Jazaye Ishq By Fatima Tariq Readelle50125 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
“چاچو ڈاکٹر بول رہے ہیں، اپ نے کوئی ٹینشن لی ہے کیا بات ہے؟ ” عثمان ڈاکٹر سے مل کر آیا۔تو اندر کمرے میں داخل ہوتے ہی بولا۔ طلحہ صاحب نے وقار کی طرف دیکھا۔
“ابھی ان سے سوال جواب نا ہی کرو انکی طبعیت پہلے ہی خراب۔ ہے” وقار درمیان میں پڑتے ہوۓ بولا۔ تبھی شہیر لوگ اندر داخل ہوۓ۔ شگفتہ بیگم روتے ہوۓ طلحہ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
“شگفتہ میں ٹھیک ہوں، رو مت، بس بی پی ہائی ہوا تھا اور یہ سب تو پہلے بھی ہوتا ہے” طلحہ صاحب نے انکے ہاتھ پر اپنا ڈرپ لگا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ پر وہ روۓ جا رہیں تھیں۔
“چچی چپ ہو جائیں، چاچو بالکل ٹھیک ہیں، تھوڑی دیر میں ایک دم کھڑے ہو کر اپکے ساتھ گھر جائیں گے، اور چاچو کسی بھی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ہر مسلے کا حل ضرور ہوتا ہے، ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو بری سے بری مشکل بھی یوں چٹکی بجا کر حل ہو جاتی ہے” وقار شگفتہ بیگم کو سمجھاتے ،طلحہ صاحب کی طرف دیکھ کر بولا۔ جنہوں نے ہاں میں سر ہلایا۔
“اسکو ہر جگہ اب مہان بننا ہے” عثمان اسکے اتنے انوالمنٹ پر چڑتے ہوۓ بولا۔
“چاچو میری بہت اہم میٹنگ ہے معاز میرا باہر ویٹ کر رہا ہے، اپ ریسٹ کریں ویسے بھی رات تک چھٹی ملے گی میں تب تک آ جاؤ گا” عثمان اپنے موبائل پر معاز کی مسل کالز دیکھتے ہوۓ بولا۔ طلحہ صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ دو گھنٹے بعد انکو ایک اور ڈرپ لگائی گئی۔ وہ چاروں طلحہ صاحب کے پاس تھے۔
“چچی اپ گھر جائیں میں چاچو کے پاس ہوں، اپکی خود کی طبعیت خراب ہو جاۓ گی، شہیر تم چچی اور علیزے کو لے کر گھر جاؤ میں چاچو کے پاس ہوں” وقار ان سب کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ اتنے دنوں بعد اسکے منہ سے اپنا نام سننے پر علیزے نے گردن اُٹھا کر اسے دیکھا
“میں ٹھیک ہوں” شگفتہ بیگم نےنفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔ وہ تب کی وہی بیٹھیں ہوئیں تھیں۔
“ارے ایسے ہی تو میں انکو ہمارے گھر کا رومینٹک کپل نہیں کہتا دیکھو ایسی بیوی تو قسمت والوں کو ملتی ہے، جیسی ہمارے پیارے چاچو کو ملی، کتنی فکر ہے، کتنی محبت کرتی ہیں۔ ہاۓ نظر نا لگے” شہیر اب کتنی ہی دیر چپ کر کے بیٹھ سکتا تھا آخر کو اسکی زبان پر بھی خارش ہو رہی تھی۔ شگفتہ بیگم نے اسے گھورا۔ سبھی کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ آئی۔
“ہاں، میرے شوہر ہیں فکر کیوں نہیں ہو گی، ہمیشہ انہوں نے میری فکر کی، اپنی محبت ہر موڑ پر محسوس کروائی۔ اب جب انکو میری ضرورت ہے تو میں کیوں نا آؤں، سچی محبت تو قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے” شگفتہ بیگم نے محبت بھری نظروں نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا انکی بات پر طلحہ صاحب کی انکھیں ہلکی سی نم ہوئیں۔
“صحیح کہا چچی سچی محبت قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے، ورنہ بدقسمت لوگوں کی جھولی میں تو جھوٹی محبت کے پتھر ہی ملتے ہیں” علیزے وہی بیٹھے ہولے سے بولی۔ سبھی نے اسکی بات سنی۔ شگفتہ بیگم نے وقار کی طرف دیکھا۔ جو علیزے کی بات پر اسے دیکھ رہا تھا۔
“بالکل ٹھیک کہا چچی جان سچی محبت تو قسمت والوں کو ملتی ہے، پر کبھی کبھی ملنے مین دیر ہو جاتی ہے، پر اگر دیر ہو جاۓ اسکے بعد آپ خود اس محبت کو جانے دو تو آپ بے وقوف ہو” وقار نے علیزے کو ہی دیکھتے اسی کے انداز میں جواب دیا۔ وہ چپ دے ہو گئی۔
“میری پیاری امی جان! بابا تو ٹھیک ہو جائیں گے، پر اگر آپ نے وقت پر کھانا نا کھایا تو اپکی طبعیت ضرور خراب ہو جاۓ گی۔ جو یقیناَ میرے والد صاحب نہیں چاہتے، کیوں بابا پھر اپکی حسین بیوی کو لے کر جاؤ” شہیر ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہلکے پھلے انداز میں بولا۔ شگفتہ بیگم کو بھی اب انکار کرنا ضروری نا لگا۔ وہ طلحہ صاحب کو ہدایات کرتی کھڑی ہوئیں۔ علیزے بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور انکے پیچھے باہر چلی گئی۔ وقار اسے جاتے ہوۓ دیکھ رہا تھا
“معاملہ ابھی بھی خراب ہی لگ رہا ہے” طلحہ صاحب نے وقار کو یوں کھوۓ ہوۓ انداز میں کھڑے دیکھا تو بولے۔ وہ پھیکا سا مسکرایا۔
“میری زندگی میں آج تک کچھ ٹھیک ہوا یے جو اب ہو گا” وہ جیسے خود پر ہنستے ہوۓ بولا۔
“سب ٹھیک ہو جاۓ گا” طلحہ صاحب اسے یوں ٹوٹا ہوا دیکھ کر بولے۔
“میری چھوڑیں آپ اب بالکل فکر مت کریں میں نے مسلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے، باقی کے بچاس لاکھ میں دوں گا، اس بنٹی کو میں خود دینے جاؤں گا آپ نہیں جائیں گے، اور حشمت ولا کے پیپرز بھی لے آؤں گا سب ٹھیک ہو جاۓ گا آپ فکر مت کریں ” وقار انہیں تسلی دیتے ہوۓ بولا۔۔
“کون بنٹی؟ اور کیسے پچاس لاکھ؟ اور حشمت ولا کے پیپرز کہاں ہیں؟” طلحہ صاحب کچھ بولنے لگے تبھی دروازہ جو کہ پہلے ہی تھوڑا سا کھلا ہوا تھا اسے مکمل کھول کر علیزے اندر داخل ہوتے بولی۔ وہ اپنا موبائل یہی بھول گئی تھی وہی لینے وہ واپس آئی جب اسکے پاؤں وقار کی آواز پر تھم سے گے۔ اسکو اپنے سامنے دیکھ دونوں پریشان ہو گے۔
“کچھ نہیں کام کی بات ہو رہی تھی۔ تم یہان کیا کر رہی ہو گھر نہیں گئی؟” وقار نے جلدی سے بات بدلنی چاہی۔
“وقار آپ چپ کر کے بیٹھ جائیں، اور چاچو یہ سب کیا بات ہو رہی تھی سچ بتانا ورنہ آغا جان کو ابھی جا کر سب بتا دوں گی” علیزے کو وقار کا بات بدلنا بالکل پسند نا آیا۔
“بتاتا ہوں تم شہیر لوگوں کو جانے کا بول دو” طلحہ صاحب نے اسے سب بتانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اب جان تو چھوٹنے والی تھی نہیں۔ علیزے نے ویسا ہی کیا۔
“اب بتائیں” وہ کرسی کو گھسیٹ کر انکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولی۔ طلحہ صاحب نے اسے ساری بات بتائی۔ جسے سن کر علیزے کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“اتنی بری بات ہو گئی اور آپ نے کسی کو بتانا مناسب نہیں سمجھا، آپ ہمیں اپنا نہیں مانتے” علیزے انکی باتیں سن کر نم لہجے میں بولی۔
“اپنے ہی گھر سے پیسے چوری کر کے کسی گینسٹر کو دینا تمہیں کیا لگتا ہے اسکے بعد میں کچھ بتا پاتا، خود کی نظروں سے ہی گر چکا ہوں، وقار نے تو اس دن انکو دیکھ لیا تھا ورنہ مین اسے بھی نہیں بتاتا” طلحہ صاحب جیسے خود پر ہنس کر بولے۔
“چاچو ریلکس، میں ہوں نا میرے پاس پیسے ہیں وہی انکے منہ پر مار کر ہم پیپرز لے آئیں گے” وقار نے انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“یہ اتنا آسان نہیں، میں نے اس بنٹی کے بارے میں پتہ کروایا ہے، وہ بہت لوگوں کو ایسے ٹھگ چکا ہے، پہلے انہیں پیسے دیتا ہے، اسکے بعد ان سے پراپرٹی کے پیپرز لیتا ہے، کہ جب پیسے واپس دو گے لے جانا ، اسکے بعد وہ پیسے دینے کے باوجود پیپرز دینے سے انکار کر دیتا ہے” طلحہ صاحب گہرا سانس کے کر بولے۔
” تو اب کیا کریں، اگر پیسے لے کر بھی اسنے واپس نا دیے تو کیا کریں گے” علیزے پریشان ہو گئی،۔
“کرنا کیا ہے، جب گھی سیدھی انگلی سے نہین نکلے گا تب ٹھیری کر لیں گے” وقار ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
“مطلب ؟” علیزے کو سمجھ میں نہیں آیا۔
“چاچو! ایک ہفتہ تو ہمارے پاس ہے، دو دن میں نیو کلیکشن کی لانچ کا ایونیٹ بھی ہے۔ اسکو ختم کر کے اگلے دن ہی انکو پیسے دے کر پیپرز لے لیں گے، تب تک میں انکا سارا کچا چھیٹا نکلواتا ہوں، پورے پلین کے ساتھ ہم وہاں جائیں گے ” وہ اپنے دائیں پاؤں کو ہلاتے ہوۓ کچھ سوچ کر بولا۔ علیزے کو خود کا اگنور ہونا اب بہت برا لگ رہا تھا۔ وہ دنوں طلحہ صاحب کے پاس ہی رہے، رات کو انکو ڈسچارج ملا ،وقار انہیں گھر چھوڑ کر فوراً واپس چلا گیا۔اسکو اب پلین بھی تیار کرنا تھا۔
**************************************
وقار جلدی جلدی میں بنا ناشتہ کیے گھر سے نکلا۔ آج کا دن بہت مصروف رہنے والا تھا۔ کیونکہ آج انکا ایونٹ تھا۔ سبھی ماڈلز ڈریسز پہن کر تیار ہو رہیں تھیں، علیزے انکو سارا چیک کر رہی تھی کہ سارا کام پرفیکٹ ہو، لوگ آنا شروع ہو چکے تھے ریپورٹرز بھی پہنچ چکے تھے، جنہوں نے یہ سب کور کرنا تھا۔ جو ماڈل مکمل تیار ہوتی جا رہی تھی، اسکا فوٹو شوٹ ہو رہا تھا، عثمان وہاں کھڑا فوٹوز کو دیکھ رہا تھا، اور اینگل بتا رہا تھا۔ کس طرح کی فوٹوز انہیں چاہیے۔ وہ سب فوٹوگرافر کو سمجھا رہا تھا۔ وقار باہر مینج منٹ کا سارا کام خود کروا رہا تھا۔ آدھے گھنٹے میں ایونٹ شروع ہونے والا تھا۔ حشمت صاحب اشرف صاحب کے ساتھ پہنچ گے تھے۔
“میری بات سنو سب سے پہلے انوسٹمنٹ وہ گی، اسکے بعد جب ایک ایک کر کے ماڈلز آئیں گی، ماڈلنگ کر کے آخر میں شو ٹاپر آۓ گی، اسکے بعد ڈیزائنرز کے نام لینا ۔ ساتھ میں کبھی گانے بجانا جو بتاۓ ہیں اور کبھی لائیٹ سا میوزک” وقار معاز جو کہ شو کا آغاز کرنے والا تھا اور ڈے جے کو سب سمجھا رہا تھا۔
“اوکے میں دیکھ لوں گا، تمہیں سمجھانے کی ضرورت نہیں” معاز اُکھرے انداز میں بولا اور پلٹ گیا۔ اور جا کر سٹیج کی ایک سائیڈ پر کھڑا ہوا، جہاں ہر سب ماڈلز نے واک کرنی تھی۔
“سر ایک گڑبڑ ہو گئی” تبھی وقار کے پاس ایک لڑکی آکر بولی۔
“کیا ہوا؟” وقار اسکے چہرے کی ہوائیاں اُڑی دیکھ کر بولا۔
جاری ہے
