Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“عثمان یہ کیا کر رہے ہو؟” وقار نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرنا چاہا۔ جب اسکا ایک تھپر اسکی گال پر پڑا۔

“تم۔۔۔ میرا دل تو کر رہا ہے ابھی دھکے دے کر نکال دوں، تم میں زرا شرم تو ہے نہیں، منہ اُٹھا کر واپس آ گے، اور مزے کی بات ساتھ میں اپنی بچی لے آۓ، لو دیکھو سب اسکی ماں کی وجہ سے میں نے تم سب کو پورے خاندان کے سامنے زلیل کر کے رکھ دیا تھا، بے شرم” عثمان نے غصے میں اپنے اندر کا عُبار نکالا۔

“اگر میں تمہاری عزت کر رہا ہوں تو اچھا ہو گا تم بھی اپنی حدیں مت بھولیں یہ بار بار ہاتھ اُٹھانا مجھے میری حدود سے باہر نکلنے پر اُکسا رہا ہے، اور میری بیٹی کو اس سب میں مت گھسیٹ ” وقار کا بھی اب ضبط جواب دے گیا۔ وہ اپنا غصہ بامشکل ضبط کرتےہوۓ۔

“اُو واہ واہ بھائی صاحب کے تو اچھے خاصے پر نکل آۓ ہیں، اور تمہاری حدود کون سی ہیں؟ ساری حدودیں تم پہلے ہی پار کر چکے ہو اور بہت اچھے سے پار کی ہیں انکے زخم آج تک ڈھو رہے ہیں۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے ہمم ہاتھ اُٹھانا چاہتے ہو، اُٹھاؤ” عثمان اسکو دو تین بار ہلکا ہلکا دھکہ دیتے ہوۓ بولا۔ وقار نے کوشش کی اپنا غصہ دباۓ رکھے۔

“عثمان بس بہت ہوا تم نے گھر کو لڑائی کا میدان سمجھ لیا ہے” فائزہ بیگم جو کہ کیچن میں تھیں باہر شور سنا تو فوراً باہر آئیں، انہوں نے عثمان کو تھپڑ مارتے دیکھا۔

“جب اپنوں کی شکل میں پیٹھ پر چھڑا گھوپنے والے پالیں ہوں، تو گھر تو لڑائی کا میدان بن ہی جاتا ہے” وہ وقار کو دیکھتا بھر پور طنز مارتا وہاں سے نکل گیا۔ وقار نے اس جگہ سے جانا ہی مناسب سمجھا۔ شہیر صوفے پر بیٹھا۔ اسکی انکھوں سے انسوں نکل رہے تھے۔ علیزے اسکے پاس آکر بیٹھی۔

“تم ٹھیک ہو؟عثمان بھائی نے زیادہ زور سے مار دیا؟” وہ اسکے لیے فکر مند ہو رہی تھی۔

“نہیں! مجھے رونا تو دونوں کی لڑائی دیکھ کر آیا، پہلے کتنے اچھے دوست تھے، اور اب یوں لڑ رہے ہیں” وہ اپنی انکھیں صاف کرتے ہوۓ بولا۔

“اب تو شائد یہ روز دیکھنے کو ملے، تم رو مت، روتے بالکل اچھے نہیں لگ رہے، ہنستے ہوۓ اچھے لگتے ہیں، ویسے آیان کہاں ہے؟” علیزنے نے اسکے بال بگارتے ہوۓ پوچھا۔

“مجھے نہیں پتہ ویسے بھی ہماری کٹی چل رہی ہے” شہیر نے اپنے بال دوبارہ سے صحیح کرتے ہوۓ کہا۔

“اوکے! چلو پھر میں اپنی جان کو ڈھونڈتی ہوں” علیزے ہلکا سا مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف گئی۔

“کرائم پاٹنر! تم ٹھیک ہو نا” عروج کو اب اسکی ٹینشن لگی ہوئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست تھے ایک دوسرے کو چھیرتے اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو چھپاتے بھی تھے۔

“ہممم! عروج تم تو میری کرائیم پاٹنر ہو تو ایک کام کرو گی جو آج اسامنٹ ملا تھا اسے بنا دو، مجھے وقار بھائی کو ماننا بھی ہے۔” وہ چہرے پر انتہا کی معصومیت طاری کرتے ہوۓ بولا۔

“اچھا میں بنا دوں گی پر بدلے میں تمہیں کل میرے ساتھ روحی کی برتھ دے پارٹی پر چلنا پڑے گا” عروج نے بھی اپنا کام نکلوانا چاہا۔

“نہیں یار وہ بہت پکاتی ہے” شہیر نے فوراً انکار کیا۔ پر عروج کے گھونے پر وہ مان گیا کیونکہ وہ جانتا تھا روحی اسکی بہت اچھی دوست ہے پر اسکی خامی بس اتنی سی تھی وہ کافی باتونی تھی۔


کیا ہوا پریشان ہو؟” وقار ہاشم صاحب کے کمرے میں آیا، وہ بیڈ پر بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھے، اسکی تھکے ہوۓ چہرے کو دیکھتے پوچھ بیٹھے۔

“جس باپ کو پانچ سال بعد پتہ چلے اسکا ایک بیٹا ہے، وہ پریشان نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا” وہ جیسے خود پر ہی ہنس رہا تھا۔

“تو تمہیں اس بات سے پریشانی ہے کہ آیان تمہارا بیٹا ہے” ہاشم صاحب نے کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا۔

” پریشانی اس بات کی ہے کہ اتنے سال میں بے خبر رہا” وہ اپنا سر ہاتھوں مین گِرا کر بولا۔

“کیا تم علیزے کو طلاق دینے کے بارے میں سوچ رہے تھے؟ اب پتہ چلا کہ تمہارا بیٹا ہے تو اب تمہیں اسکے لیے دونوں کو اپنانا پڑے گا؟” ہاشم صاحب نے اپنے دل مین آیا سوال فوراً پوچھ لیا۔

“کیسی بات کر رہے ہیں بابا آپ اچھے سے جانتے ہی۔ میں نے اس سے شادی چھوڑنے کے لیے نہیں کی تھی، بس اب جب سوچتا ہوں وہ میری وجہ سے کتنی مشکلوں سے گزری ہے تو خود پر غصہ آتا ہے” وہ اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔

“تو اب کس بات کی پریشانی ہے، اگر تم سب ٹھیک کرنا چاہتے ہو تو کرو میں تمہارے ساتھ ہوں” ہاشم صاحب نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیتے ہوۓ کہا۔

“آپکو یہ سب اتنا آسان لگ رہا ہے، پورا گھر اس وقت میرا دشمن بنا ہوا ہے، سب کا بس چلے ابھی مجھے نکال کر باہر پھینکے، ویسے میں یہ ڈیزو بھی کرتا ہوں، انکی بیٹی کے ساتھ اچھا تو کیا نہیں” وہ گہرا سانس خارج کرتا بولا۔

“اگر ماضی میں اٹکے رہو گے تومستقبل کو بہتر نہیں بنا پاؤ گے، تو میرے یار ہمت کر اور چیزوں کو بہتر کرنے کی تیاری کر، سبھی چیزیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائیں گی” ہاشم صاحب نے ہلکا سا ہنس کر کہا، وقار بھی مسکرا دیا۔ اب اسے بہت اچھے سے معلوم کو چکا تھا اسے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔


حشمت ولا میں حشمت صاحب صاحب کے تین بیٹے اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے ہیں، سب سے برے بیٹے اشرف صاحب جن کی بیگم فائزہ بیگم تھیں، انکے دو بچے عثمان اور علیزے ہیں۔ پانچ سال پہلے عثمان کی شادی رامین سے ہوئی اور انکے دو جڑواں بیٹے عمر اور ہادی ہیں۔ دوسرے نمبر پر ہاشم صاحب جن کی بیگم عابدہ بیگم ہیں۔ انکی تین بیٹیاں عروج،رامین، مشل اور ایک بیٹا وقار ہے ۔ عروج شہیر کی کلاس فیلو ہے، مشل گریجوائیشن کر کے اب فری ہے۔اور وقار کی امریکہ میں کمپنی ہے۔ تیسرے نمبر پر طلحہ صاحب جنکی بیگم شگفتہ بیگم ہیں اور انکے دو بیٹے شہیر اور احمد ہیں۔ شہیر یونی کے اخری سال میں ہے، اور احمد دسویں کلاس میں ہے۔


“دادای جان مجھے بھوک لگی ہے نوڈلز بنا دیں” زینب کیچن میں داخل ہوتے ہوۓ بولی، وہ کافی دیر سے عروج اور مشل کو ڈھونڈ رہی تھی پر وہ کہی نا ملیں تو وہ خود کیچن میں آ گئی۔ جہاں سامنے عابدہ بیگم اور فائزہ بیگم کھانا بنا رہیں تھیں۔

“باہر بیٹھو عروج بنا کر دے دے گی، اور دوبارہ مجھے دادی کہنے کی ضرورت نہیں” عابدہ بیگم کافی روڈ لہجے میں بولیں۔

“پر آپ میری دادی ہیں، ڈیڈ نے بتایا تھا تو میں آپکو دادی کیوں نہیں کہ سکتی؟ آپ میری پیاری سی دادی جان ہو” زینب انکے سامنے آ کر بولی۔ یہ اسکی ہمیشہ سے عادت تھی، وہ بات کی تہ تک جانے کی عادی تھی۔ وہ ریزن جاننے کی ہمیشہ کوشش کرتی۔

“بولا نا ایک دفع بات سمجھ نہیں آتی، میں تمہاری کچھ نہیں لگتی باہر دفع ہو جاؤ” عابدہ بیگم اسکے بار بار دادی کہنے پر چڑتے ہوۓ غصے اور تیز لہجے میں بولیں۔ زینب انکے چلانے پر ایک دم سے پیچھے ہٹی۔

“عابدہ چھوٹی سی بچی ہے ایسے مت بولو” فائزہ بیگم نے انہیں سمجھانا چاہا۔

“بھابھی اسکا چہرہ دیکھتی ہوں تو اسکی منحوس ماں کا چہرہ نظر آ جاتا ہے، اسکی وجہ سے ہمارے گھر میں بے سکونی پھیل گئی” عابدہ بیگم نے نفرت بھری نظروں سے زینب کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ زنیب کافی سہم گئی تھی، وہ مڑ کر کیچن سے نکل گئی۔

“اس سب کا زمہ دار تو وقار ہے نا کہ اسکی امریکہ والی بیوی ” فائزہ بیگم نے تلخ لہجے میں کہا جسے عابدہ بیگم نے بہت اچھے سے محسوس کیا۔ اس ولا میں سب مل جل کر رہتے ہیں عابدہ بیگم کا اپنی دیورانیوں کے ساتھ بہنوں والا تعلق ہے، اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود بھی انہوں نے کبھی عابدہ بیگم سے غلط انداز میں بات نہیں کی، پر وہ ایک ماں تھیں تو اپنی بیٹی کا دکھ انسے بھی دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ تبھی وہ کبھی کبھی کچھ سخت جملے بول دیتیں۔

“یہی تو دکھ ہے کہ وہ میرا بیٹا ہے جسکی میں تربیت بھی ٹھیک سے نہیں کر پائی” عابدہ بیگم نے نم لہجے میں کہا۔


زینب کی اس گھر میں صرف عروج، مشل ہاشم صاحب اور آغا جی سے بات ہوتی تھی، باقی سب اسکو اگنور ہی کرتے تھے، عروج چونکہ آج شہیر کے ساتھ اپنی دوست روحی کی برتھ ڈے پارٹی پر گئی تھی، اور مشل اپنے ہونے والی نند کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھی، ہاشم صاحب آرام کر رہے تھے اور آغا جی پارک میں واک کرنے گے تھے یوں مانو وہ اب کسی سے بات نہیں کر پا رہی تھی، عابدہ بیگم کے غلط رویے پر وہ روتی ہوئی باہر گارڈن کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ اپنا سر گھٹنوں پر دیے وہ رو رہی تھی۔ تبھی ایک گاڑی اندر داخل ہوئی۔ گاڑی سے وقار اور اسکا دوست زبیر نکلا، وقار چار بجے کے قریب اس سے ملنے گیا تھا۔ زبیر اور مشل ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور پندرہ دن تک انکی شادی ہونے والی تھی۔ زبیر نے یہ سب اسے بہت پہلے بتایا تھا۔ وہ دونوں باتیں کرتے اندر جا رہے تھے جب وقار کی نظر زینب پر پڑی۔ اسے روتے دیکھ وہ فوراً اسکی طرف بڑھا۔

“زینب میری جان کیا ہو رو کیوں رہی ہو؟ وقار نے فوراً اسے گود میں لیتے ہوۓ کہا۔ اسکا چہرا پورا بھیگا ہوا تھا۔ وہ بہت زیادہ رو رہی تھی۔

” سبھی باہر چلے گے، میں اکیلی گھر میں تھی، بہت بھوک لگی تھی دادی جان سے نوڈلز بنانے کے لیے کہا تو انہوں نے ڈانٹ دیا” وہ روتے ہوۓ سب بتا رہی تھی۔ وقار کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ بچی جسکے کھانے پینے کی ہر چیز اسکے کمرے میں ہوتی تھی وہ جو بھی کہتی اسی پل اسے مل جاتا،وہ آج بھوکی تھی اور رو رہی تھی۔ وقار اسے گود میں لیے کھڑا ہوا۔

“بس اتنی سی بات ابھی دیکھنا ڈیڈ اپکو چٹکی بجاتے نودلز اور سینڈوچ بنا کر دیتے” وقار اسے کندھے سے لگاۓ کھڑا ہوا اور زبیر کو اشارہ کرتا اندر داخل ہوا۔ جہاں سب نے ڈنر کر لیا تھا پر کسی نے زینب کو بلانے کی زحمت نا کی۔ ٹیوی حال میں شگفتہ، عابدہ اور فائزہ بیگم بیٹھیں ہم ٹیوی کا ڈرامہ دیکھ رہیں تھیں، وقار کا آنا انہوں نے اگنور کیا۔ ہاں زبیر ان سے سلام کو کے انکے پاس ہی بیٹھا باتیں کرنے لگا وہ اس گھر کا ہونے والا داماد تھا۔ وقار ان سب کا رویہ چپ کر کے سہتا ہوا کیچن میں داخل ہو۔ زینب کو شلف پر بیٹھایا اور خود سینڈ وچ بنا۔ کی کوشش کرنے لگا آج تک اسنے انڈا تک نا بنانا تھا تو آج سینڈ وچ کیسے بن جاتے۔

“اوکے فائن آیان صرف آج نوڈلز ملیں گے کل سے اپجو دودھ پینا پڑے گا ڈاکٹر نے خاص بولا ہے اپکو اچھی ڈائیٹ کھانی ہے” تبھی علیزے آیان کو گود میں اُٹھا کیچن میں داخل ہوئی کیونکہ وہ ضد کر رہا تھا کہ نوڈلز ہی کھانے ہیں سبھی جانتے تھے وہ نوڈلز اور پاستا کا کتنا شوقین ہے۔ وہ کیچن میں داخل ہوئی تو اسکی نظر ان دونوں پر پڑی جہاں وقار ہاتھ میں ٹماٹر اور کھیرا لیے اسے کاٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور زینب چپ سی شلف پر بیٹھی تھی اسکے آنے پر وقار نے مڑ کر دیکھا۔ آج علیزے اسے اگنور کرتے آیان کو زینب کے پاس شلف پر بیٹھاتی سامنے ڈبے سے نوڈلز کا ایک پیکٹ نکالنے بنانے لگی۔

“علیزے زینب کے لیے بھی بنا لو، اسے بھی نوڈلز کھانے ہیں میں تب تک سینڈ وچ بنا لیتا ہوں” وہ مصروف سے انداز میں بولا جیسے ان دونوں کے درمیان یہ سب روز کا ہو۔ علیزے نے گہرا سانس لیا اور ایک اور پیکٹ نکال کر بنانے لگی۔ وقار بہت ہی دھیان سے ٹماٹر کو کاٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کہ وہ برابر گول کٹے پر وہ خراب ہوتے جا رہا تھا۔

“تمہارا نام کیا ہے؟” زینب نے ساتھ بیٹھے آیان سے پوچھا۔

“آیان ” وہ بس اتنا ہی بولا۔

“سو کیوٹ نیم، تم کتنے گولو مولو ہو” زینب نے اسکی گال کھینچتے ہوۓ کہا۔ آیان زور سے چلایا۔ علیزے نے مڑ کر دونوں کو دیکھا۔

“کیا تم میرے دوست بنو گے، کیونکہ اس گھر میں سب بزی رہتے ہیں، تم اور میں دونوں کھیلں گے” زینب نے کچھ سوچ کر اپنا ہاتھ آیان کے اگےبڑھایا۔ آیان نے اپنی چھوٹی انکھوں کو اور چھوٹا کرتے ہوۓ اسے دیکھا اور اسکے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیا۔ علیزے نے حیرانگی سے اسے دیکھا وہ کبھی کسی سے زیادہ جلدی بات نہیں کرتا تھا۔ اور اب زینب سے دو منٹ میں دوستی، جسکا مطلب تھا وہ اسے پسند آئی تھی۔

“میں بنا دیتی ہوں آپ زینب کو لے کر باہرجائیں” علیزے نے اسکے ہاتھ سے چھڑی پکڑتے ہوۓ کہا۔ کیونکہ وہ سامنے ٹماٹر اور کھیرے کا برا حال دیکھ چکی تھی۔ مزید اس سے ٹماٹر اور کھیرے کا پوسٹ ماٹم برداشت نا ہوا تو فوراً بولی۔

“تھینکس! مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی یہ گول کیوں نہیں کٹ رہا” وقار نے اسکا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا۔ علیزے چپ ہی رہی۔

“چلو زینب اور آیان باہر چلتے ہیں” وقار ہاتھ دھو کر ان دونوں قریب آیا اور دونوں کو گود میں اُٹھایا۔ وہ پہلی بار آیان کو گود میں اُٹھا رہا تھا۔ اسکا دل ایک دم بھاری سا ہوا۔ جزباتوں پر قابو پاتے ہوۓ وہ کیچن سے باہر جانے لگا جب علیزے اسکے سامنے آئی۔

“آیان سے دور رہیں” وہ بس اتنا بولتی آیان کو پکڑنے لگی۔ جب وقار تھوڑا پیچھے ہوا۔

“یہی باہر ہی ہوں کہی لے کر بھاگ نہیں رہا تم نوڈلز بنا کر لے آؤ مل کر کھاتے ہیں” وہ عام سے لہجے میں کہتا بنا اسے بات کرنے کا موقع دیے باہر نکل گیا۔ پیچھے علیزے دانت پیستی رہ گئی


جاری ہے