250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 4

Ishq Da Rang by Saman

“جی” آچھی چل رہی ہے بھایو…!ہانیہ پیار سے اُسے بھایو ہی کہتی تھی۔۔” اچھا کوئی پرابلم تو نہیں ہے۔۔۔

نہیں بھایو…! ہانیہ نے کہا ۔۔ اچھا کوئی پرابلم ہوئی تو مجھے بتا دینا… ” اوکے بھایو” اور” عنایہ” تمھاری پڑھائی کیسی جارہی ہے؟ اب وہ عنایہ کی طرف متوجہ ہوا تھا جو کھا ہی چکی تھی کھانا ،، اور اب اٹھنے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔

بس ٹھک ہی جارہی ہے …” اُس نے بُرا سا منہ بنا کر کہا…ٰ ٰٰٰٰ اور اُس کا چہرا دیکھ کر دونوں بے اختیار مسکراۓ تھے… کیونکہ سب جانتے تھے کہ پڑھائی سے اُس کی جان جاتی تھی۔۔۔ بھایو آپ جانتے ہو نہ ! کہ میتھ کے سبجیکٹ میں اِس کی جان جاتی ہے …ہانیہ نے مسکرا کر کہا تھا “آپی”عنایہ نے ناراضگی سے ہانیہ کو دیکھا تھا۔۔ “تم ابھی تک نالائق ہو۔۔؟ افنان نے اُسے چھیڑا تھا…”جی نہیں نالائق نہیں ہو بس میتھ مجھے جلدی جلدی سمجھ نہیں آتا “عنایہ نے ایک دم جواب دیا تھا…

اچھاااا……اُس نے اچھا کو لمبا کہنچا تھااور ایسے گردن ہلائی تھی جیسے وہ سمجھ گیا ہو…”

آپی میں اپنے کمرے میں جارہی ہو ” عنایہ اُسے اِگنور کر کے ہانیہ سے مخاتب ہوئی تھی”

اوکے جاؤ …”

“وہ اوپر والے پوریشن میں بڑھی تھی جہاں اُس کا اور ہانیہ کا مشترکہ کمرا تھا …”

افنان کا کمرا بھی اوپر ہی تھا…”باقی سب کے کمرے نیچے والے پوریشن میں تھے…”

اور وہ اُسے تب تک دیکھتا رہا تھا جب تک وہ اپنے کمرے میں نہیں چلی گی تھی…

پتا نہیں کب یہ چھوٹی سی لڑکی اُس کے دل میں آ بیٹھی تھی…” اور وہ چاکر بھی کچھ نہ کر سکا تھا …

بے شک دونوں کی عمر میں 8 سال کا ڈفرنس تھا پھر بھی اُسے کوئی فرق نہیں پڑھتا تھا

اسے پورے یقین تھا کہ “اور کوئی سمجھے یا نہ سمجھے دادا جان اُس کی فیلنگ کو ضرور سمجھے گے” اور عنایہ کو اُسے سونپ دیں گے…”

“رہی بات عنایہ کی تو وہ اُسے راضی کر لے گا…”

اور اگر زبردستی بھی کرنا پڑی تب بھی کوئی بات نہیں تھی “لیکن وہ اُس سے دست بردا نہیں ہو گا…”

بھایو”…ہانیہ جو کب سے اُس کے چہرے کے ایکسپریشن نوٹ کر رہی تھی

پُکارا تھا…… آ…ہاں…اور وہ اپنے خیالوں سےباہر آیا تھا۔۔۔”

کیا سوچ رہے ہیں جائیں آرام کریں,,,,,اچھا “وہ اٹھا تھا اور اوپر اپنے روم کی طرف برھا تھا

ہانیہ بھی کچن کی طرف برھی تھی

زیان آفس سے سیدھا گھر ہی آیا تھا…”ٹی وی لاونچ میں ہی اُسے آسیہ بیگم اور عالیان ملے تھے…” اسلام وعلیکم”

سلام کر کے وہی صوفے پر بیٹھا ،، سر پیچھے بیک پر رکھا اور ایک ہاتھ سے ماتھہ مسلہ ۔۔

وعیلکم اسلام” آگیا میرا بچہ “آسیہ بیگم نے پیار سے جواب دیا تھا”

کیا ہوا بہت تھک گے ہو آج ” آسیہ بیگم نے پاس آکر پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

ارے نہیں بس تھوڑا سر میں درد ہے “زیان نے پیار سے ان کا ہاتھ پکر پاس ہی صوفے پر بیٹھایا تھا

اِسی لیے کہتا ہو سر دبانے والی کو اب لے آۓ…”

عالیان جو پاس ہی ٹی وی پر میچ دیکھ رہا تھا “شرارت سے بولا تھا

بتاو تمہیں میں “زیان نے صوفے سے اُٹھتے ہوۓ کہا تھا

ٹھیک کہہ رہا ہے وہ” آسیہ بیگم نے ہاتھ پکر کر روکا تھا اُسے اور واپس بٹھایا تھا

“اب تو افنان بھی واپس آگیا ہے اب میں تمہارا کوئی بہانا نہیں سونو گی…” آج شام کو ہی میں بابا اور بھائی سے بات کرتی ہو۔…”

آسیہ بیگم نے آنکھیں دیکھاتے ہو کہا تھا

مگر ماما “اتنی جلدی کیا ضرورت ہے آرام سے بات کرلیجیے گا کچھ دنوں بعد”زیان نے کہا تھا

کو ئی جلدی نہیں ہے “آگر تم ہانیہ کی پڑھائی کی وجہ سے کہہ رہے ہو تو وہ شادی کے بعد بھی کمپلیٹ کر سکتی ہے اب میں کچھ نہیں سونو گی” آسیہ بیگم نے کہا” ” زیان کو ہانیہ سے صبح ہوئی ملاقات یاد آئی تھی کہ کیسے اُس کے زرہ سے چھونے پر وہ شرمائی تھی اور اگر شادی ہو گی تو پھر کیا کرے گی وہ” سوچ کر ہی اِس کے چہرۓپر مسکان آئی تھی جو عالیان کی نظروں سے چھپھی نہ رہ سکی “” اوکے جیسے آپ کی مرضی”… ،ْْْْْ

زیان نے ہتیھار ڈالے تھے”فکر نہ کر ماما دل میں اِن کے لٹو پھوٹ رہے ہو گے “آپ کے سامنے یہ انکار کر ریے ہیں” عالیان نے کہا۔

“اب تم کیا چاہ رہے ہو کہ میں دانت توڑو آکر تمہارے ” زیان نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا””

آچھا…اچھا… سوری ” عالیان نے کان پکر کر کہا تھا…”

اور اُس کی حرکت پر زیان اور آسیہ بیگم دونوں مسکراۓ تھے”

“اچھا جاو تم فریش ہو جاؤ پھر حاتم مینشن بھی چلنا ہے تمہارے پاپا بھی اُٹھ گے ہو گۓ…” اور عالیان تم بھی جاو تیار یو جاؤ چلو اُٹھو شاباش “” آسیہ بیگم نے اندر کمرے کی طرف برھتے ہوۓ کہا

اوکے””دونوں نے یک زبان کہا اور اپنے اپنے روم کی طرف بڑھ گے۔۔۔

یہ منظر ہے ایک مشہور کلب کا جہاں شراب، جوا اور نہ جانے کیا کیا چلتا تھا…

کہا تک پہنچا تمہارے کام؟؟ وہی پر موجود ایک ٹیبل پر وہ باپ، بیٹا بھی بیٹھے تھے۔۔

بس سمجھے ہو گیا” ابھی” رفیق” ساری معلومات لے کر پہنچنے والا ہے …” دلاور ملک نے گلاس میں موجود زہر کو اپنے اندر انڈیلتے ہوۓ کہا”” مجھے انتظار ہے خاتم شاہ کی بربادی کا” قاسم ملک نے اپنا اور اُس کا گلاس پھر سے بھرا تھا…”

سر” ……آہاںہہہہہ…”رفیق تم آگے بولو کیا خبر لاۓ ہو؟ دلاور ملک نے رفیق کے مخاطب کرنے پر کہا ساتھ بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا “” سر سب ڈیٹیل اِس فائل میں موجود ہے رفیق نے کُرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا…”اچھا دکھاو مجھے دلاور نے فائل اُس کے ہاتھ سے کنچھتے ہوۓ کہا …

یہ… یہ کون ہے اُس نے ایک تصویر باہر نکال کر پو چھا تھا “خاتم شاہ کی پوتی ہے سر

رفیق نے اُس کے ہاتھ سے تصویر لے کر دیکھی اور جواب دیا

آہاہہہہہہ…”پوتی ہیں یہ تو بڑی کمال کی چیز ہے یار دیکھے تو زرہ ڈیڈ”! اُس نےقاسم کی طرف تصویر بڑھائی…”

ہاں چیز تو بڑی مست ہیں لیکن تمہارے دماغ

میں چل کیا رہا ہے۔

قاسم نے بیٹے کے چہرے پر کمینی مسکراہٹ دیکھ کر کہا ۔

ہاہاہاہاہاہا…” یہی کہ آگر اِس کو اغوا کر کے کچھ راتیں رنگین کی جائیں تو؟ دلاور نے کمینگی سے آنکھ مارتے ہوۓ کہا

“ہا ں اِ س سے خاتم شاہ کی عزت خاک میں مل جاۓ گی اور مزے الگ سے ہو جاۓ گے۔

ہاہاہاہاہا……یہ کہہ کر دونوں باپ ،بیٹے نے قہقہ لگایا تھا

مگر وہ یہ نہہں جانتے تھے کس سے اُلجھنے جا رہے ہیں ؛ ” اب آگے اُن کا انجام کیا ہونا ہے خدا ہی جانے؟؟