Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“وقار ابھی یہی نیچے کسی کمرے میں سو جا، اوپر مت جا، طبعیت ٹھیک نہیں ہے تمہاری” طلحہ صاحب نے وقار کو اوپر جانے سے ٹوکا ، کیونکہ وہ کافی ویک نیس فیل کر رہا تھا، شہیر نے اسے ایک طرف سے پکڑا ہوا تھا۔

“نہیں چاچو میں ٹھیک ہوں، اوپر ہی سوؤں گا” وقار ہلکا سا مسکرا کر بولا۔

“وقار میرے بچے ٹھیک تو ہے نا” عابدہ بیگم جو کہ ہاسپٹل سے آنے کے باوجود سوئی نہیں تھیں، وہ تب سے تسبی پڑھتے ہوۓ وقار کے لیے صحت کی دعائیں کر رہیں تھیں۔ ابھی جب اسکی آواز سنی تو فوراً باہر آئیں۔

“امی! میں بالکل ٹھیک ہوں، اور آپ یہ رو رو کر اپنی حالت کیوں خراب کر رہی ہیں، جائیں اب سکون سے سو جائیں” وقار نے انہیں اپنے حصار میں لے کر سر پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔ اور عابدہ بیگم کو موقع مل گیا وہ خوب روئیں، وقار نے بہت مشکل سے انہیں سھنمبالا۔ ماں تھیں اپنے بچے سے زیادہ دیر ناراض کہاں رہ سکتیں تھیں۔ وقار نے انہیں چپ کروا کر روم میں بھیجا۔ اور خود شہیر کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا۔

“وقار بھائی آپ آرام کرو، میں آپکی سلامتی کی خبر زرا گھر میں سب کو بتا دوں” شہیر اسے بیڈ پر لٹاتے ہوۓ بولا۔۔

“ہنہہ یہاں زیادہ لوگوں کو میری پرواہ نہیں تم بلاوجہ ذہمت مت کرو جاؤ سو جاؤ” وہ طنزیہ انداز میں جیسے خود پر ہی ہنستے ہوۓ بولا۔

“یہ تو آپکی سوچ ہے، حالنکہ سبھی کو آپکی فکر تھی، انفیکٹ بہت قریبی لوگوں کے تو میسجز بھی آۓ تھے، شہیر بتاؤ میرے سائیاں جی کے حال کیسے ہیں” شہیر شرارتی انداز میں بولا۔ وقار اسکا مطلب سمجھ گیا۔ وہ ہلکا سا ہنسا مطلب ابھی بھی کام بن سکتا تھا تبھی اسکی نظر ہلکے سے کھلے دروازے پر پڑی، جہاں پر کسی کا آنچل لہرا رہا تھا۔وہ سمجھ گیا کون ہے؟

“اسنے تو اسی لیے میسج کیا ہو گیا کہی اگر مر گیا تو اسکے بھائی پر الزام نا آ جاۓ، میری فکر کہاں اب تو وہ نفرت کرتی ہے” وہ اونچی آواز میں بولا، تا کہ باہر آواز پہنچ جاۓ، اور باہر کھڑی علیزے نے اسکی بات سن بھی لی، وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے دیکھنے آئی تھی، پر اندر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی، اسکے الفاظ سن کر وہ وہی سے مُڑ گئی، وقار نے اسکا جانا نوٹ کر لیا۔

“آرام کرو میں چلتا ہوں” شہیر اسکو دروازے کی اُور دیکھ کر جان بوجھ کر اونچا بولنا نوٹ کر چکا تھا اور اسنے بھی علیزے کا ڈوپٹہ دیکھا تھا۔ تبھی وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ اور وقار نے آنکھوں پر بازو رکھ کر سونے کی کوشش کی۔


کل رات کو جو گنڈا گردی ہوئی، میں وہ بالکل بھی قبول نہیں کروں گا، مجھے اگر اسی وقت اُٹھا دیتے وہی سبھی کو سیدھا کر دیتا، تماشا بنا کر رکھا ہے، گھر کو لڑائی کا میدان بنا دیا ہے، تین دن میں مشل کی شادی ہے ،اور تم لوگوں کو لڑنے سے فرصت نہیں، عثمان وقار یہاں میرے بلانے پر آیا ہے، تم بار بار اس سے لڑنے مت لگ جاؤ” حشمت صاحب جن کو صبح ہی رات کا واقعہ معلوم ہوا وہ انتہائی غصے میں تھے اور سبھی جانتے تھے حشمت صاحب جب غصے میں آ جاتے تو انکے جلال سے بچنا نا ممکن ہے۔ ابھی سارے گھر والے ٹیوی لاونچ میں بیٹھے انکی بات سن رہے تھے۔ وقار بھی اسی میں شامل تھا۔

“اگر آپ چاہتے ہیں، یہ سب دوبارہ نا ہو تو اسے نکالیں، ورنہ یہاں تو یہی ہو گا چاہے آپ جو کر لیں، کیونکہ میں ایک ایسے شخص کو اپنے سامنے اب مزید برداشت نہیں کر سکتا جو میری بہن کا مجرم ہو” عثمان اپنی جگہ سے اُٹھ کر انکے سامنے آ کر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔

“ٹھاہ! تم اپنی یہ دو ٹکے کی اکڑ کہی اور دیکھاؤ، علیزے صرف تمہاری ہی سگی نہیں میری بھی پوتی ہے اور وقار میرا پوتا ہے، ابھی اس گھر کے برے مرے نہیں جو تم یوں اُٹھ کر سب کو ڈرا رہے ہو، انکے رشتے کا جو کرنا ہو گا کر لیں گے تم بلاوجہ درمیان میں مت آؤ” حشمت صاحب نے اسکے گال پر کھینچ کر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔ سبھی نے حیرت سے حشمت صاحب کی طرف دیکھا۔ وقار اس سب کا خود کو قصور وار سمجھ رہا تھا۔

” ہنہہہ برے، اگر اتنے ہی آپ سب برے تھے تو تبھی فیصلہ کیوں نہیں کیا، پانچ سال برباد کیوں کیے، اب میں آپ سب کی بالکل نہیں سنوں گا، معاز نے بہت پہلے مجھ سے علیزے کے رشتے کی بات کی تھی وہ اسے اور آیان کو اپنانا چاہتا ہے۔مشل کی شادی کے بعد انکی طلاق ہو گی، اور بہت جلد میں معاز اور علیزے کی شادی کروا دوں گا” عثمان نے غصے میں سب بول دیا۔ علیزے شاک کے عالم میں عثمان کی بات سن رہی تھی۔ وقار نے سب سن کر اپنا ماتھا مسلہ، اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا، علیزے نے اسکی طرف دیکھا اب یہ کیا بولے گا کہی یہ ابھی ہی طلاق نا دے دے۔

“جانتا ہوں جو کچھ ہوا تھا وہ کسی طور قابلے قبول نہیں تھا، پر اب ماضعی کو بدل نہیں سکتے، عثمان اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن میں بس ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں، رشتہ میرے اور علیزے کے درمیان ہے، میں اس رشتے کو بچانے کا بس ایک آخری موقع مانگ رہا ہوں، آج 12 تاریخ ہے اگلے مہینے کی 12 تاریخ کو جو فیصلہ علیزے کرے گی وہ میں اور آپ سب مان لیں گے، اب وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا مجھ سے طلاق چاہتی ہے ، وہ سب اسی پر ڈیپینڈ کرتا ہے، اور دوسری اہم بات جو میں کرنا تو نہیں چاہتا پر ابھی کی سچویشن کو دیکھتے ہوۓ کہنا پرے گا، مشل کی شادی کے بعد اس سے اگلے دن ہی میں یہ گھر چھوڑ دوں گا، میں چاہتا ہوں میں زینب کو لے کر نئے گھر میں شفٹ ہو جاؤں گا، اس سے عثمان اور میری لڑائی نہیں ہو گی اور گھر کا ماحول بھی ٹھیک رہے گا، آئی نو کافی لوگ زینب کو بھی پسند نہیں کرتے اور میں اسکے ذہین میں آۓ سوالوں کا بعد میں جواب نہیں دے پاؤں گا، اسی لیے میں اسے لے کر نئے گھر شفٹ ہو جاؤں گا، علیزے کو اگر ایک مہینے بعد بھی لگا یہ رشتہ بے کار ہے ٹوٹ جانا چاہیے تو میں خود سائن کروں گا ” وقار نے سب کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنا فیصلہ سنایا۔ بات کرتے ہوۓ اسکا چہرہ مُرجھایا ہوا تھا۔ اسکی آخری بات پر کتنے ہی لوگوں کے دل بھر آۓ، جن میں عابدہ بیگم سب سے پہلی تھیں کیونکہ انہوں نے ہی زینب کو ڈانٹا تھا۔

“ٹھیک ہے میں تمہیں ایک مہینہ دیتا ہوں ،اس سےایک دن بھی اوپر نہیں دوں گا۔ اور مجھے پورا بھروسہ ہے علیزے اپنے بھائی کے فیصلے کو ہی قبول کرے گی” عثمان وقار کے پاس قدم قدم چلتا آیا اور یقین بھرے انداز میں کہا اور آخری بات پر علیزے کو دیکھا۔ جو خالی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ وقار بنا جواب دیے پلٹا اور شکستہ قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔


سبھی نارمل ہونے لگے، آہستہ آہستہ سب اس لڑائی کو بھول گے اور شادی میں مصروف ہو گے، آج مہندی تھی، سبھی مہندی کے لیے تیار ہو رہے تھے، وقار اور شہیر نے گارڈن میں سارا ڈیکور سھنمبالا ہوا تھا۔ گھر کی خواتین تیار ہو رہیں تھیں،

“ہاں بولو احد! کیا پرابلم ہوئی،اچھا ہممم روکو میں چیک کرتا ہوں، شہیر میرے کمرے سے لیپ ٹاپ لانا”وہ کان سے فون لگاۓ احد سے بات کر رہا تھا اور ساتھ ڈیکوریشن والوں کو انسٹریکشن دے رہا تھا۔شہیر اسکا لیپ ٹاپ لے کر آیا وہ وہی ٹیبل پر رکھ کر کرسی پر بیٹھا اور جلدی سے ہاتھ چلاتے ہوۓ کام کرنے لگا۔ وہ تین گھنٹے مسلسل کام کرتا رہا۔ شام ڈھل چکی تھی، اندھیرا ہر سو چھا رہا تھا، اسکا کام ختم نہیں ہو رہا تھا۔ دیزائینز دینے کی وجہ سے اب انہیں کام مسلہ ہو رہا تھا۔ جسکا وہ حل نکالنے کی کوشش کر رہا تھا ہر ابھی تک کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔

” وقار تم ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوۓ کچھ ہی دیر میں مہمان آنے والے ہیں حد کرتے ہو بیٹا” عابدہ بیگم گارڈن میں اسے کام میں مصروف دیکھ کر ڈانتے ہوۓ بولیں۔

“بس امی ہو گیا دو منٹ” وہ تیزی سے ٹائیپنگ کرتے ہوۓ بولا۔ عابدہ بیگم نے پکڑ کر اسکا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ وہ ارے ارے کرتا رہ گیا۔ عابدہ بیگم اسے زبردستی اندر لے گئیں۔ وہ اپنے کمرے میں آکر واشروم میں گھس گیا


“شہیر میرے سارے فرینڈز آ رہے ہیں تو پلیز انہیں اچھے سے ویلکم کرنا” عروج اپنا لہنگا سھنمبالتی باہر گارڈن میں شہیر کے پاس آئی۔ وہ اورنج لہنگا اور سیم اورنج کرتی پہنے ساتھ میں پنک دوپٹہ اچھے سے سیٹ کیے ہوے تھے، فل میک اپ کیے خوبصورت سی جیولری پہنے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ شہیر نے اسے ایک نظر دیکھا اور چہرہ موڑ لیا۔ کیونکہ اسکا دل بے اختیار دھڑکا تھا۔

“کیوں تمہارے فرینڈز کوئی وئی آئی پی ہیں جو میں انکا استقبال کرو، وہی تمہاری چپکو دوستیں ہو گی” شہیر نے اسے چڑارتے ہوۓ کہا۔

“او ہیلو میں وی آئی پی میرے فرینڈز بھی وئی آئی پی، اگر انہیں اچھے سے ویلکم نا کیا تو تمہاری یونی میں ہوئی لڑائی آغا جی کو بتا دوں گی جانتے تو ہو آجکل آغا جی کو لڑائی کے نام پر ہی غصہ آجاتا ہے” عروج نے اسے بلیک میل کرتے ہوۓ کہا۔ شہیر نے اسے گھورا۔

“ڈھیڈ فٹیا مجھ سے یہ بلیک میلنگ والی گیم مت کھیلنا ورنہ مجھے اچھے سے جانتی ہو” شہیر اسکے چھوٹے قد پر کومینٹ کرتے ہوۓ بولا۔ اور عروج کو یہی ایک بات حد سے زیادہ چھبتی تھی۔ اور وہی ہوا عروج نے آس پاس کچھ تلاش کرنا چاہا، جو اسکےسر پر مار سکے، شہیر اسکا ارادہ سمجھ گیا اور وہاں سے بھاگا عروج بامشکل اپنا لہنگا سھنمبالتی اسکے پیچھے بھاگی۔


“میرا پوتا تو شہزادہ لگ رہا ہے، ماشااللہ” علیزے آیان کو بازو سے پکڑتے ہوۓ باہر لائی، وہ یلو، کرتا کپری میں جھوٹا سا شہزادہ لگ رہا تھا” عابدہ بیگم نے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔

“علیزے یہ ویس کوٹ وقار کے روم میں رکھ آؤ وہ تیار ہو رہا ہے میں آیان کو لے کر باہر جا رہی ہوں، مہمانوں کا استقبال بھی تو کرنا ہے” عابدہ بیگم ہاتھ میں پکڑی ویس کوٹ علیزے کو پکڑاتے ہوۓ بولیں اور بنا اسکی بات سنے آیان کو لے کر باہر چلی گئیں۔ علیزے نے ادھر اُدھر دیکھا کوئی مل جاۓ تو اسکے ہاتھوں بجوا دے۔تبھی عروج غصے میں اندر آتی دیکھائی دی۔

“عروج میری بات سن” علیزے نے اسے اپنی طرف بلایا علیزے اسکے پاس آئی۔

“آپی آپ نے میرے دشمن شہیر عرف باگر بلے کو دیکھا ہے” عروج ادھر اُدھر دیکھتی شہیر کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔

“نہیں اسکو رہنے دے میری بات سن یہ ویس کوٹ” علیزے ابھی بول رہی تھی تبھی عروج کی نظر سامنے کمرے سے نکلتے شہیر پر پڑی۔

“وہ رہا میرا دشمن” وہ کہ کر بنا علیزے کی بات سنے شہیر کی طرف بھاگی۔ شہیر اسے دیکھ کر اوپر کی طرف بھاگ گیا۔

“حد ہے انکا بچپنا ختم نہیں ہو گا، اب مجھے ہی یہ انچاہا کام کرنا پڑے گا” علیزے نے بے دلی سے کہا اور وقار کے کمرے کی طرف چلی گئی۔ آج کئی سالوں بعد وہ اس کمرے میں داخل ہونے والی تھی جسکے لیے اسے بہت ہمت کی ضرورت تھی۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو شیشے کے سامنے وہ سفید شلوار قمیض پہنے بالکل تیار تھا، بس ابھی وہ اپنے ماتھے پر لگی پٹی کو اتارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تا کہ اسکی ڈریسنگ کر کے بال بنا سکے۔۔ تبھی علیزے کا عکس شیشے میں نظر آیا، وہ گرین شرارا اور یلو کرتی پہنے جس پر موتیوں کا کام ہوا تھا، بالوں کی خوبصورت سی چٹیا بناۓ، فل میک اپ کیے، مکمل تیار کھڑی تھی اور دل کو چھو جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ وقار نے بے اختیا دل میں ماشااللہ کہا۔ وہ ہاتھ میں ویس کوٹ پکڑے چلتی ہوئی اسکے پاس آئی۔
جاری ہے