250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 2

Ishq Da Rang by Saman

سب سے ملنے کے بعد اب وہ لاونچ میں ہی بیٹھا تھا,۔۔۔دیکھو تو زرا کیا حال بنایا ہے اپنی صحت کا۔۔۔۔اپنے کھانے پینے کا بلکل خیال نہیں رکھا نہ وہاں پر تم نے۔۔انیلا بیگم نے اپنے خوبرو بیٹے کی طرف دیکھتے ہوۓ فکرمندی سے کہا۔۔۔جہاں اُن کی بات سن کر سب مسکراۓ تھے۔۔۔وہی پر وہاں موجود ایک شخص کو اُن کا پیار ایک آنکھ نہ بایا تھا۔۔۔۔۔۔۔(وہ کوئی اور نہیں ہماری شرارتی ہیروین صاحبہ ہے)۔۔۔عنایہ جو خاتم شاہ کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔‘ “”بےبی مانو‘’بھی اُس کی گود میں ہی ماجود تھی وہ اُسے پیار سے سہلا رہی تھی۔اور اُسے کچھ کھلا بھی رہی تھی ”۔۔۔ عنایہ نے بُرا سا منہ بنا کر افنان کو دیکھا تھا جو سامنے والے صوفے پر انیلا بیگم کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔

‘‘’’لو اچھے بھلے تو ہیں یہ !!بڑی ماما بھی نہ‘وہ بڑبڑاکر پھر سے اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گی تھی۔۔

(ایسا نہیں تھا وہ افنان سے نفرت کرتی تھی ۔۔بس اُس کا مانا تھا کہ سب افنان کو زیادہ اہمیت دیتے تھے” ہر کام میں اُس کی صلح لی جاتی تھی،،یہ کرو تو افنان سے پوچھو,,وہ کرو تب بھی افنان سے پوچھو!

ہماری کوئی اپنی مرضی ہی نہیں ہے۔۔یہی وجہ تھی کہ وہ افنان سے چڑنے لگی تھی۔۔۔)

آب آگیا ہو نہ آپ کے اور چھوٹی ماما کے ہاتھ کے مزے مزے کے کھانے کھاو گا تو بلکل فٹ ہو جاؤ گا

افنان نے اپنی ماں کے ہاتھ چوم کر کہا ۔ ۔۔۔,بے شک وہ اتنا عرصہ باہر گزار کر آیا تھا

پھر بھی وہ بڑوں کی عزت کرنا نہ بھولا تھا۔۔۔

بس اب اُسے فریش بھی ہونے دو نہ!! کہ یہی بٹھا کر رکھنا ہے بچہ اتنا لمبا سفر کر کے آیا ہے۔۔

خاتم شاہ نے اپنے وجہہ پوتے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔

جس کے چہرے پر تھکان صاف نظر آرہی تھی۔۔ 🌷🌺🌷🌺🌷

بلہ شُبہ وہ ایک خوبرو مرد تھا۔۔سرخ وسفید رنگت،،نیلی آنکھیں،جو اُس نے خاتم شاہ کے والد سے چُڑائی تھی۔۔براون سلکی بال جو اس وقت ماتھے پر ماجود تھے,,ہلکی ہلکی فرنچ سٹائل داڑھی،،اور جب وہ مسکراتا تو اگلے بندے کو ٹھٹکھنے پر مجبور کر دیتا وہ واقعی اپنی مثال آپ تھا۔۔

ہاں بیٹا جاؤ تم فریش ہو جاؤ میں کچن میں دیکھ لو سمیرا بھی صبح سے لگی ہے آج سارے کھانے تمہارے پسند کے بنے ہیں, ,,انیلا بیگم نے کہا اور کچن کی طرف بڑھی ۔۔۔

جی میں بس ابھی آیا پھر مل کر کھانا کھاۓ گۓ افنان نے کہا اور ایک نظر عنایہ پر ڈالی تھی جو اب زیان سے باتیں بگاڑنے میں لگی تھی اور وہ اُ س کی باتوں پر صرف مسکرا رہا تھا

اس لڑکی سے صرف باتیں کرالو,,افنان کو جانے اس کا زیان سے بات کرنا کیوں آچھا نہ لگا تھا اور اُس کی وہاں بس ہوئی تھی جب عنایہ کوئی بات کرنے کے لیے زیان کے تھوڑے ساتھ ہوئی تھی ۔۔۔ عنایہ،،۔۔۔جاوُ ماما لوگوں کی مدد کروا یہاں کیا با تیں بگاڑ رہی ہو۔۔۔افنان نے آنکھوں میں غصہ اور آوازمیں سختی لاکر کہا تھا۔۔۔جی۔۔اور وہ جو زیان سے ہانیہ کے متعلق بات کر رہی تھی افنان کی بات سن کر اور آوز میں سحتی مخسوس کر کے برے برے منہ بناتی اٹھی۔تھی،،،،،،

زیان تم کھانا ہمارے ساتھ کھا کر جانا ۔۔افنان نے اپنا لہجہ نارمل کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔”ارے نہیں یار میں بس اب نکلو گا بابا کی بھی کال آئی تھی،،،ایک میٹگ بھی اٹینٹ کرنی ہے مجھے۔۔۔۔۔زیان نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوۓ کہا تھا،،،شام میں ”انشاہ اللّہ”ماما لوگوں کے ساتھ آو گا ڈئنر سب کے ساتھ کرے گے ابھی کے لیے اجازت دو