Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

وقار نے اسکی طرف دیکھا، اسکی آنکھوں میں جو ڈر خوف تھا وہ اچھے سے محسوس کر سکتا تھا۔ اس وقت اسے خود سے نفرت محسوس ہو رہی تھی، اسکی غلطی کی وجہ سے ایک لڑکی کی زندگی اب اُجرنے والی تھی۔

“سب سچ ہے” وقار نے بہت ہمت جمع کرتے ہوۓ کہا۔ اور وہی علیزے کے ہاتھ کی گرفت کمزور ہوئی، اسکی انکھیں میں حیرت، شکوہ، نمی، کیا کچھ نا تھا۔ مشل نے جا کر اسے اُٹھایا۔

“ابھی کے ابھی میری بہن کو طلاق دے ورنہ میں یہاں کھڑے کھڑے تیری بہن کو طلاق دے دوں گا” اسکو کالر سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوۓ عثمان نے کہا۔ رامین نے حیرانگی سے اپنے شوہر کو دیکھا۔

“تمہارا دماغ خراب ہے کیا بکواس بول رہے ہو” اشرف صاحب نے ایک تھپر اسے جھر دیا۔

“تم میرے ساتھ چلو مجھے تم سے بات کرنی ہے” سمبل وقار کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ باہر لے گئی، علیزے نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور بھاگ کر اوپر چھت کی طرف گئی۔

“علیزے علیزے کہاں جا رہی ہو؟” سبھی اسے یوں چھت کی طرف بھاگتے دیکھ بہت پریشان ہو گے۔ اور اسکے پیچھے بھاگے۔ علیزے اپنے کانوں کو بند کیے ہوۓ تھی۔ وہ چھت پر پہنچی اور دورازہ بند کر دیا، تا کہ کوئی اندر نا آ سکے، اسکے دماغ میں ساری باتیں گھوم رہیں تھیں۔

علیزے دروازہ کھولو، پاگل مت بنو علیزے” سبھی اونچی اونچی چلا رہے تھے، پر اسنے کسی کی بات نا سنی وہ چھت کی دیوار پر جا کر کھڑی ہوئی، اور سامنے دیکھنے لگی، انکھوں کے پردے پر سارے منظر آنے لگے، وہ خود پر ہنسنے لگی۔

“علیزے پاگل ہو نیچے اترو ایسا مت کرو بھائی کی بات نہیں مانو گی بچے پیچھے ہو جاؤ” سبھی باہر گارڈن کیں گے جہاں سے وہ نظر ا رہی تھی اگر وہ گرتی تو گارڈن مین ہی گرتی۔ اتنا شور سن کر وقار سمبل سے ہاتھ چھڑواتا گارڈن میں پہنچا سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکی۔ علیزے کی نظر اس پر گئی۔ اسنے روتے ہوۓ اسے دیکھ اور نفی میں سر ہلایا۔ وہ مکمل بکھری ہوئی لگ رہی تھی۔ سبھی اسے پیچھے ہٹ جانے کا کہ رہے تھے۔

“میری وجہ سے کوئی انسان اتنا مجبور ہو گیا اسے نا چاہتے ہوۓ بھی مجھ سے شادی کرنی پڑی، اور جھوٹا پیار جتانا پڑا، میں اتنا برا بوجھ بن گئی مجھے خود کو ہی معلوم نا تھا۔ جسکو اپنا سمجھ کر مین محبت کر بیٹھی اسنے میرے ساتھ کیا کِیا، اب طلاق کا داغ میرے سر لگ جاۓ گا، میں تو جیتے جی مر،،،، ” وہ روتے ہوۓ اونچی اونچی آواز میں بولتی انکھیں بند کر کے کود گئی، بہت سی آوازیں اسکے نام کی سنائی دی گئی، وقار جھٹ سے اگے ہوا، جیسے ہی علیزے نیچے کو کودی زمین پر گرنے سے قبل وقار نے اسے پکڑ لیا، دونوں زمین پر بہت بری طرح گِرے، علیزے بے ہوش ہو گئی۔ عثمان نے وقار کو پیچھے دکھا دیا۔ اور علیزے کو اُٹھاۓ گاڑی کی طرف بھاگا، اگلے دو منٹ میں وہ ہسپتال کے لیے نکل گے۔ سبھی اسکے پیچھے چلے گے
۔ سد شکر اسے کوئی چوٹ نا لگی، اگر وقار آگے ہو کر نا بچاتا تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ وہی زمین پر بیٹھا سر ہاتھوں پر گڑاۓ رو دیا۔

“ہاہ ڈرامہ ختم ہوا” سمبل نے اسکے پاس ر کہا۔وقار نے اسکی طرف دیکھا۔

“تم یہی ویٹ کرو میں آتا ہوں، وقار اُٹھا اور اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھا، وہاں سے اپنا ضروری سامان اور پاسپورٹ لیا اور باہر سمبل کے پاس آیا وہ جس گاڑی میں آئی تھی اسی میں بیٹھ کر وہ ایرپورٹ پہنچے، اور دو گھنٹے کے اندر وہ جہاز میں بیٹھا تھا، وہ اس سارے وقت میں ایک لفظ بھی نا بولا۔ سمبل اس سے لڑتی رہی، بہت باتین سنائیں۔ لمبی فلائیٹ کے بعد وہ امریکہ پہنچے، گھر آتے ہی سمبل نے جھگڑا کیا۔
ہسپتال میں علیزے کو ڈرپ لگی تھی، گرنے سے تو کوئی چوٹ نا لگی پر وہ یہ سب پریشر سہ نا پائی اور بے ہوش ہو گئی۔ صبح نو بجے اسکی آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال کے کمرے مین تھی، پاس عثمان اور فائزہ بیگم شگفتہ بیگم بیٹھیں تھیں، جو کچھ بات کر رہیں تھیں۔

” میری بچی کی زندگی تو تباہ ہو گئی، وقار نے اسکی زندگی خراب کر دی اور اوپر سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے اب دیکھو کیسے جیے گی”فائزہ بیگم اپنا سر پکڑ کر روتے ہوۓ بولیں، علیزے نے ساری بات سن لی۔ اسے رات کا سارا واقع یاد آیا۔ اور اب اسے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ ماں، اسنے کانپتے ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھے، تبھی ایک ہچکی نکلی سبھی نے اسکی طرف دیکھا وہ رو رہی تھی۔

“بس میری بچی ہم سب ہیں چپ چپ” فائزہ بیگم نے اسے سینے سے لگاتے ہوۓ بولا۔ وہ ٹوٹ کر رو دی، یہان تک کے ہچکی بندھ گئی۔۔۔۔

“بہت ہی مشکل سے علیزے کو سھنمبالا، وقار کا اس رات چلے جانا سبھی کو غصہ دلا گیا، اور سب سے زیادہ تو عثمان اس سے نفرت کرنے لگا، اور اپنی نفرت کا اظہار وہ رامین کے سامنے کھلے عام کرتا۔ وہ چپ کر کے سن لیتی۔ دوسری طرف سمبل اب ہر بات پر وقار کو طعنے دینے لگی، اور دو مہینے بعد وہ زینب اور وقار کو چھوڑ کر چلی گئی اور جلد ہی طلاق لے لی۔ وقار ان سب میں اکیلا رہ گیا۔ زینب کو اسنے اکیلے ہی سھنمبالا۔ ۔ عثمان نے سب کے موبائل سے وقار کا نمبر خود بلاک کیا، گھر کی لین لائین سے بھی اسکا نمبر بلاک کیا، تین مہینے بعد شہیر نے نئی سم لے کر وقار کے نمبر پر کال کی اور اس سے بات کی، وہ پندرہ دن بعد اس سے بات کر لیتا۔ ایک دن وہ گارڈن میں اہستہ آواز مین اس سے بات کر رہا تھا، جب علیزے نے اسکے منہ سے وقار بھائی نام سنا تو اسکی طرف آئی۔ اور اسکے ہاتھ سے فون پکڑا۔ اپنے سامنے علیزے کو دیکھ کر وہ ڈر گیا۔ علیزے نے اسکی کال بند کی اور شہیر کی طرف دیکھا۔

” عثمان بھائی کو پتہ لگ گیا تو جانتے ہو کیا ہو گا” علیزے نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ شہیر نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

“پلیز مت بتانا” وہ ڈر کے مارے بولا۔

“نہیں بتاؤں گی، تم بھی کسی کو میرے اور میرے بچے کے بارے میں نہیں بتاؤ گے اگر بتایا تو مجھے آپی مت کہنا” علیزے نے وارنگ دیتے ہوۓ انداز میں کہا۔ شہیر نے ہاں میں سر ہلایا۔ اب تک تو ویسے بھی انکی زیادہ دیر بات نہیں ہوئی تھی جو علیزے کی پریگنیسی والی بات بتاتا اور اب تو وہ منع کر چکی تھی اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسکے بعد شہیر یہاں کی خبریں اسے دیتا رہا۔ آیان کے آنے کے بعد اسنے آفس جوائن کر لیا۔ وہ خاموش سی ہو کر رہ گئی، مسکراہٹ بھی کبھی کبھی اسکے چہرے پر آتی۔ اسکا سارا وقت اب آیان کو یا آفس کے کاموں میں جاتا۔ سبھی گھر والے اب وقار کا نام تک لینا پسند نا کرتے۔ اور وہاں وقار کا سارا دھیان اب کام اور زینب پر تھا۔ جبھی کبھی رات کو وہ اکیلا ہوتا، اسے علیزے بے حد یاد آتی، اسکی پیاری پیاری باتیں اور خود کے لیے جو محبت تھی وہ یاد آتا۔ وہ جب بھی کبھی ہمت کرتا کہ پاکستان جا کر سب سے معافی مانگ لے تبھی علیزے کی روتی آنکھیں اسکے سامنے آتیں وہی اسکی ہمت ٹوٹ جاتی۔

*************************************

حال:

میٹنگ حال میں اس وقت سبھی لوگ بیٹھے ہوۓ تھے۔ وقار اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر سامنے آیا۔ میٹنگ روم میں عثمان، معاز علینہ موجود تھے علیزے نہیں آئی تھی۔

“ہمارے پاس ڈیزائنر ہیں، ابھی تک تو اس پر کام بھی شروع ہو چکا ہو گا؟ مس علینہ کتنا کام ہو گیا ہے بریفنگ دیں” وقار نے علینہ کو کہا۔ وہ ایک دم بھوکھلائی۔

“سوری فل حال اتنا زیادہ تو نہیں ہوا بس ڈریسز کا مٹریل ہی تیار ہوا ہے” وہ کھڑی ہو کر بولی۔

“واٹ، اتنے دنوں میں صرف اتنا سا کام، واؤ مطلب یہاں پر کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہی نہیں، اگر اتنے دنوں مین صرف مٹریل تیار ہوا ہے تو دو ہفتوں میں کیسے برائیڈل کلیشن مارکیٹ میں آئے گی” وقار اسکی بات سن ایک دم بھڑکا تھا۔

“وقار اپنا یہ امریکہ والا روب وہی رکھو یہاں میرے ورکرز سے کوئی اسطرح سے بات نہیں کر سکتا، اور تم اسطرح بی ہیو مت کرو جیسے تم اس کمپنی کے مالک ہو اور ہم سب نوکر ،ایک ڈیزائن دے کر تم ہم پر احسان نہیں کر رہے” عثمان اسکے انداز پر ایک دم بھڑکا۔ وقار کو اسکے الفاظ برے لگے۔

“میں یہاں کسی چیز پر قبضہ کرنے نہیں آیا، اور نا ہی کوئی احسان جتا رہا ہوں، جو کام مجھے آغا جی نے دیا ہے وہی پورا کرنے آیا ہوں، اور اپنے کام کو کیسے کیا جاتا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں، فکر مت کرو کمپنی تمہاری ہی رہے گی، دو ہفتوں بعد چلا جاؤں گا” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“ہم ٹائم ٹیبل بنا کر کام شروع کریں گے، کام زیادہ ہے اور وقت بہت کم، تو دیر رات تک کام کرنا پڑے گا، اس فائل میں ڈیزائنز کی چھوٹی چھوٹی باریکی لکھی ہوئی ہے، بجٹ، مٹریل سبھی مینشن ہے” وقار نے ہاتھ میں پکڑی فائل سامنے رکھی۔

“تو کام شروع کریں، آئی ہوپ سب اس میں اپنا ہنڈرڈ پرسنٹ دیں گے” وقار نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔ سبھی نے ہاں میں سر ہلایا۔ میٹنگ اینڈ ہو گئی، سبھی میٹنگ روم سے ایک ایک کر کے چلے گے۔ وقار اپنے کمرے میں آیا۔ اور کام کرنے لگا۔

عثمان گھر جلدی چلا گیا، کیونکہ عمر کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا۔ باہر اندھیرا گہرا ہو رہا تھا، وہ اپنا کام ختم کر کے اپنے ڈیکس سے کھڑی ہوئی۔ تقریباً سارا سٹاف چلا گیا تھا، عثمان تو چلا گیا تھا اب وہ گھر کیسے جاۓ۔

“علیزے کیا ہوا؟” معاز اپنے روم سے نکلتا اسکو یوں اکیلے کھڑے دیکھ اس تک ایا۔

“وہ اصل میں عثمان بھائی چلے گے میں ڈرائیور کو بُلانا بھول گئی” وہ موبائل پر ڈرائیور کا نمبر ڈائل کرتے ہوۓ بولی۔

” اس میں کون سی بری بات ہے میں چھوڑ دیتا ہوں” معاز فوراَ بولا۔

“ارے نہیں تمہیں پریشانی ہو گی” علیزے نفی مین سر ہلاتے ہوۓ بولی۔

“پریشانی والی کیا بات ہے چلو میں چھوڑ دیتا ہوں اجنبی تھوڑی ہوں” معاز اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔ علیزے نا چاہتے ہوۓ بھی اسکے ساتھ نیچے پارگنگ میں آئی، معاز نے اپنی گاڑی نکالی اور علیزے کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔ وہ ہچکچاتے ہوۓ اندر بیٹھنے لگی۔ جب کسے نے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اسے دوبارہ بند کیا۔ علیزے نےسائیڈ پر دیکھا تو وقار کھڑا تھا۔

“میں چھوڑ دوں گا گاڑی میں جا کر بیٹھو” وہ سنجیدگی سے بولا پر چہرے کے تاثرات سخت تھے۔ معاز اسکے انداز پر اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔

“معاز چھوڑ دے گا،اپکو تقلیف اُٹھانے کی ضرورت نہیں” علیزے نے ہلکے سے غصے میں کہا اور دروازہ دبارہ کھولا۔

“ایک دفع سمجھ نہیں آتی بولا نا گاڑی میں بیٹھو” ابکی بار اسکی آواز میں واضع غصہ تھا۔ علیزے پاؤں پٹختی جا کر اسکی گاڑی میں پیچھے بیٹھ گی۔

“آئندہ میری بیوی کے آس پاس بھی دیکھائی نا دینا، ورنہ ٹانگین توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گا تم ابھی مجھے جانتے نہیں” وقار معاز کی طرف آتا اسے سخت لہجے میں وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔

“ہنہہہ تمہاری اتنی اوقات نہیں، جو میری ٹانگیں توڑ پاؤ، اور جسکو تم بیوی بول رہے ہو یاد رکھنا ایک دن بیوی کے حق سے اسے اسی گاڑی میں بیٹھا کر تیرے سامنے لے جاؤں گا” معاز بھی اسی کے انداز میں جواب دیتے ہوۓ بولا۔

“تو ابھی بچہ ہے، اتنی لمبی لمبی مت چھوڑ، وہ وقار ہاشم کی بیوی ہے اسکی طرف آنکھ بھی اُٹھاۓ گا نا تو وقار ہاشم خود میں اتنی ہمت رکھتا ہے وہی تیری آنکھ پھوڑ دے گا تو بہتر ہے یہ گھٹیا خیال دل سے نکال دے” وقار اسکے کندھے پر تھپکی دیتے سرد انداز میں بولا۔ اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ معاز اپنا غصہ کنٹرول کرتا اپنی گاڑی کو لیے وہاں سے چلا گیا۔
جاری ہے