No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“شکریہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی زینب سے کیسے بات کرو، وہ بہت کم مجھے اپنے دل کی باتیں بتاتی ہے، بہت حساس بچی ہے۔ ساری باتیں دل میں رکھتی ہے پر تم نے بہت اچھے سے اسے سمجھایا” علیزے کو اپنے پیچھے سے وقار کی آواز آئی۔ اور اسکی آواز سنتے ہی کھڑی ہوئی۔
“بچوں کو اگر وقت پر نا سمجھایا جاۓ تو وہ ان باتوں کا غلط اثر بھی لے سکتے ہیں، اور زینب وہی لے رہی تھی۔ وہ ان سب کے بارے میں بہت سوچ رہی تھی” وہ بنا پلٹے دونوں کو کھیلتے ہوۓ دیکھ کر بولی، وقار مزید کچھ بولتا اس سے پہلے وہ زینب اور آیان کے پاس چلی گئی۔ وہ وہی تنہا کھڑا رہا جیسے زندگی کے اس سفر میں وہ تنہا تھا۔ اسے اپنے اندر خالی پن سا محسوس ہوا۔ آس پاس اندھیرا سا لگا۔ کچھ دیر بعد وہ ان دونوں کو لے کر اندر چلی گئی۔ وہ اندر جانا نہیں چاہتا تھا، تو وہی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا؟ ایسے کیوں بیٹھے ہو؟” طلحہ صاحب کھانا کھانے کے بعد واک پر نکلے تھے، انکی نظر گم صم بیٹھے وقار پر پڑی، دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اسکے پاس آ کر بیٹھ گے۔ وہ چونکا تھا، اتنے دنوں میں پہلی بار وہ اسکے ساتھ بیٹھے تھے۔
“بس ایسے ہی” وہ ہاتھ کی ہتھیلی پر دوسرے ہاتھ کا انگھوٹھا چلاتے تھکے ہوۓ لہجے میں بولا تھا۔
“اگے کا کیا سوچا ہے؟” وہ جیسے اس سے اگلا مرحلہ سننا چاہتے تھے۔ وقار انکا سوال سمجھ چکا تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں۔
” زینب ڈسٹرب ہو رہی ہے، اسی سب سے بچنے کے لیے میں الگ گھر لینے کا سوچ رہا ہو، بار بار زینب کےسامنے کسی نا کسی سے میری بحث ہو جاتی ہے،وہ بہت حساس ہے ان سب باتوں کو سوچتی رہتی ہے۔ جو اسکے لیے صحیح نہیں ” یہ فیصلہ وہ ابھی کمرے سے کر کے آیا تھا۔ طلحہ طاحب نے اسکے جواب پر اسکی طرف دیکھا تھا۔
“دوبارہ سے بھاگ رہے ہو، واپس سے وہی غلطی کر رہے ہو، سچویشن سے بھاگ کر اگر سب صحیح ہو جاے تو ہر دوسرا انسان بھاگ جاۓ، وہ تلخ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولے تھے۔ وقار کچھ پل خاموش ہوا۔۔
یہاں پر حالات صحیح نہیں ہیں اور نا ہو سکتے ہیں سب بہت نفرت کرنے لگ پڑے ہیں کوئی معاف نہیں کرے گا امی، عثمان اور اپی کا رویہ تو آپ خود دیکھ چکے ہیں اور کرنی بھی چاہیے میں واقعی میں بہت
برا ہوں”اسکے لہجے میں بے بسی اور تلخی تھی۔ جسے طلحہ صاحب نے محسوس کیا۔ وہ کافی پریشان اور تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ انکے دل کو کچھ ہوا، وہ گھر بھر کا سب سے لاڈلا بچہ تھا، وہ جانتے تھے انہوں نے کتنی مشکل سے اسے امریکہ پڑھنے بھیجا تھا۔ وہ ان سب سے الگ ہو کر رہنا نہیں چاہتا تھا، اب کبھی وہ سوچتے تو اسے وہاں بھیجنے کا فیصلہ غلط لگتا۔
” سب تم سے محبت کرتے ہیں، اور جب نزدیکی انسان تقلیف پہنچاۓ تب زخم ایک دفع ہاتھ لگانے سے تو نہیں برھتے۔ ذخموں کو بھرنے کے لیے وقت تو لگتا ہے، اور یہ بات اپنے دل سے نکال دو کہ کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، جس دل میں محبت ہوتی ہے وہاں غصہ تو ہو سکتا ہے پر نفرت نہیں ہو سکتی۔ سبھی تمہارے کیے گے فیصلوں کی وجہ سے ابھی تک غصہ اور دکھی ہیں اہستہ اہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا ” انہوں نے اسکا مرجھایا چہرا دیکھ اسے سمجھانا چاہا۔
” تو کیا اپکے دل میں بھی میرے لیے نفرت نہیں ہے” وقار نے انکی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تھا۔ اسکی انکھوں میں ڈر واضع تھا۔
“تم میرے بچے جیسے ہو، اور اپنے بچوں کے لیے کسی باپ کے اندر نفرت نہیں ہوتی، تم سے جو غلطیاں ہوئیں، انکو سُداھرو وقت دو سب کو ویسے ہی رہنے کی کوشش کرو جیسے پہلے رہتے تھے، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا” طلحہ طاحب نے اسے سمجھایا۔
“کوشش کر رہا ہوں سب کو منانے کی پر سب بے کار لگ رہا ہے” وہ اپنا سر ہاتھوں پر گِرا کر تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔
” اچھے سے مناؤ گے تو سب مان جائیں گے، اور یہ تو اچھی بات ہے سب اپنے دل میں چھپے غصے کو نکال رہے ہیں، ایک دفع سب کے دل کی بھراس نکل گی تو آسانی سے معاملہ سلجھ جاۓ گا، تم جی جان سے لگے رہو”وہ ہلکا سا مسکرا کر کھڑے ہو گے۔ اور واپس اندر جانے لگے
“چاچو!” تبھی وقار نے پکارا ،انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔ “شکریہ” اگے بڑھا اور انکے گلے لگتے ہوۓ بولا۔ طلحہ صاحب کی آنکھیں یک دم گیلی ہو گئیں۔ انہوں نے اسکی پیٹھ تھپتھپائی۔ اور علحیدہ ہو کر اندر چلے گے۔
“میں اس گھر کے ہر انسان کو منا لوں گا اور میرا وعدہ ہے۔ جتنی بے وقوفیاں میں نے کر دی ہیں وہی آخری ہیں اب سے سب سے معافی مانگ کر اپنی اور باقی سب کی زندگی کو دوبارہ سے پرسکون کروں گا” وہ اس عالی شان گھر کو ایک نظر دیکھتے ہوۓ بولا۔
“بہت ہی افسوس کی بات ہے اتنی بری کمپنی اور دو نمبر مال استعمال کر ری ہے، ہمیں مکمل نیوز ملی ہے اس کمپنی نے دو نمبر مال استعمال کیا ہے ؟” سکرین پر نیوز اینکر بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا، صبح کے ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں پر جا رہے تھے، جب آغا جان نے نیوز دیکھنے کے لیے ٹیوی آن کیا تو انکی کمپنی کے بارے میں یہ سب باتیں ہو رہیں تھیں۔
“اشرف، اشرف۔ عثمان ” آغاجان نے ٹیوی دیکھتے ہی ان دونوں کو آواز لگائی۔ عثمان اپنے کمرے سے لیپ ٹاپ بیگ لیے انکی پکار پر چلتا ہوا ٹیوی لونج میں آیا۔ اشرف صاحب بھی سفید قمیض شلوار پر بلیک ویس کوٹ پہنتے کمرے سے نکلے تھے۔۔۔
“جی ابا کیا ہوا؟” وہ اپنی گھڑی کو کلائی پر باندھتے حشمت صاحب کے پاس آۓ جو حیرانگی سے ٹیوی پر چل رہی خبر جو دیکھ رہے تھے۔خبر کو دیکھتے ہی عثمان کے ماتھے پر بل پڑے۔
“یہ کیا ہے؟اور تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟” حشمت صاحب کی آواز میں سالوں بعد ایسا غصہ سنائی دیا تھا۔ علیزے آیان اور احمد کو ڈرائیور کے ساتھ سکول کے لیے روانہ کر کے اندر آئی تو اسکی نظر سامنے ٹیوی پر پڑی اور پھر عثمان اور اشرف صاحب پر پڑی وہ جلدی سے انکے قریب آئی۔
“دادا جی! مجھے دو دن پہلے ہی معلوم ہوا، میں نے بابا کو بتایا تھا۔ ہم سب سمر کی نیو کلیکشن میں مصروف تھے، اسکے اوپر زیادہ کسی نے دھیان نہیں دیا اور یہی ہماری غلطی ہو گئی، کسی نے فائدہ اُٹھا لیا اور لوکل مال سے باقی کے سوٹ تیار ہو گے۔ پر میں نے کل ہی کام بند کروا دیا تھا۔ جن جن کو مال پہنچایا گیا تھا سبھی سے منگوا بھی لیا، یہ ضرور حمدانی ٹیکسٹائل آنڈسٹری والوں کا کام ہے انہی نے یہ سب مارکیٹ میں ہماری ریپوٹیشن خراب کرنے کے لیے کیا ہے” عثمان کا اب دماغ خراب ہو رہا تھا۔ یہ سب کیسے ہو سکتا تھا اس سب سے انہیں کافی نقصان ہو گا۔ عروج کے کمرے سے زینب کو دیکھتا وقار باہر آیا تو سب کو یوں پریشانی سے ٹیوی کی طرف دیکھتا اور عثمان کی باتیں سنتا وہ بھی انکے قریب آیا۔
“تو بھائی اب کیا ہو گا؟ اسطرح تو کوئی دوبارہ ہمارے سوٹس ہی نہیں خریدے گا” علیزے کافی پریشان ہو گئی تھی۔ کیونکہ مصروفیت کی وجہ سے وہ اس کام پر توجہ نہیں دے پائی تھی۔ وقار نے نیوز دیکھی وہاں ابھی بھی اسی پر بحث ہو رہی تھی۔ سبھی جانتے تھے کچھ ہی گھنٹوں میں اب یہ بری نیوز بن جاۓ گی۔
“کچھ سمجھ نہیں آ رہا اب کیا کروں” اشرف صاحب اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولے۔ عثمان بے چینی سے چکر لگا رہا تھا۔ عابدہ بیگم اور فائزہ بیگم شور سن کر کیچن سے باہر آئیں۔
“اب کیا ہو گا، سالوں کی محبت اب مٹی مل گئی نام برباد ہو گیا اب ہماری کمپنی کا نام بھی دو نمبر کے مٹریل استعمال کرنے میں آ گیا ہے؟” بولتے بولتے حشمت صاحب نے ٹیوی بند کر دیا۔ وہ بہت پریشان دکھ رہے تھے اور ہونا بھی چاہیے تھا۔ آخر کو انکی بنائی کمپنی کی آج اتنی بے عزتی وہ رہی تھی۔ انکا بی پی لو ہونا شروع ہو گیا۔ وقار خاموشی سے سن رہا تھا۔ اور کچھ سوچ رہا تھا۔
“تو کیا اب اسکا کوئی حل نہیں؟” ہاشم صاحب موبائل پر یہ نیوز سن کر باہر آۓ رو حشمت صاحب کی بات سنی۔
“اب کیا حل نکلے گا سب ختم ہو گیا، جب بھی کام کرو تو پوری توجہ کے ساتھ کرنا چاہیے ایک کو اوپر رکھ کر اور دوسرے کام کو فالتو سمجھ کر اس پر دھیان نا دیں تو یہی ہوتا ہے” حشمت صاحب نے اپنے چہرے پر آیا پسینہ پونچھتے ہوۓ تیخے لہجے میں اشرف صاحب اور عثمان کو دیکھا۔ عثمان نے اپنی مُٹھیاں بھیچیں وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا تا کہ نیوز روکی جا سکے۔
“کوئی فائدہ نہیں اب نیوز نہیں رُکے گی اب تک تو شوشل میڈیا پر پھیل چکی ہو گی، سب ختم سمجھو” ہاشم صاحب نے عثمان کو کہا۔
“آپ سب اتنی سی بات پر یوں پریشان کیوں ہو رہے ہیں، میرے ساتھ تو ایسا دو دفع ہو چکا ہے پھر بھی میری کمپنی اچھی خاصی چل رہی ہے” وقار سب کے پریشانی سے بھرے چہرے دیکھتا ہوا بولا تھا۔
“بھائی صاحب تم بہت امیر ہو اور ہم بچارے غریب ہمیں ان سب کی عادت نہیں” عثمان تلخ لہجے میں بولا۔ وقار نے نفی میں سر ہلایا۔
“اس میں بات امیری غریبی کی نہیں، ایک بزنس مین ہونے کے ناطے ان سب چیزوں کے لیے اپ سب کو ہمشہ تیار رہنا چاہیے اور ایک بیک اپ پلین بھی تیار رکھنا چاہیے، اس کمپنی کا آج تک کا سارا کریر بالکل صاف ہے اور یہ پہلی دفع ہو رہا ہے، اسے بنا ہاپر ہوۓ سمجھ داری سے ہینڈل کریں تو کام ایک پریس کانفرس کا ہی ہے” وہ چلتا ہوا ان سب کے سامنے آیا۔
“کیا مطلب اسکا کیا حل ہو سکتا ہے؟” حشمت صاحب کو جیسے ایک امید سے دکھی تو وہ فوراً سیدھے ہو کر بیٹھے۔ وقار ہلکا سا مسکرایا۔
“جب آپ سب پریشان ہو رہے تھے تب میں نے حل بھی سوچ لیا” وہ اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکرا کر بولا۔
“ہمیں تمہاری فضول کی صلاحوں کی ضرورت نہیں، تو اپنے مشورے اپنے پاس رکھو ہم اس معاملے کو حل کر لیں گے” عثمان کو اسکا یوں بولنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
“عثمان تم خاموش ہو جاؤ وقار بولو یہ سب کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟” حشمت صاحب نے عثمان کو ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔ وہ اپنا غصہ دباتا علیزے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
“ایسا ہماری لاپرواہی یا کسی ورکر کے دھوکہ دینے کی وجہ ہوتا ہے مطلب ہو سکتا ہے ہمارا ورکر کسی دوسری کمپنی کے ساتھ ملا ہو اور ہمارا کام خراب کر رہا ہے جیسے یہاں پر کپڑے کی کوالٹی خراب ہوئی۔ جو ہونا تھا اسکی انویسٹیگیشن تو ہوتی رہے گی ابھی فل حال ہمیں اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے میڈیا کے سامنے ایسا کہنا ہو گا یہ سب ایک فیک نیوز ہے، ہمارے اپونیٹنس نے پھیلائی ہے انکے پاس کوئی ثبوت تو ہے نہیں جو ہمیں غلط ثابت کر سکیں، اور اسکے ساتھ ہی اپنے سمر کلیکشن کے ساتھ فینسی ڈریس جو ہر سال آپ بناتے ہو اسکے آرٹیکلز کی تصویر پہلے رلیز کر دیں۔ اور بولیں ہم تو اس پر کام کر رہے تھے، تو ایسی غلط نیوز تو چھپ سکتی ہے، دو منٹ بعد ہی دیکھیے گا جو اپکے مخالف بول رہے تھے وہ اپکے ساتھ ہوں گے” وقار نے دو منٹ کے اندر ہی سارے مسلے کا حل نکال دیا۔ سبھی کو اسکا مشورہ پسند آیا تھا۔
“لیکن اس دفع سمر کلیکش کے زیادہ آرٹیکل بنانے کی وجہ سے ابھی تک نئے فینسی ڈریس آرٹیکل کی تو تیاری ہی نہیں کی” اشرف صاحب کو جیسے کچھ یاد آیا تھا۔
“واٹ بابا اپ اسکی بات مانیں گے اتنا بکواس پلین ہے اسطرح کوئی چپ نہیں ہو گا” عثمان کو انکی بات پر بہت غصہ ایا۔
” تایا جی میری کمپنی جس آرٹیکل پر کام کر رہی ہے وہ ابھی رلیز نہیں ہوا، وہ مکمل تیار ہے انکی تصویریں میں منگوا سکتا ہوں میں وہ وہاں رلیز نہیں کروں گا آپ لوگ اس آرٹیکل کو یہاں رلیز کر دیں۔ دس ڈریسز ہیں” وقار نے جیسے انکی اس پریشانی کا بھی حل نکال دیا۔ اشرف صاحب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ وہ کیسے آسانی سے اپنے اتنے مہینوں کی محنت انہیں دے رہا تھا۔
“بالکل بھی نہیں ہم یہ سب نہیں کریں گے” عثمان کو یہ سب بے قار لگا۔
“عثمان تمہیں مجھ سے جو بھی ناراضگی ہے اسے ایک طرف رکھ کر ابھی فل حال بس کمپنی کا سوچو یہ برا نہیں ہے” وقار نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“تمہیں اس سب سے وہاں مطلب تمہاری کمپنی مین تقلیف تو نہیں ہو گی” حشمت صاحب نے پوچھا۔ وقار انکی بات پر مسکرایا۔ اب وہ کیا بتاتا یہ سب کرنے پر وہ وہاں وقت پر اپنا کام وقت پر نہیں کر ہاۓ گا جسکی وجہ سے اسے بہت نقصان ہو گا۔ پر ابھی فل حال اسے اس انڈسٹری کو ڈوبنے سے بچانا تھا کیونکہ وہ بھی اچھے سے جانتا تھا، یہ سب اتنا بھی آسان نہیں اگر لوگوں کا مائینڈ دوسری طرف نا لگایا تو کافی نقصان ہو سکتا ہے۔
جاری ہے
