Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 17
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 17
Ishq Da Rang by Saman
تم لوگ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟؟؟
میری بات سن کر تم لوگو کو خوشی نہیں ہوئی؟؟؟
انیلا بیگم نے ان کے پریشان چہرۓ دیکھتے ہوۓ حیران ہو کر پوچھا “
بھابھی آپ کیا کہہ رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا ؟؟؟
سمیرا بیگم نے فق چہرے سے پوچھا
اس میں نہ سمجھ آنے والی کون سی بات ہے
سمیرا؟ انیلا بیگم نے ناراضگی دیکھائی۔۔
میرا مطلب بھابھی آپ ؟ سمیرا بیگم کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کہے تبھی بات بیچ میں روکی تھی۔۔
سمیرا “” آسیہ کا فون آیا تھا وہ دادی بنے والی ہے۔
۔اس لحاظ سے تم اور میں نانی بنے والی ہیں۔۔
انیلا بیگم نے بات مکمل کی تھی۔۔
بہت مبارک ہو بھابھی ” سمیرا بیگم بات سمجھتے ہوۓ خوشی سے آگے بڑھی اور انیلا بیگم کے گلے لگی۔۔
تمہیں بھی مبارک ہو سمیرا” انیلا بیگم نے بھی خوش دلی سے کہا
جبکہ افنان نے سکھ کا سانس لیا تھا ورنہ وہ تونا جانے کیا سمجھا تھا
وہ بھی اپنی ماں کی طرف آیا تھا۔۔
مبارک ہو آپ دونوں کومیں ماموں بنے والا ہو “”
اس نے دونوں کےکندھے پر ایک ایک بازو رکھ کر اپنے ساتھ لگایا۔۔
تمہیں بھی مبارک” وہ دونوں یک زبان بولی
ارے یہ کرکٹ ٹیم کی طرح آپ لوگو نے سر کیوں جوڑے ہے کیا ڈسکس ہو رہا ہے۔۔؟
عنایہ تیار ہو کر نیچے آئی تو انھیں سر جوڑے کھڑے پاکر حیرت سے ان کے پاس آئی”
اس کی بات سن کر تینوں مسکراۓ کچھ ڈسکس ہو رہا بلکہ ایک گڈنیوز کی خوشی منا رہے ہے۔۔
افنان نے اسے بتایا تھا۔
کونسی گڈ نیوز مجھے بھی بتاۓ نا ” عنایہ اتاولی ہوئی۔۔
گڈ نیوز یہ ہے کہ تم حالہ بنے والی ہو ” سمیرا بیگم نے اسے گڈ نیوز سنائی
مطلب ؟ (اور عنایہ رہی سدا کی معصوم )
ناسمجھی سے ماں کو دیکھا
ارے کیا ہو گا تمہارا عنایہ ” افنان اب تم ہی ایسے سمجھانا “”
تم لوگ آگے ہی لیٹ ہو رہے ہو “” سمیرا بیگم
نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور افنان سے مخاطب ہوئی
جو اس کی طرف دیکھ کر اپنی مسکراہٹ چپھا رہا تھا
ہاں جاؤ تم لوگ آگے ہی کافی لیٹ ہوچکے ہو تم لوگ” انیلا بیگم نے بھی انھیں وقت کا احساس دلایا۔۔
اللہ حافظ ” چلو عنایہ ” افنان نے پہلے انھیں سلام کیا پھر عنایہ سے محاطب ہوا جو کسی سوچ میں گم تھی
اوکے ماما,, باۓ بڑی ماما ” وہ بھی سر چھٹک کر دونوں کو پیار کرکے باہر بھاگی جہاں افنان پہلے ہی گاڑی کے پاس کھڑا فون پر کیسی سے بات کر رہا تھا۔۔
وہ جاکر گاڑی کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔۔
افنان فون بند کر کے پلٹا تو اسے وہی کھڑا خود کو دیکھتے پایا۔۔
افنان نے ابرو اُچکا کر اسے دیکھا تھا۔۔
وہ میں سچ میں کسی کی حالہ بنے والی ہو ؟ اور اگر بنے والی ہو تو کس کی؟ عنایہ کی سوئی سمیرا بیگم کی بات پر ہی اٹکھی ہوئی تھی۔
افنان اس کی بات سن کر مسکرایا اور اس تھوڑی سی پاگل “” تھوڑی غصلی اور تھوڑی سی معصوم لڑکی کو پیار سے دیکھا۔۔
جو اس وقت بلیک شارٹ فراک (جس کےگلے اور بازو پر سرخ دھاگے کی کڑھائی تھی )
نیچے وائٹ ٹراوزر پہنے ,,, بال کھولے چھوڑے ,,” جن کے ایک سائیڈ پر اسنے ریڈ پنے لگائی تھی,،،،””
میک اپ کے نام پر آنکھوں پر صرف مسکارا اور لائنر لگایا گیا تھا۔۔
ہونٹوں پر ریڈ لپ سٹک جو اس کے حُسن کو چار چاند لگا رہی تھی اورلوگو کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی تھی۔۔
گلے میں لاپروائی سے جھولتا بلیک دوبٹہ،،،، اس کے ماتھے پر بل لانے کے لیے کافی تھا وہ گاڑی میں بیٹھا اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
وہ بھی گاڑی میں بیٹھی دروازہ بند کر کے اس کی طرف پلٹی تو اسے خود کو گھورتے پایا۔۔
یہ لو لپ سٹک صاف کرو،،” افنان نے ٹشو پیپر اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا
کیوں صاف کرو ؟؟؟؟ اتنی آچھی تو لگ رہی ہے “
عنایہ نے حیران ہو کر پوچھا اور شیشے میں خود کو دیکھا۔۔
اسی لیے تو کہہ رہا ہو صاف کرو اِسے
میں نہیں چاہتا کہ تمہیں میرے علاوہ کوئی اس طرح دیکھے” افنان نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا
کیا مطلب کوئی اور نہ دیکھے میں نہیں کر،،،،،،،،، اس پہلے وہ کوئی اور بات کرتی افنان نے اس کے گلے کے پیچھے ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھنچا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کی بولتی بند کی تھی۔۔
عنایہ اس افتاد کے لیے بکل تیار نہ تھی اس کی آنکھیں پوری کھلی ۔۔
اس نے افنان کو پیچھے کرنے کے لیے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے جوافنان نے پکڑ کر اس
کی کمر پرباندھے۔۔
افنان کے عمل میں شددآئی تھی جبکہ عنایہ کواپنی سانس لینا مشکل لگا تبھی عنایہ نے گردن زور سے ہلائی ۔۔
کچھ دیر بعد افنان نے اسے آزادی بخشی تھی۔۔
آپ بہت برے ہے شاہ” عنایہ نے اپنی سانس نارمل کی ۔۔
اسےافنان کا چھونا آج برا نا لگا تھا بلکہ آج اس کا,دل ایک الگ ہی لے میں دھڑکا ۔۔
اسنے اپنے دل پرہاتھ رکھا جو بےانتہا دھڑکنےمیں مصروف تھا
شاہ مجھے کچھ ہورہا میرا دل۔۔ ” عنایہ نے دل پر ہاتھ رکھے ہی اسکی طرف دیکھاجو اس کی ایک ایک عمل کوبڑی گہری نظروں سےدیکھ رہاتھا۔۔
تمہیں پیار ہو رہا ہے ” مگر میں چاہتا ہو تم عشق کرو مجھ سے جیسے میں کرتا ہو تم سے بےپناہ عشق” افنان نے اس کا گال دو انگلیوں سے چھوا۔۔
جو سرخ اناری ہو چکے تھے جبکہ اس کی باتیں عنایہ کے سر سے گزری تھی اسی لیے وہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
منہ بند کرو اور یہ لو ٹشو لپ سٹک صاف کرو
ویسے تو کافی صاف ہو چکی ہے جو رہتی ہے وہ تم صاف کرو لو “
افان نے شرارت سے مسکراتے ہوۓ ٹشو اس کی طرف بڑھایا جو اس نے تھام لیا تھا
کیونکہ بعث کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا اسی لیے اسنے شیشے میں دیکھ کر کافی لائٹ کر لی تھی لپ سٹک۔۔
اور یہ دوبٹہ بھی سر پر لو اچھے سے یہ گلے میں ڈالنے کے لیے نہیں ہوتا سر پر لیا جاتا ہے اس کو۔
۔افنان نے خود ہی دوبٹہ اس کے سر پر ٹھیک کیا۔۔
گاڑی سٹارٹ کر کے گیٹ سے باہر نکالی اور مین سڑک پر ڈالی تھی۔۔
اب میں آپ کے ساتھ کبھی نہیں آو گی ,,عنایہ کو اب غصہ آیا تھا۔۔
یہ آپ کی غلط فہمی ہے میری جان ” افنان نے اسے چڑایا اور وہ سچ میں چڑ چکی تھی
آپ کیا چاہتے ہے کہ میں یہی اتر جاو,,عنایہ نے چڑ کر کہا۔
اور تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں تمہیں اتارو گا
افنان نے جیسے اس کامزاق اڑایا
آپ بہت برے ہے میں آپ کی شکایت لگاو گی دادا جان کو ,,
عنایہ نے رونے والا منہ بنایا”
اچھا اچھا اب رونے نہ لگنا نہیں کچھ کہہ رہا یار۔۔”” اس سے پہلے وہ رو پڑتی افنان نے جلدی سے کہا تھا
عنایہ نے منہ موڑ کر باہر دیکھنا شروع کردیا تھا
افنان بھی خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا “
تھوڑی دیر بعد افنان نے گانا لگایا تھا اب گاڑی میں موسیقی کے سر بکھر رہے تھے دونوں طرف خاموشی تھی ۔۔
گانے کے بول افنان کے دل کی بات کوبیان کررہے تھے
تیرا پیار عبادت اے،،،،،،
تیرے بنا نہیں جینا،،،،،،
تیری پہ گی عادت وے،،،
صوفی ،،سپنے سجالےجدو آنکھیاں،،،
طریقے سارے ماہیا،،،،
طریقے سارے ماہیا،،،،
تو سکھے لگ دے،،،
سکھے لگ دے،،،
ایسا رنگ عشقے دہ چڑھیا،،،،،،
وے باقی رنگ پھکے لگدے،،،،
آو ایسا رنگ عشقے دہ چڑھیا،،،،،،
یہ کیسی چوائس ہے آپ کی ” عنایہ نے گانابند کیا۔۔اور برا سا منہ بنایا
افنان گہرا مسکرایا تھا
تم اپنی پسند کا کچھ لگا لو “افنان نے تجویز دی””
آیسا ہی کرنا پڑھے گا ” عنایہ نے گاناچینچ کیا تھا”
گاڑی میں راحت فتخ علی حان کی آواز گونجی ۔۔
تمہیں دل لگی،،،،،
بھول جانی پڑھے گی،،،،،،
تمہیں دل لگی ،،،،،،،،
بھول جانی پڑھے گی،،،،،،
کبھی دل کسی سے ،،،،،،
لگا کر تو دیکھو،،،،،،
تمہیں دل لگی،،،،،،،،،
کیا بکواس ہے عنایہ نے اور گانے چیک کیے تھے وہ بھی اسی طرح کے تھے
اس لیے اسنے تھک ہار کر ٹیپ بند کر دی اور سر سیٹ کے بیک پر ٹیکایا تھا مگر کچھ یار آنے پر ایک دم سیدھی ہوئی اور افنان کی طرف پلٹی۔۔
جو پوری سجندگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا وہ پوری مردانہ وجاہت کا حامل تھا۔
وہ اس وقت بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں مبلوس تھا جس کے بازوں کہنیوں تک فولڈ کیے گے تھے۔۔
جس میں اس کا انچا قد نمایا ہو رہا تھا
بال ماتھے پر بکھرے ہوۓ تھے جیسے وہ ہر تھوڑی دیر میں ماتھے سے ہٹاتا تھا
ہاتھ پر قیمتی گھڑی جو اس کے ہاتھ میں ہر وقت ماجود رہتی تھی۔
پورا جائزہ لے چکی ہو تو اب پوچھو کیا پوچھنا تھا
افنان نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا
آپ کو کیسا پتا ؟؟ میں نے آپ سے کچھ پوچھنا ہے؟؟؟
عنایہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
مجھے اپنی جان کی ہر بات کاپتا ہوتا ہے ” افنان نے لہجے میں پیار سموۓ کہا
وہ ماما نے کہا تھا “” آپ مجھے بتاۓ گے کہ میں حالہ بنے والی ہو””
عنایہ نے اسے یاد کروایا تھا۔۔ ” افنان نےاس کی بات سن کر زور دار قہقہ لگایا
آوہو عنایہ تم کتنی معصوم ہو یار”
بات یہ ہے کہ ہانیہ کے گھر بے بی آنے والا ہے اور تم ہانیہ کی بہن ہو اس رشتے سے تم اس بے بی کی حالہ بنو گی””افنان نے اسے سمجھایا””
کیا سچ میں ہانیہ آپی بےبی لا رہی ہے
مجھےچھوٹے چھوٹے بے بی بہت پسند ہے
عنایہ پرجوش ہوئی””” افنان صرف
مسکرایا
لو آگیا شاپنگ مال کوئی اور سوال باقی
ہے ؟؟؟ افنان نے آخر میں شرارت سے کہا
جی نہیں ” عنایہ گاڑی سے نکلتے ہوۓ بولی۔۔
پھر افنان نے اسے جی بھر کر شاپنگ کروائی ۔۔
,![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ایک آچھی شام گزار کر اب وہ لوگ گھر جارہے تھے ” افنان نے اسے ایک اچھے ریسٹورنٹ میں ڈنر کروایا تھا وہ آج وہ بہت خوش لگ رہی تھی
اور افنان اسے خوش دیکھ کر مطمئن تھا اسی لیے وہ ریلکس سا ڈرائیو کر رہا تھاجب اسے محسوس ہوا کہ کوئی گاڑی ان کو تعاقب کر رہی ہے پہلے تو اس نے اگنور کیا تھا۔۔
مگر پھر وہ الرٹ ہوا تھا کیونکہ دو تین موڑ موڑنے کے بعد بھی وہ گاڑی ان کے یچھے تھی
اکیلا ہوتا تو اسے کوئی ہریشانی نا تھی مگر اس وقت عنایہ کا ساتھ ہونا اس کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔۔
تبھی اس نے ایک اور موڑ کاٹا وہ گاڑی بھی اس کے پیچھے تھی اس نے عنایہ کی طرف دیکھا۔۔
جو سیٹ کے بیک سے سر ٹکاۓ شائد سوچکی تھی۔
