Jazaye Ishq By Fatima Tariq Readelle50125 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
“وقار وقار اپ ٹھیک تو ہیں نا” وہ اسکے چہرے کو تھپتھپاتے ہوۓ بولی۔ وقار نے بامشکل انکھیں کھولی
“وقار” اشرف، طلحہ اور اشرف صاحب اسکی طرف آۓ۔
“اااایییمم سسسوررری عععلیییزےےے، مجھےےےے مممععرااااف کککککر دیییننننا” وہ لڑکھڑاتے ہوۓ اپنے الفاظ ادا کر رہا تھا۔اور اپنے کانپتے ہاتھ اسکی گال کو لگایا۔
” ایسا مت بولیں میں میں بالکل ناراض نہیں ہوں۔ آپکو کچھ نہیں ہو گا” علیزے روتے ہوۓ بولی۔ تبھی وقار کا ہاتھ بے جان سا ہوتا زمین پر گرا اور اسکی انکھی۔ بند ہو گئیں۔
“ہسپتال لے کر چلتے ہیں جلدی” اشرف صاحب بولے۔ طلحہ صاحب نے گاڑی وہان لائی۔ اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا۔ علیزے نے اسکا چہرا اپنی گود میں رکھا۔ طلحہ صاحب نے گاڑی کی سپیڈ حد سے زیادہ تیز کر دی۔ علیزے مسلسل ایات پڑھ رہی تھی۔
اسے معلوم تھا وقار آج بنٹی سے ملنے جانے والا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ اسے ساتھ لے کر ہرگز نہیں جاۓ گا۔ اسنے اسکا پیچھا کیا۔ اسکی لوکیشن اسے بھی شو ہو رہی تھی۔ جہاں وہ ان ادمیوں سے ملا وہ اسکے تھوڑے فاصلے پر تھی۔ جب انہوں نے موبایل لے لیا اور جیب مین بیٹھا کر لے گے علیزے نے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کر کے انکے پیچھے گاڑی لگا دی۔ کافی فاصلے پر وہ اپنی گاڑی سے نکلی۔ اور درختوں کے پیچھے چھپتے وہ انکی جگہ پر پہنچی۔ جب اسکی نظر وقار کو مارتے بنٹی پر پڑی۔وہ اگے بڑھنے لگی پر رک گئی۔ بنٹی طلحہ صاحب کو فون ملا رہا تحا۔ علیزے کو سمجھ نا ایا کیا کرے بہت سوچ کر پہلے اسنے اپنا موبائل سائنلٹ پر کیا۔ اور پھر ایس پی کو کال ملا کر انہیں لوکیشن بتائی۔ اور آہستہ آہستہ چھپتے چھپاتے۔ وقار کے پاس پہنچی۔ وہ موقع دیکھ رہی تھی بنٹی مصروف ہو تو وقار کے ہاتھ کھول سکے ۔۔
وقار کو ایمرجنسی روم میں کے جایا گیا۔ اشرف صاحب نے گھر کال کر کے سب بتا دیا تھا۔ علیزے روے جا رہی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں قیمض چہرے اور دوپٹے پر لگے خون کو دیکھے مزید رو رہی تھی۔ آدھے گھنٹے بعد داکٹر باہر نکلا۔ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
“جی پیشٹ بالکل ٹھیک ہے، کسی قسم کی ٹینشن کی بات نہیں، ہم نے انہیں روم مین شفٹ کر دیا ہے اپ مل سکتے ہیں چوٹیں بہت زیادہ لگی ہیں، ہم نے نیند کا انجکشن لگا دیا ہے تین چار گھنٹے بعد وہ ہوش میں آجاۓ گا، اسکے بعد آپ گھر لے جا سکتے ہیں” ڈاکٹر بول کر چلا گیا۔ وہ سب اسکے کمرے میں آۓ۔ جہاں وہ بیڈ پر لیٹا تھا، اسکے ماتھے پر سفید پٹی لگی تھی دونوں بازوں پر بھی پٹی تھی۔ ہونٹ کا کنارہ پٹھا ہوا تھا۔ ایک انکھ پر نیل کا نشان تھا۔ جسم کے کافی حصوں پر سکن چھل گئی تھی۔
“میرا بچہ” ہاشم صاحب نے اسکے ماتھے کو چومتے ہوۓ بولا۔ سبھی کی آنکھیں نم سی تھیں۔ علیزے سے مزید اسکا حال دیکھا نا گیا وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔
تین گھنٹے بعد اسے ہوش آیا۔ ۔ اشرف صاحب اور ہاشم صاحب اسے کافی ڈانٹ چکے تھے۔ اور وہ سر جھکاے سن رہا تھا۔ علیزے کمرے کے ایک کونے میں سر جھکاۓ اپنے ناخنوں سے ہاتھ پر لائینر بنا رہی تھی۔ وقار کی نظر اسکی طرف گئی۔ ابھی تک وہ اسی حلیے میں تھی۔ انہیں ڈسچارج مل چکا تھا۔ اسکے زیادہ فورس کرنے پر وہ اسے لیے اسکے گھر آۓ وہ حشمت ولا نہیں جانا چاہتا تھا۔ اسے اسکے کمرے میں لٹادیا۔ ماجدہ بیگم شگفتہ بیگم حشمت صاحب شہیر کے ساتھ وہاں آگے۔ وہ سب اسکے کمرے میں بیٹھے اسے ڈانٹ رہے تھے۔ زینب اسکے سینے سے لگ کر بیٹھی ہوئی تھی۔
“اف امی اب چپ کر بھی جائیں بالکل ٹھیک ہوں” عاجدہ بیگم جب سے آئیں تھیں مسلسل روۓ جا رہی تھیں۔
“ہاشم میں آپکو بتا رہی ہوں کل ہی صدقے کے بکرے دیں، جب سے میرا بچہ واپس ایا ہے بار بار مصیبت میں پڑ رہا ہے” عاجدہ بیگم اپنا چہرے صاف کرتے ہوۓ بولیں
“جو حکم بیگم” ہاشم صاحب مسکر اکر بولے۔ وقار کی نظر طلحہ صاحب پر پڑی جو گم سم چہرہ جھاۓ کرسی پر بیٹھے ہوۓ تھے۔
“چاچو، کیا ہوا پریشان کیوں ہیں” وقار نے انہیں اداس دیکھا تو بولا
“میری وجہ سے تم مصیبت میں پڑ گی، میری ہی غلطی ہے نا میں اتنا برا قدم اُٹھا نا تم اس مصیبت مین پڑتے” وہ چہرہ جھکا کر بولے۔
“چاچو مین ٹھیک ہوں، آپ فکر مت کریں غلطیاں تو ہر انسان سے ہو جاتی ہیں، اچھی بات ہے آپکو اپنی غلطی کا احساس ہے، اگر مجھ سے وہ سب ہوا ہوتا تو کیا آپ میرا ساتھ نہیں دیتے، مجھے برا سمجھ کر بس غصہ نکالتے” وقار نے بہت سوچ کر جواب دیا۔وہ جانتا تھا سبھی طلحہ چچا سے ناراض ہیں۔وہ انکی ناراضگی دور کرنا چاہتا تحا۔ طلحہ صاحب کچھ نا بولے۔ تبھی دروازہ کھول کر عروج آیان فائرہ بیگم، اندر آئیں۔
“بھائی” وہ روتے ہوۓ وقار کے گلے لگی۔
“لو جی یہاں تو سبکی ٹینکی کھلی ہوئی ہے ٹھیک ہوں میں” وقار ہنس کر بولا۔ سبھی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔ وقار نے ایان کو پکڑ کر سینے سے لگایا۔ رات گیارہ بجے تک وہ سب وہی بیٹھے رہے۔ علیزے ایک منٹ بھی اسکے سامنے نا آئی وہ کب سے اسکی شکل دیکھنے کا انتظار کر رہا تھا سبھی اس سے مل کر گھر جانے کے لیے نیچے آۓ۔ علیزے جو کہ کیچن میں شگفتہ بیگم کے ساتھ چکن سوپ بنا رہی تھی۔ وہ ان سبکو جاتا دیکھ اوپر آیان کو لینے کے لیے جانے لگی۔
“علیزے رکو” تبھی عابدہ بیگم نے اسے روکا۔ وہ انکی طرف پلٹی
“جی چچی”
“وقار کو بہت زخم آے ہیں ٹھیک سے چلا بھی نہیں جا رہا ہم سب تو گھر جا رہے ہیں، اسنے ابھی کھانا کھا کر دوائی بھی لینی ہے، تم یہی رُکو اسے تمہاری ضرورت ہے آیان زینب کے کمرے میں سویا ہوا ہے” عابدہ بیگم نے اسے بولا۔
“لیکن چچی میں کیسے اپ رک جائیں” وہ انکی بات سے انکار کرتےہوۓ بولی۔
“میں رک جاتی پر تم تو جانتی ہو تمہارے چچا کو صبح وقت پر انسولین لگانی ہوتی ہے، انکے ناشتے اور دوائیوں کا سارا دھیان میں ہی رکھتی ہوں” عابدہ بیگم نے فوراً بہانا بنایا۔ وہ جان بوجھ کر اسے یہاں رکنا چاہتی تھی۔
“لیکن بھائی” علیزے خود بھی جانا نہیں چاہتی تھی، اسے عثمان کا ڈر بھی تھا۔
“اس سر پھرے کی فکر مت کرو میں ہوں کچھ نہیں بولے گا اور وقار تمہارا شوہر ہے اسے تمہاری ضرورت ہے۔ یہی رہو چلیں بھابھی” فائرہ بیگم نے درمیان میں آکر بولیں۔ علیزے کچھ بول نا پائی۔وہ چلی گئیں۔ مریم بی اپنے کمرے میں سوئی ہوئیں تھیں۔ علیزے نے حال کا دروازہ لاک کیا اور کیچن میں آئی سوپ بن چکا تھا۔ اسنے باؤل میں سوپ ڈالا پانی کا جگ گلاس، سوپ کا باؤل ٹرے مین رکھتی وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ ہمت کر کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ جہاں انکھیں بند کیے سامنے بیڈ سے ٹیک لگاۓ وقار بیٹھا ہوا تھا۔ وہ چلتی ہوئی اسکے قریب آئی اور ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔ شور کی وجہ سے وقار نے آنکھیں کھولیں۔ اپنے سامنے علیزے کو دیکھ کر وہ حیران ہو گیا۔ اسے لگا وہ بھی چلی گئی۔
“تم گئی نہیں؟” وہ ہولے سے بولا۔
“چچی نے بولا یہی رہوں آپ نے کچھ کھایا نہیں تو سوپ بنایا ہے پی لیں پھر دوائی کھلانی ہے” اسنے باؤل پکڑا اور وقار کی طرف بڑھایا۔
“میرے ہاتھ میں لگی ہے چمچ اُٹھایا نہیں جاۓ گا” وہ معصوم سا چہرہ بناتے ہوۓ بولا۔ علیزے نے اسکی طرف دیکھا، وقار نے ہلکا سا دوسری طرف کھسکتے اسکے لیے جگہ بنائی وہ وہاں بیٹھ گئی۔ اور سوپ پلانے لگی۔
“وہاں کیوں آئی تھی؟” وہ سوپ کو چمچ میں بھر رہی تھی، جب اسکی طرف مسلسل دیکھتے وقار نے سوال کیا۔
“اتنے خطرناک لوگوں کے درمیان آپکو یوں منہ اُٹھا کر نہیں جانا چاہیے تھا، اگر میں وقت پر نا آتی تو اس وقت بھی آپ وہی بندھے ہوتے” وہ تھوڑے غصے میں بولی۔
“مجھے پتہ نہیں تھا، میری بیوی اتنی بہادر ہے، مجھے تو لگا کمزور ، اور ڈرپوک سی ہو، پر تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا” وہ اسکے چہرے پر آۓ بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔ اسکی حرکت پر اسکا دل بے اختیار دھڑکا۔ اسنے باؤل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
“دوائی کھا لیں” اگے بڑھ کر اسنے دوائی پکڑ اور نکال کر وقار کی طرف بڑھائی اسنے خاموشی سے پکڑ کر کھا لی۔
“تم نے کپڑے تبدیل نہیں کیے” اسے ابھی تک خون آلود کپڑوں میں ملبوس دیکھتے وقار بول پڑا۔
“ہاں میں سیدھی یہی آ گئی اسی لیے” وہ اپنے ڈوپٹے اور کپڑوں پر نظر آتے خون کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
“الماری میں کپڑے ہیں پہن لو” وقار نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا علیزے حیران ہوئی اب کیا وہ اسکے کپڑے پہنے گئی۔
“نہیں میں صحیح ہوں، صبح گھر جا کر چینج کر لوں گی” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ اور اُٹھ کر جانے لگی۔ جب وقار نے اسکا ہاتھ پکڑا۔
“جاؤ چینج کر لو” نا چاہتے ہوۓ بھہ علیزے کو وہاں جانا پڑا۔ اسنے الماری کھولی، تو حیرت سے اسکا منہ کھل گیا۔ سامنے ایک طرف وقار کے کپڑے تھے تو دوسری طرف رنگ رنگے اسکے کپڑے ہینگ کیے ہوۓ تھے۔ اسنے وقار کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ ہلکا سا مسکرایا۔ اسنے دوبارہ کپڑوں کا دیکھا اور اس میں بلیک قمیض شلوار نکال کر اٹیچ واشروم میں چلی گئی۔ آدھے گھنٹے بعد وہ فریش ہو کر باہر نکلی، گیلے بالوں کو تولیے سے آزاد کرتی۔ اسکی نظر وقار پر پڑی۔ جو کہ بالکنی میں کھڑا تھا۔ اسنے تولیہ سائیڈ پر رکھا اور خود بالکنی میں آئی۔
“آپ کے زخم ابھی تک صحیح نہیں ہوۓ، اور یوں کھڑے ہو کر کیا کر رہے ہیں” وہ غصے سے بول رہی تھی۔ وقار اسکی اواز سن کر پلٹا۔ سامنے اسے بلیک قمیض شلوار، گلے میں ڈوپٹہ ڈالے، غصے سے بھرا چہرہ دیکھا۔۔
“مزہ آتا ہے، پتہ جب جسم کے درد سے زیادہ ضمیر کا درد تقلیف دے، تب جسم کا درد کہی نا کہی تھوڑا سا سکون پہنچاتا ہے ابھی وہی سکون لے رہا ہوں” وہ بالکنی کی دیوار پر ہاتھ رکھے سر اوپر تاروں سے بھرے آسمان کی طرف کرتا ہولے سے بولا تھا۔ اسکے لہجے میں چھپا درد اسے محسوس ہوا۔
“اچھی بات ہے کم از کم ضمیر تو ملامت کرتا ہے” وہ دونوں ہاتھ باندھے سامنے دیکھتے ہوۓ بولی۔ اسکے الفاظ پر وقار نے اسکی طرف پلٹ کر دیکھا۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ جب وہ کچھ نا بولا تو علیزے نے اسکی طرف دیکھا۔ تبھی اسنے وہ حرکت کی جسکی علیزے کو توقع نہیں تھی۔ وہ اسکے سامنے زمین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھا۔
“وقار یہ کیا کر رہے ہیں اُٹھیں” وہ فوراً بولی۔
“پلیز بولنے دو، ویسے بھی ایک ہفتے بعد ایک مہینے کا وقت ختم ہو رہا ہے، جانتا ہوں تم نے ابھی تک اپنا ارادہ نہیں بدلا، میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا مجھے تمہیں سب بتا دینا چاہیے تھا، کوئی بات چھپانی نہیں چاہیے تھی، میں نے شادی پاپا کی زبردستی کی وجہ سے کی تھی۔ پر میرا خدا گواہ ہے علیزے جس وقت تمہیں اپنے نکاح میں لیا اسی وقت تمہیں اپنے دل میں جگہ دے دی، میں نے اسی وقت خود سے وعدہ کیا تھا۔ تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کروں گا۔ تمہیں وہ سب دوں گا جسکی تم حق دار ہو، پر جانتا نہیں تھا۔ نا انصافی تو کر چکا ہوں جھوٹ بول کر اپنی شادی اور بچی چھپا کر” وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا نم لہجے میں بول رہا تھا۔ اور سامنے کھڑی علیزے دم سادھے اسے سن رہی تھی
