Jazaye Ishq By Fatima Tariq Readelle50125 Last updated: 30 July 2025
Rate this Novel
Jazaye Ishq
By Fatima Tariq
"دو سال پہلے میں بنٹی نامی آدمی سے ملا وہ اپنے علاقے کا جانا مانا بدماش ہے، بہت سے ناجائز کام وہ آسانی سے کروا دیتا ہے
، تب میرے ریسٹورنٹ میں فائینلشنی بہت مسلے تھے ایک دم بند ہونے والا تھا، میں یہ بات گھر میں ابا کو بھی نہیں بتا سکتا تھا، کیونکہ
فیملی بزنس کو چھوڑ کر میں نے اپنے شوق کے تحت سب سے لڑ کر ریسٹورینٹ کھولا تھا۔ جو پہلے تو بہت اچھا چلا پھر اچانک
مشکلات آنا شروع ہوئیں، دوستوں سے اگر پیسہ مانگتا تو کبھی نا کبھی ابا کو پتہ چل جاتا، اگر ابا کو سب بتاتا تو وہ بند کرنے کا ہی کہتے،
تبھی میں بنٹی سے ملا، اسنے مجھے تب اسنے ڈھیڈ کڑور۔ دیے تھے انہی پیسوں کو کام میں لگا کر میں نے دوبارہ سے ریسٹورنٹ کو کھڑا کیا۔
بہت اچھا تو نہیں ریسٹورینٹ ٹھیک ٹھاک چلنے لگا، ایک سال گزر گیا، میں آہستہ آہستہ اسکے پیسے اتارتا گیا۔ پھر اچانک اسنے دباؤ زیادہ ڈالنا
شروع کر دیا۔ تب ایک کڑور اتارے والا رہتا تھا۔ تب میں نے وکیل کے ساتھ اور بینک کے بندے کو میں جانتا تھا انکےساتھ مل کر میں نے پچاس
لاکھ نکواۓ اور اسے دے دیے، اور اب بچاس لاکھ ابھی بھی رہتے ہیں، وہ میرے پاس نہیں ہیں، اور اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا کرو، اگر نا دیے تو وہ حشمت ولا کے پیپرز جو میں نے انہیں گرنٹی کے طور پر دیے تھے وہ اسکو استعمال کر کے گھر پر قبضہ کر لین گے اور وہ ایسا بہت پہلے سے کر رہے ہیں" وہ اپنا سر پکڑے اسے سب۔ بتا رہے تھے۔
"واٹ ایک منٹ ابھی آپ نے کیا بولا، حشمت ولا کے پیپرز انہیں دے دیے، اف چاچو ایسا کیوں کیا؟" وقار کو اب معاملے کی سینسٹی ویٹی کا احساس کو رہا تھا۔ وہ بری طرح ایک گینگ کے چکر مین پھنس گے تھے۔
"یہی تو مسلہ ہو گیا اب پتہ نہیں کیا ہو گا پیسے بھی نہیں ہیں" طلحہ صاحب بہت پریشان دیکھائی دے رہے تھے۔
"اچھا اپ ریکس کریں دیکھتے ہیں اگر کوئی حل نکلتا ہے" وقار انہیں اتنی ٹینشن لیتے دیکھ بولا کہی انکی طبعیت خراب نا ہو جاۓ۔ وہ انہیں خود حشمت ولا چھوڑ کر آیا۔ اور اب اس نئے مسلے کے بارے میں سوچنے لگا۔ ابھی وہ آفس میں بیٹھا اسکا حل سوچ رہا تھا کہ کیسے اس سب سے نکلا جاۓ۔
"ایک منٹ چاچو نے بولا انہوں نے پچاس لاکھ نکالے تھے، تو یہ باقی کے ایک کڑور کس نے نکالے" وقار کو ایک دم انکی بات یاد آئی وہ فوراَ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اور فائلز کو دوبارہ دیکھنے لگا، جہاں پر اسکے بارے میں کچھ نہیں لکھا تھا، اب وہ پریشان ہو گیا آخر اس کمپنی میں ایسا کون ہے جو انکی پیٹھ پیچھے پیسے نکال رہا ہے، اور انکے کپڑوں کا مٹریل خراب کر رہا ہے، اور اہم بات اگر اتنے پیسے اچانک نکالے گے تو کسی کو پتہ کیوں نہیں چلا، یقیناً وہ بہت شاطر ہو گا۔
"اف یہ سب کیا ہو رہا ہے" سوچتے سوچتے اسکے سر میں درد ہونے لگ گیا۔ صبح کا ویسے بھی وہ بھوکا تھا، تبھی اپنے لیے اسنے ایک کافی منگوائی۔
