Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“جس دن تم نے خود کشی کرنی کی کوشش کی تھی، اس دن مجھے احساس ہوا۔مجھ سے کون سا گناہ سر زرد ہو چکا تھا، اور تب چاہ کر بھی میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ بہت دفع ہمت کی کے سبکےپاس واپس آ کر معافی مانگ لوں ہمشہ تمہارا چہرہ سامنے آجاتا، سوچتا تھا کیسے تمہارا سامنا کروں گا، جسکے ساتھ اتنا برا کر چکا ہوں وہ کیسے معاف کرے گئی، جنکی وجہ سے شادی کی تھی انہی کی وجہ سے واپس بھی ایا۔ تمہاری انکھوں میں چھپے غم کو دیکھ کر میں لمہ با لمہ ٹوٹا ہوں، ابھی بھی ایک ہفتے بعد وقت ختم ہو جاۓ گا ہمارے رشتے کا کوئی نا کوئی فیصلہ ہو گا، پر اس سے پہلے میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مجھے معاف کر دو، تمہارے ساتھ کرنے والی زیادتیوں کے لیے، تمہیں دکھ دینے کے لیے، تمہارے دل کو دکھانے کے لیے۔۔۔۔” وہ بولتا آخر میں ہاتھ جوڑ گیا۔ بولتے بولتے وہ رو دیا۔ وہ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی۔ اور اسکے ہاتھوں کو پکڑ کر نیچے کیا۔

“میں نے بچپن سے صرف آپ سے محبت کی ہے، پتہ جب میں نے شادی طے ہونے کا سنا میں خود کو اس دنیا کی خوش قسمت لڑکی سمجھنے لگی، شادی کے بعد کئی دفع مجھے محسوس ہوا جسے آپ کچھ چھپا رہے ہیں، بری دفع محسوس ہوا جتنا پیار میں آپ سے کرتی ہوں اتنا پیار آپ مجھ سے نہیں کرتے، پھر اپنی ہی غلط فمہی سمجھ کر بھلا دیتی، پر اس دن جب وہ سب ہوا وقار اس دن مجھے لگا ضرور میرے پیار میں میری دعاؤں میں کمی رہ گئی ہو گی جو اتنا برا دھوکہ ملا۔ اس دن میں مر جانا چاہتی تھی، دن با دن میں پاگل ہوتی جا رہی تھی، بری دفع ایسا لگا شائد یہ کوئی ڈراونا خواب ہو گا شائید آنکھیں کھل جائیں تو سب پہلے جیسا خوبصورت ہو، پر تلخ حقیقت بھلا کب بدلتی ہے، بری دفع دل کیا آپکو کال کروں، ہزار شکوے کرو غصہ نکالو پھر سوچتی تھی، جس شخص کو مجھ سے محبت نہیں تھی وہ بھلا میرے کیا شکوے سنے گا” وہ روتے ہوۓ سب بول رہے تھی۔ وقار کے آنسوں بھی بہ رہے تھے۔

“ایم سوری” وقار نے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور گال پر بہ رہے انسوں صاف کیے۔

“آیان کے ساتھ میری زندگی بہت پیاری گزر رہی تھی، آپ کیوں واپس آۓ، کیوں دوبارہ سے میرے سامنے آ کر میرے زخموں کو کُرید دیا۔ کیوں سب کے سامنے میرے لیے بولے، جب سبکے سامنے چھوڑ کر گے تھے، کیوں اتنی بار معافی مانگی کہ مجھے خود پر غصہ آنے لگا کہ میں آپ کو معاف کرنے کی ہمت کیوں نہیں کر پا رہی، پر وقار سچ میں مجھ میں ہمت نہیں ہے، میں جب سوچتی ہوں آپکو معاف کر دوں تبھی میرے سامنے وہ سب آ جاتا ہے، سوچتی ہوں اگر دوبارہ سے بیچ راہ میم چھوڑ کر چلے گے تو کیا کروں گی۔ یہی سوچ کر میری ہمت ٹوٹ کر بکھر سی جاتی ہے، چاہ کر بھی میں معاف نہیں کر پا رہی” وہ اسکی کالر پکڑے روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ روتے روتے اسکی ہچکی بند گئی۔ وقار نے اسے سینے میں بھرا۔

“ایک موقع دے دو، اپنے عمل سے میں تمہارا یقین دوبارہ جیت لوں گا، پلیز معاف کر دو، مجھے تمہارے ساتھ ہمارے بچوں کے ساتھ رہنا ہے، اپنی باقی زندگی خوشی خوشی تم سبکے ساتھ بیتانی ہے، پلیز ” وہ اسے اپنی باہوں کے حصار میں لیے روتے ہوۓ بولا۔۔ جب کافی دیر دونوں نے خوب اپنا دل کا غبار بہا دیا،تو علیزے علحیدہ ہوئی۔

“وعدہ کریں، دوبار زندگی میں مجھ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے، ہر حال میں میرا ساتھ دیں گے، میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے” وہ اپنی ہاتھ آگے بڑھا کر بولی۔ وقار نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

“اپنی آخری سانس تک تمہارے ساتھ رہوں گا، کبھی کوئی بات نہیں چھپاؤں گا، اور تمہاری آنکھوں میں دوبارہ آنسوں نہیں لاؤں گا وعدہ ہے” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ علیزے بھی مسکرا دی۔

“تو مطلب معافی مل گئی” وقار اسکی مسکراہٹ دیکھ کر بولا۔ علیزے نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ وہ خود بہت تھک چکی تھی، اس چوہے بلی کے کھیل سے وہ خود اب اپنی زندگی سکون سے گزارنا چاہتی تھی۔

“ا ہوووووووو تھینک یو سو مچ مائی وائف ” وہ اسکو اپنے بازوں میں اُٹھا کر گول گول گھومتے ہوۓ اونچی آواز میں بولا۔ علیزے نے اسکی گردن میں بازو ڈالے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا جو اسکی ایک ہاں سن کر کتنا خوش تھا، وہ زندگی کو ایک اور چانس دینا چاہتی تھی۔۔۔

“وقار نیچے اتاریں آپکو اتنی چوٹیں لگی ہیں درد ہو ریا ہو گا” علیزے کو اسکی چوٹوں کا خیال آیا۔

“تم نے اتنی بری خوشی دی ہے اب بھلا چوٹوں کا درر کہاں ہو گا، ویسے بھی میری جان تم اتنی بھی بھاری نہیں ہو” وہ معنی خیر انداز میں بولا۔ علیزے کا چہرہ گلناز ہوا۔ اسنے اسکے کندھے پر تھپڑ مارا۔

“چاۓ پیں گے” علیزے نے اس سے پیچھا چھڑوانے کے لیے بولا۔ وقار نے اسے نیچے اتارا۔۔

“تم لے کر آؤ پھر ڈھیر ساری باتیں کرتے ہیں، بہت کچھ تمہیں بتانا ہے” وقار اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔ علیزے ہاں میں سر ہلاتی نیچے کچن کی طرف چلی گئی۔ وقار بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔ وہ بہت خوش تھا اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ علیزے مان گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ چاۓ کے دو کپ لے کر آئی اور اسکے ساتھ بیٹھ کر پینے لگی۔ وہ چاۓ پیتے پیتے باتیں کر رہے تھے۔ رات تین بجے جا کر باتیں کرتے کرتے دونوں نا جانے کب سو گے۔

*************************”***********

عثمان مصروف ہونے کی وجہ رات گھر لیٹ آیا تھا۔ اور آتے ہی سو گیا۔ صبح ناشتے کی ٹیبل پر اسے سب معلوم ہوا۔

“علیزے کہاں ہے؟” ڈائنگ ٹیبل پر نظر ڈالے اسنے پوچھا۔ وہاں سب موجود تھے سواۓ علیزے اور آیان کے۔ ایک دن سے ٹیبل پر خاموشی چھا گئی۔

” وقار کے گھر پر ہے، وقار کو کافی چوٹیں لگی ہیں تو اسکی دیکھ بھال کے لیے” عابدہ بیگم نے اسکے سوال کا جواب دیا۔ انکا جواب سن کر عثمان کا دماغ گھوما

“کیا بکواس ہے، میری بہن کوئی نوکرانی ہے جو بیماروں کی دیکھ بھال کرے گی” وہ چمچ پلٹ میں پھینکتا غصے سے بولا۔ اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔

“بیوی ہے وہ، اور اپنی بیوی ہونے کا فرض ادا کر رہی ہے” عابدہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا۔

“واہ آپکا بیٹا تو کبھی شوہر ہونے کا فرض ادا نہیں کر پایا میری بہن کو نوکرانی بنا رکھا ہے بہت ہوا اب مزید کوئی انتظار نہیں کرون گا اس کہانی کو تو اج ہی ختم کروں گا” وہ کرسی کو دکھیلتا باہر کی طرف بھرا سب نے اسے رکنے کی کوشش کی پر وہ چلا گیا۔

“یہ لڑکا پاگل وہ چکا ہے، کوئی اسکے پیچھے جاؤ” حشمت صاحب سر پکڑ کر بولے۔

“میں جاتا ہے” اشرف صاحب کھڑے ہو کر بولے۔

“تایا جی مجھے بھی جانا ہے” دانین بھی کھڑی ہوئی۔ سبھی جانتے تھے وہ وہاں بہت تماشا کرے گا، عابدہ بیگم اشرف صاحب، ہاشم صاحب، فائزہ بیگم دانین وہ سب وقار کے گھر کی طرف نکلنے۔ دس منٹ بعد وہ وہاں پہنچے۔ عثمان پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔

**************************************
وقار کی آنکھ کھلی تو علیزے اسکے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی، وہ اسکا معصوم چہرہ دیکھ کر مسکرایا۔ تبھی علیزے نے بھی آنکھیں کھولیں۔ اپنے آپ کو اسکے حصار میں دیکھتے وہ بوکھلائی، اور جلدی سے اُٹھ کر بیٹھی۔

“کیا ہوا بیگم نیند اچھی ملی” وقار نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔ علیزے نے تکیہ اسکی طرف اچھالا وقار کا قہقہ بلند ہوئی، علیزے نے اسے گھورا اور الماری سے دوسرا سوٹ نکال کر واشرم میں چلی گئی۔ فریش ہو کر وہ نیچے آ گئی، اور کچن میں خود ناشتہ بنانے لگی ساتھ ساتھ مریم بی سے باتیں کرنے لگی، جو زینب اور ایان کو اُٹھانے چلی گئیں اسنے ٹیبل پر ناشتہ لگایا۔ اور ان تینوں کا انتظار کرنے لگی۔ آیان اور زینب فریش ہو کر باہر آۓ آیان تو بھاگ کر علیزے سے گلے لگا۔ زینب وہی رک گئی۔ علیزے نے اسکا رکنا محسوس کیا۔ وہ کچھ بولتی اس سے پہلے زینب اپنی جگہ پر جا کر بیٹھی۔

“سو آج مما نے اپنے ہاتھوں سے یمی یمی سا ناشتہ بنایا ہے، آلو والے پراٹھے” علیزے نے دونوں کی پلیٹس میں پراٹھے رکھے۔

“واؤ مما مائی فیورٹ” آیان خوشی سے چلایا۔ تبھی وقار بھی نیچے آیا۔ سامنے ان تینوں کو بیٹھا دیکھا بے اختیار اسنے ماشااللہ بولا۔ یہی خواب تو وہ ہمیشہ دیکھتا تھا اور آج وہ پورا ہوا۔

“واؤ ناشتہ تو مزے کا لگ رہا ہے،” وہ اپنے ہاتھ رگڑتا اپنی کرسی پر بیٹھا اور ایک پراٹھا اپنی پلیٹ میں رکھا اور کھانے لگا۔ چاروں مزے سے ناشتہ کر رہے تھے۔

“علیزے علیزے علیزے کہاں ہو” تبھی عثمان کی آواز آئی وہ گھر میں داخل ہوتے ہی غصے سے اسے پکار رہا تھا۔

“بھائی” عثمان کی آواز سنتے ہی وہ ہکلائی۔ اور ڈر کر وقار کی طرف دیکھا اسنے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے حوصلہ دیا۔ عثمان اندر داخل ہوا اور ان چاروں پر نظر پڑی۔ علیزے جلدی سے اسکے پاس آئی۔

“بھائی آپ یہاں؟” وہ ڈرتے ہوۓ بولی۔

“بہت ہو گیا، سمجھو آج ہی مہینہ پورا ہوا، علیزے اپنا فیصلہ سناؤ، تم اس شخص کے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا طلاق لینا چاہتی ہو” عثمان نے وقار کو غصے سے گھورتے علیزے سے سوال کیا۔ تبھی باقی سب بھی اندر داخل ہوۓ علیزے نے اپنی ماں اور چچی کی طرف بے چارگی سے دیکھا۔

“ریلکس عثمان بیٹھ کر بات کرتے” وقار نے اگے بڑھ کر بولنا چاہا۔

“چپ تو ایک لفظ منہ سے مت نکالنا، تو نے میری بہن کے ساتھ جو کیا، اسکے بعد تجھ میں اتنی ہمت کیسے ہو گئی جو معافی مانگ رہا ہے، اور یہ امید بھی رکھ رہا ہے وہ تجھے معاف کر دے گی، تیرا بہتر حل پتہ کیا تھا۔ تیرے سامنے اسی دن تیری بہن کو چھوڑا ہوتا تو تیری عقل ٹھیکانے آتی، یوں چوڑا ہو کر دوباہ نا آتا زندگی حرام کر کے رکھی ہے” عثمان غصے میں نا جانے کیا کیا بول رہا تھا۔ دور کھڑی دانین کا دل ایک مرتبہ پھر ٹوٹا۔ وہ پھر سے ایک بار اسے بے مول کر گیا تھا۔

“بھائی کیسی باتیں کر رہے ہیں” علیزے نے دانین کا دھوا ہوتا چہرہ دیکھا۔

” تم چپ رہو علیزے اب تو تمہاری بات بھی نہیں سننی تمہارے لیے میں جو فیصلہ کروں گا وہی ٹھیک ہو گا، ابھی کے ابھی میری بہن کا پیچھا چھ وڑ اسے طلاق دے، میں اب مزید برداشت نہیں کر سکتا” وہ اب علیزے پر غصہ نکال رہا تھا۔

“بیوی ہے میری کبھی طلاق نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لے” وقار کو بھی اب اسکی ضد پر غصہ آیا وہ کسی کی بات سمجھ ہی نہیں رہا تھا۔

“بات کو بڑھاؤ مت چلو بیٹھ کر بات کرتے ہیں” اشرف صاحب درمیان میں آ کر بولے۔

“بس کریں پاپا آپ درمیان میں نا آئیں آپ سبکی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑرہا ہے ورنہ اسی دن سب ختم کر دیا جاتا آج میری بہن خوش ہوتی” وہ غصہ سے بولا۔ علیزے نے بے بسی سے عابدہ بیگم کی طرف دیکھا۔

“دے طلاق ورنہ ابھی کے ابھی تیری بہن کو طلاق دے دوں گا” عثمان وقار کا گڑبان پکڑ کر بولا۔

“بھائی پلیز بس کریں میں وقار کو معاف کر چکی ہوں اس بات کو یہی ختم کریں” علیزے نے ہمت کر کے بولا۔ عثمان نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔
تبھی کسی نے اسکے کندھے کو کھینچا اور اسکا رخ اپنی طرف کیا۔

“برا شوق کے نا آپکو دوسروں کی زندگی کے فیصلے کرنے کا۔بہت افسوس ہے مجھے اسی دن طلاق نا دینے کا، مجھے طلاق دے کر چھوڑنے کا بہت دل چاہ رہا ہے، ابھی کے ابھی مجھے طلاق دیں مجھے اپکے ساتھ اب مزید نہیں رہنا” دانین اسکا رخ اپنی طرف کرتی غم غصے سے چلائی تھی۔ سبھی نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا

” دانین کیا بول رہی ہو؟ چپ کر جاؤ” فائزہ بیگم نے آ کر اسے علحیدہ کرتے ہوۓ بولا۔

“تائی جی، یہی صحیح رہے گا ویسے بھی ان پانچ سالوں میں انہوں نے مجھے ہر بات پر میرے بھائی کے حوالے دے طعنے ہی تو دیے ہیں، ہمیشہ اسکی غلطی کی سزا مجھے ہی تودی ہے، مجھے ہمیشہ نیچا دیکھایا۔ ایسے رشتے کا کیا فائدہ جہاں عزت ہی نا ملے بھری محفل میں انہوں نے ایک پل نہیں لگایا یہ بولنے کے لیے کہ میں تیری بہن کو چحوڑ دوں گا دھمکی دی ہے، میں صرف وقار کی بہن نہیں انکی بیوی بھی تو ہوں، بولیں اب چپ کیوں ہو گے دیں طلاق، بولیں” وہ روتے روتے سب بول رہی تھی۔ عثمان بت بنا سب سن رہا تھا۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا وہ کیا کیا بول رہا تھا۔ وہ ایک پل بھی وہاں نا رُکا اور چلا گیا۔ رامین وہی زمین پر بیٹھی روتی رہی۔ علیزے اور عابدہ بیگم اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہیں تھیں۔ اسکی طبعیت بھی خراب ہو رہی تھی۔ اسے صوفے پر بیٹھایا۔ علیزے جلدی سے جوس بنا کر لے آئی۔

تھوڑی دیر بعد وہ نارمل ہوئی اور رونا بند کیا۔ گھر سے حشمت صاحب کی کالز آ رہیں تھیں۔ اشرف صاحب نے سبکو چلنے کا بولا۔

“وقار کیا اس گھر میں میرے لیے کوئی جگہ ہے” رامین نے نم نظروں سے وقار کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا جو اپنی بہن کی حالت جا ذمہ دار خود کو ٹھہرا رہا تھا

“کیسی باتیں کر رہی ہیں یہ اپکا ہی گھر ہے” وہ فوراً بولا۔ باقی سب چلے گے۔ علیزے نے اسے ایک کمرے میں لٹا دیا تا کہ وہ ارام کر لے۔ وقار اسکے پیچھے آیا۔ رامین کے پاس بیڈ پر بیٹھا۔ وہ بیڈ کے کنارے سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی۔

“ایم سوری یہ سب میری وجہ سے ہوا” وقار شرمندگی سے بھرے انداز میں بولا۔

“بالکل نہیں میں نے تمہاری وجہ سے یہ نہیں بولا۔ یہ سب عثمان کی وجہ سے ہوا۔ ہمارے رشتے مین وہ بات رہی ہی نہیں، ہمیشہ میں نے ہی کمپروماییز کیا یے، انہوں نے تو مجھے ذلیل ہی کیا ہے، تم مجھےمعاف کر دو میں نے کافی برا رویہ رکھا خاص کر رات کو تمہاری اتنی بری حالت تھی مجھے آنا چاہیے تھا” رامین نے اسکی بات کاٹ کر بولا۔ وقار نے اپنے بہن کو حصار میں لیا اسکی وجہ سے اسنے کتنا سہا تھا۔

“تم دونوں نے اچھا فیصلہ لیا میں خوش ہوں” وہ دور کھڑی علیزے کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ علیزے نے اپنی پیاری سی کزن کو نم انکھوں سے دیکھا۔۔۔۔
جاری ہے