No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
اگلی صبح وہ اُٹھا تو اسے حشمت صاحب کا پیغام وصول ہوا، کہ وہ ان سے آ کر ملے، وہ تیار ہو کر نیچے گیا۔ چونکہ شادی کو چار دن رہ گے تھے۔ سبھی تیاریوں میں حد درجہ مصروف تھے، علیزے کو شگفتہ بیگم اور عابدہ بیگم زبردستی شاپنگ پر لے کر گئیں تھیں۔ زینب عروج کے ساتھ بیٹھی ڈھولکی کے لیے گانے سیکھ رہی تھی۔
“جی آغا جان آپ نے بلوایا” وقار حشمت صاحب کے کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ بیڈ پر بیٹھے نا جانے کون سے کھاتے کھول کر بیٹھے تھے۔
“دروازہ بند کر کے آ جاؤ یہاں بیٹھو” انہوں نے کھاتوں سے نظریں ہٹاۓ بغیر کہا۔ وقار انکے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“تم آفس جانے کے لیے کیوں تیار نہیں ہوۓ؟” انہوں نے اسے عام سے حلیے مین دیکھتے ہوۓ کہا۔
“مجھے نہیں لگتا مجھے جانا چاہیے عثمان اشرف تایا سب پہلے ہی مجھ سے ناراض ہیں بلاوجہ سب پریشان ہو جائیں گے” وہ اپنے ہاتھوں کی ہتھیلوں کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
“علیزے اور آیان کا کیا سوچا یے کیا کرنا ہے؟ کب طلاق دے رہے ہو؟” حشمت صاحب نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔ انہوں نے یہ سوال نا جانے کیا جاننے کے لیے پوچھا تھا، انکی بات پر وقار نے ایک نظر انہیں دیکھا۔ اور دوبارہ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔
“آغا جان! جانتا ہوں میں ایک برا پوتا، بیٹا بھائی، شوہر ثابت ہو چکا ہوں۔ پر میں ایک برا باپ ثابت نہیں ہونا چاہتا، میں نہیں چاہتا میرا بیٹا میرے زندہ ہوتے ہوۓ کسی دوسرے شخص میں اپنے باپ کا پیارا ڈھونڈتا رہے۔ میں دونوں کو نہیں چھوڑ سکتا” بولتے بولتے اسکی آواز لڑکھڑائی تھی جو حسمت صاحب نے اچھے سے محسوس کیا۔
“تو تم علیزے کو دوبارہ اپنانا چاہتے ہو آیان کی وجہ سے؟” حشمت صاحب نے بھی وہی سوال کیا جو ہاشم صاحب نے کیا تھا۔ وقار نے نفی میں سر ہلایا۔
“میں اپنی غلطی کو سُدھارنا چاہتا ہوں، مجھ سے جو گناہ معصوم کی زندگی برباد کر کے ہوا تھا۔ مین اس گناہ کی تلافی اسے عزت، مقام اور محبت دے کر کرنا چاہتا ہوں، جانتا ہوں اپکو میں اس وقت جھوٹا لگ رہا ہوں گا پر میں تب تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک سب ٹھیک نہیں کر لیتا اب مزید میں اپنوں کو دھکی نہیں کر سکتا، اور جانتا ہوں یہ مشکل ہو گا پر میں ہر مشکل سہنے کے تیار ہوں” اسکی آواز مین سچائی تھی جو حشمت صاحب جو محسوس ہوئی۔
“مشکل تو واقعی ہو گا، پر فکر مت کرو میں تمہارے ساتھ ہوں” حشمت صاحب نے ہلکا سا مسکر اکر بولا۔ وقار نے حیر انگی سے انہیں دیکھا۔ اسے لگا وہ اسکی انسلٹ کریں گے۔
“مطلب آپ نے مجھے معاف کیا؟” وقار نے ایک دم انمء طرف دیکھ کر پوچھا۔
“برے بچوں کی غلطیوں کو معاف نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا” بولتے ہوۓ انکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ وقار ایک دم انکے سینے سے لگا۔
“ایم سوری آغا جی میں نے اپکو بہت تقلیف دی ایم سوری ” وہ روتے ہوۓ بول رہا تھا۔ حشمت صاحب کی آنکھوں سے بھی زورقطار آنسوں نکل رہی تھے۔ کئی سالوں بعد وہ انکے یوں گلے لگا تھا۔ انہوں نے بہت ہی شفقت سے اسکے بال سہلاۓ اور پیٹھ تھپتھپائی۔ وقار بہت دیر انکے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا۔۔۔۔۔
شام کے وقت عروج، آیان اور زینب شہیر کے ساتھ پارک جانے کے لیے نکلے۔ گاڑی کی بیک سیٹ پر ایان اور زینب دونوں بیٹھے تھے،
“شہیر آیان کو وقار بھائی کے بارے میں کس نے بتایا ہو گا؟ علیزے آپی بہت غصے میں تھیں” عروج شہیر کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بولی۔ کیونکہ اندر سے وہ بھی جانتی تھی یہ کس کا کام ہو سکتا ہے۔
“افکورس اور کس نے میں نے بتایا” وہ اپنی کالر کو سیدھا کرتا فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ بتا رہا تھا۔
“جانتی تھی میں پر کیا یہ سب صحیح ہے مطلب۔ ” عروج کو علیزے اور وقار دونوں کی سچویشن کا پتہ تھا۔
“عروج جب وقار بھائی خود سب ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو جو میں نے کیا وہ غلط نہیں ہے، انفیکٹ آیان کو پتہ ہونا چاہیے کہ وقار بھائی اسکے ڈیڈ ہیں” وہ بولتے بولتے تھوڑا اونچا بول گیا۔ زینب نے ان دونوں کی طرف دیکھا
“پھوپھو کیا علیزے آنٹی میرے ڈیڈ کی وائف ہیں؟ اور آیان میرا بھائی ہے؟” زینب نے اگے ہو کر عروج کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی طرف مخاطب کیا۔ عروج شاک ہو گئی۔ وہ یہ کیوں بھول گے کہ یہ دونوں انکے ساتھ بیٹھے ہیں ایان تو اپنی مستی میں رہنے والا بچہ ہے پر علیزے شروع سے ہی کافی سینسٹو، اور باتوں کو جلدی سمجھ جانے والی بچی ہے کبھی کبھی لگتا ہی نہیں وہ پانچ سال کی ہے۔ نالکل بروں کی طرح باتیں کرتی ہے۔ عروج اسکو کچھ جواب دیتی اس سے پہلے شہیر بول پڑا۔
“بالکل وہ وقار بھائی میرا مطلب ہے اپکے ڈیڈ کی وائف ہیں، اور آیان اور آپ دونوں بھائی بہن ہو، پر زینب فل حال آپ یہ بات کسی جو مت بتانا یہ سیکرٹ ہے” شہیر نے اسے بہت ہی طریقے سے بتایا۔ کیونکہ اگر وہ علیزے کو مما کہ دیتی تو بات بگڑ جاتی۔
“کیوں؟ ڈیڈ بے تو بتایا تھا میری مما مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ اور میں نے انکی تصویر دیکھی تھی وہ تو علیزے آنٹی نہیں تھیں” زینب کے سوال اب کہاں بند ہونے تھے۔ عروج نے غصے سے شہیر کو دیکھا کہ لو اب سھنمبالو خود۔
“کیونکہ پرنسس علیزے آنٹی اپکے ڈیڈ کی سیکنڈ وائف ہیں دونوں کی لڑائی ہو گئی تھی اسی لیے اپکو پتہ نہیں، اور آپ تو جانتی وہ لڑائی کرنا کتنی بری بات ہے آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا پھر آپ سب ساتھ رہو گے ہیپی فیملی کی طرح” شہیر نے اسکو پورا سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
“اوکے” زینب اتنا کہ کر سیٹ پر صحیح سے بیٹھ گئی اور کھڑکھی سے بایر دیکھنے لگی۔ بہت سے سوال اسکے من میں چل رہے تھے اب اسکے جواب وہ وقار سے لینا چاہتی تھی۔۔۔
رات کے نو بجے تھے، وہ گارڈن میں واک کر رہی تھی۔ کل آیان کو تھپر مار کر وہ خود اس سے بھی زیادہ روئی تھی۔ صبح سے وہ آیان سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ اس سے ناراض تھا۔ اور شہیر کے ساتھ باہر گیا تھا۔ وہ ان سب کا انتظار کر رہی تھی۔تبھی مین گیٹ کھلا اور گاڑی اندر داخل ہوئی۔ وہ بھاگ کر گاڑی کے پاس گئی۔ وہ چاروں گاڑی سے نکلے۔ وقار اپنے کمرے کی کھڑکھی سے ان سب کو دیکھ رہی تھی۔
“ارے میرا بچہ صبح سے ملا نہیں مما انتظار کر رہیں تھیں” علیزے نے آیان کو جھٹ سے سینے سے لگایا اور اسکے دونوں گال چومے۔ زینب نے بہت ہی آس سے یہ محبت بھرا سین دیکھا۔ وقار نے چہرہ نیچے جھکاۓ زینب کو اندر داخل ہوتے دیکھا، عروج بھی اسکے پیچھے چلی گئی۔ وہ اسکے اترے چہرے سے سمجھ رہا تھا وہ کیا سوچ رہی ہے۔
“چاچو مجھے مما سے بات نہیں کرنی مما نے مجھے مارا تھا” ایان اس سے علحیدہ ہوتے ناراضگی سے بولا۔
“ایم سوری میری جان مما جو معاف نہیں کرو گے” علیزے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بولی۔ ایان غصے کا بہت تیز تھا۔ جس کسی سے ناراض ہو جاتا اس سے کئی دن تک بات نا کرتا اور یہ کوالٹی اسے وقار سے ہی ملی تھی۔ علیزے کی ایک بھی بات سنے بغیر وہ منہ بناتا اندر چلا گیا۔
“چیمپ سنو” شہیر اسکے پیچھے بھاگا۔ وقار نے کھرکھی سے یہ سارا منظر دیکھا۔ وہ اپنے کمرے سے نکلتا گارڈن میں آیا۔ جہاں داخلی دروازے کی سیرھیوں پر علیزے ہاتھوں پر سر گڑاۓ رو رہی تھی۔ وہ چپکے سے اسکے ساتھ بیٹھا۔
“رو مت کچھ ہی دیر میں وہ مان جاۓ گا، بچے اہسے ہی ہوتے ہیں” وقار سامنے دیکھتے ہوۓ بولا۔ وقار کی اواز سن کر علیزے کو بے انتہا غصہ آیا۔ وہ ایک دن کھڑی ہوئی۔
“یہی چاہتے تھے نا آپ ، میرے بچے کو میرے آخری سہارے کو بھی چھیننا چاہتے تھے، اسی لیے اسے بتایا نا کہ اسکے باپ ہو، پہلے میری زندگی خراب کی وہ کیا کم تھی جو میرے بچے جو چھیننے آ گے ہو بولو” وہ چختے ہوۓ بول رہی تھی۔ جس جس نے اسکی آواز سنی وہ سب باہر آ گے۔
“ایسی بات نہیں ہے علیزے میرا ایسا کوئی مقصد” وقار نے کچھ بولنا چاہا پر علیزے پہلے ہی کافی بھرکی ہوئی تھی۔ فائزہ بیگم نے اسکو روکنا چاہا پر اشرف صاحب نے انہیں روک دیا۔ وہ چاہتے تھے علیزے اپنے اندر کی بھراس باہر نکالے۔
“مقصد یہی اپکا مقصد ہے، میرے بچے کو مجھ سے دور کر کے اپکو بہت سکون ملے گا کیونکہ میری وجہ سے اپ سب سے سارے گھر سے دور ہو گے اسی لیے مجھے میرے بچے سے دور کر کے آپ خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں، مجھے دکھ سے کر ہمیشہ آپ خوش ہی ہوۓ ہیں” وہ روتے ہوۓ چیخ رہی تھی۔ اسکے بال بکھرے ہوۓ تھے دوپٹہ شانے سے ڈھلک رہا تھا۔وقار اسکی حالت دیکھ پریشان ہوا اسے اسکے الفاظوں سے تقلیف نہیں ہو رہی تھی جتنی تقلیف اسے دی تھی اسکے سامنے یہ تو ایک پرسنٹ بھی نہیں تھی۔ اسکی وجہ سے آج اسکی یہ حالت تھی۔
“علیزے وہ تمہارا بیٹا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ میں اسے کسی سے دور نہیں کروں گا، میں یہ سب کرنے نہیں ایا۔ مین تو تمہیں اور ایان کو پورے دل سے اپنانا چاہتا ہوں یقین کرو” وہ اگے بڑھ کر اسکے کندھوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے اسے نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“یقین نہہہ نہیں ہے یقین مجھے آپ پر، ائی سمجھ ” وہ اسے پیچھے دکھیلتے ہوۓ پورے جوش سے چیخی تھی۔ عثمان اتنی اوازیں سن کر باہر کو بھاگا۔
“میری بات سنو!” وقار نے دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی۔
“سالے کمینے تجھے بولا تھا میری بہن سے دور رہ” عثمان ان سب کو یوں چپ دیکھ کر خود اگے برھا اور وقار کے چہرے پر ایک مکہ مارتے ر ہوۓ بولا۔ وہ لڑکھڑایا۔
“عثمان! پاگل وہ گے ہو” عابدہ بیگم اپنے بیٹے کو یوں پٹتے ہوے دیکھ اگے بڑھیں۔
“چچی آج درمیان میں نا آۓ گا، آج اس سارے معاملے کا حل ہو کر رہے گا، تو نے میری بہن اور ہم سب کو دھوکے مین رکھ کر شادی کی، اسکا انجام ہم بگھت چکے ہیں اب تو اسی وقت یہاں سب کے سامنے کھرے ہو کر ابھی کے ابھی میری بہن کو طلاق دے” عثمان نے چٹکی بجاتے ہوۓ غصے سے کہا۔ وقار نے اپنا غصہ کنٹرول کرنا چاہا۔ علیزے نے گھبرا کر عثمان کو دیکھا وہ کیا بول رہا تھا۔
“عثمان رات کے اس وقت تم کیسی باتیں کر رہے ہو چلو سب اندر یہ ٹاپک یہی بند کرو” اشرف صاحب کو ایک دم لگا کہی سچ میں وقار انکی بیٹی کو طلاق نا دے دے وہ اگے برھ کر بولے۔۔
جاری ہے
