Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 20
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 20
Ishq Da Rang by Saman
آچھا،،،،،، پھر تو لگتا ہے ناشتہ کے ملنے کہ چانس کم ہی ہے
افنان نے افسوس سے گردن ہلائی
اس کی بات سن کر انیلا بیگم مسکرائی
ایسا کچھ نہیں ہوگا میں ابھی جاکر دکھتی ہو
انیلا بیگم صوفے سے اٹھتے ہوۓ بولی
نہیں ،،،،،نہیں آپ روکیے میں دیکھ کر آتا ہو ساتھ ناشتے کا بھی بول دو گا
افنان نے ان کا ہاتھ پکڑ کو واپس بٹھایا اور اپنا ہاتھ میں لیا کورٹ صوفے کے بیک پر رکھ کر کیچن کی طرف بڑھا
کیچن کے دروازے پر پہنچ کر اندر کا منظر دیکھ بے احتیار اس کا ہنسی کا غبارہ پھوٹا تھا””،،،
جہاں عنایہ میڈم ہاتھ منہ اور بالوں پر آٹا لگاۓ منہ لٹکا کر کھڑی سمیرا بیگم کی ڈانٹ سن رہی تھی
اور بس رونے ہی والی تھی افنان اپنی ہنسی روکتے ہوۓ اندر بڑھا
کیا ہوا چھوٹی ماما ؟؟؟؟؟
یہ پوچھو کیا نہیں ہوا “” کوئی ایک کام جو یہ لڑکی ٹھیک کر لے”،،، بس اوٹ پٹانگ حرکتیں کروا لواس سے وہ بڑے اچھے سے کرے گی
سمیرا بیگم نے عنایہ کو گھورتے ہوۓ غصے میں کہا
جس کا سر اس کے سامنے بے عزتی پر وار نیچے ہوگیا تھا
پر ہوا کیا ہے؟؟؟؟؟؟ افنان نے عنایہ کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا
دیکھو میڈم کی حالت دیکھو “”، سمیرا بیگم نے اس کی طرف اشارہ کیا
یہ دیکھو “”،،، انھوں نے ایک باول آگے کرتے ہوۓ دیکھایا جہاں املیٹ کے لیے پیاز وغیرہ کے ساتھ انڈہ تو تھا ہی ساتھ میں انڈے کے چھلکے بھی ڈالے گۓ تھے
اور چاۓ میں چینی کے بجاۓ نمک ڈال چکی ہے یہ لڑکی “”سمیرا بیگم نے ایک اور کارنامہ گنوایا
وہ تو چلو کیا سو کیا””،،،، میں نے اوپر سے آٹا اتارنے کا کہا وہ میڈم صاحبہ اپنے اوپر ہی اتار چکی ہے
سمیرا بیگم کو مزید غصہ آیا اور افنان کو اس کی شکل دیکھ کر ترس””،،،
اچھا چلے آپ یہاں بیٹھے غصہ نا کرے بی پی ہائی ہو جاۓ گا
افنان نے انھیں کرسی پر بیٹھا کر ریلکس کرنے کی کوشش کی تھی
ہاں تو آپ ہی کو شوق چڑھا تھا مجھے کک بنانے کا “،،
عنایہ سے اور برداشت نہ ہوئی بے عزتی””،،،،،
وہ تو میں تمہیں بنا کر ہی رہو گی اور ڈنڈا لے کر تمہارے سر پر بھی کھڑی رہو گی
سمیرا بیگم نے آنکھیں دیکھائی
ہاں اور روز ایسے ہی ڈانٹے گئ””،،، عنایہ نے رو دینے والی ہوئی
سمیرا بیگم کو اب احساس ہوا کہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ””،،،،
زبردستی ہی وہ اسے لائی تھی کچن میں “”،،
مگر وہ اس کے سامنے اپنی سوچ کا اظہار کرکے سر پر چڑھنے کا موقع نہیں دے سکتی تھی اسی لیے خاموش ہی رہیں””،،،
چلو کوئی بات نہیں چھوٹی ماما آپ چلے باہر “”،،،
اور عنایہ جاو تم بھی اپنا حلیہ ٹھیک کرو””،،،
افنان نے سمیرا بیگم کو کھڑا کیا ساتھ اسے بھی کہا جو منہ لٹکاۓ کھڑی تھی
مگر بیٹا یہ سب اور تمہارا ناشتہ؟؟؟؟
سمیرا بیگم نے کچن کی طرف اشارہ کیا
اور ساتھ انھیں اس کے ناشتے کی بھی فکر ہوئی
کوئی بات نہیں وہ ملازمہ صاف کر لے گی اور میں باہر سے کچھ کھا لو گا
میں ویسے بھی کافی لیٹ ہو چکا ہو””،،،،
افنان نے گھڑی دیکھتے ہوۓ کہا
سمیرا بیگم نے تاسف سے عنایہ کو دیکھا
جس نے کندھے اچکاۓ اور باہر نکل گئ
پیچھے سمیرا بیگم نے افنان کی طرف دیکھا
اس نے بھی ان کی طرف دیکھا اور دونوں کا قہقہ بے ساحتہ تھا
اس کا کچھ نہیں ہو سکتا””،، سمیرا بیگم نے
ہنسنے کے دوران کہا
افنان نے بھی اثبات میں گردن ہلائی اور دونوں باہر نکلے
جہاں سمیرا بیگم نے انیلا بیگم کو کچن میں ہوئی ساری وردات سنانی تھی “”،،،،
تم نے سب سمجھا دیا ہے رفیق کو اظفر ؟؟؟؟؟؟
اس وقت وہ اپنےچھوٹے سے اپارٹیمنٹ میں موجود تھا
اظفر بھی اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا””،،،،
جی سر ؛! سب سمجھا دیا ہے اور وہ واپس دلاور ملک کے پاس بھی چلا گیا اور اسے وہاں جاکر کیا کہنا ہے وہ بھی سمجھا دیا “”،،،،
اظفر نے ساری تفصیل بتائی
گڈ “!
مجھے دو دن کے لیے شہر سے باہر جانا ہے تب تک تمہیں گھر کی سیکورٹی سخت کرنی ہے اور تمہیں مختاط رہنا ہے
دلاور ملک میرے پیچھے کوئی نہ کوئی حرکت ضرور کرۓ گا
افنان نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا
مگر سر آپ ؟؟؟؟؟ اظفر نے جھجھکتے ہوۓ کہا
میری فکر مت کرو اظفر تم سمجھنا تم میرے ہی وجود کی حفاظت کر رہے ہو””،،،
افنان نے اس کی بات سمجھتے ہوۓ اس کے کندھا تپھتپھایا
وہاں پر اور قابل اعتبار بندے بھیج دو گا سیکورٹی کے لیے مگر میرا آپ کی حفاظت کے لیے آپ کے ساتھ ہونا ضروری ہے سر””،،،
اظفر مطمئن نہ ہوا
نہیں اظفر تم نے یہی رہنا ہے اور رفیق کو بھی ہماری ضرورت پڑھ سکتی ہے
بس یہ میرا حکم ہے اب میں اور کچھ نہیں سنو گا
افنان نے اس کو منہ کھولتے دیکھ کر کہا اور میز سے اپنی گلاسس “” اور گاڑی کی کیز اٹھاتے ہوۓ باہر نکل گیا
اسے دو دن کے لیے پارٹی کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا تھا اگر جانا ضروری نہ ہوتا تو وہ اس حالات میں ہر گز نا جاتا
اسی لیے اس نے اظفر کو سختی سے تاکید کی تھی
رفیق کی بھی تو کوئی خیر خبر نا تھی ہو سکتا ہے وہ پکڑا گیا ہو
یہی سب سوچتے ہوۓ وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی گھر کی جانب موڑی اسے آج رات ہی نکلنا تھا۔۔۔۔
گھر پہنچ کر وہ سیدھا خاتم شاہ کے کمرے میں آیا تھا
دروازے پر دستک دیں کر اندر داخل ہوا
اسلام وعلیکم!
خاتم شاہ بیڈ کروان سے ٹیک لگاۓ کوئی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے اسے دیکھ اپنی عینک اتار کر اسے اپنے پاس بلایا
چاہیے وہ کتنا بھی بڑا کیوں نا ہوجاۓ””،،،
ان کے لیے وہ چھوٹا سا بچہ ہی تھا جیسے وہ اپنے کندھے پر بیٹھا کر پورے گھر کی سیر کرواتے اورجب وہ کھلکھلا کر ہنستا تو ان کا سیروں خون بڑھتا تھا
وعلیکم اسلام””
وہ سیدھے ہوکر بیٹھے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ بنائی تھی اپنے پاس””،،،
وہ چلتا ہوا ان کے بیڈ کے پاس آیا اور ان کی بنائی ہوئی جگہ پر بیٹھا””،،،،
کیا بات ہے بچے پریشان کیوں ہو؟؟؟؟؟ انھوں نے اس کے ماتھے پر تفکر کی لکیریں دیکھی”،،،
جو کچھ پریشان اور الجھا الجھا لگا تھا
دادا جان آپ کو معلوم ہے نا میں نے سیاسی مسلے کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ہے “”،،،
اس نے بات کا آغاز کیا
ہاں مجھے معلوم ہے صبح ہوئی تو تھی ہماری بات اس سلسلے میں،،،،،،، پر اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے
خاتم شاہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
پتا نہیں دادا جان عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے جانے کا دل نہیں کررہا اور اس حالات میں تو بکل بھی نہیں “”،،
اس نے پیشانی مسلی
کیوں فکر کرتے ہو ؟؟؟؟ میں ہو نا اور اظفر کو بھی تم یہی چھوڑ کر جا رہے ہو
کچھ نہیں ہوگا “””،،،
تمہارا جانا ضروری ہے آگر ضروری نا ہوتا تو میں تمہیں نہ کہتا “”،،،
بے فکر ہو کر جاؤ
انھوں نے اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی”
میں زرہ اپنی پینکنگ دیکھ لو مجھے نکلنا بھی ہے کچھ دیر میں “”،،،
اس نے اٹھتے ہوۓ کہا وہ انھیں پریشان نہیں کر سکتا تھا اسی لیے وہاں سے جلدی اُٹھ آیا “”،،،
وہ اپنے کمرے میں آیا تھا وہ صبح جاتے ہوۓ انیلا اور سمیرا بیگم کو اپنے جانے کا بتا گیا تھا””،،،
بیگ اس کا تیار صوفے پر پڑھا تھا وہ بھی اپنا کورٹ صوفے پر رکھ کر بیڈ پر نیم دراز ہو کر آنکھیں بند کی تھی
