Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 3
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 3
Ishq Da Rang by Saman
بیٹا سب ریڈی ہے کھانا کھا کر جانا…”سمیرا بیگم نے کچن سے نکلتے ہوۓ کہا”
نہیں “ممانی جان” ابھی میں چلتا ہو مجھے کافی دیر ہو گی ہے…” اللّٰہ خافظ” سب کو مشترکہ سلام کر کے وہ وہاں سے نکلا تھا
۞۞۞۞۞۞
آوچ……وہ جو اپنے دھان میں اندر جا رہی تھی ایک دم کسی سے ٹکرائی تھی…”اس پہلےکہ زمین کو سلامی دیتی۔.. زیان نے بازو پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا ۔۔ارے۔۔ارے ۔۔ اتنی جلدی میں کہا جا رہی ہوں ؟اگر گر جاتی تو میرا کیا ہوتا۔۔ زیان آخر میں تھوڑا شوخ ہوا تھا ۔۔۔ جی۔۔ کیا مطلب ہے آپ کا؟؟؟ ہانیہ نے نا سمجھی سے اُس کی۔ طرف دیکھا تھا جو پُرشوک نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ آ۔آپ۔۔ پلیز۔۔میرا بازو چھوڑیں کوئی دیکھ لے گا۔!!… ہانیہ نے اپنے بازو کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔ جو ابھی تک زیان نے پکڑ رکھا تھا, ,
اگر نہ چھوڑو تو؟؟
اس نےجھٹکے سے اُسے اپنے پاس کیا تھا اور ہانیہ کی جان ہوا ہوئی تھی،،، اتنا گھبراتی کیوں ہو مجھ سےکھا تھوڑی جاؤ گا۔۔ “منگیتر ہونے سے پہلے کزن ہو تمہارا یار۔۔۔۔ زیان نے اُس کے چہرے پر آئی ہوئی لیٹ کو پھونک مار کر پیچھے کیا تھا اور ہانیہ کو نرمی سے چھوڑہ تھا,,, جو اُس کے چھوڑنے پر جلدی سے دور ہوئی تھی جیسے وہ پھر پکر لے گا اُسے ۔۔۔ زیان نے اُس کی جلد بازی پر اپنا قہقہ روکھا تھا۔۔” ویسے اتنی دیر سے کہا چُپھی ہوئی تھی تم؟؟ میں کب سے تمہاری ایک جھلک دیکھنے کیلے بے چین تھا۔۔۔ زیان نے اس کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوۓ کہا تھا “” جو اس وقت گرین قمیض جس پر ریڈ دھاگے کا کام تھا ساتھ ریڈ شلوار اور ہمرنگ دوبٹہ کے ساتھ سیدھی اس کے دل میں اُتر رہی تھی””جی یہی تھی ؛؛اچھا مجھے تو نہیں دیکھی تم ![]()
ہانیہ کے جواب میں اُس نے کہا تھا “۔ زیان تھوڑا سنجیدہ مزاج کا تھا.. پر جانے کیوں وہ اِس نازک سی لڑکی کے سامنے شوخ ہو جاتا تھا… جس کے چہرے پر اُسے دیکھ کر شرم و حیا کے رنگ چھا جاتے تھے جو اس کے معصوم چہرے پر بہت بھلے لگتے تھے۔۔ اُف۔۔۔۔ اَب جان لوگی کیا؟زیان نے معنی حیزی سے کہا تھا ۔۔ کیا مطلب ہے؟؟ ہانیہ نے حیرانگی سے اُس سے پوچھا تھا ” ایک تو تم مطلب بہت پوچھتی ہو؛؛ مطلب بھی سسمجھا دو گا۔۔ مگر ابھی زرہ جلدی جانا ہے مجھے زیان نے گھڑی دیکھی تھی اور اُسے وقت کا احساس ہوا تھا”اوکے میں چلتا ہو پھر کسی دن مطلب سمجھاو گا تفصیل سے “اوکے باۓ” زیان نے اُس کا گال دو انگلیوں سے چُھوا تھا اور گاڑی کی طرف بڑھا تھا” اور وہ پیچھے اُس کا لمس پاکر شرمائی تھی اور اُسے جاتے ہوۓدیکھا تھا”” زیان نے گاڑی میں بیٹھ کر اُس کو شیشے سے دیکھا تھا اور ہا تھ باہر نکال کر” باۓ” کیا تھا اور گاڑی بھگا لے گیا تھا اور وہ بھی اندر کی طرف بڑھی تھی
۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
ہاں” رفیق’ سُنو” میں ایک پتہ بھیج رہا ہو تم نے وہاں پر نظر رکھنی ہے اور مجھے پل پل کی خبر دینی ہیں کون آرہا ہے؟کون جا رہا ہے ؟ کتنے افراد رہتے ہیں؟۔۔ سب ڈئیٹل مجھے چاہیں صرف دو دن ہیں تمہارے پاس اور سب بڑی خوشیاری سے کرنا ہیں کوئی بھی گڑبڑ ہوئی تو میں تمہیں چھوڑو گا۔۔۔۔ نہیں سمجھ گے نہ میری بات “اوکے” دلاور ملک نے اپنے حاص بندے کو لگایا تھا حاتم مینشن پر نظر رکھنے کے لیے۔۔۔ اَب وہ دن دور نہیں جب تمہاری کوئی کمزوری میرے ہاتھ ہوگی تمہیں میں اَسی مات دو گا کہ تم تڑپو گے حاتم شاہ ؛؛ دلاور ملک نے حقارت سے سوچا تھا..
۞۞۞۞۞۞۞
سب اس وقت ڈاینگ ٹیبل پر موجود تھے.. وہ بھی فریش ہو کر وہی آیا تھا سب اُسی کا انتظار کر رہے تھے..ارے آپ لوگوں نے شروع کیوں نہیں کیا کھانا” افنان نے سکندر شاہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا تھا۔۔ “جہاں سربراہی کرسی پر خاتم شاہ بیٹھے تھے اور اُن کے دائیں والی کرسیوں پر زوار شاہ، عنایہ،ہانیہ بیٹھے تھے اور بائیں طرف کرسیوں پر سکندر شاہ،اور اب افنان بھی بیٹھا تھا جبکہ سمیرا بیگم اور انیلا بیگم کھانا لگوا رہی تھی جو کہ تقریباً لگ ہی چکا تھا۔۔”نہیں جی آپ محترم کا اتظار ہو رہا ہے کہ کب آپ آۓ اور کب ہمیں کھانا نصیب ہو ” کسی سے کچھ بولنے سے پہلے عنایہ جل کر بولی جسے کب سے بھوک ستا رہی تھی،، عنایہ…! کیا بدتمیزی ہے یہ؟سمیرا بیگم نے بیٹی کو آنکھیں دیکھائی تھی ۔۔۔ جو اب سکندر شاہ کے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھی تھی اور انیلا بیگم زوار شاہ کے ساتھ”،،ماما۔۔میں نے کب بدتمیزی کی ہے میں نے تو ایک بات ہی کہی ہے ۔۔عنایہ نے بھی دو بدو جواب دیا تھا؛؛ بس چپ بہت بد تمیز ہو گی ہو تم ،،سمیرا بیگم نے اسے جھڑکہ تھا کوئی بات نہیں بہو ! بچی ہے آپ سب لوگ کھانا شروع کریں حاتم شاہ نے بات سبھالی تھی،، سب کو کھانے کی طرف متوجہ کیا تھا،، ” افنان اُس کا اپنے سے “چڑچڑاپن “نوٹ کر رہا تھا۔۔اُس کو سمجھ نہیں آئی تھی عنایہ کی خود سے بد مزاجی کی وجہ۔۔۔ ” افنان بھی سر جھٹکتا کھانے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔
“اب آگے کیا کرنے کا اِرادہ ہے تمہارا افنان ؟؟ اچانک ہی زوار شاہ نے پوچھا تھا۔۔ “سیاست جوائن کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ ” ویسے بھی دادا جان یہی چاہتے ہیں::۔۔کھانے سے ہاتھ روک کر اُس نے جواب دیا تھا۔۔۔”مگر میں چاہتا ہوں تم بزنس کو بھی دیکھو ہم کب تک سنبھالے گے کیو ں سکندر؟؟ جی بلکل آخر اِسی نے ہی سنبھالنا ہے “سکندر شاہ نے بھی اُن کی بات کی تائید کی تھی ,,, ٹھیک ہے چلے ابھی تو کھانا کھا ۓ اِس بارے میں بعد میں بات ہوگی, ,اُس نے بات حتم کی تھی اور ایک نظر عنایہ کو دیکھا تھا””جو ایسے کھانے پر جُھکی ہوئی تھی جیسے اِس سے ضروری کوئی اور کام ہی نہ ہو ۔۔۔ “میں اب تھوڑا آرام کرو گا۔۔” خاتم شاہ چیڑ سے اُٹھتے ہوۓ بولے”تم بھی افنان تھوڑا آرام کر لو جب سے آئے ہو ایسے ہی بیٹھے ہو۔۔”خاتم شاہ نے افنان کو مخاتب کیا تھا۔۔”
جی دادا جان میں بھی یہی سوچ رہا ہو۔۔”
افنان نے جواب دیا تھا۔۔” خاتم شاہ بھی کمرۓ کی طرف چل دیے تھے۔۔”سکندر تم کھا چکے ہو تو آجاؤ کچھ آفس کا کام ڈسکس کرنا ہیے۔۔: “زوار شاہ نے سکندر شاہ کو مخاتب کیا تھا۔۔”
جی بھائی صاحب میرا ہوگیا چلے “سکندر شاہ نے جواب دیا تھا اور دونوں زوار شاہ کے کمرۓ کی طرف بڑھے تھے۔۔”
“اب ٹیبل پر عنایہ اور ہانیہ ہی موجود تھی سمیرا بیگم اور انیلا بیگم پھر سے کچن میں چلی گی تھی رات کے کھانے کی تیاری کے لیے۔۔”
ہانیہ یونی کیسی جارہی ہے تمہاری؟؟افنان نے ہانیہ سے پوچھا تھا”
