Ishq Da Rang by Saman NovelR50440

Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 25 (Last Episode)

250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 25 (Last Episode)

Ishq Da Rang by Saman

وہ شخص چلتا ہوا اس کے پاس آیا …”

اور اس کے روبرو کھڑا ہوا

تم کیا سمجھے تھے میرے بیٹے کو جیل پہنچوا کر تم سکون سے رہو گے

قاسم ملک نے حقارت سے کہا

او ہو……” تو چوہا بل سے باہر نکل آیا ویسے کہا چپھے ہوۓ تھے تم ؟؟

میری مرضی تو تمہیں بھی سلاخوں کے پیچھے بیجوانے کی تھی مگر کیا کرتے تم تو گیدڑ پہلے ہی بھاگ کر کہیں جا چپھے تھے

افنان نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ مسکرا کر اس سے کہا

قاسم کو اس کی مسکراہٹ زہر لگی تھی

ایسے کیسے آگر میں بھی چلا جاتا تو تمہیں اوپر کون پہنچاتا

قاسم نے کہتے ساتھ ہی گن نکال کر اس کے ماتھے پر رکھی

افنان کی پوزیشن میں پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا وہ ویسے ہی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا رہا

کمال ہے موت تمہارے سامنے کھڑی ہے اور تمہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا؟؟؟؟؟

قاسم کو حیرت ہوئی

میں تمہاری طرح بزدل نہیں ہو “”،،،

مسکراہٹ اب بھی اس کے چہرے پر موجود تھی۔۔

چلو مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ “،،، قاسم نے گن کے ٹریگر بر انگلی رکھی

اس سے پہلے کہ وہ ٹریگر دباتا پیچھے سے گولی چلی تھی

مگر قاسم کے گرنے سے پہلے ایک اور گولی چلی تھی جو سیدھی افنان کے دل کے پاس لگی تھی

دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں ایک ساتھ زمین بوس ہوۓ تھے

اظفر جسے خاتم شاہ نے فون کر کے افنان کے

پیچھے جانے کا حکم دیا تھا

اسے آنے میں دیر ہوگی تھی مگر جب وہ یہاں پہنچا تو کوئی شخص افنان پر گن تانے کھڑا تھا

اسے لیے اس نے نا آو دیکھا نا تاو قاسم کے پیچھے گردن کے پاس گولی چلائی تھی

مگر قاسم نے گرنے سے پہلے افنان پر بھی گولی چلا دی تھی

سر ،،،،،،،” اظفر بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا تھا

اسے پو………لی…س “

کے حو…ا…لے کر………کر دو اظفر”،،،،

افنان کی آنکھیں بند ہو رہی تھی

سب ہو جاۓ گا سر “،،، اظفر نے اسے اٹھاتے ہوۓ کہا

جہاں گولی لگی تھی وہاں سے خون بہت تیزی سے نکل رہا تھا

جسے دیکھ کر اظفر بہت گھبرایا تھا افنان کی آنکھیں بند ہو چکی تھی

اظفر نے جلدی سے اسے اٹھا کر گاڑی میں پیچھلی سیٹ پر لٹایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور ہوسپیٹل کی طرف موڑی,””،،،،

اس نے جاتے جاتے ہی پولیس کو فون کر دیا تھا اب انھوں نے کیا کرنا تھا وہ جانتے تھے,,,,,

سمیرا بیگم نے عنایہ کو کھانا وغیرہ کھلا کر

سکون کی میڈسن دی تھی

اسی لیے وہ سو چکی تھی آج بھی سمیرا بیگم اس کے پاس ہی تھی۔۔

اس وقت رات کے 11 بج چکے تھے انھیں شام میں پتا چلا تھا کہ افنان غصے سے باہر نکلا ہے

اسی لیے وہ اس کے لیے بھی پریشان ہو رہی تھی

ادھر انیلا بیگم کمرۓ میں بے چینی سے چکر لگا رہی تھی

آپ پلیز فون کریں نا اسے “

اتنا ٹائم ہو گیا ہے وہ ابھی تک نہیں آیا “،،،

میرا دل بہت گھبرا رہا ہے “،،،

وہ بہت غصے میں گھر سے نکلا تھا

انیلا بیگم بیڈ پر زوار شاہ کے پاس آکر بیٹھی تھی جو خود بھی بڑے پریشان لگ رہے تھے

سب تمہاری وجہ سے ہوا نا تم بے کار کی بات کرتی نا وہ غصے سے گھر سے باہر جاتا”،،،

زوار نے انھیں شرمندہ کرنا چاہا”،،،

جو واقعی ہی شرمندہ ہوئی تھی اپنی باتوں پر”،،،،

یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے زوار آپ فون کریں اسے”،،،،،

انیلا بیگم نے پریشانی سے کہا

کب سے ٹرائی کر رہا ہو اس کا نمبر نہیں مل رہا “،،،

میں بابا سے پوچھتا ہو شائد ان سے بات ہوئی ہو اس کی”،،،،،

زوار شاہ بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھے

مگر جیسے ہی دروازہ کھولا “،،،،، سامنے سکندر کو کھڑے پایا جس نےانھیں دیکھ کر دروازہ نوک کرنے کے لیے اٹھایا ہاتھ نیچے کیا”

بھائی جان “…

کیا ہوا سکندر تم اس وقت سب حیریت ہے ؟؟؟

زوار نے انھیں دیکھ کر پوچھا

بھائی جان ……” افنان ہوسپیٹل میں ہے بابا جان کو اظفر کی کال آئی تھی

یا اللہ خیر “،،،،

اندر انیلا بیگم نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا

کیوں سکندر کیا ہوا اسے ؟ زوار شاہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی

بھائی جان آپ چلیں راستے میں آپ کو سب بتاتے ہیں بابا جان گاڑی میں ہمارا انتظار کر رہے ہے جلدی چلے”،،،،

سکندر شاہ نے انھیں کہا اور خود جلدی سے باہر گاڑی کی طرف بڑھے

زوار شاہ بھی ان کے پیچھے لپکے “،،،

زوار میں بھی چلو گی آپ کے ساتھ”،،،،،

انیلا بیگم ان کے ساتھ بڑھی

نہیں انیلا تم یہی روکو سمیرا اور عنایہ اکیلی ہے میں وہاں پہنچ کر تمہیں کال کرتا ہو

زوار شاہ نے باہر نکلتے ہوۓ کہا

وہ تینوں اظفر کے بتاۓ ہوۓ ہوسپیٹل میں پہنچے تھے”،،،،

اسے آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا

پولیس بھی وہاں پہنچ چکی تھی

گولی دل کے پاس لگی تھی مگر خون بہت بہہ گیا تھا

گولی تو نکال لی گئ تھی مگر ڈاکٹروں نے کوئی تسلی بخش جواب نا دیا تھا

ماموں جان ہمت رکھے سب ٹھیک ہو گا “،،،

زیان نے زوار شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی

فون کر کے انھیں بھی بتایا گیا تھا اسی وقت زیان ,,عالیان اور حیدر صاحب دوڑے چلے آۓ تھے

ہانیہ کی طبیعت کی وجہ سے اسے کچھ نہیں بتایا گیا تھا

وہ سب اس وقت آئی سی یو کے باہر رکھی کرسیوں پر بیٹھے تھے

خاتم شاہ بھی وہی ایک کرسی پر موجود تھے

ان کے کندھے آج جھکے ہوۓ تھے آنکھوں میں نمی تھی

زوار شاہ کی آج ہمت جواب دیں گئ تھی وہ اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہے تھے,,,

کچھ دیر بعد خاتم شاہ اٹھے تھے اور اظفر کی طرف بڑھے جو ایک کونے میں دیوار کے ساتھ ٹھیک لگاۓ کھڑا تھا

اظفر “،،،، اس کے پاس جا کر پکارا وہ انھیں دیکھ سیدھا ہوا تھا

جی شاہ جی مجھے ادھر بلا لیتے آپ نے کیوں زحمت کی

وہ ہاتھ باندھ کر احترام سے بولا

میں ٹھیک ہو ” کون تھا وہ جس نے افنان, پر حملہ کیا

خاتم شاہ نے غصے سے پوچھا

قاسم نے “،، لیکن وہ بھی زخمی ہے اور پولیس کی حراست میں ہے”،،،

اظفر نے تفصیل بتائی تھی

خاتم شاہ نے گردن ہلائی

شائد ہمیں بہت پہلے یہ کر دینا چاہیےتھا

اظفر نے بھی ان کی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا

آئی سی یو کا دروازہ کھولا اور ایک ڈاکٹر باہر آیا اس دیکھ سب اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ “،،،

ڈاکٹر وہ اب کیسا ہے ؟ زوار شاہ نے آگے بڑھ کر ڈاکٹر سے پوچھا

دیکھیں ہم نے گولی تو نکال دی ہے گولی دل کے پاس لگی ہے ہو سکتا ہے دل کو بھی تھوڑا بہت نقصان ہوا ہو ہم نے ایک دو ٹیسٹ کیے ہے جب تک اس کی رپورٹ آتی ہے آپ لوگ پلیزخون کا بندوبست کر لے

ان کا کافی خون بہہ گیا ہے

ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے یے باقی اوپر والے کی مرضی”،،،

ڈاکٹر نے آخر میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا

اور واپس اندر کی طرف بڑھ گیا

زوار شاہ کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھے تھے

خاتم شاہ اور سکندر شاہ کا بھی حال ان سے مختلف نہ تھا

زیان ,,عالیان اور حیدر صاحب ان لوگوں کو تسلی دیں رہیں تھے

جبکہ اظفر خون کا بندوبست کرنے کے لیے جا چکا تھا ,,,,,

سمیرا بیگم اور انیلا بیگم اس وقت عنایہ کے کمرے میں ہی تھی

جبکہ عنایہ ان سب باتوں سے بے خبر دوائیوں کے اثر میں سو رہی تھی

بھابھی حوصلہ رکھیں سب ٹھیک ہو گا انشاہ اللہ

انیلا بیگم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی جو کب سے رو رہی تھی

سمیرا بیگم کی خود اپنی انکھیں بھی نم تھی

کیسے حوصلہ رکھو سمیرا میرا حوصلہ ٹوٹ رہا ہے

زوار شاہ نے فون کر کے انھیں تمام معلومات سے آگا کیا تھا

مجھے معاف کر دو سمیرا میں نے تمہارا دل دکھایا شائد اسی کی سزا ہے یہ”،،،،

انیلا بیگم نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے

جیسے سمیرا بیگم نے ایک دم تھام کر نیچے کیے تھے

ایسی باتیں نہ کرئیں بھابھی “،،،، مجھے برا نہیں لگا آپ نے جو کہا

جبکہ انیلا بیگم ان کی بات سن کر اور شدت سے رو دی تھی

سمیرا بیگم نے ان کو گلے سے لگایا

بھابھی افنان کو ہماری دعاوں کی ضرورت ہے”;

سمیرا بیگم نے ان کی کمر سہلاتے ہوۓ کہا

تم ٹھیک کہتی ہو سمیرا”،،،،

انیلا بیگم فوراً سیدھی ہوئی تھی اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ وضو کے لیے واش روم کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔۔

سمیرا بیگم بھی اپنے کمرے کی طرف گئ تھی تاکہ وہ بھی وضو کرکے اللہ سے اس کی صحت یابی کی بھیک مانگ سکے۔۔۔۔۔۔

رات سے صبح ہو چکی تھی اسے ابھی تک ہوش نہ آیا تھا

رپورٹ ساری کلیر آئی تھی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ شائد وہ خود ہی زندگی کی طرف لوٹ کر نہیں آنا چاہتا تبھی کوئی رسپونس نہیں کر رہا ۔۔

اگلے چوبیس گھنٹے بہت قیمتی تھے اس کے لیے اگر وہ اس وقت میں ہوش میں آجاتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ کومے میں بھی جا سکتا ہے

سب کی سانسیں آٹکھی ہوئی تھی خاتم شاہ نے غریبوں میں لنگر نیاز دینےکا حکم دیا تھا جبکہ زوار اور سکندر نے مسجد میں ڈھیرے لگاۓ تھے۔۔”

اور عبادت میں مصروف ہوۓ تھے”…

ذیان اور عالیان وہی روکے تھے رات سے…” جبکہ حیدر صاحب کو رات میں ہی گھر بیج دیا تھا ان لوگوں نے کیونکہ ان کی طبیعت بھی خراب رہتی تھی”…

صبح اس کی آنکھ کھولی تو کمرے میں کوئی نہ تھا “…

وہ کافی بہتر لگ رہی تھی

وہ اٹھی اور فریش ہو کر نیچے آئی

مگر گھر میں غیر معمولی خاموشی کا راج تھا۔۔

سب کہا ہے ؟ اس نے ملازمہ سے پوچھا

جی چھوٹی بیگم بڑی بیگم کے کمرے میں ہے اور سارے مرد ہوسپیٹل میں ہے کل رات سے”،،،

ملازمہ نے پوری تفصیل بتائی

ہوسپیٹل میں کیوں ؟ کیا ہوا ہے ؟؟

عنایہ نے ناسمجھی سے ملازمہ کی طرف دیکھا

وہ جی آپ کو نہیں پتا “،،، ملازمہ نے حیرت سے اسے دیکھا

جس نے نفی میں گردن ہلائی تھی جسے سچ میں کچھ نہیں پتا تھا

تم بتا رہی ہو کہ ……ْ چلو تم رہنےدو میں ماما سے پوچھ لیتی ہو

عنایہ انیلا بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی

جہاں وہ دونوں بیڈ پر تسبیح پڑھنے میں مصروف تھی انیلا بیگم ساتھ رو بھی رہی تھی

بڑی ماما” کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہے”؟

عنایہ جلدی سے ان کی طرف بڑھی تھی

کچھ نہیں بیٹھو تم نے ناشتہ کیا؟؟ انیلا بیگم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ اس کا دھان بٹانا چاہا

ملازمہ بتا رہی تھی کہ سارے ہوسپیٹل گۓ ہے کیوں گۓ ہے سب ؟؟ کون ہے ہوسپیٹل میں؟؟؟

عنایہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھا

وہ……” افنان “،،،، سمیرا بیگم نے اس کے سر پر بم پھوڑا ویسے بھی اس سے چپھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا

کیا ہوا انھیں ماما؟؟؟ عنایہ نے ہلکی آواز سے پوچھا

اس کے دل کی دھڑکن تھمی تھی اور پھر سمیرا بیگم نے اسے کل رات کا سارا واقعہ سنایا سواۓ انیلا بیگم کی بات کے وہ نہیں چاہتی تھی اس کے دل میں ان کے خلاف بدگمانی پیدا ہو”،،،

ان کی بات سن کر عنایہ انیلا بیگم کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو تھی

ابھی تو اس نے سپنے بونے شروع کیے تھے ابھی تو اس کے دل نے اس کے لیے دھڑکنا شروع کیا تھا پھر یہ اچانک کیا ہوا

ماما مجھے ہوسپیٹل جانا ہے پلیز “،،،،

عنایہ نے روندھی آواز میں کہا

مگر بیٹا “،،، سمیرا بیگم نے سمجھانا چاہا

ماما “…” اس نے ان کی طرف دیکھا تھا اور سمیرا بیگم کو اس کی حالت دیھ ترس آیا تبھی وہ اسے لے جانے کے لیے تیار ہو گی تھی

کچھ دیر بعد وہ تینوں نکلی تھی ہوسپیٹل کے لیے”””

وہ ہوسپیٹل پہنچی تو وہ سب وہی موجود تھے اور انھیں دیکھ کھڑے ہوے

عنایہ نے ضد کی تو ہمیں بھی آنا پڑا

خاتم شاہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ بولی تھی

ٹھیک کیا تم نے بہو ” خاتم شاہ پھر سے

کرسی پر بیٹھے

کیاکہا ڈاکٹر نے ؟؟ انیلا بیگم نے زیان سے پوچھا

پھر اس نے رات ڈاکٹر کی کہی بات بتائی تھی۔۔۔

جسے سن ان پر آسمان گرا تھا

مجھے ……”

مجھے ملنا ہے ان سے ایک بار پلیز “،،،

عنایہ نے کافی دیر بعد خاتم شاہ کو امید سے دیکھا

چلو “،،،، خاتم شاہ اسے لیے آئی سی یو کی طرف بڑھے

ڈاکٹروں سے بات کرنے کے بعد اسے تھوڑی دیر کے لیے اندر جانے کی اجازت مل گئ تھی

وہ آئی سی یو کہ دروازے سے اندر داخل ہوئی

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے بیڈ کی طرف بڑھی

جہاں وہ مشینوں میں جکڑا سب سے بے خبر گہری نیند میں تھا

اسے دیکھ اس کا دل ایک دفعہ ڈوب کے اُبھرا تھا اور آنسو بے اختیار آنکھوں کی جھالر توڑ کر گال پر بکھرے تھے

وہ چلتی ہوئی اس کے بیڈ کے پاس آئی اور بیڈ کے پاس موجود کرسی پربیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اس پر اپنا ماتھا ٹکایا

شاہ پلیز اٹھ جاۓ نہ اور تنگ مت کریں سب کو سب بہت پریشان ہے

آئی پرامیس میں آپ کو کبھی تنگ نہیں کرو گی آپ جو کہہ گۓ وہ مانو گی

اس نے چہرا اوپر اٹھا کو اس کی طرف دیکھا

اب نے کہا تھا کہ آپ مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گۓ پھر آج میں بہت اکیلا فیل کر رہی ہو

وہ زارو قطار رو رہی تھی

ابھی تو ہمیں نئی زندگی شروع کرنی تھی

ابھی تو مجھے آپ سے پیار ہوا تھا جو عشق میں بدلنا باقی تھی

ابھی میں نے پیار کی منزلیں طہ کرکے عشق کی منزل تک پہچنا تھا جہاں آپ میرا کب سے انتظار کر رہے ہے

دیکھیں آپ اٹھ رہے ہے کہ نہیں ؟؟؟ عنایہ اٹھ کر اس کے چہرے کے پاس اپنا چہرا لے کر گئ تھی

میں ……” میں کبھی آپ سے بات نہیں کرو گی اور نا ہی معاف کرو گی اگر آپ مجھے یوں چھوڑ کر گۓ تو”؟؟؟

عنایہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا

اور جانے کے لیے پلٹی تھی

اس کا ہاتھ اچانک کسی کے گرفت میں آیا تھا اور وہ وہی ساکت ہوئی تھی

آنسوں میں دوانی آئی تھی مگر وہ پلٹی نہیں تھی جیسے یہ کوئی خواب ہو کہ اگر وہ پیچھے دیکھے گئ خواب ٹوٹ جاۓ گا

تمہیں پ…” پتا …ہ…” ہے نا میں تم…” تمہاری نارا۔۔۔۔۔” ناراضگی نہیں بر…” برداشت کر سکتا

افنان نے روک روک کر دھیمی آواز میں کہا

عنایہ اس کی آواز سن کر ایک دم خوشی سے پلٹی تھی جو اکسیجن ماسک منہ سے ہٹاۓ اس کا ہاتھ تھامے اسے پیار سے دیکھ رہا تھا

آپ کو ہوش آگیا وہ اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روی تھی افنان کو اسے سنبھالنا مشکل ہوا تھا

کیا ہو گیا ہے یار تم ایسے تو نا رو مءں ٹھیک ہو گیا ہو

افنان نے ایک ہاتھ سے اس کے بال سنوارے تھے

دیکھو لڑکی مجھے پھر سے بے ہوش کرنے کا ارادہ ہے میرا اپریشن ہوا ہے ابھی “،،،

افنان کو تکلیف محسوس ہوئی تھی کیونکہ میڈم اس کے سینے پر سر رکھے رو رہی تھی

اوپس………”سوری”””سوری زیادہ تکیلف ہو رہی ہے کیا میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتی ہو

عنایہ جلدی سے اٹھی اور باہر کی طرف بڑھی

روکو “،،، افنان نے اس کی کلائی ایک بار پھر تھامی

عنایہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

ویسے مجھے نہیں پتا تھا کہ کوئی مجھ سے اتنا پیار کرنے لگا ہے

افنان شوخ ہوا جبکہ عنایہ کے گال یہ سوچ کر ہی سوخ ہوۓ کہ اس نے سب سن لیا تھا

آپ ہوش میں تھے اور میری باتیں سن رہے تھے

عنایہ نے ناراضگی دیکھائی

ہوش میں تو میں اسی وقت آگیا تھا جب تم نے اندر کمرے میں قدم رکھا تھا

افنان نے اس کے نازک ہاتھ پر لب رکھے

میں سب کو بلاتی ہو سب بہت پریشان ہے

عنایہ نے اپنا ہاتھ چھوڑاتے ہوۓ کہا

افنان نے کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد اس کا ہاتھ چھوڑا اور آنکھوں سے اثبات کا اشارہ کیا

پھر کچھ دیر بعد اس کے روم میں جمع ہوۓ تھے کیونکہ اسے اب روم میں شیفٹ کر دیا گیا تھا خاتم شاہ نے سب غریبوں میں لنگر تقسیم کیا تھا

انیلا بیگم نے بھی اس سے اپنے رویے کی معفی مانگی تھی

جس پر افنان نے فوراً یہ کہا تھا کہ مائیں بیٹوں سے کبھی معافی نہیں مانگتی,,

انیلا بیگم نےاس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا

پندرہ دنوں بعد اسے ہوسپیٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا

اس کا کہنا تھا کہ وہ یہاں تنگ آچکا ہے اور اسے گھر جانا ہے

اس وجہ سے اسے زوار شاہ گھر لے آۓ تھے کیونکہ گھر میں اس کا زیادہ بہتر خیال رکھا جاسکتا تھا

وقت اسی طرح گزرا تھا اور آج آٹھ ماہ بعد عنایہ کی رحصتی کا دن بھی آپہنچا تھا

ہانیہ کے گھر میں ایک چاند سا بیٹا ہوا تھا جس کا نام عنایہ اور افنان نے بازل شاہ رکھا تھا

رحصتی کا دن کچھ ہانیہ کی اور کچھ افنان کی کنڈیشن کی وجہ سے لیٹ رکھا تھا

آج ہال سے ہی رخصتی ہونی تھی

آج خاتم مینشن میں پھر سے خوشی کاراج تھا

آج کے دن ہی عنایہ کی رحصتی کے ساتھ عالیان اور صبا کی منگنی کی تقریب بھی تھی

عالیان کی خواہش پر صبا کا رشتہ مانگا گیا تھا جس کے گھر والوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہاں کر دی تھی

عنایہ گولڈن کلر کے لنگے کے ساتھ بھاری جیولری پہنے آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی

افنان بھی کسی سلطنت کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا اس نے بھی گولڈن شیروانی زیب تن کی تھی

جبکہ عالیان گرے تھری پیس سوٹ میں کمال کا لگ رہا تھا

صبا نے گرے فراک پہنی تھی جس پر میرون گوٹا پٹی لگی تھی وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی

ہانیہ زیان اور چھوٹے بازل کی ٹریسنگ سیم تھے

ہر طرف خوشی تھی سب اپنی اپنی لائف پاٹنر کے ساتھ خوش اور مطمئن تھے

اندھیری رات کے بعد اجالا آیا تھا جو ہر طرف روشنی اور خوشیاں بکھیر گیا تھا”،،،