250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 14

Ishq Da Rang by Saman

لائٹ ان ہوتے ہی پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا تھا افنان نے پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھا تھا جہاں وہ خواب وخرگوش کے مزہ لے رہی تھی۔۔

وہ چلتا ہوا اس کے بیڈ کے پاس آیا تھا اور اسے غور سے دیکھا تھا۔۔

جو ایک ہاتھ سینے پر رکھے دوسرا ہاتھ تکیے

پررکھے بال چہرے پر پیھلے ہوۓ تھے وہ بے

اختیار آگے بڑھا ۔۔بیڈ پر بیٹھ کر اس کو ایک بار پھر اپنی نظروں کے احصار میں لیا

ہاتھ بڑھاکر اس کے چہرے سے بال ہٹاۓ چاند جسے بادلوں کے پیچھے سے نکلا تھا۔

ہاتھ اس کے دائیں بائیں بیڈ پر ٹھکاۓ اور اس کا خوبصورت معصوم چہرہ دیکھا

سوتے ہوۓ کتنی معصوم دیکھتی ہے اور جاگتے ہوۓ چڑیل بن جاتی ہے۔۔

وہ اپنی بات پر خود ہی ہنسا تھا۔۔

عنایہ اپنے پر کسی کی نظروں کی تپیش محسوس کر کے نیند میں ہی کسمسائی تھی۔۔

۔۔۔ افنان کے دل میں ایک خواہش جاگی اور وہ اس پر لبیک کہتے ہوۓ اس کے ماتھے پر لب رکھ چکا تھا۔۔اور وہی سے اس نے لبوں تک کا سفر بڑی جلدی طے کیا تھا۔۔

عنایہ کو اپنی سانس روکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی اس نے ایک دم آنکھیں کھولی اور اپنے اوپر افنان کو جھکے پاۓ جو اس کے لبوں پر قبضہ جماۓ ہوۓ تھا اس نے پہلے سمجھنے کی کوشش کی تھی اور جب اس کے ہواس بحال ہوۓ,,,

عنایہ نے اسے دور کرنے کی کوشش کی تھی

جو اس کی جان لینے کی دھڑپے تھا مگر وہ شائد ابھی اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھا اسی لیے اس کے عمل میں شدد آئی عنایہ نے اس کے کالر کو چھڑکا ۔۔ افنان نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے اُس کے لبوں کو آزادی بخشی

اور اس کے گردن پر اپنا لمس چھوڑا وہ اس کا نرم گداز وجود پاکر بے خود ہو رہا تھا اس سے پہلے کہ وہ اپنے پر کنٹرول کھوتا اسے عنایہ کی سسکیاں سنائی دئی۔۔ اور اسے ہوش آیا تھا

اس نے گردن سے سر اُٹھا کر اسے دیکھا تھا جو بے آواز رونے میں مصروف تھی۔۔ وہ تیزی سے پیچھے ہوا ۔۔

ایم سوری۔۔۔۔ایم ۔۔ویری۔۔سوری ۔۔۔،، میں یہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔

افنان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا وہ تو نہ سمجھ تھی پر وہ کیا کرنے جا ریا تھا

افنان سیدھا ہو کر بیٹھا اور اپنا سر ہاتھوں میں گرایا ۔

وہ یہ کیا کرنے جا رہا تھا۔۔وہ سب سے نظریں کیسے ملا پاتا اسے اپنے پر شدید غصہ آیا۔۔

کچھ لمحے یونہی گزرے اور پھر افنان کو ہی ہوش آیا اس نے سر اُٹھاکر عنایہ کو دیکھا جو چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے رونے میں مصروف تھی۔۔

آپ بہت بُرے ہے ۔۔۔۔ میں آپ سے کبھی بات نہیں کرو گی۔۔۔۔

عنایہ ۔۔۔ ادھر میری طرف دیکھو:” افنان نے اس کے ہاتھوں کو چہرے سے ہٹایا ۔۔۔

یہ غلط نہیں ہے ہم دونوں میاں بیوی ہے ہاں مگر میرا طریقہ غلط تھا ۔۔ رخصتی سے پہلے یہ سب ٹھیک نہیں تھا۔۔

لیکن یہ گنانہیں تھا تم میرے نکاح میں ہو۔۔

تم پلیز کوئی غلط فہمی مت پالنا۔۔پلیز۔۔

تم سن رہی ہو نہ میری بات ،،،، عنایہ۔۔۔

افنان نے آخر میں اسے غصے سےجھنجھوڑا تھا۔۔

عنایہ نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا ۔اور جلدی سے اثبات میں گردن ہلائی ۔۔

کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا جیسے دیکھو وہ مجھے ڈانٹتا ہے۔۔

عنایہ جیسے سب کچھ بھول کر اپنی شکایتیں لگانے میں مصروف تھی۔۔

کون پیار نہیں کرتا سب پیار کرتے ہے تم سے ۔۔

جی نہیں کوئی پیار نہیں کرتا ماما نے بھی مجھے دن کو ڈانٹا اب آپ بھی مجھے ڈانٹ رہے ہے۔۔

عنایہ نے منہ بنا کر کہا

ارے۔۔میں کب ڈانٹ رہا ہو اپنی جان کو میں تو تمہیں سمجھا رہا ہو۔۔

افنان بھی ریلکس ہوا تھا ورنہ وہ تو ڈر گیا تھا کہ عناہہ کا پتا نہیں کیا ریکشن ہوگا اس سب کے بعد،،،

لیکن وہ تو سب سے انجان اپنی شکایت لگانے میں مصروف تھی

آپ کوپتا ہے میں نےشاپنگ پرجانا تھامگر ماما نے مجھے جانے ہی نہیں دیا صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔

عنایہ نے پھر منہ بسورا۔۔

بس اتنی سی بات میں تمہیں کل شاپنگ پر بھی لے چلو گا اور ڈنر بھی باہر ہی کرواؤ گا ۔۔

افنان نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ کہا۔۔

جی نہیں میں آپ سے ناراض ہو ,, عنایہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھنچا تھا۔ جو افنان کو ناگوار گزرا تھا۔۔۔لیکن اس نے اپنا غصہ زبط کیا کیونکہ وہ مزید کوئی بدمزکی نہیں چاہتا تھا۔۔

اچھا چلو سو جاو ،،،صبح تم نے کالج بھی جانا ہے افنان نے بیڈ سے اُٹھتے ہوۓ کہا

کیا۔۔۔۔ لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ کل شاپنگ پر جانا ہے۔۔

عنایہ جو لیٹنے کی تیاری کر رہی تھی اُس کی بات سُن کر ایک دم سیدھی ہوئی اور اسے یاد کروانا چاہا۔۔

جی بلکل جانا ہے مگر پہلے آپ کالج جاۓ گی اس کے بعد شام میں جانا ہے ,,بات آئی سمجھ۔۔ افنان نے اس کی سر پر ہلکی سی چپٹ مارتے ہوۓ کہا

آپ سچ میں بہت بُرے ہے شاہ,, عنایہ نے سر کو ملتے ہوۓ کہا تھا۔۔

کیا کہا تم نے ,,, افنان کو اس کے منہ سے شاہ سن کر بہت اچھا لگا تھا۔۔

یہی کہ آپ بہت بُرے ہے ,, عنایہ نے دوبارہ دھرایا۔۔

نہیں اس کے بعد کیا کہا ۔۔افنان نے بے چینی سے پوچھا

میں نے کیا کہا۔۔بس اتنا کہا کہ آپ بہت برے ہے شاہ۔۔عنایہ نے لفظ بہ لفظ دھرایا۔

تم مجھے اب سےشاہ ہی کہا کروگی۔۔افنان نے خواہش ظاہر کی ۔۔۔

اوکے۔۔۔۔عنایہ نے کندھے اُچکاۓ تھے۔۔

اچھا اب آپ جاۓ مجھے بہت نیند آرہی ہے ایک تو آپ کوپتانہیں کون سا دورہ پڑھا تھا کہ اتنی رات کو مجھے اُٹھا دیا۔۔

عنایہ نے اپنا تکیہ درست کرتے ہوۓ کہا اور منہ پر ہاتھ رکھ کو جمائی روکی۔۔

افنان اس کی بات سن کر مسکرایا اور لائٹ اُوف کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔

دن کیسے گزرے اسے تو زیان کی سنگت میں

پتا ہی نہ چلا تھا اور آج ان کی واپسی کا دن بھی آپہنچا تھا زیان ابھی باہر گیا تھا

سب بل وغیرہ پے کرنے کے لیے،،،،،

انھوں نے ایک خوبصورت ہوٹل میں کمرا لیا تھا جہاں سے سرسبز پہاڑ اور حسین وادی کا نظارا ہوتا تھا۔

وہ اس وقت کھڑکی کے پاس کھڑی باہر کی حوبصورتی کا نظارہ کر رہی تھی جب پیچھے سے زیان نے اسے باہوں میں بھرا اور اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکائی ..

کیا ہم کچھ دن اور نہیں روک سکتے ,, ہانیہ نے اس سے سوال کیا تھا

نہیں میری جان ہم پھر آۓ گے میں نے تم سے وعدہ کیا ہے نہ،،،، ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے واپس جا کر میں نے تمہارا چیک اپ کروانا ہے میں کوئی بہانہ نہیں سنو گا۔۔

پچھلے دو دن سے ہانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسے کچھ ویکنس اور چکر محسوس ہو رہے تھے۔۔

زیان کو اس کی طبیعت خرابی کا کچھ کچھ اندازہ تو تھا مگر وہ واپس جا کر اس کا پُروپر چیک اپ کروانا چاہتا تھا اسی لیے وہ اسے جلدی واپسی کا بول چکا تھا۔۔

لیکن ہانیہ کا ابھی دل نہیں تھا واپس جانے کا اسی لیے وہ اداس تھی کچھ طبیعت کی وجہ سے وہ حود بھی کنفیوز تھی۔

ٹھیک ہے وہ فوراً مان گئ تھی۔۔

زیان نے اسے اپنی طرف موڑ کر سینے سے لگایا تھا ہانیہ نے بھی اس کے سینے پر مسکرا کر سر رکھا تھا

کچھ لمحے یونہی بیتے تھے جب زیان کو وقت کااحساس ہوا۔۔

چلو ہمیں نکلنا ہے اب ،،، دیر ہو رہی ہے سامان پیک کر چکی ہو آپ کچھ رہ تو نہیں گیا؟ زیان نے اس پیار سے الگ کرتے ہوۓ پوچھا ۔۔

نہیں کچھ نہیں رہا ۔۔

ہانیہ نے محتصر جواب دیا تھا۔

چلو آجاؤ میں سامان گاڑی میں رکھواتا ہو ائیرپورٹ کے لیے نکلنا ہے فلائٹ کا ٹائم ہو ریا ہے۔۔۔۔۔

زیان نے کہا اور باہر نکل گیا ۔۔ ہانیہ آئینے کے سامنے آئی اور اپنی تیاری کا جائزہ لیا۔۔

اس وقت وہ ڈارک بلیو شرٹ جو کھٹنوں کے نیچے تک تھی (جس کے ایک سائیڈ پر بلیک دھاگے سے خوبصورت بیل بنی تھی ) , ساتھ بلیک لونگ کوٹ ۔۔نیچے بلیک ٹراوزر ,,۔۔گلے میں بلیو مفلر ،،، بالوں کو کھلا چھوڑے۔۔۔ نیچے بلیک شوز ,, پہنے وہ تیار تھی۔۔

ہونٹوں پر لائٹ شیٹ لپ گلوز لگاۓ،،، آنکھوں میں کاجل کی ہلکی سی دار تھی

وہ بہت حسین لگ رہی تھی کچھ زیان کی چاہت کا بھی رنگ تھا جو اس پر خوب چڑھا تھا۔۔

اس نے ایک تنقیدی نظر خود پر ڈالی اور اپنا ہینڈ بیگ لے کر باہر نکل گی تھی جہاں زیان سارا سامان گاڑی میں رکھوا چکا تھا۔۔۔۔

ماما ،،،، ماما جلدی سے مجھے ناشتہ دیں دے مجھے کالج جانا ہے میں بہت لیٹ ہوگئ ہو۔۔

عنایہ نے سڑھیوں سے اترتے ہوۓ ہی شور ڈالنا شروع کر دیا۔۔

رات دیر سے سونے کی وجہ سے اس کی آنکھ لیٹ کھولی تھی اور پھر وہ جلدی جلدی تیار ہو کر نیچے بھاگی تھی

لڑکی۔آرام سے کیا ہو گیا ہے کیوں ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو ہر وقت،،،

سمیرا بیگم جو کچن میں تھی اس کی آواز سن کر جلدی سے کچن سے باہر آئی تھی۔۔

اوہو ماما،،، پلیز نو لیکچر مجھے ناشتہ دیں میں لیٹ ہوچکی ہو۔۔

عنایہ نے چیڑ گھیسٹ کر بیٹھتے ہوۓ کہا

سمیرا بیگم پھر کچن میں چلی گی تھی اس کا اور افنان کاناشتہ لانے ۔۔۔

ابھی اسے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ افنان بھی اس کے سامنے والی چیڑ پر بیٹھا تھا۔۔

گڈ مارنیگ ،؛ افنان نے خوشگوار موڈ میں کہا

وعلیکم گڈ مارنیگ ! عنایہ کے جواب پر اس کے چہرے پر مسکان آئی ۔۔

آج لیٹ نہیں ہو گے آپ ؟ عنایہ نے اسے دیکھا تھا

جو گرے تھری پیس سوٹ پہنے گلے میں بلیک ٹائی ڈالے بہت بھلا لگ رہا تھا

نیچے بلیک شوز,,,, ہاتھ پر خوبصورت قیمتی گھڑی ,, بال نفاست سے سیٹ کیے گے تھے وہ بہت پیارا لگ رہا تھا نا جانے کیوں وہ اب اسے بُرا نہیں لگتا تھا ۔۔

شائد نکاح کے دو بولوں کا اثر تھا

عنایہ نے اس کا پروپر جائزہ لیا ۔۔

اہہہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔افنان نے جیسے اس ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی جوناجانے کونسی سوچ میں گم ہو چکی تھی۔۔