Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 1
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 1
Ishq Da Rang by Saman
آج حاتم منیشن میں خوشی کا سما تھا کیونکہ آج”حاتم شاہ” کا پوتا اپنی پڑھائی مکمل کر کے واپس آرہا تھا۔۔ حاتم شاہ اپنے زمانے کے مشہور بزنس مین تھے،اور سیاست سے بھی وابستہ تھے۔پھر انھوں نے اپنا بزنس اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے کر دیا۔جنہوں نےبزنس کو ساتویں آسمان تک پہنچایا تھا اور خوب ترقی کی تھی ۔ اب اُن کا اِرادہ اپنے پوتےکو بھی سیاست میں شامل کرنے کا تھا حاتم شاہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔بڑا بیٹا زوار شاہ جن کی شادی انیلا بیگم سے ہوئی اور آن کے دو بچے تھے”افنان زوار شاہ”جو آج واپس آرہا تھا،،”ہانیہ زوار شاہ” جو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ تھی۔۔
پھر سکندر شاہ,تھے جن کی شادی سمیرا بیگم سے ہوئی تھی ٱن کی اکلوتی بیٹی”عنایہ سکندر شاہ” جو بڑی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔عنایہ فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی اور شہرکے مشہور کالج میں پڑھتی تھی
اس کے بعد آسیہ شاہ جن کی شادی حیدر صاحب سے ہوئی تھی ٱن کے دو بیٹے تھے,”زیان حیدر”جو اپنی تعلیم مکمل کر کے حیدرصاحب کے ساتھ بزنس میں شامل ہو گیا تھا ۔ عالیان جو(بی ایس سی) کر رہا تھا
عنایہ،عنایہ،، اٹھ جاو؛ دیکھو تو کیا ٹائم ہو گیا ہے؟؟اور تم ابھی تک سورہی ہو! ٱٹھ جاو،، جلدی کرو افنان بھائی بھی پہچنے والے ہیں ۔۔۔ہانیہ اس کے اوپر سے کمل کنچتے ہوۓ بولی تھی…ارے آپی۔۔میں جب اٹھوں گی توافنان بھائی سے مل لوگی نہ،،!اور ویسے بھی وہ ابھی پہنچے نہیں ہیں جب آۓ گۓ تو اٹھ جاو گئ ابھی سونے دیں پلیز۔۔وہ پھر سے اپنے اوپر کمل لیتے ہوۓ بولی۔۔۔اچھا تو تم نہیں ٱٹھ رہی ہو،چلو میں چھوٹی ماما کو بیجتی ہو،،ہانیہ نے کہا اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ ۔۔ اپنی ماں کا نام سونکر وہ اک دم ٱٹھ کر بیھٹی تھی۔۔۔ہاہاہاہا،،،دیکھا مجھے پتا تھا تم ایسے ہی ٱٹھوں گی ۔چلو جلدی سے ریڈی ہو کر نیچے آو،،اور آگر اب سونے کی کوشش کی تو اب سچ میں چھوٹی ماما آۓ گی ہانیہ ٱسے پھر سے بستر پر لیٹتے دیکھ کر بولی اور باہر نکل گئ۔ایک تو لگتا ہے افنان بھائی! نہیں آرہے کوئی پرائم مینسڑ آرہا ہیں جیسے؛ ایک چھٹی کا دن ہی ہوتا ہے آس میں بندہ سوۓ نہ” وہ بڑبڑاتے ہوۓ اٹھی۔اور الماری سے اپنا سوٹ نکال کر واش روم میں گھس گئی۔۔
وہ فریش ہو کر نیچے آئی تو دادا جان ٹی وی لاونچ میں ہی ماجود تھے، اسلام علیکم! دادا جان ،،کیا ہو رہا ہے؟؟اس نے کہا اور وہی صوفے ہر حاتم شاہ کے ساتھ بیٹھ گئ,,او……ٱٹ گیا میرابچہ،، انھوں نے پیار سے اُسے اپنے ساتھ لگایا۔جی دادا جان,,کوئی مجھے سونے کہا دیتا ہے وہ ہانیہ کو وہی آتے دیکھ کر بولی,”خدا کو مانو لڑکی اتنا سو کر بھی تم کہہ رہی ہو کہ سونے نہیں دیا۔۔ہانیہ دوسرے صوفے پر بٹھتے ہوۓ بولی ۔۔ہاں تو؛؛اج تو میں نے خوب سونا تھا,,خیر چھوڑے ماما اور بڑی ماما کدھر ہیں۔؟اُس نے ہانیہ سے پوچھا: کہا ہو گی کچن میں ہیں,”ٱوہو… میں کیوں بھول گئ آج ان کے لاڈلے جو آرہے ہیں,,ویسے کون کون گیا ہے ائرپورٹ افنان بھائی کو لینے،،اس نے دادا جان سے
پوچھاجو ٹی وی کی طرف متوجہ تھے،،، تمہارے پاپا،،بڑے پاپا اور زیان بھی گیا ہے ساتھ،،اچھااااا………ٱس نے اچھا کو لمبا کنچھا تھا زیان بھائی بھی گۓ ہیں, ویسے کیوں نہیں جاۓ گۓ آخر ڈبل رشتہ جو ہیں۔ٱس نے ہانیہ کو دیکھ کر شرارت سے کہا جو اس کی بات سُن کر ایک دم گڑبڑائی تھی اور دادا جان کو دیکھا تھا جو اپنی مسکراہٹ چپھا کر پھر سے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو چکے تھے،،
“ذیان اور ہانیہ کی 2 سال پہلے منگنی ہو چکی تھی،،اور عنایہ ہانیہ کو تنگ کرنے کا موقع چھوڑتی نہیں تھی۔۔۔۔۔
عنایہ تم نے ناشتہ نہیں کرنا ہانیہ نے اسے انکھیں دیکھاتے ہوۓ کہا نہیں آپی ابھی نہیں اور ویسے بھی اب لنچ کا ٹائم ہورہا ہے سب کے ساتھ ہی کھاوگی,, ٱس نے جواب دیا, ,,,ابھی تک پہنچے نہیں پاپا لوگ بات ہوئی کسی کی؟؟ اُس نے دونوں سے پوچھا؛ ہاں ! بس پہچنے والے ہیں,,داداجان نے جواب دیا,,اچھا,,,میری بے بی‘مانو’ کدھر ہیں ٱس وقت کی دیکھی نہیں مجھے,,عنایہ نے ہانیہ سے پوچھا اور آس پاس نظر دورائی،،پتا نہیں میں نے بھی نہیں دیکھی؟؟؟وہ ایک دم کھڑی ہوئی تھی اور باہر کی طرف بڑی تھی۔۔اہ………میرا سر،،لاونچ کے دروازے پر کسی سے ٹکرائی تھی ،،دیکھ کر نہیں چل سکتے پورے دماغ کو ہلا ڈالا آگر میرے دماغ کا ایک بھی پرزہ اِدھر ،اُدھر ہوا تو پھر میں آپ سے پوچھوگی وہ اپنا سر پکڑے ایک ہی سانس میں بولی اور اگلے بندے کا جواب نہ پاکر سر اٹھایا تھا،،اور سامنے کھڑے بندے کو دیکھا تھا افنان بھائی! آپ اگے ؟ نہیں ابھی راستے میں ہو: لگتا ہے سچ میں کوئی پرزہ ہل گیا ہے،، اُس نے مسکراہٹ چپھا کر اس نازک سی لڑکی کو دیکھا تھا جو بے انتہا حسین اورمعصوم تھی۔۔بڑی سرمئی آنکھیں،,چھوٹی سی ناک,,جو اس وقت شاید زور سے ٹکرانے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی،، پھولے ہوۓ گلابی گال,,گلاب کی پنکھڑی جیسے نازیک لب,,اور اس کے تھوڑا نیچے ایک چھوٹا سا تیل جو اُسے اور بھی خَس ین بنا رہا تھا,,یلو قمیض جیس پر وائٹ دھاگے کی کڑھائی ہوئی تھی,,وائٹ شلوار ساتھ یلو اور وائٹ دوپٹہ جو سر پر تھا,,افنان نے گہری نظر سے دیکھا تھا۔۔اور اپنے نظروں کا زاویہ بدلہ تھا۔۔ارے زیان بھائی کیسے ہیں آپ اور پھوپھو کیسی ہیں؟؟وہ جو اس کی بات سن کر کچھ بولنے لگی تھی زیان کو دیکھ کر اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔〔لو مجھ سے پوچھنے کہ بجا اُس سے پوچھ رہی ہے پاگل لڑکی 〕افنان نے سوچا,, میں بلکل ٹھیک ہو اور ماما بھی بکل ٹھیک ہیں گڑیا” زیان نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔اب ادھر ہی روکنا ہے یا اندر بھی جانا ہیں افنان نے اُکتا کر کہا ہاں چلے اندر ہی میں نے کون سا آپ کو روکا ہے۔۔۔ہو،،،،،،،،،،عنایہ نے منہ بنا کر کہا, ,محترمہ آپ راستہ دیں گئی تو ہم جائیں گے اندر” افنان نے طنزیہ کہا اور اُس نے ایک دم راستہ چھوڑا تھا۔۔وہ اندر کی طرف بڑھا تھا۔,,کھڑوس کہیں کے, ,تم بھی آو نہ گڑیا,, ,,زیان نے اندر بڑھتے ہوۓ کہا۔۔۔ آ ہاں ۔۔۔چلے میں بےبی “مانو”کو لے کر آتی ہو عنایہ جو اُس کے جانے کہ بعد برے برے منہ بنا رہی تھی زیان کی بات سن کر اُسے مسکرا کر جواب دیا” اوکے “جلدی آجاو! زیان نے اُس کے سر ہر ہاتھ رکھا اور اندر کی طرف بڑھ گیا……
نہیں، چھوڑو گا: اُس حاتم شاہ ،اور اُس کی سارے حاندان کو ایسا مزا چکھاؤ گا اُس کو کہ دنیا یاد رکھے گی۔ملک قاسم اپنے آفس میں بڑبڑاتے ہوۓ غصے سے چکر لگا رہا تھا۔۔کیا ڈیڈ کیا ہو گیا ہے ایسے غصے سے کام نہیں لینا ہمیں،،،بلکہ تحمل سے آرام سے ٱس حاتم شاہ کی جڑیں کاٹنی ہیں ہمیں،،،،،,آپ سمجھ رہے ہیں میری بات،،،،کرسی پر بیٹھا ہواملک قاسم کا بیٹا بولا جو کب سے اپنی باپ کو غصے سے چکراتے ہوۓ دیکھ رہا تھا۔۔کیسے ؟؟ کوئی کمزوری بھی تو نہیں ہاتھ آرہی اُن کی۔۔میں نے تمہیں ایک کام دیاتھاوہ بھی نہیں ہوا تم سے۔۔اب ملک قاسم کا رخ اپنے بیٹے ملک دلاور کی طرف ہوا تھا۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔۔آپ مان لے ڈیڈ کہ یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ اب اِسے اپ مجھے ہینڈل کرنے دیں ملک دلاور قہقہ لگا کر بولا۔۔اور جہاں تک بات ہیں کمزوری کی تو وہ پتا لگا لوگا ٹیشن نہ لے آپ وہ اپنے باپ کو بولا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ ٹینشن کیسے نہ لواب تو اُس کا پوتا بھی واپس آگیا ہے۔ سنا ہے! بہت غصے والا اور ہوشیار بھی ہیں ملک قاسم نے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔آچھا پھر تو اور مزہ آگا..ملک دلاور نے آنکھ مارکر کہا۔۔چلو جلدی مجھے کوئی اچھی خبر دو” اب تم کہا جارہے ہو؟؟ ملک قاسم نے اپنے بیٹے کو آفس سے باہر نکلتے ہوے دیکھا تو کہا۔بس اپنے دوستوں کہ ساتھ جا رہا ہو اوکے باۓ اُس نے جلدی سے کہا اور آفس سے باہر نکل گیا۔۔۔ملک قاسم ویسے تو بزنس مین تھا, مگر آس کا اصلی بزنس ,ڈریگز اسمگلر کرنا تھا اُن باپ بیٹے کے تعلوقات غلط لوگوں کے ساتھ تھے۔۔ملک قاسم کا بزنس,, ایکسپورٹ,امپورٹ,,کا تھا مگر وہ “اس کے نام پر غہر قانونی کام کرتا تھا۔۔”حاتم شاہ نے آس کے حلاف پولیس کو ثبوت دیے تھے اور اُس کو میڈیا میں بھی بے نقاب کیا تھا “مگر وہ اپنی تعلقات استمال کرکےنکل تو آیا تھا مگر اُس کی اُس شہر میں بہت بدنامی ہوئی تھی اوراُس نے وہ شہر چھوڑ دیا تھا،،تب سے وہ حاتم شاہ کو برباد کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔۔مگر اُس میں کامیاب نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
