Jazaye Ishq By Fatima Tariq Readelle50125 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے؟” وہ اضطرابی کیفیت میں بولا۔ ہاشم صاحب نے دو منٹ بعد کال بند کی اور اسکی طرف پلٹے۔
“کیا بات ہے؟” وہ موبائل کو بیڈ پر رکھتے سامنے پریشان سا چہرہ لیے کھڑے وقار کو دیکھ کر بولے۔
“آپ نے بنا پوچھے میری شادی کیسے کر دی، ایک دفع مجھ سے پوچھ تو لیتے میں کرنا بھی چاہتا ہوں کہ نہیں” وقار انکے سامنے کھڑا اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔ اسکے ری ایکشن سے ہاشم صاحب کو گڑبر محسوس ہوئی۔
“منگنی بچپن سے طے کی گئی تھی شادی تو ہونی تھی۔ بس تمہیں سرپرائیز دینا چاہتے تھے۔ تو یہ سوال کرنا مجھے سمجھ نہیں آیا” ہاشم صاحب نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔
“واٹ وہ فضول سی بات بچپن کی منگ این اُول بلشیٹ میں یہ سب فضولیات نہیں مانتا، اور نا مجھے یہ شادی کرنی ہے روکیں اسے” وہ غصے سے چلاتے ہوۓ بولا۔
“آواز نیچی رکھو اور یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟ کیوں شادی نہیں کرنی؟” ہاشم نے غصے سے کہا۔
“کیونکہ میں جس سے محبت کرتا ہوں اس سے شادی کر چکا ہو اور میری ایک بیٹی بھی ہے ، اسی لیے یہ۔۔۔۔” وہ بول رہا تھا کہ ہاشم صاحب کا ہاتھ اُٹھا اور اسکے چہرے پر تھپر کے نشان چھوڑ گیا۔
“کیا بکواس کر رہے ہو، ہماری عزت کا جنازہ نکل جاۓ گا یہ شادی نہیں رک سکتی اور تم کیسے سب سے چھپا کا شادی کر سکتے۔۔۔۔ ” بولتے بولتے وہ نے ایک زمین پر بیٹھتے چلے گے اور دیکھتے ہی دیکھتے بے ہوش ہو گے۔
“بابا کیا ہوا بابا” وہ ایک دم ہاشم صاحب کی طرف بڑھا۔ جو اسے پیچھے دکھیل رہے تھے، وہ باہر کو بھاگا اور سب کو ہاشم صاحب کی حالت کا بتایا، عثمان نے ڈاکٹر کو فون کر کے بلوایا۔ ڈاکٹر نے انہیں سکون آوا انجکشن دے دیا۔ انکا بی پی ایک دم ہائی ہوا تھا اس وجہ سے بے ہوش ہو گے۔ اب وہ کافی بہتر تھے۔
وقار کو بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے، وہ سب کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ یہ شادی نہیں کرسکتا پر ہاشم صاحب کی حالت دیکھ کر اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کسی سے کچھ کہے۔ اوپر سے وقت بھی بہت کم تھا۔ باہر مہندی کا سارا اریجمنٹ ہو چکا تھا مہمان آ چکے تھے، نا چاہتے ہوۓ بھی اسے تیار ہو کر مہندی کے فنگشن پر بیٹھنا پڑا۔ علیزے کو اسکے ساتھ لا کر بیٹھایا گیا۔ چہرے پر جالی دار ڈوپٹہ لیے وہ بیٹھی تھی۔ اسے تو یہ سب خواب کی مانند لگ رہا تھا۔ آج سالوں بعد وہ اپنے خواب کو سچ ہوتے دیکھ رہی تھی۔ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ اسکے چہرے سے جا ہی نہیں رہی تھی۔ وقار نے بے دلی سے اسنے سارا فنگشن پورا کیا۔ فنگشن ختم ہوتے ہی وہ اپنے کمرے میں آیا۔ اپنی ٹکٹس کنفرم کیں، وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اسکی وجہ سے علیزے کی زندگی خراب ہو ساری رات وہ خود میں ہمت پیدا کرتا رہا کہ بھاگ جاۓ پر جب بھی سوچتا اسکے پاؤں کوئی جکڑ لیتا،
*************************************
اگلی صبح ہاشم صاحب کے بلاوے پر وہ انکے کمرے میں گیا۔ جہاں وہ بیڈ پر بیٹھے اسے دروازہ بند کر کے اپنے پاس بلا رہے تھے۔ وہ انکے برابر آکر بیٹھا۔
“جو بھی ہو گیا ہے اب وہ بدلا نہیں جا سکتا، پر تم یہ بھی نہیں جھٹلا سکتے کہ ایک لڑکی نے اپنی آدھی زندگی تم کو سوچتے گزاری ہے، اگر مجھے تم پہلے بتا دیتے کہ تم شادی کر چکے ہو تو یہ شادی کبھی طے نا ہوتی، میں سبکو پہلے ہی سچ بتا دیتا۔ پر ابھی یہ ناممکن ہے، بولو اب کیسے بھائی صاحب کے پاس جا کر بولوں کہ میرے بیٹے نے شادی کر لی ہے تو آپ جی اپنی بیٹی کی شادی توڑ دیں، اور کہی اور کر لیں،
تم نے چھے سال امریکہ میں گزارے ہیں، پر یہ مت بھولو یہاں اگر شادی والے دن کسی لڑکی کی شادی ٹوٹ جاۓ تو ساری زندگی اسے طعنے ہی سننے پڑتے ہیں اور اپنی علیزے بیٹی کے ساتھ ایسے ہوتا میں نہیں دیکھ سکتا تو اچھا یہی ہو گا تم چپ چاپ شادی کر لو، پہلی شادی کا کسی کو مت بتاؤ، نا وہاں اپنی اس شادی کا بتانا، دونوں کے درمیان ایک جیسا برتاؤ کرنے کی کوشش کرنا، کیونکہ اب اس کے علاوہ تو کوئی طریقہ مجھے نظر نہیں آتا” ہاشم صاحب نے اسے سمجھایا۔ انہیں خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی اس سچویشن کو کیسے ہینڈل کریں۔
“بابا اتنی بری بات کیسے نا بتاؤ، جھوٹ کی بنیاد پر ایک نئے رشتے کو کیسے رکھوں، میں تو سمبل اور علیزے دونوں کا مجرم بن جاؤں گا میں ایسا نہیں کر سکتا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“تو ٹھیک ہے میں تمہیں نہیں روکتا تم ابھی سبکو سچ بتا کر یہ شادی تور دو، اور امریکہ کے لیے نکل جاؤ، پھر علیزے کی زندگی برباد ہوتی ہے تو ہو، ہم بھائیوں کے درمیان اختلاف آتے ہیں تو آئیں، تمہاری بہن کی شادی بھی ٹوٹتی ہے تو ٹوٹے تم خوش ہو جاؤ، ہاں پھر اپنا ہم سب سے رشتہ ختم سمجھنا میرے جنازے کو کندھا دینے کا حق بھی تمہیں نہیں دوں گا” ہاشم صاحب نے غصے سے کہا۔ وقار نے انکی باتیں سن کر اپنا سر ہاتھوں پر گِڑا لیا۔ وہ خود کو چاروں طرف سے پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے اسکا چھپ کر شادی کرنا آج اسکے سامنے اتنی بری مصیبت لے آیا تھا۔ وہ کافی دیر ویسے ہی بیٹھا رہا۔
“ٹھیک ہے جیسا آپ کہتے ہیں ویسا ہی کرتا ہوں کر لیتا ہوں شادی، اسکے بعد کیا ہو گا مجھے معلوم نہیں یہ سب کیسے سھنمبالوں گا مجھے نہیں معلوم” وہ شکستہ انداز میں بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ ہاشم خود بہت پریشان تھے شادی ہوتی تب بھی غلط تھا اور نا ہوتی تب بھی وہ خود کو بھی پھنسا ہوا محسوس کر رہے تھے ابھی فل حال انہیں جو ٹھیک لگا وہ کیا۔ اب اسکا نتجہ کیا نکلنا تھا کوئی نہیں جانتا تھا ۔ یوں وقار نے علیزے سے شادی کر لی، اس دن نکاح کے پیپرز پر سائن کرتے وقار کو خود پر بہت شرم محسوس ہو رہی تھی۔ اسنے خود سے وعدہ کیا، وہ علیزے کو کبھی محسوس نہیں ہونے دے گا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا یا یہ شادی کسی دباؤ میں کی، ایٹ لیسٹ تب تک جب تک وہ اپنی شادی کو راز رکھ پاتا۔ وہ اسے خوشیاں دینے کی پوری کوشش کرے گا۔اس سب میں اسکا تو کوئی قصور نا تھا۔
وہ علیزے کے ساتھ بہت اچھے سے رہنے لگا، اسنے کبھی یہ محسوس نا ہونے دیا کہ اسکی زندگی میں کیا چل رہا ہے۔ انکی شادی کو ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ وہ لوگ گھوم پھر کے واپس آ چکے تھے، علیزے وقار کے ساتھ بہت خوش تھی۔ لیکن نا جانے کیوں اسے کبھی کبھی ایک عجیب سا احساس ہوتا جیسے وقار کچھ چھپا رہا ہے، ابھی بھی وہ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر بیڈ پر آ کر بیٹھی، وقار سو رہا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی، ماتھے پر بکھرے بال اسے اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔ اسنے اگے بڑھ کر انگلیوں کی پرؤں سے ماتھے سے اسکے بال پیچھے کیے، اور اگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔ وقار کی انکھ کھل گئی۔ اسکے اُٹھ جانے پر وہ شرما کر پیچھے ہوئی۔
“کیا ہوا؟” وہ نیند سے بھری نظروں سے اسکی طرف کروٹ بدل کر بولا۔
“کچھ نہیں بس آپ سوتے ہوۓ بہت پیارے لگ رہے تھے” وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ بولی۔
“اچھا، سوئی کیوں نہیں؟” وقار نے ٹائم کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“سوئی تھی نماز کے لیے اُٹھی” وہ اسکے بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولی۔
“وقار! کیا آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں؟” اس نے نا جانے کس احساس کے تحت بولا تھا۔ وقار کے چہرے کا رنگ ہلکا سا بدلا۔ وہ اُٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھا۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا؟” وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
“پتہ نہیں، شائد میں زیادہ سوچتی ہوں، اور اپکے معاملے میں تو حد سے زیادہ ہی سوچ لیتی ہوں تو اسی لیے، آپ پلیز برا مت ماننا پر مجھے نا جانے کیوں ایسا لگتا یے آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے،” وہ ہاتھ مڑورتے ہوۓ بولی۔ وقار کچھ پل لا جواب سا ہوا۔
“تم کو ایسا کیوں لگا” وقار نے اسکے بال کان کے پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔
“میں نے کتنی دفع محبت کا اظہار کیا پر آپ نے شکریہ کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کہا۔ جواب میں ایک دفع بھی اظہار نہیں کیا ” وہ منہ بسورتے ہوۓ ہوۓ بولی۔ وقار ہولے سے مسکرایا۔ اسکی معصومیت دیکھ وہ ہمیشہ چپ سا ہو جاتا۔ وہ وقت دہ وقت اسے اپنی طرف کھینچتی تھی۔ اور وہ کھینچا چلا جاتا تھا۔
“تو محبت کے لیے اظہار ضروری تھوڑی ہوتا ہے، لفظوں سے زیادہ اہمیت ایکشن کی ہوتی ہے، اظہار ضروری نہیں ہوتا، اور تم اپنا چھوٹا سا دماغ کم لگایا کرو آئی سمجھ” وقار نے اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا اور خود وضو کرنے چلا گیا۔ تا کہ نماز پڑھ سکے۔ علیزے اپنی جگہ پر لیٹتی آنکھیں بند کر کے سو گئی۔
وہ نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاۓ بیٹھا تھا۔ وہ ہمیشہ اللہ سے اس مسلے کو ٹھیک کرنے کی دعائیں مانگتا، وہ کسی کا دل توڑنا نہیں چاہتا تھا۔ہمیشہ وہ گلٹ میں رہتا تھا۔
**************************************
سبھی ڈنر کی ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، اور ہلکی پھلی باتیں ہو رہیں تھیں۔
“کہاں ہو تم دھوکے باز انسان” تبھی حال میں کوئی داخل ہوتے ہوۓ کوئی وقار کا نام لیتے ہوۓ چلایا تھا۔ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ، وقار کو لگا جیسے اس سے اب سانس بھی نہیں لیا جاۓ گااسنے پلٹ کر دیکھا تو سمبل اپنی گود میں زینب کو اُٹھاۓ کھڑی تھی وہ بے حد غصے میں تھی۔
“کیا بات ہے؟ بیٹے کس سے ملنا ہے؟” حشمت صاحب اُٹھ کر اسکے پاس آکر بولے۔
“وقار ہاشم! دھوکے باز انسان کچھ دن کا بہانہ بنا کر تم پاکستان آگے اور یہاں آکر شادی کر لی، میرا اور زینب کا بالکل نہیں سوچا، یہاں دوسری شادی کر لی” سمبل وقار کو دیکھتے ہی اسکی طرف آئی اور اسکو کالر سے پکڑ کر چلائی۔ جو جہاں تھا وہی تھم سا گیا۔ اور علیزے کو تو لگا، وہ سانس نہیں لے پاۓ گی۔
“وقار یہ سب کیا ہے کون ہے یہ لڑکی اور کیا بات کر رہی ہے؟” اشرف صاحب غصے سے بولے انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
“تایا جی! وہ ” وقار سے بولا نہیں جا رہا تھا اسنے بے بسی سے ہاشم صاحب کی طرف دیکھا جو خود اچانک افتار پر پریشان تھے۔
“بولو منہ پر تالا لگ گیا؟” حشمت صاحب نے غصے سے کہا۔
“ارے یہ کیا بتاۓ گا میں بتاتی ہوں، میں اسکی بیوی ہوں اور یہ اسکی بیٹی ہے، دو سال پہلے شادی کی تھی” سمبل غصے سے اونچی آواز میں بولی۔ علیزے کو لگا اسکا دماغ معاوف ہو چکا ہے۔ جس انسان کو خود سے بھر کر چاہا اسنے اسے کیسا دھوکہ دیا۔
“ٹھاہ! کیوں کیا تم نے ایسا جب شادی کر چکے تھے تو علیزے کی زندگی برباد کیوں کی” حشمت صاحب نے کھینچ کر اسکے چہرے ہر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔
“آغا جی میری بات سنیں، مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا یہاں شادی کی تیاریاں ہو رہی ہیں میں یہاں پہنچا تو منہدی کے دن مجھے معلوم ہوا، میں یہ شادی ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا بابا کو اسی دن سب بتا دیا تھا انہوں نے عزت کا واسطہ دے کر مجھے مجبور کیا” وہ اونچی آواز میں بولتا اپنی صفائی پیش کر رہا تھا۔ اور علیزے کو لگا اسنے شائد غلط سن لیا، اس ایک مہینے میں کبھی اسنے ایسا محسوس نہیں کروایا کہ یہ شادی مجبوری کی تھی، اسکے دماغ میں مجبوری لفظ جیسے اٹک گیا۔
“ہاشم تو اسی دن بتا دیتا میں وہی شادی کینسل کر دیتا” حشمت صاحب کو انکی بے وقوفی پر غصہ آیا۔
“ابا میں کیا کرتا، مہندی کے دن اسنے یہ سب بتایا اس وقت مجھے جو ٹھیک لگا میں نے وہی کیا مجھے لگا سب ٹھیک ہو جاۓ گا” ہاشم صاحب اپنا سر پکڑ کر بولے۔
“سالے! تجھے زرا شرم نا آئی میری بہن کی زندگی برباد کر دی اور اب کھڑا اپنی صفائیاں دے رہا ہے، میں تیری جان لے لوں گا” عثمان اسے پیٹتے ہوۓ بولا۔
“بھائی پلیز مت ماریں، چوٹ لگ جاۓ گی، دیکھیں خون بھی نکل آیا” علیزے عثمان کو دور کرتے ہوۓ بولی اور وقار کے پاس زمین پر بیٹھ کر اسکے سر سے نکلتے خون پر اپنا سفید باریک ڈوپٹہ رکھ دیا۔
“علیزے تم پاگل ہو اس انسان کو بچا رہی ہو، اسنے دھوکہ دیا ہے دو ہٹو” عثمان علیزے کے بازو کو پکڑتے ہوۓ غصے سے بولا۔ علیزے نام سن کر سمبل کو پتہ لگ گیا یہی اسکی دوسری بیوی ہے اسکے حسن کو دیکھ کر وہ تپ کر رہ گئی۔
“پلیز بھائی دور رہیں مجھے خود وقار سے پوچھنا ہے کہ جو بھی ہو رہا یے وہ سچ ہے کہ نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے یہ سب جھوٹ ہے” وہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ وقار کی جانب پلٹی کو شرمندگی کے مارے اسکی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔
“وقار کیا یہ سب سچ ہے، کیا آپ نے پہلے شادی کی ہوئی تھی اور ایک بچی بھی؟ کیا سچ میں اپکو مجبوری میں مجھ سے شادی کرنی پڑی؟ پلیز سچ بتائیے گا” علیزے نے اسکا ہاتھ زور سے پکڑتے ہوۓ نم لہجے مین پوچھا
