Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

حشمت ولا میں صبح گھر میں چہل قدمی شروع ہو گئی، ناشتے کے بعد سبھی اپنے اپنے کاموں میں لگ گے، مشل، عروج کے ساتھ پالر چلی گئی، رامین اور علیزے نے گھر میں ہی تیار ہونے کا فیصلہ کیا، کیونکہ بچوں کو بھی تیار کرنا تھا۔ عابدہ بیگم، فائزہ بیگم کے ساتھ مل کر مٹھیاں، اور گفٹس دیکھ رہیں تھیں۔

“علیزے آپی اسکو پکڑیں بار بار باہر آ رہا ہے، دو دفع گڑ بھی چکا ہے، باہر ورکرز مہندی کا سیٹ اپ اتار رہے ہیں اور یہ انکو ڈسٹرب کر رہا ہے” علیزے ابھی گھر کے کپڑوں میں ملبوس تھی اور آیان کو ہی ڈھونڈ رہی تھی جب احمد اسے اُٹھاۓ اندر آیا۔ علیزے اسے پکڑ کر اندر لے گئی۔

“ڈیڈ! سبھی تیار ہو رہے ہیں عروج پھوپھو، مشل پھوپھو کے ساتھ پالر چلی گئیں مجھے کون تیار کرے گا” زینب بلو کلر کی بہت ہی خوبصورت فراق پہنے ہاتھ میں اپنے میک اپ کی کٹ پکڑے وقار کے پاس آئی جو کہ موبائل پر فلیٹ کے بارے میں بات کر رہا تھا۔

“میں کرتا ہوں” وقار نے زینب کو کہا اور دوبارہ کال پر لگ گیا، پانچ منٹ بعد کال بند کی اور زینب کی طرف پلٹا۔

“ہاں جی بولیں کیا کرنا ہے” زینب کو صوفے پر بیٹھا کر وہ بولا۔ زینب نے کٹ آگے کی، اور کہا میک اپ کرنا ہے۔

“پرنسس آپ میک اپ کے بغیر ہی اتنی پیاری لگ رہی ہو بس بالوں کا ہیر سٹائل بنا لو” وقار میک کو دیکھتے فوراً بولا کیونکہ اسے بالکل ان سب چیزوں کے بارے میں نہیں پتہ تھا۔

“نو سب کر ہے ہیں مجھے بھی کرنا ہے” زینب منہ بسورتے ہوۓ بولی۔ وقار نے دیکھا رامین عمر کو اُٹھا اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔

“رامین آپی! آپ زینب کا میک اپ کر دیں گی، مجھے کرنا نہیں آتا” وقار نے کہا تو وہ رکی۔

“میں مصروف ہوں فالتو وقت نہیں ہے” وہ سنجیدگی سے بول کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ زینب کو اسکا یوں بولنا برا لگا، وقار نے اسکا اداس چہرہ نوٹ کیا۔

“اب کیا کریں، چلو خود ہی کچھ کر لیتے ہیں” وقار نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا اور میک کٹ کھولی۔ اندر بچوں والے میک اپ کا سارا سامان تھا زینب نے اہنے چھوٹے سے ہاتھوں سے اپنے بال پیچھے کیا اور آنکھیں بند کیں۔ وقار نے اسکی آنکھ پر بلو کلر کی آئی شیڈو لگائی وہ کافی ڈارک تھی اور بہت بری لگ رہی تھی۔

“وقار یہ کیا کر رہے ہو بچی کے چہرے کا ستیا ناس کر دیا” عابدہ بیگم نے دونوں کو یوں مگن انداز میں میک اپ کرتے دیکھا تو فوراً اسکے پاس آئیں گھر میں کافی مہمان بھی تھی جو ہنس کر وقار کو یہ سب کرتے دیکھ رہے تھے۔

“امی میک اپ کر رہا ہوں” وقار نے شرمندگی سے کہا۔ کیونکی سچ میں زینب کا چہرہ کافی برا لگ رہا تھا۔

“حد کرتے ہو، بچی کو بھوتنی بنا رہے، رامین یا علیزے کو کہ دیتے، وہ دونوں گھر ہی ہیں” عابدہ نے اسے ڈانٹتے ہوۓ کہا۔

“اپکو کیا لگتا ہے وہ مانتیں آپی کو بولا تھا، و ہ جواب دے کر چلی گئیں کہ انکے پاس فالتو وقت نہیں” وقار نے ٹشو سے اپنا ہاتھ صاف کرتے ہوۓ کہا۔ جس پر ابھی بھی آئی شیڈو لگی ہوئی تھی۔ عابدہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا۔

“زینب چلو میرے ساتھ علیزے کو بولوں تمہیں اچھا سا تیار کر دے” عابدہ بیگم زینب کا ہاتھ پکڑ کر علیزے کے کمرے میں چلی گئیں۔ وقار نے بھی اب تیار ہونا ہی مناسب سمجھا۔

“علیزے یہ دیکھو وقار نے اسکے چہرے کا کیا حال کر دیا ہے تم اسکو اچھا سا تیار کر دو” عابدہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو علیزے تقریباً تیار کھڑی تھی بس جیولری پہن رہی تھی، بلیک کلر کی ساڑھی جسکے بارڈر پر نفیس سا کام ہوا تھا اس میں وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔ آیان کو وہ تیار کر چکی تھی وہ بلو کلر کے تھری پیس سوٹ میں تھا۔اور اب باہر بھاگ گیا تھا۔

“جی چچی میں کر دیتی ہوں” علیزے نے کانوں میں جمکھے پہنتے ہوۓ کہا۔ اور زینب کو ڈریسنگ کی ٹیبل پر بیٹھایا۔ اور میک اپ ریمور سے اسکا میک اپ ریموو کرنے لگی۔

“آپ چھوٹی ہو زیادہ میک اپ سکن کے لیے اچھا نہیں میں ہلکا سا ہی کروں گی” علیزے اسکا میک اپ ریمو کرتے پیار سے بولی۔ زینب نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ علیزے نے اسکا میک اپ کیا اور بالوں کا سٹائل بنانے لگی۔

“علیزے آنٹی آپ سے ایک سوال پوچھوں” زینب نے چہرہ اُٹھا کر علیزے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ علیزے اسکے بالوں میں آخری پن لگاتے ہوۓ ہاں میں سر ہلا کر اسے آجازت دی۔

“آپ میرے ڈیڈ کی وائف ہو؟ تو میری مام ہیں؟” زینب نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ ہی سوال کیا۔ اسکے سوال پر علیزے کے ہاتھ تھمے، اسنے حیرانگی سے اس چھوٹی سی بچی کو دیکھا، وقار صحیح ہی کہتا تھا وہ بہت گہری سوچ رکھتی ہے اور بہت جلد باتوں کو سمجھتی ہے۔ تبھی وقار کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بھی زینب کا سوال سن چکا تھا، وہ زینب کو ہی لینے آیا تھا تا کہ میرج حال لے کر جا سکے، علیزے نے وقار کو دیکھ لیا۔

“نا تو میں اپکے ڈیڈ کی وائف ہوں اور نا ہی آپکی مام، آپکی مام کوئی اور ہیں میں نہیں” علیزے نے اسکو نیچے اتارتے ہوۓ سخت لہجے میں کہا۔

“پر شہیر چاچو تو کہ رہے تھے آپ ڈیڈ کی وائف ہوں اور میری مام” زینب نے منہ بسورتے ہوۓ کہا۔ کیونکہ اسے علیزے اچھی لگنے لگی تھی۔

“سب بکواس کر رہے ہیں، میں نا تو تمہاری اور نا ہی تمہارے باپ کی کچھ لگتی ہوں آئی سمجھ بار بار یہ مام کہنا بند کرو” علیزے پہلے ہی رات والے انسیڈینٹ کو بھول نہیں پا رہی تھی وقار کا یوں حق جتانا اسے غصہ دلا رہا تھا اوپر سے زینب کا بار بار مام کہنا مزید غصہ دلا رہا تھ تبھی وہ اس پر چلائی، زینب سہم سی گئی۔ وقار جلدی سے زینب کے پاس آیا۔

“زینو آپ دادو کے پاس جاؤ وہ گفٹس گاڑی میں رکھ رہی ہیں انکی مدد کرو جاؤ میں آتا ہوں” وقار نے اسے نارمل کرنے کے لیے کہا۔ زینب نے غصے سے علیزے کو دیکھا۔

“گندی آنٹی، سچ میں سٹپ مدد گندی ہی ہوتی ہیں” زینب غصے سے بولتی باہر بھاگ گئی۔ وقار نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور علیزے کی طرف پلٹا۔

“علیزے یہ سب کیا تھا کیا بچوں کے ساتھ ایسے بات کرتے ہیں؟” وقار نے اسکی طرف دیکھ کر سوال کیا جسکا موڈ کافی خراب لگ رہا تھا۔

“ہاں ایسے ہی کرتے ہیں، کوئی مسلہ ہے تو اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھا کریں بلاوجہ میرے پاس بھیجنے کی ضرورت نہیں” وہ کافی بدتمیزی سے بولی۔ وقار نے گہرا سانس لیا اور دو قدم چل کر اسکے پاس آیا۔

“تمہیں زینب سے بات نہیں کرنی مت کرو اگر کوئی اسکے لیے کام بولے اسے وہی جواب دے دیا کرو، وہ بہت چھوٹی ہے، تمہارے رویے کو سمجھ نہیں پاۓ گی اور میں نہیں چاہتا میری بیٹی کی سوچ تمہیں لے کر ایسی ہو، وہ بہت خوشی سے پاکستان سب سے ملنے آئی تھی، پر یہاں سبھی نے مل کر مجھے اور اسے احساس دلا دیا، اپنے اگر غیر بنے پر آئیں، تو دل کو چیڑنے والے زخم دیتے ہیں” وہ سنجیدگی سے اسے یہ سب بول رہا تھا۔

“ہنہ بات جب اپنی بیٹی پر آئی تو بہت دکھ لگا، اور جب کسی اور کی بیٹی کو دھوکہ دے کر اسکی زندگی برباد کر دی تب احساس نہیں ہوا، اور اب سالوں بعد منہ اُٹھا کر واپس آ گے، ہاۓ علیزے پلیز پچھلی ساری غلطیوں کے لیے معاف کر دو، اور علیزے بولے گی ارے کیسی باتیں کر رہے ہیں، معافی کیوں مانگ رہے ہیں معاف کیا، ہنہ ایسا بالکل نہیں ہو گا مسٹر وقار ہاشم، ایک مہینہ مانگا ہے نا میں ابھی فیصلہ سناتی ہوں مجھے اپکے ساتھ بالکل نہیں رہنا، مجھے آپ سے اپکی شکل سے نفرت ہے نفرت ہے آئی سمجھ ہاہاہاہا” وہ چختے ہوۓ بول رہی تھی اور آخر میں روتے ہوۓ اونچا اونچا ہنستے وہی زمین پر بیٹھ گئی۔ وقار وہی کھڑا اپنے سامنے اس لڑکی کو یوں ٹوٹتے ہوۓ دیکھ رہا تھا، جو کبھی بہت خوش رہا کرتی تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا۔

“علیزے!” وہ اسکا چہرہ اوپر کرنا چاہتا تھا۔ علیزے نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔

“مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرنا، اور یہ بلاوجہ مجھ پر حق جتانا بند کریں” وہ اسکی انکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ بولی۔

“ہممم ابھی اس ٹاپک پر بات نہیں ہو گی، مشل کی بارات پہنچنے والی ہے، اچھا ہو گا تم اسکی بھابھی نا سہی تو بہن بن کر چلی جاؤ دیکھو سارا میک اپ بھی خراب کر لیا، میری وجہ سے مزید خود کو تقلیف مت دو میں کوئی زور زبردستی نہیں کروں گا، اب سے حق بھی نہیں جتاؤں گا، بس ایک ریکسویٹ ہے زینب سے دوبارہ ایسے بات مت کرنا، میری بیٹی سمجھ کر نہیں تو ایک چھوٹی پانچ سال کی بچی سمجھ کر ہی اسے یہ سب مت کہو، ایم سوری” وہ بے بسی سے بول رہا تھا، اسکی طرف دیکھے بنا وہ اُٹھا اور شکستہ قدم سے چلتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ علیزے نے بہت مشکل سے جانے کے لیے خود کو تیار کیا۔

وہ سارا فنگشن خاموش خاموش سی رہی، نکاح کے بعد مشل کو زبیر کے برابر اسٹیج پر بیٹھایا گیا، باقی چھوٹی موٹی رسمیں ہوئیں۔ وقار نے اسے بالکل بھی بلایا نہیں تھا۔

” السلام علیکم! علیزے کیسی ہو؟” معاز ایک طرف خاموش کھڑی علیزے کے پاس آ کر کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔

” وعلیکم السلام! بالکل ٹھیک تم سناؤ” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔

“میں تو تمہیں دیکھ کر ہی خوش ہو جاتا ہوں، ویسے بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہو بلیک کلر تم پر کافی سوٹ کرتا ہے” معاز اسکی تعریف کرتے ہوۓ بولا۔

“شکریہ” وہ زبردستی مسکرا کر بولی۔ اور سامنے اسٹیج پر مشل کو دیکھنے لگی۔

“عثمان نے تمہارے گھر والوں سے بات کی ہے، تو تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے، مجھے طلاق یا آیان سے کوئی مسلہ نہیں، مجھے تم اچھی لگتی ہو بس شادی کر کے تمہیں پرسکون زندگی دینا چاہتا ہوں” معاز اپنے دل کے احساسات بتا رہا تھا۔ علیزے اسکی بات سن رہی تھی، تبھی اسکی نظر وقار پر پڑی جو مشل کے برابر بیٹھا اس سے کوئی بات کر رہا تھا جس پر وہ ہنس دی تھی۔

“معاز میں ابھی فل حال خود کافی چیزوں کو لے کر ڈسٹرب ہوں، تم نے اپنی فیلنگ بتا دیں اچھی بات ہے، اب مستقبل میں کیا ہو گا میں خود نہیں جانتی” علیزے بول کر عابدہ بیگم کی طرف چلی گئی، جو آیان کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں جو باہر گڑا تھا۔ علیزے نے اسے اپنی گود میں لیا اور چپ کروانے لگی۔۔

“رخصتی کا وقت ہوا، مشل کو دعائیوں کے ساۓ میں رخصت کیا گیا۔ گاڑی تک جاتے وہ اپنا ضبط کھو بیٹھی، اور وقار کے گلے لگ کر بہت زیادہ روئی۔ اور وہاں وقار بھی خود پر کنٹرول کھو بیٹھا، ہمیشہ سے ان چاروں بہن بھائیوں کا بہت ہنسی مزاق والا رشتہ تھا۔ خود پر کنٹرول کر کے وقار نے مشل کو گاڑی میں بیٹھایا، گاڑی چل دی۔

” ڈیڈ رو مت” زینب وقار کے پاس آکر بولی۔ وقار نے اسے بازوں میں اُٹھایا، اور اپنے آنسوں صاف کیے۔

سبھی گھر واپس آ گے، سبھی تھکے ہارے تھے، کام ختم کر کے سو گے۔

**
جاری ہے