Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 9
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 9
Ishq Da Rang by Saman
اچھا پر مجھے تو ان میں کچھ حاص نظر نہیں آتا۔۔”عنایہ نے اس سے نظریں پھرتے ہوۓ صبا سے کہا تھا۔۔
تم۔۔۔ تم بے وقوف ہو اس لیے تمہیں اتنا ہنڈسم۔۔گڈلوکنگ,,لڑکا نظر نہیں آتا “صبا نے نے اُسے گھورا تھا۔۔عنایہ نے صرف کندھے اُچکاے تھے۔۔۔
اچھا چلو سٹیج پر ہانیہ آپی کے پاس چلتے ہیں” عنایہ نے کھڑے ہوتے ہوۓ صبا سے کہا ۔۔
نہیں یار میرا وہاں کیا کام تم جاؤ میں یہی ہو۔۔” صبا نے انکار کیا تھا اور عنایہ نے اُسے گھورا تھا۔۔کیا مطلب؟ کیا کام تم غیر تھوڑی ہو میری بیسٹ فرینڈ ہو یار چلو نہ مزہ آۓ گا زیان بھائی کو تھوڑا تنگ کرۓ گے۔۔”
عنایہ نے صبا کی منت کی تھی”۔۔نہیں یار میں وہاں کمفرٹیبل فیل نہیں کرو گی۔۔ سمجھونہ میری بات تم جاو میں یہی تمہارا ویٹ کرتی ہو۔۔
صبانے اس کا ہاتھ پکڑکر اسے سمجھانا چاہا تھا۔۔
آر یو شیور؟ میں جاولیکن یار مجھے اچھا نہیں لگ رہا کہ تم یہاں آکیلی۔بیٹھی رہو عنایہ نے کہا تھا۔۔
میں باہر تھوڑی بیٹھی ہو سب یہاں موجود ہے تم بھی نہ اب جاو تم جلدی کرو” صبا نے اسے زبردستی سٹیج کی طرف بیجھا تھا۔۔
۔۔عنایہ نے جاتے جاتے پیچھے موڑ کر دیکھا تھا جہاں صبا اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور اسے جانے کا اشارہ کیا تھا وہ بھی مسکرائی تھی اورسٹیج کی طرف بڑھی تھی۔
ایکسکیوزمی مس کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ عالیان جو اُسے اکیلے بیٹھے دیکھ رہا تھا اس کے ٹیبل کے پاس آیا تھا۔۔
صبا جو سٹیج کی طرف ہی دیکھ رہی تھی آواز سے ایک دم پلٹی تھی۔۔۔اور سامنے کھڑے ہنڈسم لڑکے کو دیکھا تھا جو بلیک تھری پیس سوٹ پہنے۔۔نیچے بیلک شوز لگاۓ اور ہاتھ پر قیمتی گھڑی باندھے ” بالوں کو جیل سے اچھے سے سیٹ کیے” کھڑا اس سے بیٹھنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔۔
کیوں اور کہیں جگہ نہیں ملی آپ۔کو یا آپ اکیلی لڑکی کو دیکھ کر لائن مارنے کی کوشش کر رہے ہے۔۔” صبا نےآنکھوں کوچھوٹا کرتے ہو کہا تھا۔۔
اگر ایسا ہو جاۓ تو کوئی بری بات نہیں ہے۔۔آپ جیسی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر کوئ بھی لائن مار سکتا ہے بندہ ناچیز توآپکو دیکھ کر ہی فدا ہو گیا ہے۔۔””
عالیان نے چیر پربیٹھتے ہوۓ آخری بات منہ میں بڑبڑائی تھی۔
کیا بے خودہ بکواس کر رہے ہیں آپ ؟ اورآپ کو یہاں بیٹھنے کے لیے کس نے کہا۔۔صبا ترخ کر بولی تھی۔۔
کہا تو کسی نے نہیں میں خود ہی بیٹھ گیا ,,عالیان نے ڈھٹ بنتے ہوۓ کہا تھا۔۔
آپ عنایہ کے کزن ہے نہ,,صبا نے اُس سے تصدیق چاہی تھی۔۔
جی ہاں نہ صرف کزن بلکہ ہانیہ کا دیور بھی ہو اور عنایہ کا دوست بھی ہے تو مجھ سے
چھوٹی پر میری اُس کے ساتھ خوب بنتی ہے ۔۔عالیان نے پوری تفصیل بتائی تھی “
صبا نے ابرو اچکائی تھی جیسے کہہ رہی ہو مجھے اس سے کیا,
ویسے مجھے عالیان کہتے ہے اور آپ کو” عالیان نے پھر بات کاآغاز کیا تھا۔۔
آپ سے مطلب زیادہ پیھلے مت یہاں بیٹھ گے ہے تو چپ کر کے بیٹھے۔۔صبا نے روکھائی سے کہا تھا اور سٹیج کی طرف دیکھا تھا جہاں عنایہ زیان سے کسی بعث میں مصروف تھی۔۔
میرے خیال میں آپ عنایہ کی بیسٹ فرینڈ صبا ہے ۔۔عالیان کے کہنے پر صبا نے اُسے گھورا تھا۔۔
عنایہ آپ کا بہت زکر کرتی ہے اس لیے کہا۔۔
عالیان نے جلدی سےوضاخت دی تھی۔۔
اورصبا اُس کی بات سن کر پھر سے سٹیج کی طرف دیکھنے لگی تھی۔۔
عالیان نے اُس لڑکی کا بھرپور جائزہ لیا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ کوئی دل پھینک قسم کا بندہ تھا ۔۔”
وہ تو صبا اُسے پہلی نظرمیں ہی اچھی لگی تھی آج اسے وہ دوسری بار دیکھ رہا تھا” ایک روز عنایہ کو کالج سے پک کرنے جانے پر اس نے صبا کو عنایہ کے ساتھ کالج سے نکلتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔اور تب تک دیکھتا رہا تھاجب تک وہ عنایہ سے مل کر اپنے بھائی کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر چلی نہیں گی تھی۔۔
اس کے بھائی کا اسے عنایہ سے پتا چلا تھا۔۔۔
لیکن آج اسے اکیلی ٹیبل پر بیٹھے دیکھنے کے بعد اس سے رہ نہیں گیا اور وہ اس کے پاس چلےے آیا اور اب اس کا بھرپور جائزہ لے رہا تھا جو اس وقت بلیو کلر نیٹ کی فراک (جس کے گلے پر سلور نگ کام تھا ) بازو اور گیرے پر سلور کلر کی ہی لیس تھی۔۔۔پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے جو کندھوں کی ایک سائیڈ پر تھے ایک سائیڈ بلیو ہی نیٹ کا دوبٹہ (جس پر سلور ہی لیس لگی تھی) ڈالے ۔۔پاوں میں سلور ہی سینڈل پہنے۔۔
ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔” رنگ اس کا زیادہ سفید تو نہ تھا ” مگر تھا پرکشش۔” دبلی پتلی,,, تھوڑی سے لمبی ہائٹ۔۔ سینڈل وغیرہ وہ فلائٹ ہی پہنتی تھی تاکہ زہادہ لمبی نہ لگے,,,” کالی آنکھیں۔۔تیکی ناک ,, گلاپ کی پنکری جیسے لب اور کالے بال جو کمر تک آتے تھے۔۔
اپنے پر کسی کے نظروں کی تپش مخسوس کر کے اس نے پلٹ کر عالیان کی طرف دیکھا تھا ۔۔
جو اسے ہی سرچ کرنے میں مصروف تھا وہ ایک دم اٹھی تھی اور عنایہ کی طرف بڑھی تھی۔۔ اور وہ ارے ۔۔۔ارے۔۔۔ہی کرتا رہ گیا تھا ۔۔۔
دیکھ ایسے رہا ہے جیسے آنکھوں ہی سے نگلے گا آچھی بھلی بیٹھی تھی میں پتا نہیں کہاسے آٹمکا ہے ایڈیٹ “” صبا بڑبڑاتے ہو ۓ عنایہ کو ڈھوٹنے لگی تھی جو نہ جانے سٹیج سے اتر کر کہا غائب ہو گی تھی ۔۔
نہیں ماما” آپ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہے میرۓ ساتھ ؟مجھے نہیں کرنی افنان بھائی سے شادی ” عنایہ کو سمیرا بیگم سے پتا چلا تھا کہ آج ہانیہ کی رخصتی کے ساتھ اس کا نکاح بھی ہے” کچھ دیر کے لیے تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ انھوں نے کہا کیا ہے لیکن پھر اس نے بہت شور کیا تھا کہ اسے افنان سے شادی نہیں کرنی یہاں پر سمیرا بیگم کی گھوریوں اور ڈانٹ کابھی اثر نہیں ہوا تھا وہ دونوں اس وقت برائیڈل روم میں موجود تھی۔۔عنایہ دیکھو ضد مت کرو افنان میں کیا بُرائی ہے” یہ بابا جان کا فیصلہ ہے تمہارہ نکاح ہو کر رہے گا آج” یہ بے کار کی ضد چھوڑ دو آگر تم نے اب ایک لفظ بھی کہا نہ تو میں ساری زندگی تمہاری شکل نہیں دیکھو گی میں صبا کو بھجتی ہو تمہارے پاس ابھی قاضی صاخب آتے ہو گے عنایہ جو کچھ کہنے والی تھی سمیرا بیگم کی بات سن کر خاموش ہو گی تھی۔۔۔
سمیرا بیگم نے ایک نظر اسے دیکھا اور باہر نکل گی تھی پچھے وہ تلملا کر رہے گی تھی ۔۔ بڑا شوق ہے نہ آپکو مجھ سے شادی کا دیکھنا اتنا تنگ کروگی کہ جینا ماہال کر دو گی پنا مانگے گے مجھ سے۔۔عنایہ اپنے آنسو صاف کرتے ہو معصومانہ منصوبے بنا رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد عنایہ اندر داخل ہوئی تھی اور خاموشی سے آگے بڑھی تھی اسے بھی سمیرا بیگم سے پتا چلا تھا کہ عنایہ کا آج نکاح بھی ہے وہ کافی حیران ہوئی تھی اور خوش بھی۔” لیکن وہ اپنی خوشی کا اظہار عنایہ کے سامنے کر کے اپنی شامت نہیں لانا چاہتی تھی وہ اس کی افنان سے ناپسندگی کو بھی جانتی تھی اسی لیے خاموشی سے آگ بڑھی تھی اور سمیرا بیگم کا دیا ہوا لال دوبٹہ اسے اُڑایا تھا جو انھوں نے اسے اندر آتے وقت تھمایا تھا۔۔
عنایہ نے چونک کر اپنے سر پر موجود دوبٹے کی طرف دیکھا تھا اور سوالیہ نظروں سے صبا کی طرف دیکھا۔۔
وہ۔۔۔۔۔” یہ آنٹی نے دیا ہے تمہیں اُڑانے کے لیے صبا نے اُس کی آنکھوں کا مطلب سمجھ کر جلدی سے وضاحت دی تھی۔۔ شائد سمیرا بیگم کی باتوں کا ہی اثر تھا کہ اس نے دوبٹہ اتارہ نہیں تھا۔۔اور اثبات میں گردن ہلائی تھی۔۔۔
ایک بار پھر دروازہ کھلا تھا سمیرا بیگم اور انیلا بیگم روم میں داخل ہوئی تھی سمیرا بیگم نے آگے بھر کر اس کا دوبٹہ ٹھیک کیا تھا اس نے شکوہ بھری آنکھوں سے اُنھیں دیکھا تھا سمیرا بیگم نے نظریں چُرائی تھی۔۔۔
پھر روم میں زوار شاہ ,,خاتم شاہ ,,، سکندر شاہ اور قاضی صاحب داخل ہوۓ تھے۔ ۔نکاح نامے پر افنان کے سائن ہو چکے تھے۔قاضی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا تھا۔۔
عنایہ سکندر ولد سکندر شاہ ,,آپ کا نکاح افنان زوار ولد زوار شاہ سے پانچ لاکھ سکارائج الووقت ہونا قرار پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔..
