Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 21
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 21
Ishq Da Rang by Saman
اسے آنکھیں بند کیے کچھ پل گزرے کے دروازے پر دستک ہوئی “”،،،
یس کم ان “”،،، اس نے لیٹے لیٹے ہی اجازت دی تھی””،،،
لیکن آنے والے کی طویل خاموش محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا
تو سامنے ہی اس دشمن جاں کو کھڑۓ پایا جو اس کے لیے سمیرا بیگم کے کہنے پر چاۓ لے کر آئی تھی
اور اب کھڑی اسے دیکھ رہی تھی””،،، وہ اس دیکھ مسکرایا
یہاں آؤ “”،،،، اس نے اسے اپنے پاس بلایا
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ کے پاس آئی تھی اور اس کے پاس آکر روکی تھی چاۓ سیٹ ٹیبل پر رکھی
بیٹھ جاؤ “”،،، اسے وہی کھڑے دیکھ وہ پھر مخاطب ہوا
ماما بتا رہی تھی کہ آپ کہیی جارہے ہے “”، اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوۓ پوچھا
پہلے تو وہ بلاجھجھک ہر بات کہہ دیتی تھی مگر اب ناجا نے کیوں اس کے سامنے اسے گھبراہٹ شروع ہوجاتی””،،
جو افنان نے بڑے اچھے سے نوٹ کی تھی اور اسے یہ بات اچھی نہ لگی “”،،
تم مجھ سے گھبرانے کب سے لگی””،،، افنان نے اس کے سوال کو اگنور کیا
جب سے آپ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے ہے””،،،
عنایہ نے بنا لخاظ سے کہا
افنان کی مسکراہٹ گہری ہوئی ویسے بھی اسے دیکھ وہ اپنی ٹینشن تھوڑی دیر کے لیے بھول گیا تھا
ہاتھ بڑھا کر اسے کمرسے پکڑ کر اپنی ٹانگ پر بٹھایا
وہ گھبرائی اور اُٹھنے کی کوشش کی جیسے افنان نے ناکام بنا دی اور اس کی کمر پر گرفت مضبوط کی “”،،
اسے مجبوراً ادھر ہی بیٹھنا پڑھا تھا
اسے پیار بھری نظریں کہتے ہے میری جان
“”،،،
کیا تمہیں میری آنکھوں میں اپنے لیے عشق کی انتہا نظر نہیں آتی؟؟ افنان نے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا
عنایہ نے بھی نظریں اٹھائی دونوں کی نظریں ملی “”،، کچھ دیر ایسے ہی سرکھے عنایہ نے ہی نظریں پھیری تھی
وہ ان آنکھوں کی تیش سے جلسی جا رہی تھی””،، افنان کے چہرے پر ایک بار پھر مسکان نے جھلک دکھلائی
میں دو دن کے لیے ضروری کام کی وجہ سے شہر سے باہر جا رہا ہو “”،، افنان نے اس کے بالوں کو چھڑتے ہوۓ بات کا آغاز کیا
کیا میرے کالج کی بھی چھٹی ؟؟؟ عنایہ نے اس کی طرف دیکھا
کیوں چھٹی؟؟؟ تمہارے ٹیسٹ ہو رہے ہے نا ؟؟
افنان کے پوچھنے پر اس نے اثبات میں گردن ہلائی
میں اپنے بہت ہی حاص اور وفادار بندے کو یہی چھوڑ کر جارہا ہو جیسے میں نے تمہارے کالج لانے اور لے جانے کی زمہ داری دی ہے اور وہ پورے اچھے سے اپنی زمہ داری نبھاۓ گامجھے پورا یقین ہے”
اس نے اس سے زیادہ خود کو مطمئن کیا تھا””،،،
لیکن تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا کہ تم کہیں اور جانے کی ضد نہیں کرو گی
میں کہا ضد کرتی ہو “”” عنایہ نے اس کی بات پر منہ بنایا
مجھے پتا ہے کہ تم ضد نہیں کرتی میرا بچہ “،،، افنان نے اس کا گال کھنچا
جو عنایہ کو بکل پسند نا آیا اس نے افنان کوگھورا تھا
تم جب ایسے منہ بناتی ہو مجھے بہت اچھی لگتی ہو
افنان نے شرارت سے اس کی ناک کھنچی””،،
جب آپ ایسی حرکتیں کرتے ہے تو مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے””،،
اس نے اپنی ناک ملتے ہوۓ کہا
اس کی بات پر افنان کا قہقہ جاندار تھا
چلو مجھے دیر ہو رہی ہے,”،، اس نے گھڑی دیکھتے ہوۓ کہا
عنایہ اس کی نرم گرفت دیکھ جلدی سے اٹھی اور اس سے فاصلے پر کھڑی ہوئی
افنان نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا
میں واپس آکر دادا جان اور بابا سے رحصتی کی بات کرتا ہو اب مجھ سے یہ دوری برداشت نہیں ہوتی
افنان شوخ ہوا
جبکہ اس کی بات سن کر عنایہ کی آنکھیں پھیلی “”،،
جی نہیں ایسا کچھ نہہ ہونا والا ابھی میں نے پڑھنا ہے “”
پڑھائی شادی کے بعد بھی کمپلیٹ ہو سکتی ہے اب میں کچھ نہیں سنو گا “”” واپس آکر بات کرتا ہو سب سے””،،،،
اوکے میں فریش ہو لو “”؟،، وہ الماری سے اپنے کپڑے لے کر واش روم کے دروازے کی طرف بڑھا
عنایہ اب کی بار خاموش ہی رہی
اور ویسے بھی اب اسے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا پھر وہ اب بے وجہ کی ضد نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
وہ بھی مسکراتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی…
عنایہ اس وقت کالج کے لیے ریڈی ہو رہی تھی رات افنان چلا گیا تھا
اسے رات کو نیند بھی لیٹ آئی تھی ٹیسٹ کی وجہ سے اسے کالج جانا پڑ رہا تھا
آگر آج ٹیسٹ نہ ہوتا تو آج وہ کالج سے چھوٹی کر لیتی اوپر سے اسے رات کو افنان کی گی بات کی بھی ٹینشن تھی
اسے اعتراض تو نہ تھا مگر وہ اتنی جلدی رحصتی بھی نہیں چاہتی تھی
وہ اس کی چھوٹی سی گستاخی پر ہی سرخ ہو جاتی ایسے لگتا تھا کہ دل پسلیاں توڑ کر باہر آجاۓ گا
اور اگر ہمیشہ کا ساتھ مل جاتا تو “”،،، وہ سوچ کر ہی سرخ ہوئی چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے جیسے وہ اس کے سامنے ہی ہو””،،،
دن بادن وہ اسے اپنا عادی بنا رہا تھا “”،،،
یہی سوچتے ہوۓ وہ تیار ہورہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی
کون ہے؟؟ اس نے ادھر ہی سے پوچھا
بی بی جی بیگم جی کہہ رہی ہے کہ اب آبھی جاۓ کالج کے لیے لیٹ ہو رہی ہے آپ””،،،
ملازمہ سمیرا بیگم کا پیغام لے کر آئی تھی
آرہی ہوں “”،، عنایہ نے جلدی جلدی اپنی کتابیں بیگ میں ڈالی اور باہر کی طرف بڑھی اسے واقعی کافی دیر ہو چکی تھی””،،
وہ جلدی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے ڈائینگ ٹیبل پر آئی
ماما جلدی کریں مجھے ناشتہ دیں میں لیٹ ہو چکی ہو “”،،
وہ کرسی کسکا کر بیٹھی اور سمیرا بیگم کو آوز دی
جو ناشتہ لے کر کچن سے باہر آرہی تھی
یہ لو”! بڑی جلدی نہیں احساس ہو گیا تمہیں کہ تم لیٹ ہو چکی ہو “۔۔۔
سمیرا بیگم نے اس کے آگے ناشتہ رکھتے ہوۓ کہااور خود بھی اس کے سامنے والی کرسی پر برجمان ہوئی “۔۔۔۔
آج تمہارا پیپر نہ ہوتا تو میں تمہیں نہ جانے دیتی کالج “”،،،
سمیرا بیگم اس کی طرف سے فکر مند ہوئی تھی
جو جلدی جلدی ناشتہ کرنے میں مصروف تھی”،،
کچھ نہیں ہوتا “” میں چلتی ہوں “” باۓ
وہ اپنا بیگ سبھالتے ہوۓ باہر نکلتے ہوۓ بولی
اللہ تمہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے میری بچی “” پیچھے سمیرا بیگم نے قرانی آیات پڑھ کر پھونکی تھی”””
اس کی گاڑی میں ڈرائیور چاچا کے علاوہ افنان کا وفادار اظفر بھی موجود تھا
وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی اپنا ٹیسٹ ایک دفعہ ریوائین کر رہی تھی کہ اچانک گاڑی جھٹکے سے روکی “”،،
اس کا سر اگلی سیٹ سے ٹکڑایا
کیا ہوا؟؟؟ اس نے اپنا سر ملتے ہوۓ اظفر سے پوچھا جو خود بھی صورتحال سمجھے کی کوشش کر رہ تھا””،،،
ان کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی آکر روکی تھی مگر وہاں سے ابھی تک کوئی باہر نہیں نکلا تھا
آپ یہی رہے میں اتر کر دیکھتا ہو “”،
اظفر نے اپنی گن نکالتے ہوۓ دونوں سے کہا اور خود گاڑی سے اترا گن اس کے ہاتھ میں ہی تھی””
وہ چلتا ہوا اس گاڑی کے پاس آیا اور فرنٹ ڈور نوک کیا ایک دو بار نوک کرنے پر شیشہ نیچے نہ ہوا نہ ہی دروازہ کھولا اس نے جھک کر اندر جھانکا مگر اسے اندر کوئی نظر نہ آیا “”،،
وہ واپس اپنی گاڑی کے پاس آیا مگر وہاں ڈرائیور چاچا کو بے ہوش اور عنایہ کو غائب پایا
اس کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے “”،،، اس نے بھاگ کر ادھر ادھر دیکھا مگر وہاں عنایہ کا نام نشان نہ تھا
وہ واپس گاڑی کی طرف آیا اور پچھلی سیٹ چیک کی وہاں عنایہ کا بیگ موجود تھا مگر وہ خود نا تھی۔۔
وہ ایک بار پھر اگے پیچھے بھاگا تھا مگر وہاں کچھ بھی نہ تھا
وہ گاڑی بھی نہیں جو ان کی گاڑی کے آگے کھڑی تھی۔۔
اب میں افنان سر کو کیا جواب دو گا””،،، وہ سر پکڑ کر بیٹھتا چلا گیا ,,,,
وہ اس وقت ایک سیاسی میٹنگ اٹینڈ کر کے آرام کرنے کی غرض سے اپنے کمرے میں موجود تھا
وہ اس وقت ایک ہوٹل میں بک کیے ہوۓ کمرۓ میں موجود تھا
صرف آج کا ہی تھوڑا سا کام باقی تھا صبح اسے یہاں سے نکلنا تھا
آج صبح سے ہی اس کا دل بے چین سا ہو رہا تھا اسے لیٹے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اس کا فون بجا اس نے نبمر دیکھا تو اظفر کی کال تھی اس نے فوراً اٹینڈ کی تھی کال۔۔
ہیلو”!
بولو اظفر “”،،، سب خیریت ہے نا؟؟ اس نے بے تابی سے پوچھا
مگر آگے سے جو خبر ملی تھی وہ اس کو غصہ۔دلانے کے لیے کافی تھی
فون بند کرنے کے بعد اس کی رگیں غصے سے تنی تھی
بس بہت ہو گیا اب تو دو دو ہاتھ کرنے ہی پڑھے گے دلاور تم نے افنان کی عزت کو للکارا ہے “”،،،
اس نے جلدی سے اپنی چیزیں اٹھائی تھی اور کمرے سے باہر نکلا تھا اسے جلد از جلد واپس جانا تھا ۔۔۔۔۔۔
