No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
ہاشم صاحب کو ڈسچارج مل چکا تھا، عثمان انہیں لیے گھر پہنچ چکا تھا۔
“چاچو آپکو اب کسی قسم کی ٹینشن نہیں لینی، ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے” شہیر انکو گلے سے لگاتے ہوۓ بولا۔
“میرے بچے میں بالکل ٹھیک ہوں تم پریشان مت ہو” ہاشم صاحب مسکرا کر بولے، آغا جان کے کہنے پر ہاشم صاحب کو انکے کمرے میں آرام کرنے لے لیے لٹا دیا گیا تھا۔
“ہاہاہا عروج پھپھو آپ ہار گئیں میں جیت گئی” زینب عروج کے کمرے سے نکل کر حال کی طرف بھاگتے ہوۓ بولی۔ عثمان کا موبائیل چلاتے ہوۓ ہاتھ رکا تھا،اسنے مڑ کر زینب کو دیکھا۔
“یہ کون ہے؟” اسنے ساتھ کھڑے شہیر سے پوچھا۔
“وہ وہ۔۔۔ ” وہ ہکلایا تھا۔ کیونکہ جواب دینے کا مطلب اس گھر میں قیامت کھڑی کرنا تھا۔
” السلام علیکم، انکل عثمان، مجھے ڈیڈ نے اپکے بارے میں بھی بتایا تھا، اپکی اور انکی بہت فرینڈ شپ تھی” زینب عثمان کو دیکھتے بھاگ کر اسکے پاس آئی اور اپنا ہاتھ اگے بڑھایا۔
“تمہارے ڈیڈ کا کیا نام ہے؟” وہ سامنے کھڑی بچی کو دیکھتے ہوۓ بولا اسکے چہرے میں جسکا عکس اسے نظرآ رہا تھا، اس بات کا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا باقی سب بھی اسی طرف متوجہ تھے۔
“زینب چلو میرے ساتھ ہم دوبارہ کھیلتے ہیں” عروج نے جلدی سے زینب کے سامنے آکر کہا۔
“بھائی چاچو کی میڈیسن تو گاڑی میں ہی ہیں مجھے چابی دیں میں نکال لاؤں” شہیر نے فوراً درمیان میں آکر بات بدلنے کی کوشش کی۔ عروج زینب کا ہاتھ پکڑے پلٹی تھی۔
“روکو زینب مجھے اپنا پورا نام بتاؤ، کس کی بیٹی ہو؟” عثمان نے شہیر کی بات کو فل اگنور کرتے ہوۓ کہا۔ عروج اور زینب رہی رک گئی۔
“میری بیٹی ہے وقار ہاشم کی بیٹی زینب وقار ہے” تبھی سیڑھیوں سے نیچے اترتا وقار بولا تھا۔ عثمان نےآنے والے کی طرف دیکھا،تو اسکے ماتھے پر لا تعداد شکنیں پڑیں۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی گھر میں قدم رکھنے کی” وقار کو دیکھتے ہی انتہائی غصے سے اسکی جانب بڑھا اور سیدھا اسکے منہ پر مُکہ مارا۔
“عثمان۔۔۔ کافی آوازیں آئیں۔
” خبردار اگر کوئی درمیان میں آیا اس دن نکال دیا تھا آج دوبارہ اس گھر میں قدم رکھنے کی اسکی ہمت کیسے ہوئی” عثمان نے اسے کالر سے پکڑ کر نیچے زمیں کی طرف پٹکا۔
“ڈیڈ۔۔۔” زینب یہ سب دیکھتے روتے ہوۓ وقار کی طرف بھاگنے لگی پر عروج نے اسے بازو سے پکڑ کر سینے سے لگا لیا تاکہ وہ یہ سب نا دیکھے۔
” عثمان میری بات سنو” وقار نے اُٹھ کر بولنے کی کوشش کی، پر ایک اور منہ پر پڑنے والا مُکہ اس چپ کروانے کو کافی تھا۔
کمینے خبردار اگر دوبار مجھے میرا نام لیا تو قسم خدا کی یہی گولی مار دوں گا” عثمان اسے کالر سے پکڑ کر گھسیٹا ہوا حال کے دروازے کی طرف بڑھا۔
“بس عثمان رک جاؤ” آغا جان کی آواز پر عثمان کو نا چاہتے ہوۓ بھی رکنا پڑا۔
“آغا جان آج نہیں اسکو میں گھر میں برداشت نہیں کر سکتا” عثمان نے پلٹ کر سخت لہجے میں کہا۔
“تو اب تم اپنے دادا پر حکم چلاؤ گے، اسکو اسکے باپ نے بلوایا ہے، اسکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے اسے بلانا پڑا۔ اسکے ٹھیک ہوتے ہی میں خود اسکو دھکے دے کر گھر سے نکالوں گا لیکن ابھی میرے کہنے پر تم اسکو جانے دو چھوڑو” حشمت خان نے اگے بڑھ کر وقار کا کالر عثمان کے ہاتھ سے چھڑوایا۔ اور وقار وہ تو اپنے آغا جان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ وقار کو تماچے کی طرح لگےہ۔ وہ تو اسکا نام تک لینا پسند نہیں کر رہے تھے۔
“صرف آپکے کہنے پر میں اسے برداشت کر رہا ہوں، ورنہ۔۔۔ صرف کچھ دن۔۔ اسکے بعد میں اسے مزید ایک دن بھی برداشت نہیں کروں گا” عثمان نفرت بھری نظروں سے اسے گھورتا ہوا بولا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ رامین فوراً اسکے پیچھے گئی۔
“عروج بچی کو کے کر باہر گھوم آؤ تاکہ اسکا رونا بند ہو کافی سہم گئی ہے” حشمت صاحب نے ایک سخت نظر وقار پر ڈال کر عروج کو کہا، جس نے ہاں میں سر ہلا کر زینب کو اُٹھنا چاہا پر وہ ہاتھ چھڑوا کر وقار کے پاس بھاگتے ہوۓ آئی اور اسکی ٹانگوں سے چمٹ گئی۔
” مجھے کہی نہیں جانا وہ گندے انکل دوبارہ سے میرے ڈیڈ کو ماریں گے” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی
“زینب میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی نہیں مارے گا آپ کو پاکستان گھومنا تھا نا پھپھو کے ساتھ جاؤ گھوم آؤ” وہ اسے باہوں میں لیتے چپ کرواتے ہوۓ بولا۔ زینب نے زور سے اسکے گلے میں بازو ڈال کر نفی میں سر ہلایا۔۔
“مجھے میرے ڈیڈ کے ساتھ ہی گھومنا ہے” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بول رہی تھی۔ سبھی اپنے اپنے کمرے میں چلے گے۔
“بھائی اپکا خون نکل رہا ہے چلیں فسٹ ایڈ لے کر آتا ہوں” شہیر نے وقار کے ناک اور ماتھے سے خون نکلتے دیکھا تو بولا۔ وقار ہاں میں سر ہلاتا وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔ اور زینب کو سمجھانے لگا پر وہ خاموش سی ہو گئی تھی یوں مانو کافی سہم چکی تھی۔
“تو شہیر ہم اپنی پرنسس کے ساتھ مارکیٹ چلیں جو ہماری پرنسس کو چاہیے ہو گا وہ لے دیں گے اور ہاں آئیس کریم بھی دلائیں گے” وقار نے اسے لالچ دیا۔ آئس کریم کا سن کر وہ فوراً مان گئی۔
“آپی میں واپس آ گیا، اور پتہ ہے میرے ٹیسٹ میں فل ماکس آۓ میں فرسٹ آیا، ایم سو پراؤڈ آف مائی سلیف” وہ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے جب حال میں احمد داخل ہوا، سکول کے یونیفام میں چودہ سالہ احمد بہت پیار لگ رہا تھا۔ سبھی نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“اوۓ نا کرو بھائی کیا یہ میری گنہگار آنکھیں میرے ہینڈسم بھائی کو دیکھ رہی ہیں” ایک دم سے سامنے وقار کو دیکھ کر وہ بھاگتا ہوا انکے پاس آیا۔ وقار صوفے سے کھڑا ہوا۔
“ہاں تیرے بھائی ہی ہیں، اب اپنی نوٹنکی انکے سامنے مت شروع کر دینا” شہیر نے اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔
“شہیر بھائی ابھی اپکو میری ایکٹنگ ٹینلنٹ کا پتہ نہیں جب میں فیمس ہو جاؤ گا تب دیکھیے گا، اس ٹاپک پر بعد میں بات کریں گے ابھی مجھے بھائی سے باتیں کرنی ہیں” احمد شہیر کو بولتا وقار کی جانب متوجہ ہوا۔ وقار اسے تیز تیز بولتے مسکرایا۔ وہ بچپن سے کافی ذہین اور شرارتی تھا۔ اور یہ ایکٹنگ والے کیڑے کو وہ بھی اچھے سے جانتا تھا۔ وہ کافی دفع اسکی ایکٹنگ کے ہاتھوں مجبور ہوا تھا اسے چیزیں لا کر دینے کے لیے” وقار کو کافی باتیں یاد آئیں۔
“برے وہ گے ہو ” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔
“میں نے آپکو بہت مس کیا، آپ نے وعدہ کیا تھا، میری گیمز لے کر واپس آئیں گے، پر پانچ سال ہو گے نا تو گیمز آئیں نا ہی آپ، یہاں سے کافی بار کال کی پر کسی نے فون ہی نہیں اُٹھایا” وہ اداس لہجے میں بولا۔ وقار نے کال کی بات پر شہیر کو دیکھا وہ اب کیا بتاتا گھر کے ہر فرد کے موبائل سے اور گھر کی لینڈ لائین سے اسکا نمبر بلاک کر دیا تھا۔ شہیر نے نظریں چرائیں۔
” کوئی بات نہیں اب آ گیا ہوں جو کہو گے لا دوں گا” وقار نے اسے سینے سے لگاتے ہوۓ کہا۔
“ٹھیک ہے تو میں زرا تیار ہو کر آتا ہوں پھر باہر چلیں گے” وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔ اسکے انداز پر سبھی مسکراۓ۔ کچھ ہی دیر میں وہ سب مارکیٹ گے وہاں سے احمد اور زینب نے چیزیں لیں، اور کچھ کھا کر وہ رات کے آٹھ بجے واپس آۓ۔ سبھی ڈنر کے ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ وقار کو دیکھ سبھی اُٹھنے لگے۔
“مجھے بھوک نہیں میں کمرے میں جا رہا ہوں” وہ سب کو اُٹھتے دیکھ فوراً بولا، تا کہ کوئی اُٹھے نا، زینب سو چکی تھی عروج اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔ سبھی نے ایک دوسرے دے نظریں چُرائیں۔ کسی سے دوسرا نوالہ نا کھایا گیا۔ عابدہ بیگم اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
بھوکے پیٹ تو اس سے زندگی میں کبھی سویا نہیں گیا تھا تو اب وہ کیسے سو جاتا، یہ عادت عابدہ بیگم نے اسے لگائی تھی،وہ ہمیشہ اسے رات کا کھانا کھاۓ بغیر کہی جانے نہیں دیتیں تھیں اسکی خوراک پر انہوں نے بہت توجہ دی تھی۔
“اف لگتا ہے کچھ کھانا ہی پڑے گا نیند تو آنے سے رہی اور بھوک سے برا حال ہو رہا ہے” وہ بیڈ سے اترتا پاؤں میں چپل ڈالے کمرے سے نکلا، رات کے وقت یہاں کافی سردی ہو جاتی تھی ویسے بھی نومبر چل رہا تھا موسم ٹھنڈا ہو ہی جاتا تھا۔ وہ سیرھیاں اترتا نیچے آیا، حال مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف کیچم سے ہلکی ہلکی روشنی آرہی تھی،وہ چلتا ہوا کیچن میں داخل ہوا۔کچن میں ہلکی روشنی تھی جسکی وجہ سے نظر کم ہی آ رہا تھا۔
“مشل کچھ کھانے کو دے دو” وقار کیچن میں داخل ہوا تو اسنے دیکھا اُون کے سامنے ایک لڑکی کھانا گرم کر رہی ہے اسے لگا مِشل ہو گی وہ اسکے قریب آکر بولا۔ یوں اپنے قریب سے رات کے اس وقت کسی کی آواز سن کر وہ ایک دم پلٹی اسکے منہ سے چیخ نکلنے لگی جب برقرفتاری سے وقار نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اور سانسیں ایک دم رک سی گئیں ۔ سامنے والے کا حال بھی ویسا ہی تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ اسنے ہاتھ برھا کر اسے چھونا چاہا کہی یہ خواب نا ہو۔
“علیزے۔۔۔” اسنے بامشکل اسکا نام لیا۔ اسکے بولنے پر اسکی ذات کا سحر ٹوٹا تھا۔ وہ جیسے ایک خواب سے باہر آئی۔ اسنے اپنا ہاتھ وہی روک دیا۔ آنکھوں میں حیرانگی،غصہ نا جانے کیا کیا تھا۔ وقار نے اپنا ہاتھ ہٹایا اور پیچھے ہو کر کھڑا ہوا۔
وہ صبح سات بجے ہسپتال میں ہاشم صاحب سے مل کر آفس چلی گئی،وہاں وہ کافی مصروف رہی ابھی آدھے گھنٹے پہلے ہی وہ گھر آئی تھی۔ بھوک کا احساس ہوا تو کیچن میں آئی، کھانا گرم کرنے کے انتظار میں وہ وہاں کھڑی تھی۔
اُون کے بند ہونے کی آواز پر وہ پلٹی، اور اُون سے کھانا نکالا۔
“کیسی ہو؟” وہ پلیٹ شلف پر رکھ رہی تھی جب وقار کی آواز آئی۔ یہ وہ الفاظ تھی جو اسے تیر کی طرح چُبھے تھے۔ اسنے زور سے آنکھیں میچیں۔ کیسی ہو، یہ دو الفاظ وہ کیسے استعمال کر سکتا تھا، اس دنیا میں یہی دو الفاظ تھے جسے اسے استعمال کرنے کی آجازت ہی نہیں دینی چاہیے۔ اسنے گہرا سانس لے کر اسکی طرف مُڑ کر دیکھا۔
“الحمداللہ بالکل ویسی نہیں ہوں، جیسی پانچ سال قبل چھوڑ کر گے تھے، اللہ نے مجھ جیسی بے وقوف کو تھوڑی سی عقل دے دی، دنیا کو اور اس میں بسنے والے لوگوں کو پہنچاننے میں مدد دی انکے بھیانک چہروں کے سمجھنے کی صلاحیت دے دی” وہ بولی تو لہجے میں ایک سرد پن تھا۔ وہ اسکی جانب دیکھ تک نا پایا۔ اگر دیکھ لیتا تو آج وہ اسکی آنکھوں میں چھپے قرب کے نیچے دب کر دہ جاتا۔ اور شائد زندگی بھر نا اُٹھ پاتا۔
“کھانا گرم ہو گیا ہے کھا لیں” وہ شلف کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔ اور اسکے بگل سے گزر کر باہر کی طرف بڑھنے لگی۔تبھی وہ ایک جھٹکے سے روکی کیونکہ اسکی کلائی وقار کے ہاتھ میں تھی۔
“میری بات سنو، جو کچھ ہوا وہ سب” وقار اسکی جانب مڑ کر بول رہا تھا جب ایک جھٹکے سے علیزے نے کلائی چھڑوائی۔
“مسٹر وقار ہاشم آئندہ اپنے ہاتھوں کو کنٹرول میں رکھے گا، اب میں آپکی بیوی نہیں ہوں، وہ رشتہ تبھی ختم ہو گیا تھا جب آپ یہاں سے دم دبا کر بھاگے تھے” علیزے نے انگلی اُٹھا کر وارنگ دینے والے انداز میں کہا، اسکی انکھوں میں واضع غصہ تھا۔ وہ پلٹ کر کیچن سے نکل گئی۔ وقار نے اپنی انکھوں پر سے چشمہ اتارا اور آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے دبایا۔
اسکے جانے کے بعد وقار کی نظر شلف پر پڑے کھانے کی طرف گئی۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسنے شلف کا سہارا لیا۔ انکھیں ضبط کے مارے لال ہو رہیں تھیں۔ کھانے کو دیکھتے اسے کیا کچھ یاد نا آیا تھا اسنے اسکے لہجے اسکی انکھوں میں آج کیا کچھ نا دیکھا تھا، خالی پن، سرد مہری، سنجیدگی، کیا کچھ نا دیکھا تھا۔
