624.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 11

Ishq Da Rang by Saman

اس کا کل سے ہی موڈ خراب تھا اسی لیے نہ وہ ناشتے کہ وقت نیچے گی اور اب تو لنچ کاٹائم تھا اور اس کا اب بھی نیچے جانے کا کوئی پُرگرام نہیں تھا اسی لیے وہ اپنے بیڈ پر ہی دراز کسی غیر مرائی نقطے کو گھورنے میں مصروف تھی۔۔

دروازے پر دستک ہوئی اور سمیرا بیگم اندر آئی اسے ایسے ہی بستر پر لیٹا دیکھ غصہ آیا تھا

ایسابھی کیا ہو گیا عنایہ جو تم یو سوگ منا رہی ہو تم یہ سب کرکے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے ” سمیرا بیگم نے آگے بڑھ کر زور سے کمبل کھنچا انھیں اس کی بے کار کی ضد پر غصہ آیا تھا اور اب اُنھوں نے اس کا دماغ ڈھکانے لگانے کا ارادہ کیا تھا۔۔

آپ سب اپنی من مانی کر تو چکے ہے ::” اب اور کیا چاہتے ہے مجھ سے اب میں اپنی مرضی سے ناراض بھی نہیں ہو سکتی؟ اس نے روندھی آواز میں کہا۔۔ایک آنسوبھی گال پر پھسلہ .

اکلوتی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر سمیرا بیگم کو ترس آیا ” اس کی حالت سمجھتے ہوۓ آگے بھر کر اسے گلے لگایا تھا۔۔۔۔” سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا۔۔

وہ ان کے گلے لگتے ہی رو پڑی تھی” میری بچی افنان اچھا ہے وہ تمہیں خوش رکھے گا دیکھنا تمہیں آگے چل کر ہمارے فیصلے پر فخر ہوگا بے کار کی ضد مت کرو میری بچی” سمیرا بیگم نے اس کے لمبے سلکی بالوں پر ہاتھ پھرتے ہوۓ کہا تھا۔۔

مگر ماما کیا مجھے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں؟ وہ یوں ہی ان کے گلے لگے ہوۓ بولی تھی۔۔

میری مرضی بھی تو پوچھنی چاہیے تھی ایسے کیسے میری زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہے آپ لوگ۔۔؟ اس نے کندھے سے سر اُٹھا کر اپنی ماں سےپوچھا تھا۔۔

بیٹا ہم تمہارےبڑے ہے اور تم ابھی نا سمجھ ہو ہم جو فیصلہ کریں گے تمہاری بھلائی کا کرے گے۔۔” سمیرا بیگم نے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا۔۔

میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہو 18 کی ہو چکی ہو ,,عنایہ نے ناراضگی سے کہا

ہاں اب تم بڑی ہو چکی ہو اب تمہیں سمجھداری سے کام لینا ہے بچوں کیطرح ضد مت کرو” سمیرا بیگم نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ کہا تھا۔۔

اس نے ناراضگی سے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔۔

چلو آجاو لنچ کا ٹائم ہوگیا ہے کل رات بھی تم نے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا صبح ناشتہ بھی نہیں کیا میں جانتی ہو اس وقت تمہارے پیٹ کے چوہے بھوک سے فوت ہو چکے ہوگے۔۔۔” سمیرابیگم نے آخر میں مزاق سے کہا تھا اور وہ ان کی بات سن کر ایک دم ہنسی تھی ۔۔”

خوش رہو چلومیں نیچے جارہی ہو تم بھی آجاو,,سمیرابیگم اس کے ماتھے پر بھوسہ دے کر اٹھی تھی۔۔

اوکے ماما پانچ منٹ میں آئی ” عنایہ بیڈ سے اترتے ہوۓ بولی تھی۔۔ (ویسے بھی غصہ کم ہونے کہ بعد اسے بھوک کا احساس ہوا تھا)

سمیرا بیگم اثبات میں گردن ہلاتی باہر نکل گی تھی۔۔

وہ فریش ہو کر نیچے کچن میں ہی آئی تھی جہاں سمیرا اور انیلا بیگم دونوں کچن میں مصروف تھی ؛:” یہ نہیں تھا کہ گھر میں ملازموں کی کمی تھی بلکہ باقی گھر کے کام کے لیے میاں ,,بیوی دونوں رکھے گے تھے بیوی اندر گھر کی صفائی وغیرہ کرتی تھی جبکہ شوہر کو باہر پودوں کی دیکھ بال کے لیے رکھا گیا تھا۔۔” دونوں شریف اور غریب تھے” اور انھیں اپنی انیکسی میں ہی جگہ دی گی تھی

” ملازم ہونے کے باوجود وہ کچن کا سارا کام خود کرتی تھی حاص طور پر کھانا وہ دونوں ہی بناتی تھی۔

اسلام وعلیکم” وہ کچن میں داخل ہوتے ہوۓ بولی تھی۔۔ اور وہی کچن میں موجود چار کرسیوں میں سے ایک کھنچ کر بیٹھی تھی,,(کچن میں بھی چھوٹا سا ٹیبل اور چار کرسیاں رکھی گی تھی)

وعلیکم اسلام؛:” آو عنایہ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے سمیرا نے بتایا تمہارے سر میں درد رات کو کوئی دوائی وغیرہ لی”: ۔انیلا بیگم جو ہانڈی بنا رہی تھی پلٹ کر اس سے پوچھا تھا۔۔” جو ایک دم گڑبڑائی تھی۔۔

” جی بڑی ماما لے لی دوائی اور اب کافی بہتر ہوں ” سمیرا بیگم جو برتن دھو رہی تھی انیلا کی بات پر پلٹ کر اسے دیکھا تھا اور اس کا جواب دینے تک اسے دیکھتی رہی تھی کہ نہ جانے وہ کیا جواب دیں گی مگر اس کا جواب سن کر مطمئن ہوئی تھی اور واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئ۔۔

عنایہ تمہیں کیا بنا کر دو کیا کھاو گی ؟ سمیرا بیگم جو برتن دھوچکی اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔۔

کب تک اِسے خود پکا کر کھلاۓ گی چھوٹی ماما :” اسے خود بھی تو کچھ کرنا چاہیے کہ نہیں “: افنان جو آج آفس سے جلدی آگیا تھا کچن سے آوازیں سن کر ادھر ہی چلا آیا تھا اور یہاں اس دشمن جاں کو دیکھ کر اندر تک سکون محسوس کیا تھا ورنہ کل سے اس کا کوئی سامنا نہ ہوا تھا ۔۔

صبح بھی اسے چھوٹی ماما سے پتا چلا تھا کہ اس کے سر میں درد ہے

لیکن وہ خوب سمجھتا تھا اُس کے سر درد کی وجہ “:

ہاں تو آپ کو کیا تکلیف ہے اپنی ماما سے بنوا کر کھاتی ہو ۔۔

عنایہ نے ترخ کر جواب دیا تھا۔۔

عنایہ۔۔۔۔۔” یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟ افنان سے مت بھولو کہ تمہارا شوہر ہے وہ ” سمیرا بیگم غصے میں آپے سے باہر ہوئی تھی ۔۔

ہاں زبردستی کہ شوہر “؛ جو آپ لوگوں کی وجہ سے میرے ساتھ زبردستی باندھ دیے گۓ ہے ” عنایہ نے بھی غصے سے کرسی سے اُٹھی تھی۔۔

عنایہ……” سمیرا بیگم نے تھپڑ کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا جو انیلا بیگم نے راستے میں ان کا ہاتھ روکا تھا۔۔

کیا کر رہی ہو سمیرا؟ بچی ہےوہ ناسمجھ ہے

” دیکھا آپ کی وجہ سے میری ماں نے مجھ پر ہاتھ اُٹھایا ہے” بہت بُرے ہے آپ ” بہت بُرے وہ ایک بار پھر سے بدگمان ہوئی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگی

تھی۔۔

۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞

میں کیا کرو بھابھی ؟ دیکھا آپ نے کتنی بدتمیز ہوتی جارہی ہے ہمارے پیار کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہے۔۔

سمیرابیگم وہی سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھی تھی۔۔

چھوٹی ماما آپ ٹینشن نہ لے سب ٹھک ہو جاۓ گا۔۔۔

اسے نئے رشتے کو سجھنے کے لیے تھوڑا وقت دیں “سب کچھ اتنا اچانک ہو ہے” اسے وقت لگے گا سب سمجھنے میں “

افنان کو بھی اُس کی باتوں پر غصہ آیا تھا

مگر پھر سمیرا بیگم کو پریشان دیکھ کر ان کے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔”

افنان ٹھیک کہہ رہا ہے سمیرا ابھی اسے سب کے لیے تھوڑا وقت دو”،،” بچی ہے وہ پیار سے سمجھاؤ اُسے ” اِس نئی رشتے کی پہچان کروا اُسے:” انیلا بیگم نے بھی بیٹے کی ہمایت کی تھی۔۔

بھابھی ” افنان میں آپ لوگوں سے عنایہ کے روایے کی معفی مانگتی ہو ” سمیرابیگم نے ان دونوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا تھا۔۔

کسی باتیں کر رہی ہے چھوٹی ماما”*

مائیں بھی کبھی بیٹوں سے معافی مانگتی ہے “” افنان نے جلدی سے ان کے ہاتھ پکڑے تھے۔۔

سمیرا پاگل ہوگی ہو کیا ” وہ میری بہو بعد میں پہلے میری بیٹی ہے ,, انیلابیگم نے انھیں پیار سے ڈانٹا ۔۔

آپ ٹینشن نہ لیں اب میں اُسے اپنے طریقے سے ہنڈل کرو گا۔۔

افنان نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا ۔۔

سمیرا بیگم نے بھی گردن ہلائی ” اب تم ہی کچھ کرو بیٹا” اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔۔

پر میری بہو پر سختی مت کرنا”* بیگم نے مصنوعی غصے دیکھایا۔۔

کرنا تم سختی وہ پیار سے سمجھنے والی نہیں ہے۔۔” سمیرا بیگم نے آنسو پونچتھے ہوۓ کہا۔۔

پہلے آپ دونوں ڈیسائڈکر لے کہ سختی کرنی ہے کہ نہیں ؟ افنان نے مسکرا کر دونوں سے پوچھا۔۔

اور دونوں اُس کی بات سُن کر مسکرائی تھی۔۔

ہاں پر زیادہ سختی نہیں کرنا” سمیرا بیگم نے کہا اور انیلا بیگم نے اثبات میں گردن ہلا کر ان کی ہمایت کی تھی۔۔

چلیں ٹھیک ہے” ویسے کیا پکایا ہے آج “: افنان نے دونوں کا دھان بٹایا تھا۔۔

آج عنایہ کی پسند کی بریانی اور تمہاری پسند کا قیمہ کریلہ :” واہ اب تو نام سن کر بھوک چمک چکی ہے” میں ابھی فریش ہو کر آیا۔۔

افنان کرسی سے اُٹھتے ہوۓ بولا۔۔

بیٹا ” وہ۔۔۔۔۔ عنایہ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور رات کو بھی اس نے ٹھیک سے نہیں کھایا تھا۔۔

سمیرا بیگم نے جھجھکتے ہوۓ کہا۔۔

میں ابھی لاتا ہو اسے” وہ ان کی بات سن کر بولا اور باہر نکل کر اوپر کی طرف بڑھا تھا۔۔

یہ تم نے اچھا نہیں کیا خاتم شاہ،؛” تم ۔۔۔۔۔۔” تم کیا سمجھتے ہو تم ان دونوں کی شادی کروا کر اپنی پوتی کی عزت بچا لو گے۔۔

تو تم غلط سمجھتے ہوۓ اب میں ایسی چال چلو گا کہ تمہاری پوتی خود چل کر آئی گی میرے پاس”

دلاور ملک غصے سے بے قابو ہوا تھا جب سے اسے پتا چلا تھا کہ افنان اور عنایہ کانکاح ہوچکا ہے”

اب بھی وہ کلب میں بیٹھا زہر اپنے اندر انڈیل رہا تھا۔۔

اتنی کوشش کے بعد بھی وہ کچھ نہ کر سکا تھا ہر بار افنان شاہ بیچ میں آتا تھا اور پچھلے کچھ دنوں سے اس کے کاروبار میں بھی نقصان ہوا تھا اس کا کافی سامان پولیس کے ہاتھ لگ چکا تھا۔۔

اور وہ جانتا تھا ان سب کے پیچھے بھی افنان شاہ کا ہاتھ ہے۔۔

نہیں بلکے اب میں تیرے پوتے کوجان سے مارو گا پھر تیری پوتی کو اپنی رکھیل بناو گا۔۔۔۔ہاہاہاہاہا,,, اس نے زور دار قہقہ لگایا تھا اور مشروب اپنے گلاس میں ڈالا تھا۔۔

وہ زیان کے اُٹھنے سے پہلے ہی فریش ہو کر نیچے آچکی تھی ناشتہ کرنے کے بعد وہ وہی آسیہ بیگم کے ساتھ ٹی وی لاونچ میں بیٹھی ان سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔

کیونکہ زیان نے شادی کی وجہ سے آفس کی چھٹی کی تھی اسی لیے وہ سو رہا تھا۔۔

جاو بیٹا” زیان کو دیکھو وہ اُٹھ گیا ہو تو اسے کپڑے وغیرہ دو” اب تمہیں ہی یہ سب زمداریاں اُٹھانی ہے۔۔”آسیہ بیگم نے پیار سے اسے کہا تھا۔۔

اور وہ ان کی بات سن کر بلاوجہ شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔۔ (کہ پھوپھو کیا سوچ رہی ہو گی کہ اسے کوئی پرواہ ہی نہیں ہے شوہر کی) اب وہ انھیں کیا بتاتی کہ اسے زیان کاسامنا کرنے سے کتنی شرم آۓ گی اسی لیے تو وہ صبح جلدی نیچے آگئ تھی۔۔

مگر اب اسے مجبوراً اس کا سامنا کرنا تھا وہ اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اوپر کی طرف بڑھی تھی۔۔

آسیہ بیگم جو سب سمجھتی تھی اسے دیکھ مسکرائی تھی۔۔