Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

علیزے! شائد اگر تم میرے سامنے بیٹھی ہوتی تو میں تمہیں یہ کبھی نا بتاتا، مجھ میں ہمت بھی نہیں کے تمہیں کہ سکوں، جس رات تم نے چھلانگ لگا کر مرنے کی کوشش کی تھی، اس وقت سے مجھے خود سے نفرت سی ہونے لگی، میں خود جینا نہیں چاہتا تھا، بس زینب کی وجہ سے مجھے جینا پڑا، تم بہت پیاری ہو دل کی بہت صاف ہو، تمہاری وہ آنکھیں جن سے تم نے مجھے چھت سے کھڑے ہو کر دیکھا، تو مجھے ان آنکھوں میں درد، تقلیف، یقین کے ٹوٹنے کے احساس نے ایک پل چین سے رہنے نہیں دیا۔ میں چاہ کر بھی کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ اب مجھ سے مزید ایسے جیا نہیں جاتا، زندگی بالکل ویران سی لگتی ہے، زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں نظر آتا” وہ بولتے بولتے رو دیا۔ خود کو وہ بے بسی کی آخری حد پر محسوس کر رہا تھا۔ خود پر کنٹرول کرتا وہ اُٹھا اور بالکنی میں چلا گیا۔ اسکے جاتے ہی علیزے نے آنکھیں کھول لیں، وہ کب کے رُکے ہوۓ آنسوں پلکوں کی بھاڑ کو توڑ کر تکیے پر گڑے۔ وہ اسکے چھونے کے پہلے احساس پر ہی جاگ چکی تھی۔ وہ آنکھ کھولنے ہی والی تھی جب وقار نے بولنا شروع کر دیا۔ اسکا ایک ایک الفاظ علیزے کو اہنے دل پر گڑتا محسوس ہوا اسے احساس ہو رہا تھا اگر وہ خود دکھی تھی تو وقار بھی کوئی سکون کی زندگی نہیں گزار رہا تھا۔ اگر وہ اذیت میں تھی تو وقار بھی اذیت میں تھا اسکے پاس تو سارے گھر والے تھے وقار کے پاس تو کوئی نا تھا۔ وہ اکیلا تھا۔ وہ چاہ کر بھی بالکنی میں اسکے پیچھے نا جا سکی۔ روتے روتے نا جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی۔

“علیزے!” وہ نا جانے کب سو گئی، ایک گھنٹے بعد وقار نے اسے جگایا۔

“ہمم، میں کب سو گئی” وہ اپنی انکھیں مسلتی سیدھی ہو کر بیٹھی۔

“زینب اور آیان سو گے ہیں، شہیر نیچے تمہیں اور آیان کو لینے آیا ہے، چلو ” وقار نے مختصر اسے بتایا۔اور اپنی جگہ سے اُٹھی وقار نے سوۓ ہوۓ آیان کو پکڑا اور کندھے سے لگایا۔ اسکے کھلونوں والا بیگ علیزے نے پکڑا، اور اسکے پیچھے پیچھے نیچے آئی۔ جہاں شہیر ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔ علیزے اسکے ساتھ گھر چلی گئی۔


ہاتھ میں ایک برا سا بیگ پکڑے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ گاڑی میں بیٹھتے اسنے طلحہ صاحب کو میسج کیا۔ وہ آج بنٹی کو پیسے دے کر گھر کے پیپرز واپس لانے والا تھا۔ وہ اسکی فطرت جانتا تھا اسی لیے اسنے اپنے پرانے دوست سے مدد لی جو کہ پولیس میں تھا۔ وہ اس سے ایک کلو میٹر دور ڈرائیو کر رہے تھے، وہ۔ بنٹی کے بتاۓ ایڈریس پر جا رہا تھا۔ یہ ایک جنگل تھا، وہ انکے بتاۓ پتے پر پہنچا پانچ آدمی چہرے پر کالا ماسک لگاۓ وہاں موجود تھے، وہ اسی کا انتظار کر رہے تھے اسنے اپنے موبائل کی لوکیشن آن کی ہوئی تھی۔ وہ ہاتھ میں بیگ لیے باہر نکلا۔

“تم بنٹی ہو؟” اسنے سامنے لمبے چوڑے شخص کو دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔ وہ شخص اونچا ہنسا۔

“نہیں میں بنٹی نہیں ہوں بھائی اپنے اڈے پر ہیں، چیگنگ کرو اسکی”اسنے اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کو حکم دیا وہ اگے بڑھا اور وقار کی تلاشی لی، اسکا موبائل اور وائلٹ نکالا۔ اور اس شخص کو پکڑایا۔

” میرا موبائل اور وائلٹ کیوں لیا؟” وقار فوراً اگے بڑھ کر بولا۔

“اپنی حفاظت کے لیے کہی تم پولیس کو ساتھ نہیں لاۓ چلو بنٹی بھائی انتظار کر رہا ہے” وہ شخص بولتا اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔ وقار ہاتھ میں بیگ کو مظبوطی سے پکڑے انکے ساتھ گیا۔ وہ کافی پریشان ہو چکا تھا اسکا موبائل بند کر کے رکھ لیا گیا تھا۔ دس منٹ کے بعد جیپ رُکی۔

یہ جگہ گھنے جنگل کے بالکل درمیان تھی۔ چاروں طرف لمبے لمبے درخت تھے، سامنے کرسی ٹیبل لگاۓ چالیس سال کا ایک آدمی ہاتھ مین سِگار پکڑے بیٹھا تھا۔ انکو اتا دیکھ اور وقار کے ہاتھ میں موجود بیگ کو دیکھے وہ مسکرایا وقار چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔

“وقار! بیٹھو” اسنے اسے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ وقار ارام سے وہاں بیٹھ گیا۔

“تو میرے پیسے لاے ہو” وہ دو ٹوک بولا۔

“ہاں لایا ہوں”

“لاؤ” اسنے میز پر رکھنے کا اشارہ کیا۔

“پہلے تم میرے گھر کے پیپرز دیکھاؤ پھر میں پیسے دیکھاؤ گا” وقار نے ٹیک پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔بنٹی مسکرایا۔

“ہممم پیپرز تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں وہ پیپرز دے دوں گا اتنی دو اتنے پیسے لے کر تم وہ پیپرز لینے آۓ ہو میں بھلا تمہیں سونے کا محل کیوں دوں” بنٹی اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوۓ ہنس کر بولا۔ وقار نے اسکی خراب نیت دیکھ لی۔

“کیا مطلب؟ تم کیوں نہیں ہو گے یہی طے ہوا تھا تو اب مُکر کیوں رہے ہو؟” وہ اسکے سامنے آتے ہوۓ بولا۔

“اپنی بات سے مُکرنا میری فطرت میں ہے وہ میں بدل نہیں سکتا” بنٹی دانت نکالتے ہوۓ بولا۔ اور اپنی آدمی کو اشارہ کیا۔ دو آدمی آگے آۓ اور وقار کو دونوں بازوں سے پکڑا۔ وقار تو یوں اچانک پکڑنے پر ڈر گیا۔ بنٹی نے اسکے ہاتھ سے بیگ لیا۔

“یہ تم کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے” وہ چلایا اسکو درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔ وہ اب مکمل رسیوں میں قید تھا۔

“آہ واہ مزہ ا گیا” بنٹی پیسوں کو سونگتے ہوۓ ہنس کر بولا۔

“تم سچ میں بہت برے بے وقوف ہو، تمہیں لیا لگا تم یہاں پیسے لے کر آؤ گے اور ہم آرام سے تمہیں پیپرز دے دیں گے، یہ رہے پیپرز ہمت ہے تو لے کر دیکھاؤ” بنٹی اپنے ہاتھ میں ایک فائل پکڑے وقار کے پاس آکر بولا وقار نے اسے غصے سے دیکھا۔

“کمینے ہمت یے تو کھول مجھے تجھ جیسے گلی کے گنڈوں کو ٹھیک کرنا مجھے بہت اچھے سے اتا ہے” وقار اپنے ہاتھ کو کھولنے کی کوشش کرتے غصے سے غرایا تھا۔ تبھی بنٹی نے اسکے چہرے پر دو مُکے اور اسکے پیٹ میں لات ماری۔ وہ درد سے چیخا تھا۔

“حرامی، تیری اتنی اوقات تو مجھے بنٹی کو باتیں سناۓ” بنٹی چلایا۔ اور سامنے پڑی موٹی لکڑی اُٹھا کر اسے مارنا شروع کیا۔ جب تھک گیا تو لکڑی نیچے پھینک دی۔ وقار کا پورا چہرہ جون سے لت پت تھا۔ وہ بالکل نِڈھال ہو چکا تھا۔

“چل اسکے چچا کو فون ملا، اب تو سونے کی مرغی ہاتھ آئی ہے، برے پیمانے پر پیسے لیں گے” بنٹی اسے مار کر اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ اسکے وفادار لڑکے نے طلحہ کو کال ملا کر اسے فون دیا۔ پہلی بیل پر ہی فون اُٹھا لیا گیا۔

“ہیلو” طلحہ صاحب نے انجان نمبر سے کال دیکھ کر ہیلو کیا۔

“پرانے دوست کیا حال ہے، میں بنٹی نام تو یاد ہو گا، یاد ہی ہو گا اپنی سب سے قیمتی شے تو بنٹی کے پاس ہے تو سوتے کیسے ہو گے، چلو کام کی بات پر آتے ہیں، تیرا بھتیجا پچاس لاکھ لے کر میرے پاس ایا ہے، تیرے پیپرز تو میں واپس نہیں دون گا اگراپنے بھتیجے کو زندہ چاہتا ہے تو جلدی سے دس کڑور اکھٹا کر تیرے پاس ایک گھنٹا ہے اسکے بعد میں فون کرتا ہوں” بنٹی سب بول کر فون بندکر گیا۔

دوسری طرف حال میں بیٹھے طلحہ صاحب کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ صبح وقار کا میسج تو انہیں ملا تھا۔ پر وہ نہیں جانتے تھے وہ ایسے پھنس جاے گا۔۔ انکے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا۔

“طلحہ کیا ہوا؟” حشمت صاحب اسکو یوں ایک جگہ پر بیٹھے موبائل کان سے لگاتے دیکھ بولے۔ اسکے چہرے کااُڑا رنگ وہ نوٹ کر چکے تھے۔

“وقار” طلحہ صاحب کے منہ سے اسکا نام پھسلا۔

“کیا ہوا وقار کو” ہاشم صاحب بھی اسکے منہ سے نام سن چکے تھے وہ فوراً بولے۔ طلہ صاحب کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔ حشمت صاحب پریشان ہو گے۔ وہ انکے پاس آۓ۔

“طلحہ کیا بات ہے کس کا فون تھا”

“ابا وہ وقار کو مار دے گا، بہت برا ہے وہ” طلحہ صاحب لڑکھراتے ہوے بولے۔

“کون کس کی بات کر رہے اور وقار کہاں ہے” ابکی بار حشمت صاحب کی اواز اونچی ہوئی باقی سب باہر سے شور سن کر حال میں آۓ

“ابا مجھے۔ معاف کر دیں مجھ سے بہت بری غلطی ہو گئی” طلحہ صاحب ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولے سبھی انکی حالت دیکھ کر پریشان تھے۔

“کیا بول رہے ہو سیدھے سیدھے بتاؤ” حشمت صاحب کو اب غصہ آ رہا تھا

طلحہ صاحب نے سبکی طرف دیکھا۔ اور پھر بہت ہمت کر کے آہستہ اہستہ سب بتانے لگے۔

“تمہارا دماغ خراب ہے،اپنے ہی گھر میں چوڑی کرتے ہو ” سب سن کر حشمت صاحب انکے چہرے پر تھپر مارا

“ابا” اشرف صاحب نے انہیں روکا۔

“ابا میں جانتا ہوں بہت بری غلطی کر چکا ہوں، پر ابھی اس سب کے بارے میں بات نا کر کے ہمیں وقار کو بچانا ہو گا۔ وہ بہت بری مشکل میں ہے” طلحہ صاحب ہاتھ جوڑتےہوۓ بولے۔

“ایس پی کو فون کرتا ہوں” اشرف صاحب نے بولتے ہی پولیس کو فون ملا دیا۔

“وقار کا دماغ خراب ہے، اس گنڈے کو ملنے اکیلے کیوں گیا” ہاشم صاحب اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولے۔ عابدہ بیگم سب سن کر اپنے بچے کا گندؤں کے درمیان پھنسنے کا سن کر رو رہیں تھیں۔ فائرہ بیگم نے انہیں سھنمبالا۔

“کیا مطلب تم پہلے ہی اسکے پیچھے ہو” اشرف صاحب نے ایس پی کو فون ملایا۔ تو وہ ساری بات سن کر بولا۔

“جی اسکا فون جنگل کے درمیان بند ہوا ہے، ہم ابھی وہی ہیں جنگل بہت برا ہے وہ شائد کہی لے گے ہیں پر آپ فکر مت کریں میں ڈھونڈ لون گا” ایس پی نے انہیں تسلی دی۔اور فون کاٹ دیا۔ سبھی اسکے صحیح سلامت لوٹ انے کی دعائیں کرنے لگے اور پھر طلحہ ہاشم اور اشرف صاحب چاروں پولیس کے بتاۓ ایڈریس پر پہنچے۔ جہاں وقار کا فون بند ہوا تھا۔

بنٹی پاس بیٹھا مرغی کھانے میں مصروف تھا۔ وقار کو وہ ہر پانچ منٹ بعد پیٹتا آدھا گھنٹا گزر چکا تھا۔ وہ سب کھانا کھا رہے تھے۔ جب وقار کو محسوس ہوا کوئی اسکے ہاتھ کی رسیاں کھول رہا ہے۔ وہ تو اتنی مار اور خون بہنے کی وجہ سے بالکل نڈھال ہو چکا تھا۔

“کون ہو تم؟” وہ بنٹی کو دیکھتے ہوۓ سے بولا۔

“چپ جاموش رہیں، کچھ ہی دیر میں ایس پی پہنچتے ہوں گے میں نے انکو لوکیشن بھیج دی ہے” کوئی ہولے سے بولا تھا۔ آواز سن کر اسنے جلدی سے چہرہ موڑا۔ علیزے کو اپنے سامنے دیکھ وہ حیران ہوا تھا۔

“تم یہاں کیا کر رہی ہو، یہاں سے چلی جاؤ وہ لوگ خطرناک ہیں” وہ فوراً بولا۔ چہرے پر اب پریشانی بڑھ گئی تھی۔

“آپکو خطرے میں چھوڑ کر بھلا میں کیسے چلی جاؤں” وہ اب تک اسکا مکمل ہاتھ رسیوں سے ازاد کر چکی تھی۔

“کون ہے وہاں” بنٹی کے ایک ساتھی نے وقار کو کسی سے بات کرتے سن لیا۔ وہ فوراً بولا سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ دونوں کے چہرے سے رنگ اُڑا۔وہ ایک ایک قدم چلتا وقار تک ا رہا تھا۔ علیزے نے پاس پڑی لکڑی کی موٹی سی سٹک ہاتھ میں لی۔ وہ ان تک پہنچ چکا تھا اسنے درخت کے پیچھے دیکھا۔ علیزے وہی بیٹھی تھی۔ اور غصے سے دیکھ رہی تھی۔

“بنٹی بھائی یہاں لڑکی ہے” وہ چلایا۔ بنٹی فوراً اسکی طرف آیا۔

“ارے واہ یہ تو بہت حسین ہے” بنٹی چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔ اور اسکی طرف بڑھا

“دور رہ بیوی ہے میری اگر ہاتھ لگایا تو توڑ دوں گا” وقار نے غصے سے کہا۔

“ہاہا خود کو دیکھ کھڑا ہونے کے قابل تو ہے نہیں ایا برا ہاتھ توڑنے والا۔ ” بنٹی ہنستے ہوۓ بولا اور علیزے کی طرف بڑھا۔

“تم لوگوں کو تو میں بتاتی ہوں” علیزے اسکے ہاتھ پر موٹی لکڑی کا سٹک مارتے ہوۓ بولی۔ اور پھر اسنے اندھا دھند بنٹی اور اسکے ساتھ کھڑے لڑکے کو مارنا شروع کر دیا۔ وقار تب تک اپنے اوپر سے ساری رسیاں کھول چکا تھا۔ اور کھڑا ہونے کی کوشش کرنے لگا۔

“زیادہ اُچھل رہی ہے بتاتا ہوں تمہیں” بنٹی غصے سے بولتا اگے بڑھا اور علیزے کے ہاتھ سے ایک جھٹکے مین سٹک پکڑ کر سائیڈ پر پھینکی اور اسکے چہرے پر ایک تھپر مارا۔ تبھی وقار نے اسے دھکہ دیا اور زمین پر گڑاتے اسکے چہرے پر مکے برسانے لگا۔بنٹی کے ساتھیوں نے وقار کو پکڑا۔ اور علحیدہ کیا۔ بنٹی نت اسکو مارنا شروع کر دیا۔ علیزے روتے ہوۓ اسے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پر وہ بنا رکے اسے مار ریا تھا۔ وقار کی حالت بہت بری ہو چکی تھی۔ تبھی پولیس کی گاڑیاں رکیں۔ وہ لوگ وہاں سے بھاگتے اس سے پہلے پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔۔ علیزے بھاگ کر وقار کے پاس آئی۔ جو گھٹنوں کے بال زمین پر بیٹھا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ اسکا سارا چہرہ خون سے بھر چکا تھا۔ انکھیں مشکل سے کھل رہیں تھیں۔ وہ زمین پر گڑتا اس سے پہلے علیزے نے اسے پکڑا۔
جاری ہے