No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“رامین ، رامین ” عثمان اونچی آواز میں رامین کو بُلا رہا تھا وہ کچن میں سالن بنا رہی تھی۔ چولہے کو دھیما کرتی وہ بھاگ کر کمرے مین پہنچ جہاں عثمان کچھ ڈھونڈا رہا تھا۔
“کیا ہوا کچھ چاہیے؟” وہ کمرے میں داخل ہوتی بولی۔
“میرا وائلٹ ٹائی، شوز کچھ بھی نہیں مل رہا جلدی ڈھونڈ کر دو” وہ چیزوں کو الٹ پُلٹ کرتے ہوۓ بول رہا تھا۔
“دیتی ہوں” رامین نے جلدی جلدی چیزیں ڈھونڈنی شروع کیں۔
“دیکھ رہا ہو آجکل تم میرا کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر رہی، وجہ بھی بہت اچھے سے جانتا ہوں، تمہارا چہیتا بھائی جو آ گیا، اسی کی خاطر مدارت میں مصروف ہو گی، ویسے تم تو کافی خوش ہو گی سالوں بعد اپنے بھائی سے مل رہی ہو برا انتظار کیا تھا بری دعائیں بھی مانگیں تھیں” عثمان بھرپور طنز مار رہا تھا۔
“آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں، میں نے تو اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی”رامین چیزیں اسکو پکڑاتے ہوۓ بولی۔
” او تو دکھ اس بات کا ہے ٹھیک سے بات نہیں ہوئی جاؤ آرام سے باتیں کرو، اور خالہ ہونے کا پورا فرض بھی ادا کرنا” وہ جوتے پہنتا غصے سے بھرے انداز میں بولا۔ رامین نے بیڈ پر پڑا اسکا کوٹ اسے پہنایا۔
” جتنا غصہ آپکو اس پر ہے اس سے ہزار گنا زیادہ غصہ مجھے ہے۔ تو فکر مت کریں میں نے اسے معاف نہیں کیا” سائیڈ ٹیبل پر پڑی گھڑی پکڑ کر اسکی کلائی پر باندھیتے ہوۓ ہولے سے بولی۔
“بھروسہ تو تم پر بھی نہیں آخر کو بہن تو اسی کی ہو نا” عثمان نے ہاتھ کھینچتے ہوۓ کہا۔ رامین کے ہاتھ وہی ٹھہر گے۔ عثمان اپنا لیپ ٹاپ بیگ پکڑتا کمرے سے نکل گیا۔ وہ پچھلے پانچ سال سے کئی بار اسے اسطرح کے طعنے مارتا رہا تھا۔ پر آج وہ کچھ زیادہ ہی بول گیا۔ رامین کو اسکی آخری بات بہت بری لگی۔ آنکھوں میں آنسوں بھی آۓ، پر اسنے سر جھٹک کر قدم کمرے سے باہر رکھے۔
وقار کو یہاں آۓ ایک ہفتہ ہو گیا تھا ہاشم صاحب کی طبعیت کافی بہتر ہو گئی تھی۔ وقار زیادہ وقت انہی کے ساتھ بیتاتا، زینب حشمت صاحب کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی،عروج اور شہیر اسے روز کہی نا کہی گھمانے لے جاتے تھے۔ عابدہ بیگم کا رویہ ویسا ہی تھا، عثمان کا ٹکراؤ جب بھی وقار سے ہوتا وہ کوئی نا کوئی طنز مار کر جاتا۔ ایک ہفتے میں مشل کی شادی تھی، سبھی اسکی شادی کی تیاریوں میں حد درجے مصروف تھے کسی کو سر کھجانے تک کا وقت نہیں تھا۔
“ہاں بولو عثمان کیا مسلہ ہو گیا؟” وہ اس وقت اسٹڈی میں بیٹھے عثمان سے بات کر رہے تھے۔
“بابا ہم جو پرانے سٹورؤں کے دکانداروں کی ڈیمانڈ پر دوبارہ سے سوٹ بنا رہے تھے اس میں دو نمبر کا مال استعمال کیا گیا ہے، کپڑا بہت ہلکا ہے جو ہماری کوائیلٹی کے ساتھ بالکل میچ نہیں کر رہا ،یہ مجھے بھی آج ہی معلوم ہوا، کافی کسٹمرز نے ایسا ریویو دیا ہے۔” عثمان بحی کافی پریشان لگ رہا تھا۔
“پر ہم سے اتنی بری غلطی کیسے ہو سکتی ہے، اس سے تم جانتے ہے مارکیٹ میں ہمارا نام کیسے برباد ہو سکتا ہے” عثمان کی بات سنتے ہی وہ پریشان ہوۓ تھے۔ آج تک انکی کمپنی نے بہت نام کمایا تھا۔۔ یہ سب وہ افوڈ نہیں کر سکتے تھے وہ سالوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری چلا رہے تھے۔ انکے بناۓ ہزاروں کپڑوں کے ڈیزائینز مارکیٹ میں پہلی پوزیشن پر رہے تھے۔
“مجھے بس ڈر اس بات کا ہے، کہی یہ بات میڈیا میں ریلیز نا ہو جاۓ بہت زیادہ بدنامی ہو گی” اشرف صاحب کافی پریشانی میں لگ رہے تھے۔
“نہیں اۓ گی میں نے باقی بچے سارے آڈرز کینسل کر دیے ہیں ان دکانداروں سے بھی بات کر لی ہے جو جہاں ڈیلیوری ہوئی ہے، بس اب یہ بات ہمارے معالفین تک نا پہنچے ورنہ وہ بہت برے طریقے سے اس چیز کو پوٹرے کریں گے” عثمان اپنا سر دباتے ہوے بولا کیونکہ سبھی جانے تھے انکا حمدانی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے کافی پنگا ہے، دونوں ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کرتے، ایک دوسرے سے اگے نکلنے کے چکر میں دونوں کی کافی بار بحث ہو چکی ہے اور اب تو وہ بس موقعے کی تلاش میں تھے۔
“گھر میں کسی کو اس بات کی خبر نا لگے سبھی پریشان ہو جائیں گے، کل میں خود جا کر سارا معاملا دیکھوں گا۔” اشرف صاحب نے اپنی عینک اتارتے انکھوں کو دباتے ہوۓ کہا۔ عثمان نے ہاں میں سر ہلایا۔
مما میں تو وہی ڈریس لوں گی بس ڈن ہو گیا” عروج اپنے موبائل پر لہنگے کی تصویر دیکھتے ہوۓ بولی۔ شام کے وقت وہ سب لاونج میں بیٹھے کپروں پر ڈسکیش کر رہے تھے۔
“شادی مشل کی ہے نا کہ تمہاری جو اتنا بھاری لہنگا پہنوں گی، اوپر سے اتنا مہنگا توبہ کوئی فضول خرچی کرنے کی ضرورت نہیں” عابدہ بیگم نے اسے لتارا تھا
“کیا مما لینے دیں نا، میری آخری بہن کی شادی ہے، اس میں بھی میں ارمان پورے نا کروں یہ تو صحیح نہیں کیوں علیزے آپی” عروج نے مسکرا کر باتیں سنتی اور آیان کو کھانا کھیلاتی علیزے کو بھی درمیان میں گھسیٹا کہی وہ ہی شفارش کر دے۔
“اب یہ تو چچی جان پر ڈپینڈ کرتا ہے میں کیا کر سکتی ہوں” علیزے نے کندھے اچکاتے ہوے کہا۔
“علیزے تم نے ابھی تک ایک بھی ڈریس نہیں لیا کل تم میرے ساتھ جاؤ گی شاپنگ پر” عابدہ بیگم کو ایک دم سے خیال آیا۔
“چچی خود لے آئے گا پلیز شاپنگ پر بہت ٹائم لگتا ہے ” شاپنگ کا سنتے ہی علیزے نے کنارہ کیا۔ کیونکہ سبھی جانتے تھے وہ شروع سے شاپنگ پر جانے سے کتنا چڑتی ہے
“مما مجھے لے جاؤ اور میرے پسند کا لہنگا دلا دو پلیز میرے بہت ارمان ہیں اپنی پیاری سی بہن کی شادی پر حد سے زیادہ خوبصورت لگنے کے” عروج نے جب اپنے آپ کو اگنور ہوتے دیکھا تو فوراً دوبار درمیان میں بولی۔
“تم اپنے سارے ارمان اپنی شادی پر پورا کرنا” شگفتہ بیگم نے مسکراتے ہوے اسے چھیڑا۔
“کیا چچی اپنی شادی پر میں ایک لاکھ کا لہنگا تھوڑی پہنوں گی تب تو دس بارہ لاکھ کا ڈریس تو پہنوں گی” عروج اپنے بال جھٹکتے ہوۓ بولی۔
“غضب خدا کا کتنی بے شرم لڑکی ہے، کیسے اپنی شادی کی باتیں کر رہی ہے” عابدہ بیگم نے اپنا جوتا اسکی طرف پھیکنتے ہوے کہا۔
“کیا ہے ایک ڈریس ہی تو مانگا ہے اس پر بھی اتنا سنا رہے ہیں” عروج رو دی۔
“عروج گڑیا میں لے دوں گا بتاؤ کہاں سے ڈریس لینا ہے” وقار جو کہ اپنے کمرے سے نکل کر نیچے آ رہا تھا آخر کی کچھ لائین اس نے سن لیں۔ اور عروج کو روتے دیکھ وہ فوراًان سب کے پاس آتے ہوۓ بولا۔
“او میں تو اپنے بھائی جان کو بھول ہی گئی تھی پہلے یاد ہوتا تو ان سے اتنی منتین نا کرتی فوراً آپ سے ا کر فرمائش کرتی” عروج اسکے گلے لگتے ہوۓ بولی۔ علیزے نے ایک نظر اسے دیکھا اور چہرہ موڑ لیا۔
“جب بھی کچھ چاہیے ہو پورے حق سے مانگنا میں پوری کوشش کروں گا تمہیں وہ سب دے سکوں، اپنی بہنوں کی خوشی کے لیے سب کروں گا” وقار اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔ عروج مسکرا دی۔
“اگر بہنوں کی خوشی کی پرواہ ہوتی تو وہ سب نا کرتے، اور یہ اپنے پیسوں کا روب کہی اور جا کر دیکھاؤ، جو ضدیں بچوں کی بھلائی میں نا ہو وہ ہم پوری نہیں کرتے” عابدہ بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ماحول میں خاموشی سی چھا گئی۔
“میں نے ہمیشہ وہی کیا جو میری بہنوں کے لیے اچھا ہو” وقار نے اپنی صفائی میں کچھ بولنا چاہا۔
“امی رہنے دیں ایک ایسے انسان کے سامنے بلاوجہ مت بولا کریں جسے ہر چیز میں صرف اپنا آپ ہی دکھتا ہو، اور آئندہ یہ مت بولنا میں نے ہمیشہ وہی کیا جو میری بہنوں کے لیے اچھا ہو، کیونکہ تم اسکے بلکل آپوزیٹ ہو” رامین ایک دم غصے میں بولتی کیچن سے نکلتی۔ وقار نے مڑ کر رامین کو دیکھا جو اُس دن کا اب جا کر اس سے مخاطب ہوئی تھی۔ علیزے کو معاملا اب خراب ہوتا محسوس ہوا۔
“کیا مطلب ہے آپکا؟” وقار نے ناسمجھی سے کہا۔ زینب اپنے کمرے سے نکلی سیڑھیوں کے پاس کھڑی ہو گئی۔
“واہ کتنے بھولے بن رہے ہو، تمہیں زرا احساس ہے تمہاری گھٹیا حرکت کی وجہ سے پچھلے پانچ سالوں سے ہم سب کیا فیس کر رہے ہیں، تم انتہائی درجے کے شیلفیش انسان ہو، جب امریکہ میں شادی کی تب بھی تم نے اپنے بارے میں ہی سوچا اور جب اس رات تم بھاگے تب بھی اپنے بارے میں سوچا، اپنی بیوی علیزے کے بارے میں نہیں سوچا ہم سب کے بارے میں نہیں سوچا۔ سوچا تو صرف اپنی اس امریکن بیوی اور اپنی بیٹی کے بارے میں۔ پتہ پچھلے پانچ سالوں سے میں کیا سنتی آ رہی ہو، ارے تمہارا بھائی تو دھوکے باز ۔خدا کے لیے وقار خدا کے لیے اب بھی واپس چلے جاؤ ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تمہارے ساتھ رہنا اپنی بیٹی کو لو اور وہی چلے جاؤ ” رامین بولتے بولتے رو دی تھی۔ اسکے لہجے میں چھپا درد واضع محسوس ہو رہا تھا۔
“آپی! میری بات” وہ بولنے ہی والا تھا جب رامین بنا اسکی سنے مڑ گئی۔ ہاشم صاحب اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑے سب سن رہے تھے۔ وقار کی نظر زینب پر اور ہاشم صاحب پر پڑی۔ وہ شرمندگی کے عالم میں لاونچ سے باہر جانے لگا جب داخلی دروازے پر عثمان اور اشرف صاحب کھڑے تھے یقیناً وہ سب سن چکے تھے۔عثمان نے طنزیہ انداز میں اسے دیکھا۔ وقار واپس پلٹا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ۔زینب چپکے سے واپس کمرے میں چلی گئی۔
*”””””
” کیا ہوا آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟” علیزے نے آیان کے ضد کرنے پر باہر گارڈن میں کھیلنے آئی تھی جب اسکی نظر چپ سی کرسی پر بیٹھی زینب پر پڑی۔
“میں کچھ سوچ رہی تھی” وہ علیزے کے پکارنے پر چونک کر بولی اور سیدھی ہو کر بیٹھی۔ ۔
“اچھا جی کیا سوچ رہیں تھیں؟” علیزے کا دل چاہا اس سے بات کرے وہ اسے کافی پریشان سی لگی شائد اس گھر میں ہوئی باتوں کو لے کر پریشان تھی۔
” امریکہ میں تو ڈیڈ مجھے کہتے تھے پاکستان میں بہت اچھے لوگ رہتے ہیں، دادا آغا جی، پھپھو چاچو سبھی کے بارے میں بتایا تھا۔ پر مجھے لگتا ہے ڈیڈ نے جھوٹ بولا یہاں تو سبھی غصہ کرتے ہیں، میرے ڈیڈ کو مارتے بھی ہیں سبھی بہت گندے ہیں، مجھے واپس جانا ہے” وہ کافی پریشان سی لگ رہی تھی علیزے کو اس چھوٹی سی بچی پر بہت پیار آیا جو اتنی چھوٹی ہو کر بھی کافی کچھ سمجھتی تھی۔ آیان فٹ بال کے ساتھ کھیل رہا تھا
” ادھر آؤ” علیزے نے اسکے ہاتھ پکڑے اور اپنے سامنے کھڑا کیا۔
” بہن بھائی جب ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں تو وہ ایسے ہی اپنا غصہ دیکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں، پر اسکا مطلب یہ نہیں وہ دونوں ایک دوسرے کو ہیٹ کرتے ہیں، جب فائٹ ہو جاتی یے دل میں چھپی باتیں بول دی جاتی ہیں تب خود با خود غصہ ختم ہو جاتا ہے اور سب فرینڈز بن جاتے ہیں، اور تم بہت چھوٹی ہو تو ان باتوں کو زیادہ مت سوچا کرو پاکستان میں آنا تمہارا ڈریم تھا تو انجواۓ کرو آیان کے ساتھ کھیلو دیکھو وہ اکیلا کھیل رہا ہے اسکو ایک پاٹرن کی ضرورت ہے” علیزے نے بہت ہی اچھے طریقے سے اسکا دماغ سے یہ سب نکالنا چاہا
” عروج پھپھو نے بتایا تھا آیان میرا بھائی ہے اور مجھے بری بہن کی طرح اسکا خیال رکھنا چاہیے اور اسکے ساتھ کھیلنا چاہیے ، میں اب سے اسکے ساتھ کھیلا کروں گی” زینب بولی اور بھاگ کر آیان کے پاس آئی اور اسکے ساتھ کھیلنے لگی۔ بھائی والی بات پر علیزے کی مسکراہٹ سمٹی تھی اب وہ کیا بتاتی وہ سچ میں اسکی بہن ہی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
