No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“سر اپکے لیے ضروی کال آئی ہے” وہ اپنے کام میں مگن تھا جب اسکی سیکٹری آفس کا دروازہ ناک کرتی کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔ اسکے ہاتھ میں اسکا موبائل فون تھا۔
” جی مس مناہل کس کی کال ہے؟” وہ مصروف انداز میں سامنے ٹیبل پر پڑی فائل پر سائن کرتے ہوۓ بولا، کام کے وقت وہ اپنا موبائل سائلنٹ پر رکھتا تھا۔
“اپکے دادا حشمت صاحب کی کال ہے” مناہل چلتی ہوئی اسکے ٹیبل کے پاس آ کر بولی اور موبائل کو اسکے سامنے ٹیبل پر رکھا۔
“آغا جان کی کال” اسے اپنے الفاظ کھائی سے آتے ہوۓ محسوس ہوۓ۔ اتنے سالوں بعد انکا فون آیا تھا۔
“یس سر آپ کا موبائل بند تھا تو شہیر صاحب نے میرے موبائل پر کال کی۔ آپ بات کریں میں چلتی ہوں” مناہل بولتی کمرے سے نکل گئی۔ وہ کئی پل موبائل کی سکرین کو دیکھتا رہا، بہت ہمت کر کے اسنے موبائل کو پکڑا اور کال کو ہولڈ سے ہٹا کر موبائل کان سے لگایا۔
” ہیلو۔۔۔آغا جان ” وہ ہکلاتے ہوۓ بولا تھا۔ آج یوں سالوں بعد انکا نام لینا بھی اسے مشکل لگ رہا تھا۔
“تمہارے باپ کو ہارٹ اٹیک آیا ہے، ہسپتال میں بے ہوشی کے عالم میں بھی تمہیں پکار رہا ہے،اگر اپنے باپ کا زرا برابر بھی خیال ہے، تو اس سے ملنے آجاؤ، چاہے اگلے ہی دن چلے جانا” حشمت صاحب کے لہجے میں واضع غصہ تھا، اب یہ غصہ کس بات کا تھا وہ وقار اچھے سے جانتا تھا۔
“ہاٹ اٹیک، آغا جی بابا ٹھیک تو ہیں نا” ہاٹ اٹیک کا سنتے ہی وہ بے چینی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
“ارے واہ میاں بری فکر ہو رہی ہے، پچھلے پانچ سالوں میں ایک دفع فون کر کے اپنے باپ سے بات کرنے کی تمہیں فرصت نہیں ملی اب برے آۓ فکر کرنے والے، ملنا ہے تو آ جاؤ اور دعا کرو اسکی طبعیت سھنمبل جاۓ، ویسے تم جیسی اولاد کی دعائیں کم ہی سنی جاتی ہیں” وہ طنزیہ انداز میں بولتے کال کاٹ گے۔ وقار کئی پل موبائل کی بند سکرین کو گھورتا رہا، پھر جب ہوش آیا تو سیکٹری کو بلوایا۔
“مس مناہل ارجنٹ پاکستان کی دو ٹیکٹس کروائیں، جو بھی پہلی فرصت میں ملے، اور احد کو بلوائیں” وہ کرسی کے پیچھے لٹکا کوٹ پکڑ کر پہنتے ہوۓبولا۔ ساتھ ہی اس نے کسی کو کال ملائی۔
“یس سر” مناہل جلدی سے بولی اور آفس سے نکل گئی۔ جاتے ہی اس نے سب سے پہلے احد کو اسکے کمرے میں بھیجا اور ٹیکٹس بک کرنے لگی۔
“وقار کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟ ” احد کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولا۔ سامنے وقار پریشانی کے عالم میں چکر لگا رہا تھا۔ ساتھ کسی کو موبائل پر انسٹریکشن دے رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اسنے موبائل بند کیا۔
“کچھ ٹھیک نہیں بابا کو ہاٹ اٹیک آیا ہے، مجھے جلد پاکستان جانا پڑے گا” وہ بولا تو احد کو اسکی آواز میں واضع نمی محسوس ہوئی، وہ بنا کچھ کہے اگے بڑھا اور اپنے جان سے عزیز دوست کو گلے سے لگایا۔
“انشااللہ انکل کو کچھ نہیں ہو گا، تم فکر مت کرو” وہ اسکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوۓ دلاسہ دینے والے انداز میں بولا، وقار نے صرف ہاں میں سر ہلایا۔
“ابھی میں ایئرپورٹ جا رہا ہوں کچھ دیر میں پاکستان کے لیے نکلوں گا” وہ اپنی گیلی آنکھوں کو انگلی کے کنارے سے صاف کرتے ہوۓ بولا۔
” زینی کا کیا کرے گا اسے بھی ساتھ لے کر جاۓ گا؟” احد نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
“ہاں اسے یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا وہ پریشان ہو جاۓ گی” وقار نے بولتے ہوۓ ٹیبل سےاپنی کار کی چابیاں پکڑیں۔
“تم فکر مت کرنا انشااللہ سب ٹھیک ہو گا، اگر کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی تو کال کرنا، میں چھوڑنے آؤں؟” احد نے پوچھا۔
“نہیں ایرپورٹ تک ڈرائیور چھوڑ دے گا، تم آفس کو اچھے سے مینج کر لینا، اگر یہاں کوئی مسلہ ہوا تو بتانا میں چلتا ہوں” وہ اپنے موبائل پر کسی کو میسج کرتے ہوۓ بولا۔اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
“سر اپکی فلائیٹ سات بجے کی ہوئی ہے ایک گھنٹے میں اپکو ایرپورٹ پہنچنا ہے بہت مشکل سے سیٹس ملیں، اگلی فلائلیٹ کل صبح ملے گی تو اپکو فوراً ایرپورٹ جانا ہو گا” مناہل جلدی جلدی وقار کو سب بتا رہی تھی وہ ہاں سر ہلاتا لفٹ کی طرف بڑھا۔
گاڑی کو اسنے ایرپورٹ کی طرف برھایا، آدھے گھنٹے میں وہ ایرپورٹ پینچ گیا تھا۔ وہ پارگنگ میں کھڑا زینب کا انتظار کر رہا تھا۔ تبھی اسے وہ گاڑی سے نکلتی ہوئی دیکھائی دی۔
بلو جینز پر بلیک ٹی شرٹ پہنے، بالوں کو پونی میں قید کیے، ہاتھ میں چھوٹا سا ٹیڈی بیر پکڑے جو کہ اسکا فیورٹ تھا اور چھوٹا سا باربی بیگ پہنے وہ وقار کی طرف بڑھی۔
“ڈیڈ ہم پاکستان جا رہے ہیں؟” وہ بھاگ کر اسکے پاس آتے ہوۓ اشتعاق سے بولی، امریکہ میں رہنے کے باوجود وہ اُردو اچھے سے بول لیتی تھی کیونکہ وقار گھر میں اسکے ساتھ اُردو میں ہی بات کرتا تھا۔
“یس مائی پرنسس” وہ اسکو گود میں اُٹھاتے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔ وہ کافی ایکسائیٹڈ ہو گئی۔
“مریم بی آپ اپنا اور گھر کا اچھے سے خیال رکھیے گا ہم جلد لوٹیں گے ” وہ پاس کھڑی مریم بی سے بولا۔ جنہوں نے ہاں میں سر ہلایا۔
وہ زینب کو لیے ایرپورٹ کے اندر چلا گیا، کچھ ہی دیر میں وہ جہاز میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ جہاں جہاز اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے لیے ہواؤں میں اُڑ رہا تھا۔ آج سالوں بعد وہ اپنے وطن جا رہا تھا کچھ سال قبل جب وہ امریکہ واپس آیا تھا تو وہ کافی پریشانی میں تھا، اور آج۔۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ کیا ہم آغا جان سے بھی ملیں گے، اور رامین، روحی اور عروج پھپھو سے بھی” زنیب ایکسائیٹڈ ہو کر بول رہی تھی۔ وقار اسے سب کے بارے میں بتاتا تھا۔وہ نا ملتے ہوۓ بھی سب کو جانتی تھی۔ اسنے سب کی تصویریں بھی دیکھیں ہوئیں تھیں۔ وہ ہمیشہ ان سے ملنے کی ضد کرتی پر وقار اسے سمجھا بھجا دیتا، اور آج یوں وہ سب سے ملنے والی تھی یہی سوچ کر وہ کافی ایکسائیٹڈ ہو رہی تھی۔
“ہاں میری پرنسس سب سے ملیں گے” وقار اسکے بال سہلاتے ہوۓ بولا، وہ پریشان بھی تھا وہاں سب کا رویہ کیسا ہو گا۔ کہی چھوٹی سی زینب کا دل نا ٹوٹ جاۓ۔
“بہت مزہ آۓ گا” وہ اپنے چھوٹے سے بیگ کو کھولتے ہوۓ اس میں سے ایک چاکیلٹ نکال کر کھانے لگی، وقار اسے دیکھ کر مسکرایا۔
“اللہ میرے بابا کی حفاظت کرنا انہیں کچھ نا ہو” وہ کھڑی سے باہر دیکھتے ہوۓ دل ہی دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوا۔
صبح آٹھ بجے کے قریب جہاز ایرپورٹ پر لینڈ ہوا، وہ سامان اور زینب کو لیے ایرپورٹ کے باہر آیا۔ ادھر اُدھر نظریں دورائیں پر کوئی جانا پہنچانا چہرہ نظر نا آیا وہ تھوڑا مایوس ہوا۔
“وقار بھائی ” تبھی اسے دائیں طرف سے ایک اواز آئی اسنے رخ موڑ کر دیکھا تو سامنے شہیر کھڑا تھا۔
“شہیر ” وہ ہلکی سی آواز میں بولا شہیر بھاگتا ہوا اسکے گلے لگا۔ اور رونے لگا، وقار کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔
“شہیر بابا تو ٹھیک ہیں نا؟” وہ بولا تو اسکی آواز میں واضع خوف تھا۔
“ہمم وہ اب خطرے سے باہر ہیں، بار بار آپکا نام پکار رہے تھے، اسی لیے ہم سب کے فورس کرنے پر آغا جی نے کال کی”وہ اپنی آنکھیں پونچھتے ہوۓ بولا۔
” تو پھر رو کیوں رہا ہے” وقار اسکے بال جو کہ ماتھے پر بکھرے ہوۓ تھے اسے ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔ وہ اسکے چچا کا بیٹا تھا پر بھائی سے بھی زیادہ عزیز تھا، وہ دونوں بہت کلوز تھے۔ ان سالوں میں اگر پاکستان سے اسکا تعلق تھا تو وہ بس شہیر کی وجہ سے تھا وہ ہی اسے یہاں کی ساری خبریں دیتا۔ اور گھر میں کسی کو اسکے بارے میں کچھ معلوم نا تھا۔ باقی سب پر تو اس سے بات کرنے پر پابندی لگی ہوئی تھی۔
“اتنے سالوں بعد آ پکو دیکھا، تو رونا آ گیا” وہ معصوم سا چہرا بنا کر بولا، وقار کو اس پر پیار سا آیا، وہ اس وقت بالکل بھی شرارتی نہیں لگ رہا تھا۔ ورنہ وہ سب کی ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔ وقار اسکی بات پر ہلکا سا ہنسا۔
“شہیر چاچو یہاں پر میں بھی ہوں” وہ دونوں آپس میں باتیں کرتے پاس کھڑی زینب کو بھول ہی گے تھے۔ تبھی خود کو یوں اگنور ہوتے پا کر وہ اپنے ماتھے پر بل ڈالے غصے سے بولی۔
“اوو میں تو بھول ہی گیا، میری گولو مولو گڑیا بھی آئی ہے” شہیر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے پھولے ہوۓ گالوں کو کھینچتے ہوۓ بولا۔ وقار ہلکا سا مسکرایا۔ ہلکی سی شیو میں اسکے چہرے پر مسکراہٹ دل کو چرانے کا کام کر سکتی تھی۔
“آہ گندھے چاچو” اسکی حرکت پر زینب زور سے چیختے ہوے بولی، شہیر کا قہقہ بلند ہوا اسنے اگے بڑھ کر زینب کو اُٹھایا۔
“چلیں بھائی گاڑی اس طرف ہے” وہ ایک طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔ دونوں گاڑی کی طرف بڑھے، چلتے ہوۓ مسلسل زینب سے باتیں کر رہا تھا۔ کچھ دیر میں وہ گاڑی میں بیٹھے ہسپتال کی طرف روانہ ہوۓ۔
گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی۔ اور وقار شیشے سے باہر دورتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔
“تم جیسی اولاد ہونے سے تو بہتر ہے، میں بے اولاد ہوتی”
“تمہیں ذرا شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوۓ”
“وقار میری دعا ہے تم مر جاؤ، میری عزت کو دو کوڑی کا کر دیا”
ایسے کئی جملے اسکے کانوں میں گھونج رہے تھے۔ وہ خود میں ہمت پیدا کر رہا تھا کیسے سب کو فیس کرے، پر آج لگ رہا تھا جیسے وہ سب کے سامنے نظریں نہیں اُٹھا پاۓ گا۔۔۔۔۔ان سوچوں کے بھور سے وہ تب نکلا جب گاڑی ہسپتال کے سامنے رکی، جہاں اندر کمرے میں اسکے والد تھے۔
“چلیں بھائی” شہیر نے اسکی طرف دیکھ کر کہا، وہ جانتا تھا اسکے لیے یہ سب کتنا مشکل ہے۔ پر اب تو اسے یہ سب فیس کرنا ہی پڑے گا۔
“ہممم چلو” وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
“چاچو ہم یہاں کس سے ملنے جا رہے ہیں؟ ہم گھر نہیں جا رہے مجھے باقی سب سے ملنا ہے” زینب ہسپتال کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ وہ تو سوچ رہی تھی کہ گھر جانا ہے سب سے ملنا ہے۔
” گڑیا پہلے اندر چلتے ہیں اسکے بعد گھر جائیں گے” شہیر اسکا ہاتھ پکڑتے اگے بڑھا وقار اپنے اپ میں ہمت پیدا کرتے شہیر کے ساتھ چلتا ہوا ہسپتال میں داخل ہوا، سامنے کوریڈول تقریباً خالی تھا۔ شہیر اسے لیے اس کمرے میں پاس آیا جہاں ہاشم صاحب ایڈمٹ تھے۔ وہ کچھ پل کے لیے دروازے کے باہر رکا۔ پھر دروازے کو کھولا۔ سامنے بیڈ پر ہاشم صاحب آنکھیں موندھے لیٹے ہوۓ تھے، پاس کرسی پر اشرف تایا بیٹھ ہوۓ تھے، کمرے کی دوسری طرف آغا جان اور طلحہ چچا کرسیوں پر بیٹھے ہوۓ تھے۔
جاری ہے۔
