Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

“وہ سر سر آپ پلیز میک اپ روم میں جا کر خود دیکھ لیں” اس لڑکی سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔ وقار میک اپ روم کی طرف بڑھا۔ جہاں دو ماڈلز کا میک اپ ہو چکا تھا۔ اور ڈوپٹہ سیٹ ہو رہا تھا۔ اور وہ دونوں آخری تھیں باقی سب تیار تھیں۔

“کیا ہوا؟” وہ اندر داخل ہوا تو سامنے علیزے کا چہرہ رونے والا ہو چکا تھا۔ باقی سب بھی پریشان تھے۔ وقار اگے بڑھا۔

“غلطی،،، سے ہوو گیا۔۔۔۔ جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔” علیزے ہکلاتے ہوۓ بولی۔ وقار نے شو ٹاپر ماڈل کی طرف دیکھا۔ جسکے ڈریس پر میک اپ کٹ جیسے انڈھیل دی گئی تھی۔ اسکا سامنے ڈریس کا کافی حصہ خراب ہو چکا تھا۔ اور پریشانی والی بات یہ تھی، کہ اس ڈریس کا لائیٹ پنک کلر تھا، مکمل کام ہوا تھا پنک کلر کی گھیرے والی فراق تھی۔

“اسکا کوئی حل ہے؟” وقار نے اتنے خوبصورت ڈریس کا ستاناس ہوتے دیکھ صبر کا گھونٹ بھرتے ہوۓ پوچھا۔ ابھی اگر وہ غصہ کرتا تو اسکا حل نا نکال پاتا۔ اپنے غصے کو پیتے ہوۓ اسنے پوچھا تھا۔ باہر شو شروع ہو چکا تھا۔ انکے پاس وقت بہت کم تھا۔

” سر ڈریس سامنے سے خراب ہوا ہے، اسکا کیا حل نکال سکتے ہیں سمجھ نہیں آ رہی” میک اپ آرٹس نے کہا۔ دوسری ماڈل فوٹو شوٹ کروانے چلی گئی کیونکہ وقت بہت کم تھا۔ اور پہلے ہی دیر ہو چکی تھی۔

“وووقار میںنن نے جان بوجھ کر نہیں کیا، میں تو بس اپنی رنگ نیچے سے پکڑ کر کھڑی ہو رہی تھی، میک اپ کٹ کھلی تھی پتہ نہیں کیسے وہ اس پر گڑ گئی، اور سب خراب ہو گیا میں نے سب خراب کر دیا۔ اب کیا ہو گا، باہر کیسے جائیں گے” علیزے کا چہرہ پیلا پڑ چکا تھا۔ وہ ہلکا سا کانپ رہی تھی۔ آج پہلی بار اس سے اتنی بری غلطی ہوئی تھی۔

“علیزے ریکس! میں دیکھتا ہوں کیا ہو سکتا ہے” وقار نے اسے یوں ری ایکٹ کرتے دیکھ کہا۔ تا کہ وہ زیادہ ٹینشن نا لے۔

“ہم اسکے ڈوپٹے کا کسی طریقے سیٹ نہیں کر سکتے جس سے یہ نشان چھپ جاۓ” وقار میک اپ آرٹسٹ کی طرف پلٹتے ہوۓ بولا۔

“ڈوپٹہ تو پیچھے ہی سیٹ ہو گا، اگے کیسے لے کر آ سکتے ہیں وہ اچھا نہیں لگے گا کافی پرانا لک ہے، اور سامنے والا کام چھپ جاۓ گا” میک اپ آرٹسٹ ڈوپٹے کا معائنہ کرتے ہوۓ بولی۔

“نہیں! ہم وہی پرانا لُک کریں گے فراق ہے تو سوٹ کر جاۓ گا، ڈوپٹے کے باڈرز کو اچھے سے سیٹ کریں۔ تا کہ جو کام چھپ رہا ہے وہ بارڈرز کی وجہ سے زیادہ فیل نا ہو اور اگے دوپٹہ سیٹ کر کے سر پر دیں، لک اچھا لگے گا، تھوڑا سا پرانا ٹیسٹ بھی آۓ گا جہاں باقی سب نئے طریقے سے ریڈی ہیں وہاں یہ ایک الگ چھاپ چھوڑے گا” وقار نے جلدی جلدی مسلے کا حل نکال دیا۔ میک اپ آرٹسٹ نے جلدی سے ڈوپٹے کو اسی طرح سیٹ کیا، جس سے واقع میں وہ اچھا لگنے لگ گیا۔

“ہممم ٹھیک ہے، پرابلم حل ہوئی آپ جا کر فوٹو شوٹ کروائیں پانچ منٹ ہی ہیں” وقار نے ٹائم دیکھتے ہوۓ کہا۔ کیونکہ باہر ایک ایک کر کے ماڈلز جا رہیں تھیں۔ سب سھنمبال کر وقار علیزے کی طرف پلٹا۔ جو چہری جھکاے یقیناً رو رہی تھی۔

“علیزے! ریکس سب ٹھیک ہو گیا ہے، رونے کا کیا مطلب؟” وقار ہلکا سا اسکی طرف جھک کر اسکا چہرا اوپر کرتے ہوۓ بولا۔

“میری وجہ سے آج سب خراب ہو جاتا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ وقار نے گہرا سانس لیا۔

“ایسی سچویشن پر رونے سے یا گھبڑا جانے سے کام نہیں چلتا، اپنے دماغ کو ریکس رکھ کر مسلے کا حل سوچنا چاہیےاگر خود پینک ہو جاؤ گی تو سب کیسے سھنمبال پاؤ گی، دنیا میں ایسی کائی پرابلم نہیں جسکا حل نا ہو، ہم سب ٹھیک کر سکتے ہیں، اگر اپنے آپ پر اس سچویشن میں قابو رکھ کر سوچیں۔ ائی سمجھ میری جھلی بیگم ” وقار نے اسکے آنسوں اپنے ہاتھ کی پوروں پر چنتے ہوۓ نرم لہجے میں بولا۔ اور آخر میں ہلکا سا مسکرایا۔ علیزے نے نم نظروں سے اسکی گہری آنکھوں میں دیکھا، ایک سیکنڈ سے زیادہ اس سے دیکھا نا گیا۔ اسنے نظریں چرا لیں۔

“میری بیگم کا میک اپ فریش کر دیں، ابھی تھوڑی دیر میں سٹیج پر بھی جانا ہے” وقار نے علیزے کی کلائی پکڑ کر اسے خالی کرسی پر بیٹھایا اور میک اپ آرٹسٹ کو بولا۔ جو انکی بات سن کر مسکرائی۔ وہ علیزے کو دیکھتا مسکرا کر پلٹ کر چلا گیا۔

“آپ بہت لکی ہیں لگتا ہے سر آپ سے بہت محبت کرتے ہیں، آجکل کے زمانے میں سر جیسا لائف پاٹنر ملنا بہت مشکل ہے،اپکی غلطی تھی پر اپکو ایک لفظ نہیں بولا” میک کرنے والی لڑکی اسکا میک اپ صحیح کرتے ہوۓ بول رہی تھی۔ اور علیزے اسکی بات سن کر گہری سوچ میں پڑ گئی۔

تھوڑی دیر بعد جب ساری ماڈلز نے ریمپ واک کر لی، تب ڈیزائنر علیزے اور کمپنی کے اونر عثمان کو بلایا گیا۔ وہ دونوں ساری ماڈلز کے ساتھ چلتے ریمپ پر واک کرنے لگے۔ عثمان نے مائیک پکڑ کر سب کا شکریہ ادا کیا۔ اسکے بعد علیزے مائیک پکڑے بول رہی تھی۔ وقار سامنے کھڑا مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ بہت ہی اچھے طریقے سے ایونٹ ختم ہوا۔ اہستہ آہستہ سبھی چلے گے۔

“ماشااللہ سب بہت ہی اچھے سے ہی گیا۔ اور ڈریسز اتنے خوبصورت تھے، اور جو آخر میں شو ٹاپر نے پہنا تھا وہ تو بہت ہی کمال کا تھا” اشرف صاحب تالیاں بجاتے وقار، عثمان اور علیزے کے پاس آۓ۔

“اتنی محنت جو کی تھی شو تو اچھا ہونا تھا یہ کلیکشن کمال کرے گی” عثمان مسکرا کر بولا۔

“وقار یہ سب تمہارے بغیر کبھی ممکن نا ہوتا، اگر تم اپنے ڈیزائینز ہمیں نا دیتے اور خود اپنے انڈر سارے ڈریسز نا بنواتے تو یہ سب ممکن نا تھا” حشمت صاحب نے وقار کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ شکریہ ادا کیا۔ عثمان کے چہرے کے زاویے بگڑے۔

“آغا جان کیسی باتیں کرتے ہیں، میرا سب کچھ آپ لوگوں کی وجہ سے تو ہے تو اس میں شکریہ ادا کر کے پھر آپ مجھے باقی سب کی طرح پرایا سمجھ رہے ہیں” وقار نے انکا ہاتھ چومتے ہوۓ کہا۔ اسکی آخری بات علیزے اور عثمان کے لیے تھی۔

“ہم نے تو ہمیشہ اپنا ہی سمجھا تھا تم نے ہی پرائیوں سے بدتر سلوک کر کے ہمارے چہروں پر تماچا مارا تھا” عثمان نے طنز سے بھرے انداز میں کہا۔ سبھی چپ سے ہو گے

“معاز چلو میرے ساتھ سبکو پے منٹ کرنی یے” عثمان کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

“ابا جان چلیں گھر چلتے ہیں اپکی طبعیت خراب ہو جاۓ گی۔ بہت دیر سے یہی بیٹھے ہیں” اشرف صاحب نے حشمت صاحب کو کہا جو وقار کو دیکھ رہے تھے۔ جسکا چہرہ اتر سا گیا تھا۔ انہیں اس وقت اپنے پوتے کی حالت دیکھ دکھ لگا۔ وہ اشرف صاحب کے ساتھ چلے گے۔ وقار نے فضا میں گہرا سانس لیا۔

“چاچو کے کیس میں کیا پلین بنایا؟” علیزے وقار کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات سن کر وہ چونکا۔ اور پھر اپنا ماتھا مسلا۔

“ہاں بنا لیا ہے، پرسوں جاؤ گا” وہ اپنا کوٹ اتار کر ٹائی کی نٹ کو ڈھیلا کرتے ہوۓ بولا۔

“جاؤ گا کا کیا مطلب اکیلے جائیں گے ؟” علیزے اسکا اکیلے جانے پر فوراَ بولی۔

“تو کیا پوری پلٹن کو ساتھ لے کر جاؤ، چاچو ٹھیک نہیں ہیں انہیں لے کر جانا بے وقوفی ہے، انکے بی ہاف پر میں جاؤں گا” وقار پاکٹ سے موبائل نکاتے ہوۓ کہا۔ تبھی اسکے موبائل پر مریم بی کی کال آئی۔

“ہاں مریم بی بولیں ” علیزے کچھ بولنے والی تھی اسکو اشارے سے چپ کرواتے وقار نے کال رسیو کی۔

“کب سے بخار ہے، اچھا تو کوئی دوائی نہیں دی؟ میں ڈاکٹر کو کے کر بس پہنچتا ہوں،آپ پریشان مت ہو،؟” کال پر مریم بی بتا رہی تھی کہ زینب کو کافی بخار ہو گیا ہے۔ اسکی طبعیت کافی خراب تھی۔ وہ جلدی سے باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ علیزے بھی اسکے پیچھے آئی۔

“کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے نا” وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا، علیزے کو لگا شائد ایان کی طبعیت خراب ہو گئی ہے۔ صبح آیان کی ضد پر وہ اسے وقار کے گھر پر چھوڑ آئی تھی۔ وہ زینب کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔

“نہیں زینب کو بخار ہو گیا ہے، یہاں کی آبو ہوا شائد سوٹ نہین کی ، کافی دن سے پیٹ میں بھی درد بتا رہی تھی۔ میں ہی لاپرواہی میں لیتا رہا” وقار بہت پریشان ہو گیا تھا۔ اسنےاپنے ایک دوست جو کہ ڈاکٹر تھا اسے کال کی اور گھر کا ایڈریس دیا۔ اور خود گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔

“ریلکس وہ ٹھیک ہو جاۓ گی” علیزے نے اسے اتنا زیادہ پریشان کبھی نہیں دیکھا تھا۔ گاڑی چلاتے ہوۓ اسکے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔ وہ زینب کو لے کر کافی پروٹیکٹو نظر ا رہا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں گاڑی اسکے گھر کے اندر رکی۔ ڈاکٹر بھی پہنچ چکا تھا۔ وقار بھاگتا ہوا اندر آیا۔ وہ اسکے کمرے میں بیڈ پر بخار میں تپ رہی تھی، اور رو رہی تھی۔ اور آیان اسکا ہاتھ پکڑے بیٹھا رو رہا تھا۔ مریم بی زینب کا سر دبا رہیں تھیں۔ علیزے آیان کے پاس گئی، آیان علیزے کو دیکھتے ہی اسکے سینے سے لگ گیا۔

“زینب آپی ٹھیک تو ہو جائیں گی” وہ روتے ہوۓ بولا۔ علیزے نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔ آج پہلی بار وہ آیان کی یہ سائیڈ دیکھ رہی تھی اسے اب اندازہ ہو رہا تھا زنیب اور وقار کے ساتھ وہ کس حد تک اٹیچ ہو گیا ہے۔

“زنیب! پرنسس کیا ہوا؟ ڈیڈ آ گے ہیں، تم ٹھیک ہو جاؤ گی” وقار نے زینب کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔ ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ کیا۔ اتنے بخار میں انجکشن تو لگا نہیں سکتے تھے تو پہلے ٹھنڈی پٹیاں کر کے بخار کم کیا، اور پھر انجکشن لگایا۔ اور ساتھ میں دوائی دی۔ ڈاکٹر اپنا کام کر کے چلا گیا۔

“مریم بی آپ جائیں سو جائیں میں یہی ہوں” وقار نے کب سے بیٹھیں مریم بی کو کہا۔ وہ سر ہلاتی چلی گئیں۔ زنیب کا بخار اب قدے کم تھا وہ دوائی جے زیر اثر سو رہی تھی۔ آیان اسکے پاس بیٹھا اسکا سر دبا رہا تھا۔

“علیزے، آیان چلو میں تم دونوں کو چھوڑ آؤں” وقار گاڑی کی چابی پکڑتے ہوۓ بولا۔ علیزے صوفے سے کھڑی ہوئی اور پاؤں میں اپنا جوتا پہنا۔

“مجھے آپی کے پاس رہنا ہے، مجھے نہیں جانا جب تک آپی ٹھیک نہیں ہو جاتیں، اگر میرے جاتے ہی وہ پھر بیمار ہو گئیں تو۔۔” آیان اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے زینب کا ہاتھ زور سے پکڑتے ہوۓ۔ بولا اسکے لہجے میں ڈر تھا۔

“آیان اپکو صبح سکول بھی جانا ہے، چلو گھر چلیں” علیزے نے اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ کہا۔

“نہیں جاؤ گا، وہ گھر دادا جی کا ہے یہ گھر میرے ڈیڈ کا ہے، یہی رہوں گا” وہ ضدی انداز میں بولا۔ وقار کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔ علیزے کا میٹر گھوما

“تمہیں یہ سب بتاتیں کون سیکھاتا ہے تین فٹ کے تم خو دہو اور باتیں اتنی بری بری کرتے ہو چلو اُٹھو” علیزے کو اب آیان پر غصہ آرہا تھا،

“یہ مجھے نیند کیوں آ رہی ہے، میری آنکھیں بند ہو رہی ہیں کھل نہین رہیں” اسکی بات سنتا آیان اپنے اوپر کمبل لے کر سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ بولا۔ علیزے مزید کچھ بولتی۔ وقار نے اسکو بازو سے پکڑا اور کمرے سے باہر لے ایا۔

“تھوڑی دیر میں وہ سو جاۓ گا میں تم دونوں کو چھوڑ آؤں گا” وقار اسے شانت کرنے کے لیے بولا۔

“اگر بھائی کو پتہ چلا کہ مین یہاں ہو الگ لڑائی شروع کر لیں گے” علیزے تھک کر اصل وجہ پر آئی۔

“تم کوئی گناہ نہیں کر رہی، اپنے نام نہاد شوہر کے گھر میں ہو ڈرنے کی کیا بات ہے، تھوڑی دیر میں وہ سو جاۓ گا میں چھوڑ آؤں گا” وقار اسکا بازو چھوڑتا ہلکے پھلکے انداز میں بول کر واپس کمرے میں چلا گیا۔ علیزے کو نا چارہ اندر جانا پڑا۔ وقار فریش ہونے چلا۔ گیا۔ علیزے اپنے جوتے اتارتی آیان کے پاس آ کر بیٹھی۔

“ماما، سٹوری سناؤ” آیان اسکی طرف دیکھ کر معصوم چہرہ بناتے ہوۓ بولی۔ علیزے نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اور صحیح سے کمبل کو ٹانگوں پر لیتی تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھی، اور ایان کے بالوں میں ہاتھ چلاتی وہ اسکو سٹوری سنانے لگے۔ اسکی نظر زنیب پر پڑی، جسکا چہرہ لال تھا۔ اسنے اگے ہو کر اسکے ماتھے پر اور پھر گال پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بخار چیک کیا۔ تبھی وقار واشروم سے باہر نکلا۔ وہ علیزے کا زینب کو چیک کرنا دیکھ چکا تھا۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔ علیزے کے اندر کا نرم دل اب شائد پگھلنے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا اس دن زینب سے جسطرح اسنے بات کی اسکے لیے وہ گلٹی فیل کر رہی تھی۔ سامنے بیڈ پر ان تینوں کو دیکھ کر وقار کو اپنا خواب سچ ہوتا دیکھائی دیا۔ یا یوں مانو اسکی ایک جھلک نظر آئی۔ وہ چلتا ہوا زینب کے پاس بیڈ پر علیزے کے انداز میں بیٹھ گیا۔ اور آیان کو سٹوری سناتی علیزے کو یک ٹک دیکھنے لگا۔ علیزے نے دو بار اسے گھورا پر یہاں فرق کسے پڑ رہا تھا۔

کہانی سناتے سناتے کب علیزے کی آنکھ لگ گئی۔ وہ بھی نہیں جانتی تھی، کافی دنوں سے وہ ٹھیک سے سو نا پائی تھی اور آج بھی بھر وہ مصروف رہی اور کافی تھک گئی تھی۔ وقار زینب پر کمبل برابر کرتے ہوۓ اُٹھا اور علیزے کے پاس آیا۔ اسے ٹھیک سے بیڈ پر لٹایا۔

“میڈیم کیسے جانے کا بول رہی تھی، اور اب دیکھو کیسے بے فکر ہو کر سو گئی، تمہاری ابھی بھی جھٹ سے سو جانے والی عادت گئی نہیں” وقار اس پر کمبل برابر کرتے ہوۓ ہولے سے بولا۔ اور وہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔
جاری ہے۔۔۔