Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17


“میڈیم میں آپکا ڈرائیور نہیں جو پیچھے بیٹھی ہوئیں ہیں شوہر ہوں پورے حق سے اگے بیٹھو” وقار شیشے سے اسکا چہرہ دیکھتے ہوۓ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ جو اس وقت غصے سے لال ہو رہی تھی۔

“اگر چاہتے ہیں آپکی یہ گاڑی سلامت رہے تو گاڑی چلا دیں ورنہ یہی باہر نکل کر گاڑی کے سامنے کا شیشہ توڑ دوں گی” علیزے غصے سے بولی۔ اور باہر دیکھنے لگی۔

“ارے بیگم دل کرے تو پوری گاڑی کی ایک ایک چیز توڑ دوں بندہ منہ سے ایک لفظ نہیں بولے گا بس اگے آ کر بیٹھ جاؤ” وہ مڑ کر پیار سے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔

“اچھا توڑ دوں، اوکے بعد میں چِلانا مت میری مہنگی گاڑی توڑ دی” وہ کندھے اچکاتے اپنا بیگ سیٹ پر رکھتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ وقار ہلکا سا مسکرا۔ اسے لگا مزاق کر رہی ہے۔

علیزے نے آس پاس دیکھا ایک آدھی اینٹ پڑی نظر آئی اسنے اینٹ پکڑی اور مسکرا کر وقار کو دیکھا جو مسکراتے ہوۓ اسکی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔ وہ سمجھا مزاق کر رہی ہے۔ پر جب علیزے نے سامنے دائیں ہید لائیٹس پر اینٹ مار کر اسے توڑا تو اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ تبھی اسنے بائیں بھی توڑ دی۔ پھر اسنے گاڑی کے دونوں سائیڈ شیشوں کو توڑا۔ وقار اپنی گاڑی کا حشر نشر ہوتا دیکھ دروازہ کھولتا باہر نکلا۔

“دل بھر گیا، اب چلیں” اسکے ہاتھ سے اینٹ پکڑ کر سائیڈ پر رکھتے اسکا ہاتھ پکڑے فرنٹ سیٹ کی طرف آیا۔ علیزے نے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔

“اب تو میں یہ بھی توڑ کر رہوں گی، جب اپنی من پسند چیز ٹوٹے کی تب احساس ہو کیسا محسوس ہوتا ہے، میں معافی بھی نہیں مانگو گی، آئی سمجھ” وہ اپنی ہاتھ کا مکہ بناتی گاڑی کے سامنے کے شیشہ پر مارنے لگی اور زور زور سے بولنے لگی۔ وقار کو اب معاملہ ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ کسی اور ہی بات کا غصہ نکال رہی تھی جو شائد اسکے اندر بھرا ہوا تھا۔ وہ جنونی انداز میں ماری جا رہی تھی۔

“علیزے ہوش میں آؤ کیا کر رہی ہو” وقار اسے دونوں بازوں سے پکڑتے تقریباً جھنجھورتے ہوۓ بولا۔

“ہوش میں ہی ہوں، پاگل نہیں ہو اور کتنی دفع بولا ہے دور رہیں آپکا یہ حق جتانا مجھے چھونا سب سے نفرت ہے، یہ بے ہودہ حرکتیں مت کریں آئی سمجھ” وہ اسے دکھا دیتے ہوۓ چلا کر بولی۔ وقار نے ادھر اُدھر دیکھا آس پاس کوئی نہیں تھا۔

“اچھا تو تم کیا چاہتی ہو میں تمہیں اس بے غریت معاز کے ساتھ جانے دیتا، بیوی ہو تم میری علیزے، کیسے تمہیں اس وقت کسی غیر کے ساتھ جانے دے سکتا ہوں بولو” وقار بھی اسی کے انداز میں چلایا۔

“ہنہہ بیوی! واٹ ا جوک بری جلدی یاد گیا بیوی ہوں، اتنا برا دھوکہ دیتے وقت میرے جزباتوں سے کھیلتے وقت ایک دفع یاد نہیں آیا نا میں اپکی بیوی ہوں، اب کسی کے ساتھ دیکھ کر سو کالڈ غریت نے یاد کروا دیا ارے یہ تو تمہاری بیوی ہے تمہارے علاوہ کسی کے ساتھ کیسے نظر آ سکتی ہے، اور مسٹر وقار ایک مہینہ مانگا تھا نا میں ابھی بتا دیتی ہوں ایک مہینا گرز جاے یا ایک سال اپ جو مرضعی کر لو میں اپکو کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں اور میرا بھائی جس سے بولے گا میں اسی سے شادی کروں گی چاہے وہ پھر معاز ہی کیوں نا ہو اپکے ساتھ کبھی نہیں رہوں گی کیونکہ میرا بھائی میرے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا، اب مزید اپنی ذات کا تماشا میں برداشت نہیں کر سکتی، اپنی فیلنگز کا مزید مذاق نہیں بنواؤں گی، تو خدا کے لیے یہ میرے جُڑے ہاتھوں کو دیکھ لیں مجھ سے دور رہیں، مجھے چھونے کی ہمت مت کریں، اور نا ہی سبکے سامنے مجھ پر حق جتائیں، جتنے حق میں نے دیے تھے وہ اسی دن میں نے میری محبت کی قبر میں اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیے تھے اچھا ہو گا اپ بھی اس نام نہا رشتے کے کاغذوں پر سائن کر کے ختم کر دیں۔ ” وہ روتے ہوۓ ہاتھ جوڑ کر بولی، وقار نے نم نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ کچھ بول ہی نا پایا۔ تبھی عثمان کی گاڑی آ کر رُکی، علیزے نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے کال کی تھی وہ اسی وقت نکل گیا۔

“کیا ہوا علیزے” عثمان جلدی سے اسکے پاس آ کر بولا۔ وقار کو دیکھتے ہی اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ علیزے نے نفی میں سر ہلاتے عثمان کی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔

“اچھا ہو گا میری بہن سے دور رہو اور جو وہ کہتی یے وہی کرو، ورنہ” عثمان اسے سخت لہجے میں کہتا گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔ اور گاڑی چلا دی۔ وقار دور جاتی گاڑی کو دیکھتا رہا۔ ایک دم سے اسے چکر سا آیا، اسنے گاڑی کا سہارا لیا تبھی اسکا ہاتھ توٹے ہوۓ سائیڈ کے شیشے پر لگا، اسکی نوک اسکے ہتھیلی پر بری طرح سے چھبی، اپنا سر کو سھنمبالتا وہ گاڑی میں جا کر بیٹھا۔ اور گاڑی میں رکھی اپنی میڈیسن والی ڈبی کو اُٹھایا اور ایک گولی نکال کر منہ میں رکھی اور پانی سے نگلی۔ تھوڑی دیر بعد وہ تھورا بہتر ہوا تو گاڑی کو چلا دیا۔ گھر پہنچ کر وہ اپنے کمرے میں آیا۔ اور تھوڑی دیر کے لیے سو گیا۔

**************************************

آیان کیا ہوا کیوں رو رہے ہو؟” علیزے گھر پہنچی تو ایان کے کمرے میں اسے روتے ہوے دیکھا عابدہ بیگم اسے سھنمبال رہیں تھیں پر وی روے جا رہا تھا۔ وہ فوراً اسکے پاس آئی اور اسے گود میں لیا۔

“ڈیڈ کہاں ہیں؟ مجھے میرے ڈیڈ کے پاس جانا ہے” وہ روتے ہوۓ یہی الفاظ بول رہا تھا۔ علیزے نے عابدہ بیگم کی طرف دیکھا وہ کچھ سخت کہنا نہیں چاہتی تھی۔

“ایان رونا بند کرو اور سو جاو بیٹا کل اپکو سکول بھی تو جانا ہے” وہ اسکا چہرہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔ اور اسکے ماتھے پر پیار دیا۔

“نہیں مجھے ڈیڈ کے پاس جانا ہے” وہ روتے ہوۓ یہی الفاظ بول رہا تھا۔روتے ہوۓ اسکی ہچکی بندھ گئی۔ علیزے کچھ کر نہین سکتی تھی

“کل رات کو میرا پوتا میرے ساتھ ڈیڈ کے پاس جاے گا ٹھیک ہے” عابدہ بیگم نے اسے چپ کروانے کے لیے بولا۔ علیزے چپ ہی رہی۔

“پکا وعدہ” آیان ایک دم سیدھا ہو کر بولا۔ عابدہ بیگم نے ہاں مین سر ہلایا۔ اسنے ایک دم اپنے انسوں صاف کیے، اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔ علیزے کو حیرانگی ہوئی وہ اتنے سے دنوں میں کیسے اتنا اٹیچ ہو گیا۔

“خون کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں، وقت زیادہ نہیں چاہیے ہوتا، آیان کو شروع سے ایک باپ کی کمی محسوس ہوتی تھی، وقار کے آ جانے سے وہ کمی دور ہو گئی اور وہ اس سے اٹیچ ہو گیا، تم دونوں کے درمیان جو بھی جھگڑا ہے اسکا بچوں پر اثر پڑنے مت دو، اسے ملنے دیا کرو ویسے بھی ایک مہینا ہی ہے، یہ مت سوچنا میں اسکی سائیڈلے رہی ہوں، تم مجھے اس سے بھی زیادہ عزیز ہو، تم دونوں جو فیصلہ لو میں اس مین دخل اندازی نہیں کروں گی پر تب تک آیان کو اسکے باپ کی شفقت ملنے دو،اسے مت روکو” عابدہ بیگم نے اسکے سر پر پیار دیتے ہوۓ کہا۔اور کمرے سے نکل گئیں۔

“سبھی کو لگتا ہے مین غلط کر رہی ہوں پر اگر تم ان سے اٹیچ ہو گے تو تمہیں سھنمبالنا میرے لیے مشکل ہو جاۓ گا” علیزے ایان کے سوۓ ہوۓ چہرے کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ اور وہی اسکے پاس لیٹ گئی۔

**************************************

وقار نے پچھلے ایک ہفتے سے علیزے کو بالکل بھی تنگ نا کیا، بس کام کی بات کرتا وہ اس دن سے خاموش خاموش سا رہنے لگا، افس میں جتنے گھنٹے وہ ساتھ ہوتے وہ ہمیشہ کام میں مصروف نظر اتا۔اس بات میں کوئی دوراۓ نہیں تھا کہ وہ پوری لگن سے اپنا کام کرتا ، اسی کا نتیجہ تھا کہ امریکہ میں اسکی کمپنی کس مقام پر تھی۔ ابھی بھی وہ افس کے روم میں بیٹھا سامنے فائلز پھیلاۓ کام۔ کر رہا تھا۔ آفس کی وال شیشے کی بنی تھی اس سے باہر سب نظر آ رہا تھا۔ علیزے نے اپنے ٹیبل پر بیٹھے ادھر اُدھر دیکھا تو اسکی نظر سامنے کام میں ڈوبے ہوۓ وقار پر پڑی، بلو پینٹ کوٹ (جسکا کوٹ اسکی کرسی کی بیگ پر لٹکا ہوا تھا) بالوں کو سیٹ کیے، انکھوں پر نظر کے گلاسس لگاۓ وہ ہاتھ میں پکڑی بال پوائینٹ کو انگلی میں گھماۓ ماتھے پر بل ڈالے فائل کو پرھ رہا تھا۔ علیزے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ چاہتے ہوۓ بھی وہ نظریں ہٹا نہیں پا رہی تھی۔

“علیزے، لنچ میں کیا کھاؤ گی سبھی منگوا رہے ہیں” تبھی معاز کی اواز نے اسے اس منظر کے سہر سے نکالا۔ وہ چونکی اور اسکی طرف مڑی۔

“ہاں کچھ بھی منگوا لو” وہ خود کو سھنمبالتے ہوۓ بولی۔ معاز نے کھانا آڈر کیا۔

“یہ سب کیسے ہو سکتا ہے؟ کسی کو اس بارے میں پتہ کیوں نہیں” وقار اپنے سامنے کھلی فائلز کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ ابھی ابھی جو اسنے پرھا تھا اسے پرھ کر وہ بے حد پریشان ہوا تھا وہ فائل کو بند کرتا کھڑا ہوا، اور ٹیبل پر پڑی گاڑی کی چابی اُٹھائی، اور موبائل سے کسی بندے کو کال ملائی۔ اسے تھوڑی ہی دیر میں ایک جگہ پر ملنے کا کہا۔ اور خود وہ کمرے سے باہر آیا، سبھی اپنے کام میں مصروف تھے، وقار نے ایک نظر سب کو دیکھا اور چپکے سے وہاں سے چلا گیا۔ علیزے نے اسکا جانا نوٹ کیا۔

************************************

“طلحہ صاحب اپنے ریسٹورینٹ کے آفس میں بیٹھے ہوۓ تھے، انکے سامنے چار باڈی بلڈر آدمی بیٹھے تھے۔

” بتا ہمارے پیسے کب واپس دے گا؟” ان میں سے ایک آدمی بھادی آواز میں بولا۔ طلحہ صاحب نے زبان تر کی۔

“ایک ہفتے کا وقت دے دو میں دے دوں گا” طلحہ صاحب نے ہمت کر کے جواب دیا۔

“ایک ایک ہفتہ بول کر تین مہینے گزر گے، سالے اب یہ تیرے پاس آخری موقع ہے ورنہ تو بہت اچھے سے جانتا ہے ہمارے باس کیا کریں گے، آئی سمجھ” اسی آدمی نے طلحہ صاحب کا کالر پکڑتے ہوۓ کہا۔ تبھی دروازہ کھول کر وقار اندر آیا۔ اسکے ہاتھ میں وہی فائل تھی۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ فوراً آگے بڑھا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو انہیں” اسنے طلحہ صاحب کا کالر اس آدمی سے چھڑوایا۔

“ابے ہیرو دور رہ ورنہ گولی چلانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگے گا، اور تو ایک ہفتے میں سارے پیسے واپس کر ورنہ یہی تجھے آ کر گھاڑ دوں گا” وہ آدمی وارنگ دیتے ہوے بولا۔ اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔ انکے جاتے ہی طلحہ صاحب اپنی کرسی پر دھے سے گے۔

“چاچو آپ ٹھیک تو ہیں” وقار نے جلدی سے پانی کا گلاس انہیں پکڑایا۔

“ہمم ٹھیک ہوں” انہوں نے پانی پیتے ہوۓ کہا۔

“چاچو یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اور یہ لوگ کون تھے؟ کون سے پیسے واپس کرنے ہیں؟” وقار کو بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ طلحہ صاحب نے شرمندگی سے اسے دیکھا اور گردن جھکا لی۔

“چاچو میں کچھ پوچھ رہا ہوں، چاچو کہی اسی وجہ سے تو آپ نے کمپنی کے اکاؤنٹ سے ڈھیڈ کڑوڑ روپے تو نہیں نکالے؟” وقار کرسی گھسیٹ کر انکے پاس بیتھتے ہوۓ بولا۔

“تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں نے پیسے نکالے ہیں؟” طلحہ صاحب نے اسکے یوں اچانک سوال پر پلٹ کر کہا۔

“اج میں کمپنی کی فائینشنل سٹیٹس کے بارے میں سب دیکھ رہا تھا وہی ایک فائل میں ایک کڑور روپے نکالنے جانے والی سٹیٹمنٹ پڑھی، مجھے نہیں لگتا اسے کسی نے پہلے پرھا ہو گا، اور آتے وقت کمپنی کے وکیل سے مل کر آیا ہوں اسی نے اپکا نام لیا اب آپ جود سب سچ بتا دیں یہ سب کیوں کیا” وقار نے ساری بات بتا دی۔ اسکی بات سن کر طلحہ صاحب نے اپنا سر ہاتھوں پر گِڑا دیا اور رونے لگے۔

“چاچو یار کیا ہو گیا؟ بتائیں کیا بات ہے؟ ہو سکتا ہے میں مدد کر سکوں ” وقار نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے انہیں چپ کروانے کی کوشش کی طلحہ صاحب سیدھے ہوۓ اور ٹیشو سے اپنا چہرہ صاف کیا۔
اگلی قسط کل