624.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 12

Ishq Da Rang by Saman

اُوپر کمرے کے باہر پہنچ کر اس نے اپنے دل کی سپیڈ کو نارمل کیا تھا جو فل سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔۔

سر نیچے کر کے وہ کمرے میں داخل ہوئی دروازہ بند کر کے پلٹی اور نظر اُٹھا کر بیڈ کی طرف دیکھا۔۔

اور اُدھر نظر ڈالتے ہی ساکت ہوئی تھی کیونکہ وہ بیڈ پر نیم دراز اُسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا۔۔

زیان بیڈ سے اُٹھا تھا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا اُس کے پاس آیا تھا جو کمرے کے سینٹر میں کھڑی اپنی اُنگلیاں چٹخانے میں مصروف تھی ۔۔

زیان نے پیچھے سے اُسے اپنے حصار میں لیا اور اس کے بالوں میں منہ چپھایا تھا۔۔

ویلکم ٹو مائی لائف اور میری زندگی کو حسین بنانے کا شکریہ”: زیان نے اُس کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکایا تھا۔۔

ویسے کہا گی تھی؟ زیان نے ویسے ہی اُس کے ساتھ لگے پوچھا۔۔

جی۔۔۔۔۔۔۔نی چے۔۔۔۔۔پھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھوپھو کے پاس تھی”:” وہ زیان کی بڑتی جسارتوں سے نروس ہوتے ہوۓ بولی جو اس کے کندھے سے بال ہٹا کر اب اس پر اپنے لب رکھ چکا تھا۔۔

۔ مجھ سے دور مت رہا کرو یار *”ایک ہی رات میں نہ جانے کیا جادو کیا ہے کہ میں دیوانہ ہو گیا تمہارا “: زیان نے اُسے اپنے روبرو کرتے ہوۓ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوۓ ماتھے پرعقیدت سے بوسہ دیا تھا۔۔

ہانیہ نے آنکھیں بند کرکے اُس کے لمس کو محسوس کیا تھا”* وہ اپنے آپ کو خوش قسمت ترین لڑکی سمجھ رہی تھی اور جتنا خدا کا شکر ادا کرتی اُتنا کم تھا۔۔ “

زیان نے بغور اس کا خوبصورت چہرہ دیکھا ۔کپکپاتے ہونٹ۔۔۔ آنکھوں کی چلمن کبھی گرتی اور کبھی اُٹھتی “: ” وہ بے خود ہوا تھا اور اس کے لبوں پر قبضہ جمایا تھا ہانیہ جو اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھی اُس کی شٹ کے کلر کو مضبوطی سے پکڑا تھا۔۔

زیان اُسے رات سے ہی نرمی اور پیار سے چھو رہا تھا جیسے وہ موم کی گڑیا ہو اور اُس کے سختی کرنے سے ٹوٹ جاۓ گی۔۔

کچھ لمحوں بعد اُس کو بخشا اور لہو چھلکتا چہرہ دیکھا۔۔ “

زیان “ْ آپ فریش ہو جاۓ۔۔۔” میں “”””” میں آپ کے کمرے نکال دیتی ہو “”ْ ہانیہ اس کو رات والی روپ میں واپس آتے دیکھ بوکھلائی تھی۔۔۔

فریش تو تم کرو گی مجھے”: زیان نے معنی حیزی سے کہا تھا اور اسے ایک دم بازو میں بھرا اور بیڈ کی طرف لایا۔ نرمی سے اسے بیڈ پر لیٹ کر خود بھی اُس کے پاس نیم دراز ہوا تھا اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔

زیان ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہے آپ ؟ پھوپھو نیچے انتظار کر رہی ہوگئ اور آپ ہے کہ آپ کو مستی سُوج رہی ہے” ۔۔ہانیہ نے مزاحمت کرتے ہوۓ کہا۔۔

کوئی نہیں انتظار کررہا اور جہاں تک ماما کی بات ہے تو وہ جانتی ہے کہ نئی نئی شادی ہوئی ہے” انھیں بھی تو دادی بنانا ہے کہ نہیں ؟ زیان نے شرارت سے کہا تھا۔۔

ہانیہ اس کی بات سن کر شرم سے دوھری ہوئی تھی۔۔

زہان آپ سچ میں بہت بے شرم ہے۔۔

ابھی تو میں نے بےشرمی کی ہی نہیں ہے “! ہاں مگر اب کرو گا یہ کہہ کر زیان نے اس کا ہاتھ کنچھا تھا وہ سیدھی اس کے سینے پر آئی تھی زیان نے اس کے چہرۓ سے بال ہٹاۓ تھے جو اس کو کھچنے سے اس کے چہرے پر آۓ تھے۔۔

۔

پتا ہے مجھے چھ بچے چاہیے تین بیٹے اور تین بیٹیاں” زیان نے اس کے گال کو چومتے ہوۓ کہا۔۔ اور اس پر اپنی بانہوں کا گہرہ بنایا”

اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوۓ اس نے نے زیان کے سینے پر ہلکہ سا مکامارہ تھا۔۔

کیا ہوا زیادہ چاہیے ؟ چلاو آٹھ کر لیتے ہے اس سے زیادہ نہیں مجھے تمہاری صحت بھی تو عزیز ہے نہ”:؛: زیان نے شرارت سے کہا” وہ اب بھی اس کی بانہوں میں قید تھی۔۔

جی نہیں بچے دو ہی آچھے سمجھے آپ “ْ؛

ہانیہ نے دوبدو جواب دیا تھا۔۔

یار اب تم باتوں میں ٹائم زائع کرو گی تو پھر تو کچھ نہیں ہو گا “:ّ زیان نے اس کے لبوں کو پیار سے سہلاتے ہوۓ کہا۔۔

بلکل نہیں زیان سب کیا سوچے گے کہ ہم لوگ ابھی تک نیچے نہیں گے اور شام تک ماما لوگوں نے بھی تو آنا ہے چلیں آپ فریش ہوجاۓ پلیز۔۔ ” ہانیہ نے آخر میں مِنت کی تھی۔۔

اچھا چلو ابھی کے لیے چھوڑ رہا ہو مگر رات کو تمہیں دیکھ لو گا ۔۔ “* زیان نے آخر میں میٹھی سی جسارت کر کے اسے بخشا تھا۔۔

ہانیہ آزادی ملتے ہی اس سے دور ہوئی تھی۔۔

زیان اس کی جلد بازی دیکھ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔اور فریش ہونے واش روم کی طرف بڑھا تھا۔۔

ہانیہ بھی مسکراتی ہوۓ اُٹھ کر اس کے پہننے کے لیے ڈریس نکالنے الماری کی طرف بڑھی ۔۔۔

وہ فریش ہو کر عنایہ کے کمرے کی طرف آیا تھا اور ناب پر ہاتھ رکھ کر گھمایا دوازہ کھلتا چلا گیا تھا۔۔

اندر کامنظر دیکھ کر اُس کے ماتھے پر بے شمار بل آۓ تھے”

کمرے کی ہر چیز تہس نہس کر چکی تھی وہ اور خود بیڈ پر گھٹنوں میں چہرہ چپھاۓ ٹانگوں کے گرد دونوں ہاتھ لپیٹ کر رونے کا شغل میں مصروف تھی۔۔

افنان نے لمبی سانس کھنچی اور اس کی طرف بڑھا ۔۔

عنایہ نے آہٹ پاکر سر اُٹھایا تھا۔۔

آپ ،،،،آپ میرے کمرۓ میں کیا کر رہے ہے” عنایہ نے ناگواری سے کہا

کیوں سوگ منا رہی ہو ؟ ابھی مرا نہیں ہو زندہ ہو میں ؛” افنان نے غصے سے کہا

آپ مر بھی جاۓ تو مجھے فرق نہیں پڑۓ گا “

افنان کو اس کی بات سن کر اور غصہ آیا تھا اس نے آگے بھر کر اس کا بازو دبوچا اور کھنچ کر اسے اپنے روبرو کھڑا کیا ۔۔

کیوں،،،، کیوں کر رہی ہو تم ایسا ؟ کیا تم کسی اور کوئی پسند کرتی ہوں ؟ افنان نے اس کے چہرے پر نظرے گھاڑ کر پوچھا۔۔

چھوڑۓ مجھے ،” میں آپ کی جواب دہ نہیں ہوں ،، آپ کو کوئی حق نہیں پُہچتا کہ

آپ مجھ سے ایسا سوال کریں ۔۔

عنایہ اس کی بات سن کر غصے سےتلملائی تھی” وہ کیسے اس کے کردار ہر سوال اُٹھا سکتا تھا۔۔

دیکھو ،،، عنایہ تم ٹھنڈے دماغ سے سوچو ” دادا جان نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ہم دونوں کے لیے بہترین ہے۔۔” افنان نے اس کے بازو کو چھوڑتے ہوۓ اسے سمجھانا چاہا تھا۔۔

ہو۔۔۔۔۔۔۔ عنایہ نے ہنکارا بھرا تھا۔۔

مجھے کچھ نہیں پتا میں آپ سے شادی نہیں کرو گی بس:”

افنان اس کی بات سن کر مسکرایا تھا ” ویسے بھی وہ اس پر زیادہ دہر غصہ نہیں کر سکتا تھا۔

“شادی تو ہو چکی ہے :” ہاں رخصتی ہونی باقی ہے ۔۔

مجھے نہیں کرنی رخصتی سمجھے آپ ” عنایہ کو اپنی بے بسی پر رونا آیا آنکھوں میں پانی بھر ایا تھا۔۔

جو افنان کو تڑپا گیا تھا وہ بے اختیار اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کے آنکھ کے کنارے صاف کیے تھے۔۔

جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا رخصتی تمہارے کہنے پر ہی ہو گی۔

آپ سچ کہہ رہے ہے جب میں چاہو گی تب ہو گی ۔۔۔۔

اس نے تصدیق چاہی تھی۔۔

ہاں میری جان جب تم چاہو ” افنان نے بے اختیار اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔

چھی۔۔۔۔۔ یہ آپ کیا کرہے ہے؟,,, ۔ عنایہ نے اسے دور کرکے اپنا ماتھے پر ہاتھ رکھ کر صاف کیا تھا۔۔

کیا کر رہا ہو ؟ افنان انجان بنا ۔۔

آپ مجھے کیسے کس کر سکتے ہے ” میں بڑی ماما کو بولوں گی۔۔۔

عنایہ نے شکایت لگانے والے انداز میں کہا۔۔

توبہ کرو لڑکی کیوں میری عزت کا فالودہ بنوانا چاہ رہی ہو۔۔

افنان اس کی بات پر سٹپٹایا ” ۔اس کا کیا بھروسہ سب کے سامنے بول دے۔۔۔تو ؟

استغفراللہ ” افنان سوچ کر ہی گڑبڑایا۔۔

دیکھو ہسبنڈ وائف میں یہ سب چلتا ہے اور ہم دونوں کے بیچ ہوئی بات تم کبھی بھی کسی کو نہیں بتاو گی۔۔

افنان نے اسے سمجھایا تھا۔۔

اوکے۔۔۔عنایہ نے کندھے اِچکاۓ ۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ایسی تھی جیسے اس سے سمجھدار کوئی ہو ہی نہ اور اب دیکھو ایک نکاح پر کتنا واویلہ مچایا تھا۔۔

اس نے سوچ کر نفی میں گردن ہلائی تھی۔۔

اب چلو نیچے کھانا کھا لو۔۔

آپ چلے میں فریش ہو کر آرہی اور آپ اپنی بات سے مکر مت جائیے گا ۔۔

عنایہ نے اسے یاد کروانہ ضروری سمجھا “

نہیں مکرو گا ،، مگر یار زیادہ ٹائم نہ لینا رخصتی میں،،” یہ نہ ہو میں بوڑھا ہوجاو۔۔

افنان نے مزاق کیا۔

وہ تو آپ ابھی بھی ہے”عنایہ اسے کہہ کر واش روم بھاگی تھی۔۔

افنان کو جب تک سمجھ میں آتی وہ واش روم بھاگ چکی تھی۔۔۔

افنان نے اسے منانے کہ لیے رخصتی کا فیصلہ اس پر سونپ تو دیا تھا ۔۔۔ پر اسے کہیں نہ کہیں اس کے فیصلے کا ڈر بھی تھا نہ جانے وہ کتنا عرصہ لے رخصتی کے لیے۔۔۔

مگر اسے خود پر بھی بھروسہ تھا کہ وہ اسے خود سے پیار کرنے پر مجبور کردے گا وہ اسے ایسادیوانہ بناۓ گا اپنا کہ وہ کسی اور طرف سوچنے کی زہمت ہی نہیں کرۓ گے۔۔

مگر خدا جانے ان کی قسمت میں جدائی لکھی ہے یا ملن۔۔۔۔۔۔۔

شام میں سب زیان لوگوں کے گھر جمع تھے کیونکہ ولیمہ دو دن کے بعد رکھا گیا تھا اسی لیے آج خاتم مینشن سے خواتین آئی تھی ہانیہ سے ملنے ۔۔

سب اس وقت ڈرائنگ روم میں ہی موجود تھی ۔۔

مرد خضرات میں سے افنان آیا تھا ان سب کو لے کر اور اب اس وقت زیان کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا ساتھ ساتھ عنایہ کو بھی اپنی نظروں کے حصار میں لیا تھا جو پنک فراک ( جس پر گولڈن لیس لگی تھی ) ساتھ ہم رنگ دوبٹہ جو اس وقت سر پر موجود تھا نیچے گولڈن جوتے ۔۔میک اپ کے نام پر صرف لائٹ ساپنک گلوز لگا تھا اتنی سی تیاری میں ہی وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔

مانا کہ تمہارا نکاح ہو چکا ہے پر یار ایسے تو نہ تاڑ بچی کو:” زیان جو کب سے اسے نوٹ کر رہا تھا اس کے کندھے پرہاتھ رکھ کر دھیمے سے کہا تھا۔۔

تجھے کیا مسلہ ہے تو بھی تاڑ لے اپنی والی کو,, ” افنان نے بھی پلٹ کر جواب دیا تھا۔۔

یار میں شریف بچا ہو سب کے سامنے ایسی حرکتیں نہیں کرتا” زیان نے آنکھ کا کونا ونک کیا تھا۔۔

ویسے میں دیکھ ریا ہو شادی کے بعد بہت پَر نکل آۓ ہے تمہارے ” افنان اب اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔

تو بھی رخصتی کروا لے جلدی ” پھر تجھے سمجھ آۓ گا پَر کیوں نکلتے ہے۔

زیان نےمزاق کیا تھا۔۔

آہا۔۔۔۔۔۔ہماری ایسی قسمت کہا ” افنان نے لمبی سانس کھنچی اور ایک بار پھر اس دشمن جاں کو دیکھا جو ہانیہ کے ساتھ سر جوڑے نہ جانے کون سی راز و نیاز کی باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ دونوں آہستہ آواز میں باتیں کر رہے تھے تاکہ کوئی اور نہ سن سکے۔

چل یار کوئی نی۔۔۔دل چھوٹا نہ کر ہو جائی گی رخصتی بھی انشااللہ۔۔ذیان نے اسے دلاسہ دیا تھا۔۔

انشااللہ ۔۔ افنان نے بھی دل ہی دل میں کہا

ویسے دلاور ملک کا کیا بنا؟ اب کی بار زیان سنجیدہ ہوا تھا

وہ اور افنان کزن ہونے کے ساتھ بہت اچھے دوست بھی تھے اسی لیے ایک دوسرے کی چھوٹی ۔۔بڑی بات ان دونوں کو معلوم ہوتی تھی۔۔۔

کچھ نہیں ابھی تو میں اس کے خلاف ثبوت اکٹھے کر رہا ہو ” دو تین ثبوت میرے ہاتھ لگے بھی ہے بہت جلد اسے میں سلاخوں کے پیچھے ڈالواں گا ۔۔

افنان بھی سنجیدہ ہوا تھا,, سنبھل کر یار میں نے سنا ہے بہت خطرناک بندہ ہے غلط لوگوں کے ساتھ اس کے تعلوقات ہے ۔۔ زیان نے جیسے اس کے علم میں اضافہ کیا تھا۔۔

بہت دیکھے ایسےانسان شیر کے لباس میں گیدڑ ہے” اسے تو میں دیکھ لو گا۔۔ تم فکر مت کرو۔۔

افنان نے اسے مطمئن کیا۔۔۔۔