Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

” بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو ہے” کیچن میں داخل ہوتے وہ بولا تھا۔ وہ چاول گرم کر رہی تھی جب اسکی آواز سنی۔

“جی چاول بنے ہیں ایک منٹ دیتی ہوں” علیزے نے گرم چاول نکال کر پلیٹ میں نکال کر اسکے سامنے رکھے۔ اور کیچن سے نکلنے لگی۔

“تم نہیں کھاؤ گی؟” اسکے یوں جانے پر وہ فوراً بولا۔

” مجھے بھوک نہیں آپ کھائیں” وہ بنا پلٹے بولی چہرے پر ایک پر اسرا مسکراہٹ تھی۔ تب وقار نے کندھے اچکاتے پلٹ اپنی طرف کھسکائی اور چاول کھانے لگا۔ یہ جانے بغیر وہ کتنی بھوکی تھی اسنے اپنا کھانا اسے دیا تھا۔ اور آج بھی اسنے بالکل وہی کیا وہ آج بھی بنا کھاۓ وہاں سے چلی گی۔ اور اتفاق سے اج بھی چاول ہی بنے تھے۔ وقار نے ان چاولوں کی بھری پلیٹ کو دیکھا اور گہرا سانس لے کر بنا انہیں ہاتھ لگاۓ وہ بھی پلٹ گیا۔ اور کچن سے نکل گیا۔

*
علیزے نے اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کیا۔ وہ ابھی تک شاک میں تھی کیا وہ وہی تھا۔ پورے پانچ سال بعد یوں اچانک اسکو اپنے روبرو دیکھ کر وہ شاک میں تھی۔ کیونکہ گھر والوں نے اسے بھی وقار کے آنے کا نہیں بتایا تھا۔ اور وجہ وہ اچھے سے جانتی تھی۔ وہ وہی بند دروازے کے ساتھ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ آنسوں رفتار سے اسکے گالوں پر بہ رہے تھے۔ وہ گھٹنوں میں سر دیے رونا شروع ہو گئی۔

“آپ کیوں واپس آۓ اپکو واپس نہیں آنا چاہیے تھا” وہ روتے ہوۓ خود سے بول رہی تھی۔

“علیزے، کیسی ہو؟” اسکے کچھ دیر پہلے کہے گے جملے اسے اپنے آس پاس سنائی دے رہے تھے۔ اسنے زور سے اپنے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھے۔

“کتنے بے رحم ہیں، اتنے زخم دیے، اور جب وہ مندمل ہونے لگے تو دوبارہ واپس آ گے، اور کتنے آرام سے پوچھا، یوں لگا جیسے میرا مزاق اُڑا رہے ہیں، بتاؤ علیزے اشرف میرے دیے گے دھوکے کے بعد کیسی ہو؟” وہ جیسے خود پر ہی ہنس رہی تھی۔ وہ رو رہی تھی زور و قطار رو رہی تھی۔ آواز کہی کمرے سے باہر نا چلی جاۓ، وہ اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہچکیوں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، اج پھر سے اسے وہی لمحے یاد آۓ،آج دوبارہ سے وہ خود کو اس رات کے دردناک ،بھیانک لمحوں میں جکری محسوس کر رہی تھی۔ جن سے خود کو نکالنے میں اسے کئی مہینے لگے تھے۔


ساری رات وہ کروٹ پر کروٹ بدلتی رہی، نیند تو جیسے آنکھوں سے ہزاروں میل پرے چلی گئی تھی۔ بار بار ذہین کے پردے میں ماضعی کی بھیانک یادیں لہراتیں، نا چاہتے ہوۓ بھی آج وہ ان اذیت ناک لمحوں کو سوچ رہی تھی۔ صبح کی اذان کانوں میں گھونجی تو بیڈ سے اُٹھ کر وہ واشروم میں وضو کرنے گئی۔ جاۓ نماز زمین پر بیچھا کر نماز ادا کی۔ اسنے رو کر اپنے رب سے ہمت مانگی تا کہ وہ ان لمحوں کو ہمت سے گُزار سکے۔ آٹھ بجے کے قریب وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے آئی، سبھی ایک ساتھ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ اسنے ٹیبل پر نظر دوڑائی، وقار وہی بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کرسی کھینچ کر وہاں بیٹھی اور ناشتہ کرنے لگی۔

” آغا جان! ” وہ سبھی خاموشی سی ناشتہ کر رہے تھے جب زینب کی مسکراتی آواز آئی۔ وہ عروج کے کمرے سے بھاگ کر آ رہی تھی۔ علیزے نے گردن موڑ کر آنے والی کو دیکھا۔ اسکے چہرے کے خدوخال دیکھ کر وہ ایک سیکنڈ میں پہنچان گئی یہ کس کی بیٹی ہے۔

“مجھے اپکے ساتھ ناشتہ کرنا ہے” وہ آغا جان کے قریب آ کر مسکراتے ہوۓ بولی۔

“آ جاؤ” انہوں نے سب کی طرف دیکھ کر کہا جہاں کئی چہروں پر سختی تھی۔ وہ انکی گود میں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔ وقار اپنی شرٹ کے کف بند کرتا سڑھیوں سے نیچے اتر کر ان سب کے پاس آیا۔ زینب کو آغا جان کے پاس دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرایا۔ اور کرسی گھسیٹ کر وہاں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا۔ اسکے آنے سے پورے ٹیبل پر خاموشی چھا گئی تھی۔ اسکی نظر بالکل سامنے بیٹھی علیزے پر پڑی۔ تو رات کی کہی گئی باتیں ذہین میں آئیں۔

“امی بھائی کہاں ہیں؟ انہوں نے ناشتہ کر لیا” علیزے نے جب ٹیبل پر عثمان کو نا دیکھا تو پوچھا۔

“ہاں وہ جلدی چلا گیا، ویسے بھی ٹیبل پر آتا تو خامخوا جھگڑا ہو جاتا، میرا بچہ کھانا بھی صحیح سے نا کھا پاتا” فائزہ بیگم نے وقار کو ایک نظر دیکھتے ہوۓ جواب دیا۔ وقار سے نولہ تک نا نگلا گیا۔

“میں تو ریسٹورینٹ جا رہا ہوں آج وہاں برا ایوینٹ ہونا ہے تو کام بہت زیادہ ہے” طلحہ صاحب اپنا ناشتہ جلدی جلدی ختم کر کے کھڑے ہوتے ہوۓ بولے۔ اور وہاں سے نکل گے۔

“میاں اگر اب پانچ سالوں بعد واپس آنے کا شرف بخشا ہی ہے تو جو غلطی ہم سے پانچ سال پہلے ہو گئی تھی۔ اسکا فیصلہ کر کے ہی جانا، کیونکہ ہمیں بھی اپنی بچی کے مستقبل کا سوچنا ہے” اشرف صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوۓ بولے۔ علیزے کا منہ کو جاتا نوالہ رک گیا۔ اسکی پہلی نظر وقار پر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“اشرف کیسی باتیں کر رہے ہو؟ صبح صبح یہ باتیں کرنے کا کوئی جواز نہیں آرام سے سب کو ناشتہ کرنے دو۔ آغا جان نے سخت لہجے میں کہا۔

” ابا اسکا کیا پتہ رات تک واپس چلا جاۓ اسی لیے بول رہا تھا” اشرف صاحب نے وقار پر طنز کا تیر کسا۔ وہ شرمندگی سے سے سر تک نا اُٹھا سکا۔ علیزے نے بامشکل اپنے آنسوں کو بہنے سے روکا۔ اشرف صاحب غصے میں سے وہاں آوٹ ہو گے۔ اب وہاں بس علیزے، وقار ،حشمت صاحب اور رامین ، مشل اور عروج بیٹھے ہوۓ تھے۔

“ماما، ماما چاچو نے مجھے مارا ہے” تبھی چار سالہ آیان روتا ہوا علیزے کے پاس آیا۔ یہی وقار کو جھٹکا لگا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ چہرے پر حیرانگی سی تھی۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکا کوئی بیٹا بھی ہے۔ اسنے حشمت صاحب کی طرف دیکھا۔ جیسے پوچھ رہا ہو مجھے کیوں نہیں بتایا۔ علیزے نے ایک نظر وقار کو دیکھ کر آیان کو گود میں لیا۔ عروج اپنی جگہ سے اُٹھی اور زینب کو لے کر باہر چلی گئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی اتنی چھوٹی بچی یہ سب دیکھے۔ کل ہوئی لڑائی سے وہ کافی پریشان تھی۔

“علیزے آپی میں بس اسے اُٹھا کر باہر لا رہا تھا تبھی اسنے میرے بال پکڑ لیے یہ دیکھیں کیا حال کر دیا بالوں کا ابھی سیٹ کیے تھے میں نے بس چھڑوائیں ہی ہیں بھائی صاحب نے رونا شروع کر دیا۔ اور کیسے کیسے مجھ پر الزام لگاۓ” شہیر نے فوراٍ اپنی صفائی پیش کی، کیونکہ سبھی جانتے تھے، گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی اسکا ہاتھ تک لگانے نہیں دیتا تھا۔ ہاتھ تو کیا کوئی اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا۔

“میری جان، چاچو بال چھڑوا رہے تھے، اور آپ نے انکے بال کیوں پکڑے وہ برے ہیں بدتمیزی ہوئی نا” علیزے نے اسے ہلکا سا ڈانٹا۔

“میں آپ سے ناراض تھا آپ کیوں لیٹ آئیں ، اور مجھے چاچو کے پاس سونا پڑا” وہ علیزے کے گرد اپنے چھوٹے سے بازو تنگ کرتے ہوۓ روٹھے ہوۓ لہجے میں بولا۔ علیزے نے اسکے ماتھے پر پیار کرتے سوری کہا۔

“کوئی مجھے بتانے کی ضہمت کرے گا یہ سب مجھے کیوں معلوم نہیں؟” وقار سے اب مزید برداشت نا ہوا وہ غصے سے بولا۔

“کیونکہ میاں تم یہاں سے بھاگ گے تھے، اپنی بیوی کے پاس، تو یہاں پر کیا ہو رہا تھا اور کیوں اور رہا تھا وہ سب ہمیں تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں تھی” حشمت صاحب نے بھرپور طنز کے تیر مارے تھے۔

“واٹ آغا جان مجھے بتانے کی ضرورت نہیں تھی؟ کیا مجھے حق نہیں یہ تک جاننے کا کہ میرا ایک بیٹا ہے، کیا اتنا گیا گزرا ہوں کہ اتنی اہم بات تک نا جان سکوں۔” اسکے لہجے میں افسوس غصہ، شکوہ تھا۔

“جب آپکو کو یہ جاننے کی ضہمت نہیں تھی، کہ جس لڑکی کو اپنی بیوی بنا کر آیا تھا وہ کس حال میں ہے،میرے اتنے برے دھوکے کے بعد وہ زندہ بھی ہے کہ مر گئی، تو مجھے نہیں لگتا اپکو آیان کے بارے میں بتانے کی رتی بھر بھی ضرورت تھی۔ آیان میرا بیٹا ہے، اپکا اسکے ساتھ کوئی تعلق نہیں، تو بہتر ہو گا ہم دونوں سے دور رہیں بلاوجہ کے حق مت جتائیں” علیزے آیان کو اپنے سینے سے لگاتی اپنی جگہ سے اُٹھتی غصے اور نم لہجے میں بولی۔ آیان کو لیے وہاں سے چلی گئی۔ وقار خاموش سا ہو گیا۔ وہ بولتا بھی کیا اسکا ایک ایک لفظ سچ تھا۔ وہ اپنی کرسی پر ڈھے سا گیا۔ اسنے اپنا سر ہاتھوں پر گڑا دیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے سب کچھ کتنا اُلجھ چکا تھا۔

وہ اس وقت آفس میں بیٹھی صبح ہوئی باتوں کو سوچ رہی تھی۔ اسکا دماغ درد سے پھٹ رہا تھا۔ لنچ ٹائم عثمان نے اسے اپنے کمرے میں بلوایا تھا۔

“جی بھائی کیا بات ہے؟” وہ کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔

” تمہیں وقار کے بارے میں معلوم ہو گیا؟” عثمان نے بات کا آغاز کرنے کے لیے کہا۔

“جی پتہ ہے” وہ اپنی انگلی میں پہنی ہوئی انگھوٹی کو گھوماتے ہوۓ بولی۔

“علیزے کبھی یہ محسوس نا کرنا تم اکیلی ہو، میں تمہارا بھائی ہمیشہ ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔ بہت جلد اس سے تمہاری جان چھڑوا دوں گا” عثمان نے پریشان سا دیکھا تو فوراً بولا۔

“آپ بس یہ خیال رکھیں کے میرے بیٹے پر انکا کوئی حق نہیں، اور فضول کے حق جتاۓ بھی نا، باقی جو کرنا ہے کریں میں آپکو نہیں روکوں گی” علیزے نے گہرا سانس لے کر خود کو پرسکون کرتے ہوۓ کہا۔

“آیان کے تو آس پاس بھی بٹھکنے نہیں دوں گا حق جتانے کی بات تو بہت دور کی ہے، تم کام ختم کر لو پھر اکھٹے گھر چلیں گے” عثمان نے کہا تو وہ سر ہلاتی آفس سے باہر چلی گئی۔

“تمہارے ساتھ پہلے غلط ہونے کو میں روک نا سکا پر اب میں ایک پرسنٹ بھی تمہارے ساتھ غلط نہیں ہونے دوں گا یہ میرا عثمان اشرف کا خود سے وعدہ ہے” اسکے جانے کے بعد وہ خود سے عہدہ کر رہا تھا۔ کیونکہ وہ اسکی حالت کا گواہ تھا کس طریقے سے سب گھر والوں نے اسے سھنمبالا تھا یہ وہی جانتے تھے۔


جب سے پتہ چلا کہ آیان اسکا بیٹا ہے وہ تب سے گھر سے باہر نکلا ہوا تھا، ہزاروں سوچیں اسکے دماغ میں چل رہیں تھیں، شام کے وقت وہ حشمت ولا داخل ہوا، اسکی حالت کچھ بکھری بکھری سی تھی۔ وہ چلتا ہوا حال میں آیا جہاں عروج اور شہیر سر جوڑے کسی پلائینگ میں مصروف تھے۔

“شہیر! مجھے تم سے بات کرنی ہے؟” وقار نے اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔ اور شہیر کو معلوم تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے۔

“تم مجھے بھائی مانتے تھے نا، اور کہتے بھی تھے میں آپکو سب بتاتا ہوں، تو اتنی بری بات تم نے کیوں نہیں بتائی، کیوں مجھ سے چھپائی بولو” وقار غصے میں اس پر چِلایا۔

“وہ دراصل بھائی” شہیر اسکے غصے کو دیکھ کر ایک پل کے لیے ڈر سا گیا۔

“جب ہماری بات ہوتی تھی تب ایک پل بھی تم نے اس بات کا احساس کیوں نہیں ہونے دیا، کیا اتنا پرایا ہو گیا تھا۔” اب کی بار اسکے لہجے میں غصے نہیں تھا بے بسی تھی۔ شہیر کے دل کو کچھ ہوا وہ جواب دینے والا تھا۔۔ تبھی عثمان تیز تیز چلتا ان دونوں کے پاس آیا۔ وہ انکی باتیں سن چکا تھا علیزے اور عثمان ابھی گھر آے تھے۔

“کیا مطلب بات ہوتی تھی، کیا تم اس گھٹیا انسان سے باتیں کرتے تھے بولو” عثمان کے ماتھے دپر بل پر چکے تھا غصہ واضع تھا، شہیر ایک دم ڈرا۔

“ٹھاہ، جب میں نے منع کیا تھا اس خبیث سے کوئی تعلق نہیں رکھے گا، نا ملنا جلنا نا فون پر تو تم نے کیوں رکھا” عثمان نے شہیر کو کھینچ کر ایک اور تھپڑ مارتے ہوۓ کہا۔ علیزے جلدی سے انکے پاس آئی۔