Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 8
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 8
Ishq Da Rang by Saman
نکاح ہو چکا تھا ہانیہ کو لاکر زیان کے پہلو میں بٹھایا گیا تھا۔” اب مہندی کی رسم ہونا باقی تھی۔۔ہانیہ کے گھبراہٹ سے ہاتھ پاوں پھول رہے تھے۔۔جو زیان باخوبی مخسوس کر سکتا تھا ۔۔
ریلکس یار اب تو شرمانہ چھوڑ دو ,,, اب یہ نازک مزاجیاں نہیں چلے گی ۔۔۔زیان نے ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کر کان میں کہا تھا اور یہ دیکھ کر سب نے ہونٹگ کی تھی وہی ہانیہ نے سر کو مزید جھکایا تھا۔۔
ارے,,زیان بھائی یہ چوری چوری کیا باتیں ہو رہی ہے ہم تو آپ کو بڑا شریف سمجھتے تھے ” زیان کی کزن نے لقمہ دیا تھا ۔۔
الحمداللّٰہ ” میں شریف ہی ہو اور ویسے بھی اپنی پرمینٹ بیوی ہے یار ” زیان بھی شوخ ہوا تھا ۔۔”جب من چاہا ساتھی مل جاتا ہے تو دل یوں بلیوں اُچھلتا ہے””” یہی حال اِس وقت زیان کا تھا جس کے چہرے سے ہنسی جا ہی نہیں رہی تھی اور پھر اِسی ہنسی خوشی میں مہندی کی رسم کملیٹ ہوئی تھی۔۔۔۔
اُف آج میں تو بہت تھک گئ ,,عنایہ بیڈ پر لیٹتی ہوئی ہانیہ سے بولی جو اپنی چیزیں سنبھال رہی تھی ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آپ دونوں بہن بھائی کیا ہر وقت صفائی کی مہم چلاۓ رکھتے ہے اتنی صفائی کیسے رکھ لیتے ہے آپ لوگ عنایہ نے منہ بنا کر کہا تھا۔۔
تو صفائی رکھنا اچھی عادت ہے گڑیا”ہانیہ نے اُس کی بات سن کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔
وہ تو ہے ” ویسے ہانیہ آپی میں آپ کو بہت مس کرو گی” عنایہ نے اُٹھ کر بیڈ پر بیٹھتے مصومیت سے کہا۔۔۔۔ “مس تو میں بھی کرو گی اپنی گڑیا کو لیکن تمیں جب بھی مجھ سے ملنے کا دل چاہیے تو مجھ سے ملنے آجایا کرنا وہاں :” ہانیہ اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھی اور اس کو پیار سے گلے لگایا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر تو میں روز آجایا کرو گی۔۔
عنایہ ایک دم خوش ہو کر بولی تھی وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والی۔۔”
ہانیہ نے اُس کامسکرا کر چہرہ تھپتپھایا تھا۔۔ اور اپنا تکیہ درست کر کے لیٹی تھی ۔۔
تم بھی سوجاو گڑ یا۔۔عنایہ بھی ہاں میں گردن ہلاتی لیٹی تھی۔۔۔
چونکہ آج رخصتی ہال سے ہونی تھی۔۔۔۔ اِسی لیے بس انھوں تیار ہو کر ہال کی طرف نکلنا تھا۔۔کچھ رشتہ دار مہمان رات سے ادھر ہی تھے ۔۔۔انھوں نے تو ادھر ہی سے تیار ہو کر جانا تھا۔۔ہانیہ اور عنایہ کو بھی پالر بھج
دیا گیا تھا۔۔ جو تیار ہو چکے تھےوہ سب اپنی گاڑیوں میں ہال کی طرف نکلے تھے۔۔سواۓ افنان,سمیرا بیگم۔۔سکندر۔۔زوار انیلا بیگم اور کچھ خاص رشتہ داروں کے کیونکہ اُنھیں خاتم شاہ نے کوئی ضروری بات کرنے کے لیے گھر پر ہی روک لیا تھا۔۔اور اب سب خاتم شاہ کے کمرے میں موجود تھے۔۔
زوار,, سکندر میں نے ایک فیصلہ کیا اور مجھے اُمید ہے کہ تم لوگو کو میرے فیصلے پر کوئی اطراز نہیں ہوگا۔۔ “,خاتم شاہ نے گلہ کھنکار کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور بات کا آغاز کیا تھا۔۔
حکم کرے بابا جان ,,زوار شاہ نے احترامً کہا تھا اور سکندر شاہ نے بھی اثبات میں گردن ہلائی تھی ۔۔۔میں عنایہ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہو ۔۔۔میں جانتا ہو کہ وہ ابھی چھوٹی ہے شادی کی زمہ داری نہیں سمجھتی لیکن میں اُس کا ہاتھ کسی مضبوط ہاتھ میں دینا چاہتا ہو جو اُس کی خفاظت کر سکے مشکل وقت میں اُس کے ساتھ کھڑا رہے ۔۔۔۔
پر بابا جان ہم ہیں نہ اُس کی خفاظت کے لیے اور ویسے بھی وہ ابھی پڑھ رہی ہے اور اُسے کسی سے کیا حطرہ ہو سکتا ہے ” سکندر شاہ نے نا سمجھی سے اُنھیں دیکھا تھا۔۔۔جہاں باقی سب خیران ہوۓ تھے خاتم شاہ کی بات سن کر وہی افنان کا دل بیٹھا تھا عنایہ کی شادی کا سن کر اور اُس نےپریشانی سے پہلو بدلہ تھا۔۔
ہاں ہم ہیں لیکن تم سمجھو میری بات کو کہ کوئی نہ کوئی بات ہے تبھی تو میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کیا تمہیں میرے فیصلے پر کوئی اطراز ہے خاتم شاہ نے خفگی سے اپنے چھوٹے بیٹے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
خدارا بابا جان ! میرا وہ مطلب نہیں تھا مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ عنایہ کو کسی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔سکندر شاہ اُٹھ کر خاتم شاہ کے پاس آۓ تھے اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر بولے تھے۔۔
سب سمجھاو گا تمہیں میں لیکن ابھی جو میں تمہیں کہہ رہا ہو وہ سنو اور اُس پر عمل کرو خاتم شاہ نے سکندر شاہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کرتھپتھپایا تھا اور انھیں مطمین کیا تھا۔۔
ٹھیک ہے بابا جان جیسے آپ کی مرضی آپکا فیصلہ سر آنکھوں پر سکندر شاہ ہامی بھرتے ہوۓ واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھے تھے۔۔۔
توبس ٹھیک ہے آج ہانیہ کی رخصتی کہ ساتھ عنایہ کانکاح بھی ہوگا۔۔کیوں آپ لوگوں کو کوئی اطراز تو نہیں ہے نہ؟۔۔خاتم شاہ نے کمرے میں موجود افراد سے پوچھا تھا۔۔
جہاں سب نے نفی میؔ گردن ہلائی تھی وہی افنان اٹھا تھا ۔۔
ایسے کیسے دادا جان آپ عنایہ کا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں دیں سکتے ہیں ہم نہ لڑکے کوجانتےہیں نہ ہم اُس سے ملے ہیں اور آپ آج ہی نکاح کی بات کر رہے ہے گستاخی معاف دادا جان پرمیں یہ نکاح نہیں ہونے دیں سکتا۔۔”افنان نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا۔۔
تم ہمارے فیصلے کے خلاف جارہے ہو اور جہاں بات لڑکے کی ہے تو تمہیں کون نہیں جانتا۔۔۔۔۔
پر دادا جان ………” افنان جو خاتم شاہ کی بات سُن کر کچھ کہنے والا تھا۔۔
ایک دم خاموش ہوا تھا اور خاتم شاہ کو ایسے دیکھا تھا جیسے کچھ غلط سن لیا ہو۔۔
کیا…… کیا ۔۔۔۔” کہا آپ نے ؟ افنان نے بات کی تصدیق کرنی چاہی تھی۔۔
یہی کہ تمہیں کون نہیں جانتا اور میں عنایہ کا نکاح تم سے کرنا چاہتا ہو تہیں کوئی اطراز تو نہیں ہے نہ؟,,خاتم شاہ نے شرارت سے پوتے سے پوچھا تھا ۔۔(وہ بھی جان چکے تھے افنان کے دل کا خال اور وہ کیسے نہ جان پاتے وہ اُن کے دل کے پاس جو تھا وہ اُس کی آنکھوں میں عنایہ کے لیے پسندگی دیکھ چکے تھے)……
بلکل نہیں دادا جان آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ” افنان نے جلدی سے آگے بھر کر خاتم شاہ کا ہاتھ آنکھوں سے لگا کر بوسہ دیا تھا۔۔
اور آپ لوگو کو ؟ اب خاتم شاہ کا رخ سکندر,,سمیرا زوار اور انیلہ کی طرف تھا۔۔
جن کے چہرے اُن کی بات سُن کر کھل اُٹھے ورنہ پہلے وہ بھی خاتم شاہ کی بات سن کرپریشان ہوۓ تھے۔۔
لیکن اب تو ان کے دل کی مراد بھر آئی تھی جیسے۔۔۔ اور سب بہت خوش ہوۓ تھے سواۓ کچھ رشتہ داروں کے۔۔
(کیونکہ کچھ کی نظر افنان کو اپنا دماد بنانے کی تھی اور کچھ کی عنایہ کو اپنی بہو لیکن اب۔۔۔)
میں سب کا منہ میٹھا کرواتی ہو سمیرا بیگم جلدی سے کچن کی طرف گی تھی ۔۔۔۔اور مٹھائی کا ڈبہ لا کر سب کامنہ میٹھا کروایا تھا۔۔
اچھا اب افنان تم جلدی سے تیار ہو جاو میں عنایہ اور ہانیہ کو پالر سے لے کر ہال میں پہنچ جاو گا تم اور بھائی سب کولے کر ہال کی طرف نکلوبہت دیر ہو چکی ہے ۔۔سکندر شاہ نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
نہیں چھوٹے پاپا ,,آپ اور پاپا چلیں سب کو لے کر میں اُنھیں پک کر لو گاآپ لوگوں کا بارات کا استقبال کے لیے وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔۔
افنان نے کہا تھا اور تصدیق کے لیے خاتم شاہ کی طرف دیکھا تھا۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے افنان چلو ہم لوگ نکلتے ہیں دیر ہو رہی ہے وہ پک کر لے گا بچیوں کو۔۔
خاتم شاہ نے کہا اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ باقی سب نے بھی ان کی پیروی کی تھی اور اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر ہال کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ پالر سے ہانیہ کو ایک ہاتھ سے پکڑے ایک ہاتھ سے اُس کا لہنگا تھامے باہر گاڑی کے پاس لائی تھی۔۔
وہ جو ان کے پالر سے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا اُس دشمن جاں کو دیکھ کر ساکت ہو تھاوائٹ فراک (جس پرسلور نگ اور وائٹ دھاگے کا خوبصورت کام تھا) پہنے,,,ایک سائڈ پر نیٹ کا دبٹہ(جس کے چاروں طرف سلور خوبصورت لیس لگی تھی) ڈالے ۔۔نیچے لونگ نفیس سلور پنسل ہیل پہنے”بالوں کو کھلا چھوڑے,,,جو نیچے سے کرل تھے کندھوں کے دونوں طرف ڈالے گے تھے۔۔۔کانوں میں میچنگ ایئر رنگ تھے,,
سمونکی آئیز بناۓجو اُس کو اور حسین بنا رہی تھی۔۔۔سرخ لپ سٹک سے سجے ہونٹ۔۔ اور ہونٹوں کے پاس چھوٹا سا تل,,افنان کی جان نکالنے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔افنان کا اُس سے نظر ہٹانا مشکل ہو گیا تھا۔۔
افنان بھائی پلیز ہانیہ آپی کو گاڑی میں بٹھانے میں ہیلپ کر دیں۔۔
عنایہ جو کب سے اُسے وہی پر سٹچو بنے دیکھ رہی تھی پاس آکر بولی تھی ہانیہ کو اب بھی اُس نے سنبھالہ تھا۔۔
افنان اُس کی آواز سن کر ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔
اور جلدی سے دروازہ کھولا تھا اور دلہن بنی ہانیہ کو گاڑی میں بٹھانے میں اُس کی مدد کی تھی۔۔۔۔ اور خود بھی آکر گاڑی میں بٹھا تھا۔۔
عنایہ ہانیہ کو بٹھانے کے بعد خودبھی اُس کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
افنان نے اُس کے بٹھنے کے بعد گاڑی سٹارٹ کی تھی۔۔اور ہال کی طرف بڑھے تھا جہاں پربارات آچکی تھی اوراُس بار بار کالز آرہی تھی۔۔
ہال میں پہنچنے کے بعد اُس نے ہی عنایہ کی مدد کی تھی ہانیہ کو گاڑی سے نکالنے میں اور ایک سائیڈ سے اُس نے پکڑا تھا اور ایک سائیڈ سے عنایہ نے اور ہانیہ کو لے کر اندر کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔
سٹیج پر موجود زیان ہانیہ کودیکھ کھڑا ہوا تھا اورآگے بھر کر ہاتھ بڑھایا تھا جو عنایہ نے جھجکتے ہوۓ تھاما تھا زیان نے اُسے تھامے صوفے تک لایااور اسے بٹھا کر خودبٹھا تھا ہانیہ خود میں سمٹی تھی اور زیان کے لبوں کو ہلکی سے مسکراہٹ نے چھوا تھا۔۔
آج وہ دونوں چاند سورج کی جؤڑی لگ رہےتھے۔۔۔زیان نے گولڈن کلرکی خوبصورت کام والی شیروانی پہن رکھی تھی سر پر گولڈن کلہ,,,نیچے گولڈن کھسہ پہنے وہ کوئی شہزادہ معلوم ہو رہا تھا۔۔
جبکہ ہانیہ ڈیپ ریٹ لہنگا شٹ پہنے جس پر گولڈن کام تھا۔۔۔۔
خوبصورت آئیز میک اپ ,,ڈیپ رئٹ لپ سٹک ۔۔کندن کی اسٹیٹمنٹ سٹائل جیولری پپہنے جو گولڈن کلر کی ہی تھی۔۔گولڈن کلر کی ہی ماتھا پٹی لگاۓ۔۔ سٹائلش جوڑہ جس پر دوبٹہ اچھے سے سیٹ کیا گیا تھا وہ کسی سلطنت کی شہزادی ہی لگ رہی تھی اوپر سےاُس کی مصومیت اورشرمایا شرمایا روپ کسی کا دل دھڑکانے کے لیے کافی تھا۔۔۔
ارے یار تمہارے افنان بھائی تو بڑے ہنڈسم ہے۔۔صبا نے افنان کو دیکھتے ہوۓ عنایہ سے کہا تھا۔۔ ایک آلگ ٹیبل پر وہ دونوں بیٹھی تھی۔۔عنایہ جو پیپسی گلاس میں ڈالے چھوٹے چھوٹے سیپ لے رہی تھی اس کی بات سن کر اس نے بھی افنان کو دیکھا تھا جو شائید کسی رشتہ دار سے بات کر رہا تھا,, وائٹ قمیز شلوار ,,,” نیچے بلیک سٹائلش شوز ” ایک ہاتھ پر گاڑی باندھے۔۔بالوں کو جیل کی مدد سے سیٹ کیے۔۔لاکھوں دلوں کو دھڑکانے کے لیے کافی تھا لڑکیاں اُس کو بڑی حسرت سے دیکھ رہی تھی لڑکیاں اُس کی ایک نظر دیکھنے کے لیے اگے پیچھے پھر رہی تھی۔۔مگر وہ جیسےسب سے بے نیاز تھا
