Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ولیمے کا دن بھی بہت ہی اچھے سے گزر گیا، یوں شادی خوش اسلوبی سے ختم ہوئی۔ گھر آنے کے بعد وقار اپنا سامان پیک کرنے لگا اور عروج کو زینب کا سامان پیک کرنے کے لیے بولا۔

“وقار میرے بچے تو اتنے سالوں بعد واپس آیا ہے اور دوسرے گھر میں رہنے جاۓ گا میرا دل اب بالکل نہیں لگے گا” عابدہ بیگم اس وقت روتے ہوۓ وقار کے کمرے میں آ کر بولیں۔ انکے پیچھے ہاشم صاحب بھی تھے۔

” امی جاؤں گا تو اچھا ہے سبھی دوبارہ سے خوشی سے رہیں گے ، بہت سے لوگوں کو میرا یہاں رہنا اچھا نہیں لگ رہا، اور ویسے بھی زینب بھی کافی ڈسٹرب ہو گئی ہے” وقار اپنی پرفیومز بیگ میں رکھتے ہوۓ بولا۔

“میرا بچہ اگر مجھے ملا ہی تھا دوبارہ سے سب درمیان میں آ گے” عابدہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔ وقار نے انہیں گلے سے لگایا۔

“امی جان! ایسے مت کریں مجھے اچھا نہیں لگ رہا، ویسے میں اپکو بھی ساتھ لے جاتا اگر پاپا کو برا نا لگے وہ اکیلے کیسے رہیں گے” وقار آخر میں شریر لہجے میں بولا۔ ہاشم صاحب نے اسکے سر پر تھپر مارا۔

“مت جا، یہی رہ کر سب ٹھیک ہو جاۓ گا ،یوں اکیلے رہو گے تو سب سے بات بھی نہیں ہو پاۓ گی تو سب کیسے ٹھیک یو گا” ہاشم صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے والے انداز میں کہا۔

“پاپا، آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر ہی گھر لیا ہے اتنا دور نہیں جا رہا، سارا انتظام ہو چکا ہے، اور آپ فکر مت کریں انشااللہ سب ٹھیک ہی ہو گا، ویسے بھی کل سے آفس بھی جانا شروع کروں گا، زینب کا ایکدمی میں ایڈمیشن کروا دی ہے اب ایک مہینہ یہی رہنا ہے تو اچھا ہو گا وہ تھوڑی مصروف ہو جاۓ، اور پیپرز کی تیار کر لے اگلے مہینے کے اخر میں اسکے فائنلز ہیں ، آیان بھی وہی جاتا ہے۔ دونوں کی ویسے بھی اچھی دوستی ہے، عثمان کو وقت کے ساتھ احساس کرواتا رہوں گا کہ میں سب سچ میں ٹھیک کرنا چاہتا ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر پلینز بتا رہا تھا۔

“اور ہماری بہو اسکو کیسے مناؤ گے؟” ہاشم صاحب نے سنجیدگی سے سوال کیا۔ وقار کو کل والی باتیں یاد آئیں۔

“اپکی بہو کو منانا اتنا بھی مشکل نہیں، ایک مہینے بعد وہ خود سب کے سامنے معاف کرے گی، چلیں اب چلتا ہوں” وہ سوٹ کیس کو پکڑتے ہوۓ مسکرا کر بولا۔ ہاشم صاحب نے اگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا۔ وہ مکمل بدل چکا تھا سالوں پہلا والا نہیں رہا تھا اسکی شخصیت میں ٹھڑاؤ سا آیا تھا۔ وہ ان دونوں کے ساتھ نیچے آیا۔ زینب اپنا بیگ لیے حشمت صاحب کے پاس کھڑی تھی، اسکا چہرہ اترا ہوا تھا یقیناً وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔

“زینو چلیں پرنسس” وقار نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا۔ اسنے نفی میں سر ہلاتے حشمت صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“مجھے آغا جی عروج پھپھو اور آیان کے ساتھ رہنا ہے، مجھے بورنگ گھر میں نہیں رہنا آپ تو کام کرتے رہو گے میں بور ہوں گی” زینب منہ بسورتے ہوۓ چہرہ موڑ گئی

“بالکل ہمیں بھی زینب کو نہیں بھیجنا” حشمت صاحب بھی منہ دوسری طرف کرتے ہوۓ بولے۔

“پرنسس وہاں اپکا پرنسل روم ہے، اور ہاں وہ گڑیا والا برا سا گھر وہ بھی ہے، اسکے علاوہ مریم بی بھی ا گئیں ہیں، وہ اپکا انتظار کر رہی ہیں اپنی پرنسس سے ملنے کو بے تاب ہیں” وقار نے اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔ آج صبح ہی مریم بی امریکہ سے آئیں تھیں۔

“واقعی چلیں چلتے ہیں” زینب ایک دم سے ریڈی یو گئی۔ اور حشمت صاحب کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ حیرانگی سے پلٹے انکے حیرانگی والے چہرے کو دیکھ کر وقار مسکرایا۔ وقار زینب کو لیے گاڑی میں بیٹھا وہاں اسے چھوڑنے اسکے ماں باپ اور حشمت صاحب کھڑے تھے باقی سب اپنے کمروں میں تھے۔ اور کچھ کام کے سلسلے میں باہر گے ہوۓ تھے۔


اگلی صبح علیزے آفس جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے آئی، سامنے ناشتے کی ٹیبل پر سبھی بیٹھے ناشتہ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ایان احمد کے ساتھ سکول جا چکا تھا۔ حشمت صاحب، کچھ خاموش خاموش سے تھے، اسکی وجہ وقار کا کل وعدے کے مطابق چلے جانا تھا۔

“علیزے چلیں؟” عثمان اپنا ناشتہ ختم کرتے ہوۓ کھڑا ہوا۔ علیزے اسکی آواز پر کھڑی ہوئی ناشتہ کرنے کا ویسے بھی اسکا دل نہیں تھا۔ پرسوں سے اسکا دل بھاری سا تھا، زینب کے ساتھ جس طریقے سے اسنے بات کی وہ بھول نہیں پا رہی تھی۔ دونوں آفس پہنچے۔

“معاز، آج دوپہر کی راحم گروپ آف انڈسٹرزی کے ساتھ جو میٹنگ ہے اس میں تم اور علیزے میرے ساتھ جاؤ گے” عثمان آفس کے حال میں ڈسک پر بیٹھے معاز سے مخاطب ہوا جو کہ اپنا کام کر رہا تھا۔ اسنے پلٹ کر اوکے کہا۔

“آج کی میٹنگ کیسنل کر دو، کیونکہ ابھی ہمارا سارا فوکس نیو کلکشن کو لونچ کرنے میں ہے، اسکی میٹنگ میں کنڈکٹ کرنے والا ہوں مجھے پروجکٹ سے ریلیٹڈ سبھی لوگ وہاں چاہیں، بارہ بجے کے قریب میٹنگ روم میں آ جانا” تبھی حال میں داخل ہوتا وقار بولا۔ تینوں نے اسکی طرف دیکھا۔ وہ سوٹ بوٹ پہنے ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا بیگ لیے کھڑا تھا۔ وہ ابھی ابھی افس پہنچا تھا عثمان کی بات سن کر اسنے جواب دیا تھا۔

“تم کون ہوتے ہو ہمیں آڈر دینے والے؟” عثمان نے اسکے یوں حکم جمانے پر کہا۔ وقار متوازن چال چلتا اسکی پاس آیا۔

“اس پروجیکٹ کا ہیڈ ہوں، میرے انڈر جو کام بھی ہو گا اسکو پایا تکمیل تک پہنچانا میری ذمے داری ہے، اور اپنا کام کیسے کرنا ہے میں بہت اچھے سے جانتا ہوں، اور دوسری بات آفس میں ہمارے پرسنل ڈفرنسس نہیں آنے چاہیے یہاں ہم کزن بہنوئی نہیں بلکہ ایک کولیگ بن کر کام کریں گے” وہ سنحیدگی سے بولتا عثمان کی بولتی بند کر گی۔ عثمان خود بھی جانتا تھا حشمت صاحب نے اسے اس پروجیکٹ کو پورا کرنے کے لیے ہی آفس بھیجا ہے اور یہ بات اسی دن ہو چکی تھی

“تو اچھا ہو مجھ سے دو رہو” عثمان دانت پیستے ہوۓ بولا اور پلٹ کر چلا گیا۔ معاز بھی اسکے پیچھے کچھ فائلز لے کر گیا۔ وقار نے علیزے کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ دو قدم چلتا اسکے قریب آیا۔

“بیگم! مانا ہینڈسم لگ رہا ہوں اسکا مطلب یہ نہیں تم یوں دیکھ کر نظر لگا دو، ویسے بھی سنا ہے محبت کی نظر زیادہ خطرناک ہوتی ہے” وہ ہلکا سا اسکے کان کے قریب جھکا اور شریر اندز میں بول کر سیدھا ہوا، اسکی حرکت پر علیزے کی دھڑکنیں بڑھیں خود پر کنٹرول کرتے علیزے نے غصے سے اسے گھورا۔ وقار اسے آنکھ مارتا ہلکا سا مسکرا کر اپنے آفس کی طرف چلا گیا۔ علیزے اس پاس دیکھتی خود کو سھنمبال کر اگے بڑھ گئی۔

اپنے کمرے میں پہنچ کر اسنے بیگ ٹیبل پر رکھا اور خود اپنی کرسی پر بیٹھ کر سر اسکی کی بیگ سے لگا کر آنکھیں موندھیں۔

ماضعی:

پچپن میں حشمت صاحب نے رامین کی عثمان اور وقار کی علیزے سے بات پکی کی تھی، منہ زبانی بات طے تھی۔ سارے خاندان کو یہ بات معلوم تھی۔ عثمان رامین سے بہت محبت کرتا تھا، وقار اور عثمان دونوں ہم عمر تھے، دونوں کے درمیان گہری دوستی تھی، دونوں ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے، وقار پڑھنے میں بہت ذہین تھا، اسکے مقابلے عثمان پرھائی کے معاملے میں لااُبالی تھا۔ گھر بھر کا وہ لاڈلا تھا، اسکی ضد تھی کہ وہ امریکہ جا کر اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتا ہے،اسکی ضد کو دیکھتے ہوۓ، حشمت صاحب اسے جانے کی آجازت دے دی، اپنے خواب کو تکمیل میں لانے کی چاہ لیے وہ امریکہ چلا گیا۔
علیزے دل ہی دل میں وقار سے محبت کر بیٹھی، وہ جانتی تھی اسی شخص سے اسکی شادی ہونی ہے، اپنے نام کے ساتھ اسنے ہمیشہ وقار کا نام سنا تھا۔ وہ ہر وقت اپنے آپ کو وقار کی پسند نا پسند میں ڈھالنے کی کوشش کرتی رہتی، وقار نے کبھی اس چیز پر توجہ تک نا دی۔وہ اپنے آپ میں مصروف رہنے والا انسان تھا۔ اسے امریکہ گے تین سال ہو چکے تھے، امریکہ جانے کے ایک سال بعد اسے اپنی کلاس میٹ لڑکی سمبل سے محبت ہو گئی، دونوں کی محبت وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ ابھی اسکی پرھائی کا ایک سال رہتا تھا، اسے پورا کرنے کے بعد وہ پاکستان آ کر بات کرنے کی سوچ رہا تھا۔پر حالات نے ساتھ نا دیا۔ سمبل عام سی فیملی بیگرونڈ کی لڑکی تھی لیکن کافی ضدی بھی تھی، اسے جو چیز چاہیے ہوتی تھی وہ ہمیشہ اسے لے چھوڑتی تھی، وقار کی پرھائی کا آخری سال چل رہا تھا، وہ ساتھ میں اپنی چھوٹی سی کمپنی بھی کھولنے میں کامیاب ہو چکا تھا جسکا پاکستان میں صرف عثمان کو معلوم تھا، سمبل نے شادی کی ضد کی، وقار اس سے وقت مانگتا رہا، تا کہ پاکستان آکر سب کو منا سکے، اس چکر میں وہ اپنی بچپن کی منگنی کو بھول نہیں تھا اسنے سمبل کو یہ سب بتایا، تو اسنے نکاح کر کے پاکستان جا کر سب کو منانے کا جواز دیا، وقار نے کئی دفع بولا کہ وہ پاکستان جاۓ گا اور سب کو منا لے گا۔ سمبل نے کسی طور وقار کو اس سے نکاح کیے بغیر پاکستان جانے کی آجازت نہیں دے رہی تھی، وہ نہیں چاہتی تھی وقار اسکے ہاتھ سے چھوٹے، اور یوں وقار کو بھی نکاح کرنے کے بعد ہی سب کو بتانا مناسب لگا تا کہ سب مان بھی جائیں۔ کیونکہ نکاح تو ہو ہی چکا ہو گا۔ انہوں نے پرھائی کے مکمل ہوتے ہی نکاح کر لیا۔ یہ سب اسنے پاکستان میں کسی کو نہیں بتایا عثمان کو بھی نہیں سمبل کے بارے میں اسنے کچھ نہیں بتایا تھا اور ساتھ رہنے لگے، وقار کا مکمل دھیان اب اپنی کمپنی کو چلانے میں ہو گیا۔ اور دو سال کے اندر اندر اسکی کمپنی کافی اونچائیوں پر پہنچ گئی، جو اسکی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اسکی کمپنی کے بارے میں پاکستان میں سب کو معلوم ہو گیا۔ سبھی اسے اب پاکستان آنے پر فورس کرنے لگے۔ وہ پاکستان نہیں جا سکتا تھا کیونکہ سمبل پریگنٹ تھی اور اسکی ڈیلوری کے دن قریب تھے، ویسے بھی وہ اس سے بہت چڑی چڑی رہتی تھی، اور اسکی وجہ تھی کہ سمبل ابھی ماں بننا نہیں چاہتی تھی، پر وہ پریگنٹ ہو گئی، اسنے ایک دفع اباشن کی کوشش بھی کی، وقار نے اسکی غلطی معاف کی اور سوچا بچے کی پیدائیش کے بعد خود ہی ٹھیک ہو جاۓ گی۔
زینب کی پیدائیش کے بعد وہ یہ خوشی سب کے ساتھ بانٹا چاہتا تھا۔ تبھی جب زینب دو مہینے کی ہوئی تو اسے پتہ چلا کہ عثمان اور رامین کی شادی طے کر دی گئی ہے، اور ظاہری سی بات تھی اب اسے پاکستان جانا ہی تھا۔ وہ چاہتا تھا سمبل اور زینب کو ساتھ لے کر جاۓ پر سمبل پاکستان جانا نہیں چاہتی تھی اس بات پر انکی کافی بحث ہوئی۔ اسی ٹینشن میں وہ پاکستان پہنچا۔


وہ حشمت ولا پہنچا سبھی نے خوشی سے اسکا استقبال کیا۔ ان چھے سالوں میں وہ بہت بدل چکا تھا، پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہو چکا تھا۔ سبھی سے مل کر وہ اپنے کمرے میں پہنچا، تھکاوٹ کی وجہ سے وہ فریش ہو کر سو گیا اگلی صبح وہ ناشتہ کرنے نیچے ایا۔ سبھی سے ملاقات ہو گئی تھی سواۓ علیزے کے۔ ناشتے کے بعد وہ عثمان عروج ، شہیر ،مشل ،اور عثمان کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ رات کو مہندی جو تھی، اسی کی پلینگ ہو رہی تھی

“یار سبھی سے مل لیا علیزے نظر نہیں آئی کہاں ہے وہ؟” وقار نے نوٹ کیا کل سے علیزے اسے ایک دفع بھی نظر نا آئی۔

“اہممم اہممم صبر میرے بھائی جان جلد ہی علیزے سے ملاقات ہو جاۓ گی” مشل نے اسے چھیرتے ہوۓ کہا۔

“کیوں ابھی وہ کہاں مصروف ہے جو بعد میں ملاقات ہو گی؟” وقار کو تھوڑا عجیب سا لگا۔

“ارے ارے دیکھو تو اپنی ہونے والی دلہن سے کیسے ملنے کی بے تابی ہو رہی ہے، صبر کرو صبر” عثمان اسے چھیرتے ہوۓ بولا اور دلہن کی بات پر وقار ایک جھکٹے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔

“کیا دلہن مطلب؟” وقار نے ناسمجھی سے پوچھا

“کیا عثمان بھائی اتنی جلدی بتا دیا رات سرپرائز۔ دینا تھا” عروج منہ بسورتے ہوۓ بولی۔

“کیا کیسا سراپرائیز مجھے کوئی کچھ بتائے گا؟” وقار کو انکی گول مول سی باتوں پر غصہ آیا۔

“میں بتاتا ہوں، میری اور رامین کی شادی کے ساتھ تیری شادی بھی طے کی گئی ہے، ابھی تھوڑی دیر بعد چاروں کی مہندی کا فنگشن ہے اسکے بعد کل بارات ہے” عثمان نے ہنستے ہوۓ اسے بتایا۔ جسے سن کر کچھ پل تو وقار شاک میں کھڑا رہا۔ کہ یہ آچانک کیا ہو گیا۔

“میں آتا ہوں” وہ بولتا ہاشم صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا۔اندر داخل ہوا تو ہاشم صاحب فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ وقار نے کمرے کا دروازہ بند کیا۔