Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 5
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 5
Ishq Da Rang by Saman
آج سب خاتم مینشن میں موجود تھے ,مرد خضرات ایک طرف بیٹھے اپنی باتیں کر رہے تھے اور خواتین ایک طرف اپنی باتوں میں مصروف تھی “ہانیہ اور عنایہ بھی پھوپھو کے ساتھ بیٹھی تھی,,,,
بس بھابھی اب میں آج ہی شادی کی تاریخ لے کر جاو گی ,, ویسے بھی اب تو افنان بھی آگیا ہے اب میں کوئی دیر نہیں کرو گی”
” آسیہ بیگم نے بات شروع کی تھی…”
اُن کی بات سن کر سب اُن کی طرف متوجہ ہوۓ تھے
عنایہ نے شرارت سے ہانیہ کو کہنی ماری تھی
کیا ہے اتنی زور سے مار دیا تم نے مجھے اس نے عنایہ کو آنکھیں دیکھائی تھی ,,,,
” آپ نے سُنا پھوپھو نے کیا کہا ؟ وہ اب آپ کو اپنے گھرلے جانا چاہتی ہیں ہمیشہ کے لیے”عنایہ اُس کے کان میں بولی تھی ” میں اب اُٹھ کر چلی جاؤ گی …ٔ” اگر تم مجھےایسے ہی تنگ کرتی رہی تو”” وہ جو زیان کی نظروں سے آگے ہی پریشان ہو رہی تھی ایک دم عنایہ کو گھور کر کہا تھا””ْْ اور وہ چُپ کر گی تھی
ہانیہ تمہاری ہی بیٹی ہیں جب تم چاہو وہ تاریخ رکھ لے گے “انیلا بیگم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی خاتم شاہ بولے تھے
جی میں چاہ رہی ہو اگلے ماہ کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں,,,,” کیوں افنان تم کیا کہتے ہو؟ آسیہ بیگم نے افنان کو کہا تھا جو وہی زیان کے ساتھ ہی بیٹھا تھا
ہانیہ جلدی سے وہاں سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی”
ارے “” انھیں کیا ہوا؟ عنایہ نے حیرت کا اظہار کی تھا۔
بیٹا جی اسے شرمانا کہتے ہیں جو تمہیں بلکل نہیں آتا” سمیرا بیگم نے اُس کی ٹانگ کھنچی تھی اور باقی سب مسکراۓ تھے
اچھا۔۔۔”اُس نے کندھے اُچکاۓ تھے
پاگل لڑکی “وہی پر زیان نے نفی میں گردن ہلائی تھی( جیسےسوچ رہا ہو اُسکاکچھ نہیں ہو سکتا)
جی پھوپھو جیسے آپ کی مرضی دادا جان اور پاپاسے پوچھ لے” افنان نے زیان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر کہا تھا
” پھر اگلے ماہ کی 15 تاریخ رکھ لیتے ہیں کیوں زوار ٹھک ہے نہ؟؟ خاتم شاہ نے آخر میں بیٹے سے پوچھا تھا
ٹھک ہے بابا جان ہمیں کوئی اطراز نہیں جیسے آپ مناسب سمجھے آج نہیں تو کل ہم نے شادی کرنی ہی ہے تو پھر آج ہی کیوں نہیں”” زوار نے بیوی اور بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا جنہوں نے اثبات میں گردن ہلا کر اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا”..
جاؤ عنایہ کچن میں سے مٹھائی لے کر آو اور سب کا منہ میٹھا کرواو”” سمیرا بیگم نے اُسے کہا جو عالیان سے نہ جانے کون سی بات پر بعث میں مصروف تھی””
جی ماما ” وہ میٹھائی لینے خوشی خوشی کچن کی طرف بھاگی تھی……”
یار برو” اور سنائیں آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ؟؟ عالیان نے افنان سے پوچھا تھا جس کی نظر کچن کے دروازے پر ہی تھی……”
سیاست جوائن کرو گا اور ساتھ ساتھ آفس کو بھی””
افنان اُس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔
ایک منٹ میں کچن سے پانی پی اؤ,۔۔۔” افنان نے کہا اور ایک نظر سب کو دیکھا تھا جو اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے……”
وہ بھی کچن کی طرف بڑھا تھا…” اہممممم…… کچن کے دروازے پر ہنکارہ بڑھا تھا۔۔۔” جی آپ کو کچھ چاہیے افنان بھائی؟؟ عنایہ نے ایک دم پلٹ کر دیکھا تھا اور اُسے دروازے پر دیکھ کر حیران بھی ہوئی تھی”” ہا……نہیں بس پانی پینا تھا میں خود لےلو گا…” وہ جوعنایہ کا اتنے پیار سے بات کرنے پر خوش ہوا تھا ” آخر میں اُس کے بھائی کہنے پر اُتنا ہی بد مزہ ہوا تھا””
اوکے”عنایہ نے کند ھے اُچکاۓ تھے اور پلیٹوں میں جلدی جلدی مٹھائی ڈالی اور ٹرالی میں رکھ کر باہر کی طرف بڑھی تھی۔۔
“ایک منٹ ” افنان جو پانی پی رہا تھا ساتھ ساتھ اُس کا جائزہ بھی لے رہا تھا…
” یہ سر پر رکھنے کہ لیے ہوتا ہے نہ کہ گلے میں ڈالنے کے لیے” افنان نے دوبٹہ عنایہ کے سر پر دیتے ہو کہا تھا
جی بلکل سر پر ہی تھا بس ابھی ہی اُترہ ہے” “اُس نے بھی منہ بنا کر کہا تھا۔۔
اترہ تھا تو پھر سر پر کیوں نہیں رکھا؟۔” افنان نے بھی بات کو تول دیا۔۔
” خیال نہیں رہا, ,اب آپ کو پوری ڈیٹیل دو ہٹیے آگے سے مجھے مٹھائی لے کر جانی ہے باہر سب ویٹ کر رہے ہو گے…”
عنایہ نے تھوڑا تلخ رویہ اختیار کیا “””
بات سنو “! یہ اپنا رویہ ٹھک کر لو ” مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو” افنان نے اُنگلی دکھا کر غصے سے کہا اور گلاس شیلف پر پٹھک کر باہر نکل گیا “”
ہہہووو……… اب بندہ اپنی مرضی کی ڈرسنگ بھی نہیں کر سکتا ” عنایہ پھر بد گمان ہوئی تھی “”
وہ مٹھائی لے کر آئی تو سب ہی موجود تھے سواۓ افنان کے,, پر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔”وہ بھی سب کو دیں کر وہی پھوپھو کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔
جاؤ بیٹا افنان اپنے کمرے میں ہے اُسے بھی دے آؤ”” انیلا بیگم نے کہا “” پر بڑی ماما” جاو عنایہ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی سمیرا بیگم نے آنکھیں دکھائی تھی…”
اچھا جارہی ہو” وہ ناچارہ ایک پلیٹ میں مٹھائی ڈال کر اوپر افنان کے کمرے کہ طرف بڑھی تھی۔۔”
کمرے کے باہر پہنچ کر دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی…”کم اُون! اندر سے افنان کی مصروف سی آواز آئی تھی…”
عنایہ دروازہ کھول کر اندر آئی تھی”۔ کمرا رہنے والے کے زوق کے مطابق تھا جیسا وہ خود تھا “مسٹر پرفیکٹ “دیواروں پر ہاف وائٹ کلر تھا” سامنے کھرکی پر ڈارک براون پردے جس پر گولڈن کلر کی پٹی تھی” نسب تھے۔” چھت پر ہاف وائٹ اور براون،،گولڈن نقش قاری ہو ئی تھی “جو کمرے کو خوبصورت بناتی تھی ،، اُس پر روم فرنیچر مالک کے اعلیٰ زوق کی نشاندہی کرتا تھا:: خوبصورت نئی طرز کا بنا بیڈ جو روم کے سنٹر میں موجود تھا” ایک طرف کپڑوں کی خوبصورت الماری ،، اُس کے ساتھ ڈرسنگ ڈیبل تھا”” دوسری طرف بک ریک تھا جس میں لاتعداد بکس موجود تھی “”
اور اس کے بعد دو سیٹر صوفہ بھی موجود تھا”” روم واقعی خوبصورت تھا اور صاف ستھرا تھا افنان صفائی پسند بندہ تھا اُسے بکھیرا بلکل نہیں پسند تھا”” اُوف پتا نہیں یہ کھروس کمرا کیسے اتنا صاف رکھ لیتے ہیں ” عنایہ نے کمرے پر نظر ڈالی اور دل میں سوچا”” ” وہ جو لیپ ٹاپ پر کوئی میل چک کر رہا تھا اتنی دیر آنے والے کی خاموشی مخسوس کر کے سر اُٹھایا تھا اور آنے والے کی طرف دیکھا تھا””” پر وہ مخترمہ تو روم کو ایسے آنکھیں پھار کر دیکھ رہی تھی جیسے پہلی دفعہ آئی ہو…””
اہہہہمم………”افنان نے گلہ کھنکار کر اُسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا””
عنایہ۔ایک دم خیالوں سے باہر آئی تھی اور پلیٹ اُس کی طرف بڑھائی تھی””افنان بھائی بڑی ماما نے بجی ہے آپ کے لیے”” اُس نے جلدی جلدی کہا تھا۔۔” اچھا لاو دو*”‘!
اُس نے ہاتھ بڑایا تھا اور پلیٹ لے کر اپنے پاس رکھی تھی”عنایہ ایکدم پلٹی تھی اور باہر کی طرف بڑھی تھی…”؛:؛
سنو کہا جارہی ہو ” افنان نے ایک دم آواز دیں کر روکھا تھا اُسے…” نیچے جارہی ہو سب کے پاس” عنایہ نے پلٹ کر جواب دیا تھا””
مگر میں نے تمیں جانے کے لیے کہا ؟ افنان نے ابرو اٹھا کر پوچھا تھا”
کیا مطلب ہے اب میں آپ کی مرضی سے چلو پھرو گی…” عنایہ کو غصہ آیا تھا وہ اُونچی آواز میں بولی تھی
افنان ایک دم اُٹھا تھا ” میں نے تمہیں کیا کہا تھا کچھ دیر پہلے “” تمیز سے بات کیا کرو مجھ سے, تمیں سمجھ نہیں آتی میری بات ؟ وہ بھی زرا اُنچی آواز میں بولا تھا
ہاں نہیں آتی سمجھ اور مجھے سمجھنا بھی نہیں ہے ” عنایہ پھر اُسی لہجے میں بولی تھی
آخر مسلہ کیا ہے تمہارا کیوں اتنا چڑتی ہو مجھ سے ؟ افنان آرام سے بولا تھا
مجھے نہیں پتا میں جارہی ہو” عنایہ پلٹی اور نیچے جانے کے لیے قدم اُٹھایا تھا۔۔” مگر اُس سے پہلے ہی افنان نے اُس کی کلائی پکڑی تھی اور اُسے اپنی طرف کھنچا تھا
وہ کٹی پتنگ کی طرح کچھی آئی تھی اِس سے پہلے افنان کے سینے سے ٹکراتی” سینے پر ہاتھ رکھا کر ٹکرانے سے بچایا تھا خود کو…”
پہلے مجھے بتاو کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ بولو؟ افنان نے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھتے ہوۓ کہا”
کوئی مسلہ نہیں ہے چھوڑیں مجھے “اُس نے خودکو چھوڑاتے ہوۓ کہا
نہیں ……” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا دروازے ہر دستک ہوئی تھی اور ساتھ ہی ملازمہ نے پھوپھو لوگ کہ جانے کی اطلاع دی تھی””
ابھی کہ لیے تو چھوڑ رہا ہو بعد میں تم سے پو چھو گا:”ْ؛؛ افنان نے کہا اور اُسے چھوڑہ تھا۔۔۔ اور عنایہ کو کسی بات کا موقعہ دیے بغیر باہر نکل گیا تھا۔۔””
جلاد نہ ہو تو “:: پیچھے وہ بھی اپنی کلائی ملتی ہوئی باہر نکلی تھی۔۔۔
ہاں بولو رفیق”” ! دلاور ملک اپنے آفس میں بیٹھا فون پر رفیق سے بات کر رہا تھا”
پاس ہی قاسم ملک بھی بیٹھا تھا”” کیا ؟ اچھا کب سے ؟؟ چلو کچھ دن اور خاتم شاہ کو خوشیاں منانے دو “” اوکے ::” ٹھک ہے جیسے ہی وہ لڑکی کالج آتی ہے مجھے خبر دو اب تب مجھے فون کرنا جب تمہارے پاس اچھی خبر ہو؛؛:” کیا ہوا ؟؟ کیا کہارفیق نے؟
قاسم ملک جو کب سے دلاور کو فون پر بات کرتے سن رہا تھا اس کے فون بند کرنے پر پوچھا::ْ کچھ نہیں ڈیڈ خاتم شاہ کی پوتی دو,تین دن سے کالج نہیں آرہی یہی بتایا رفیق نے””ْ چلو کچھ دن اور خاتم شاہ کے ہو گے لیکن اُس کے بعد ہماری باری “””۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا “” قاسم ملک نے قہقہ لگایا تھا
ہاں بہت کر لی خاتم شاہ نے اپنی من مانی لیکن اب ہماری باری ہے اب ایسا مزہ چکاۓ گے کہ اُس کی سات پشتیں یاد رکھیں گی “
دلاور ملک نے حقارت سے کہا تھا۔۔۔
دونوں طرف شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھی روز بازاروں کے چکر لگ رہے تھے۔۔
