے بال ایک افا سے جھٹکے جیسے اس پر احسان کر رہی ہو۔ سمیر کو سخت تاؤ چڑھا پر ابھی وقت نرمی کا تھا۔

“افکورس مائی پاٹنر ،سوری ہونے والی لائف پاٹنر ” سمیر دو قدم اسکی طرف آتے ہوۓ بولا۔ اسکی حرکت سے عروج کچھ پلوں میں ہی سرخ ہوئی۔ اور پھر مسکراتی اسکے ساتھ چلی گئی۔

**
وہ رات کو اپنے کمرے میں آیا تو پورا کمرہ خالی اسکا منہ چڑا رہا تھا۔ اب وہ فرسٹرٹ ہو رہا تھا، اسے لگا رامین خود واپس آجاۓ گی، پر وقت کے ساتھ اسکی ضد کو دیکھتے وہ بھی ضد میں آ گیا۔ اور ضد تو ہمیشہ ہمارا نقصان ہی کرتی ہے۔ آج صبح وہ عمر کی طبعیت کا بھی سن چکا تھا اور صبح اسے دیکھ بھی آیا تھا جب وہ کمرے میں نہیں تھی۔ کمرے کی ہر چیز اسکی یاد دلاتی تھی، اور آج تو اسکی برتھ ڈے تھی۔ رامین نے وہ بھی وش نہیں کی تھی وہ سارا دن اسکی وش کا انتظار کرتا رہا۔۔ عمر کو دیکھنے کے لیے وہ چینج کر کے اوپر اسکے کمرے میں آیا جہاں وہ ابھی براجمان تھی۔ کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھتے دروازہ بند کیا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس ہلکی سی روشنی لمپ کی شکل میں جل رہی تھی۔ سامنے بیڈ پر عمر سویا ہوا تھا باقی کا بیڈ خالی تھا اور باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی وہ اندر تھی۔ ۔ وہ چلتا ہوا عمر کے قریب آیا۔ اسکا بخار چیک کیا۔ جو کہ اب اتر چکا تھا۔ اسکے ماتھے پر پیار کرتے اس پر کمبل درست کرتے وہ پلٹا اور کمرے سے باہر جانے لگا جب واشروم کا دروازہ کھلا۔ اور چہرے کو پونچھتی وہ باہر آئی۔ بلیک شلوار قمیض پہنے دوپٹے سے بے نیاز بال کیچر میں باندھے پاؤں میں چپل پہنے وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔ کئی دنوں بعد اسکی شکل دیکھی تھی۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔ ٹاول سے چہرہ پونچتے اسے ایک سے چکر آیا۔ اور گرنے لگی۔ عثمان نے جلدی سے جا کر اسے پکڑا۔

“رامین تم ٹھیک ہو؟” وہ پریشانی کے عالم میں بولا۔ رامین کا سر جب سھنمبلا تو اسے احساس ہوا اسکے قریب کون ہے۔ وہ جھٹ سے علحیدہ ہوئی۔

“آپکو کیا فرق پڑتا ہے میں جیوں یا مروں” وہ ٹاول سائیڈ پر رکھتی بالوں کو دوبارہ کیچر میں لپیٹتی بیڈ پر عمر کے پاس جا کر بیٹھی۔ اور سر پیچھے ٹکا دیا۔

“رامین اگر طبعیت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلیں؟” عثمان فکر مندی سے بولتے اسکے پاس آکر بیٹھا۔ رامین نے آنکھیں کھولتے اسے دیکھا۔ کچھ پل وہ بس دیکھتی رہی۔
جاری ہے