Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 15
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 15
Ishq Da Rang by Saman
کیا ہوا ؟ کہا گم ہو گئی ,,افنان نے اس کے آگے چھٹکی بجائی ۔
ہاں ،،،،، کہیی نہیں ماما میرا ناشتہ ,,, عنایہ گڑبڑائی اور ساتھ ہی سمیرا بیگم کو آواز دی۔۔
ہاں آج لیٹ آنکھ کھولی ,, رات ایک حسین چڑیل سے ملاقات جو تھی۔۔افنان نے مسکرا کر شرارت سے کہا۔۔
کیا,,,,,, آپ نے مجھے چڑیل کہا
عنایہ نے غصے سے افنان کو گھورا تھا
حسین بھی تو کہا ہے ,,افنان نے دانتوں کی نمائش کی تھی۔
ہاہایا۔۔۔۔۔ ویری فنی اگر یہ جوک تھا تو مجھے بکل پسند نہیں آیا۔۔
عنایہ نے منہ بنایا۔
یہ لو ” توبہ ہے ایک تو دیر سے جاگتی ہو اوپر سے ہنگامہ شروع کر دیتی ہو۔۔
سمیرا بیگم نے دونوں کے آگےناشتہ رکھا اور عنایہ سے کہا تھا۔۔
آپ بھی بیٹھ جاۓ چھوٹی ماما” افنان نے سمیرا بیگم سے کہا تھا۔۔
وہ بھی سر ہلاتی ہوئی بیٹھی تھی اور صرف چاۓ کا کپ لیا تھا۔۔
کچھ لمحے یونہی گزرے تھے,, چھوٹی ماما آج میں عنایہ کو کالج کے بعد شاپنگ پر لے کر جارہا ہو
افنان نے انھیں بتانا ضروری سمجھا تھا۔۔
ہاں ۔۔۔۔ہاں ۔۔ضرور لے کر جاؤ۔۔
سمیرا بیگم نے کھولے دل سے اجازت دی تھی۔۔
آج بڑی ماما کہا ہے ؟ عنایہ نے ناشتے کرتے ہوۓ ماں سے پوچھا۔۔
ابھی تک نہیں اٹھی شائد آنکھ نہیں کھولی ہو گی ۔۔ بس تمہارے پاپا اور بھائی صاحب کا بھی آفس جانے کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔
سمیرا بیگم نے چاۓ کی سپ لیتے ہوۓ کہا۔۔
میں گاڑی میں ہو عنایہ تم آجاؤ ۔۔۔
افنان جو ناشتہ کر چکا تھا کرسی سے اٹھتے ہوۓ بولا۔۔اور باہر نکل گیا تھا۔۔
جلدی کرو بیٹا افنان تمہارا انتظار کر رہا ہے
سمیرا بیگم نے اسے یاد کروایا تھا جو آرام سے چاۓ پی رہی تھی۔۔
بس ماما جارہی ہو یہ چاۓ پی لو۔۔
عنایہ نے چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوۓ کہا
بس کرو ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم لیٹ ہو رہی تھی اور اب دیکھو کیسے آرام سے بیٹھی ہو مجھے پتا ہے تم یہ افنان کو تنگ کرنے کے لیے کر رہی ہو جاؤ وہ انتظارکر رہا ہے۔۔
سمیرا بیگم نے اس سے کپ لیا تھا جو تقریبً خالی ہی تھا
جارہی ہو ایک تومجھے سمجھ میں نہیں آتاکہ آپ میری ماں ہے یا اُن کی۔۔
عنایہ نے جلدی سے بیگ اُٹھایا اور بڑبڑاتی ہوئی باہر نکلی ۔۔ جہاں افنان گاڑی میں انتظار کررہا تھا۔۔
وہ غصے سے پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی اور زور سے دروازہ بند کیا۔۔
آرام سے لڑکی دروازہ توڑنے کا اِرادہ ہے؟ افنان نے اس سے بیک مرر سے دیکھا۔۔
ٹوٹ ہی نہ جاۓ ۔۔عنایہ نے زبان چرائی تھی۔۔
یہ تم پیچھے کیوں بیٹھی میں ڈرائیور نہیں ہو تمہارا آگے اؤ۔۔
افنان نے اس کی بات کو اگنور کرکے اس کی طرف موڑ کر کہا۔۔۔
نہیں میں یہی ٹھیک ہو ,,عنایہ نےکہا
تم اگے ارہی ہو یا میں تمہیں خود لاو۔۔
نہیں میں نہیں آرہی,,عنایہ باضد ہوئی۔۔
افنان جلدی سے اترا اور پچھلا دروازہ کھولا اور بنا اسے موقع دئیے اس لا کر فرنٹ سیٹ پر بٹھایا تھا اور خود گھوم کر اپنی جگہ پر آیا۔۔
یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی اور جب سمجھ آئی تو وہ فرنٹ سیٹ پر موجود تھی ۔۔
آپ ۔۔۔۔آپ سچ میں بہت برے ہے شاہ۔۔۔
عنایہ غصے سے تلملائی اور اس کہ طرف موڑی تھی جو گاڑی سٹارٹ کر کے مین روڈ پر ڈال چکا تھا۔۔
شکریہ۔۔۔ افنان نے جھک کر جیسے اس سے داد وصول کی تھی۔۔
ہہووو,,,,, میں بھی کیوں آپ سے بات کر رہی ہو ,, عنایہ نے منہ موڑ کرباہر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔۔
یار ناراض تو نہ ہو ،،، میں بکل نہیں چاہتا کہ تم مجھ سے دور رہو۔۔ افنان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔
اور میں بکل نہیں وقت سے پہلے مرناچاہتی اس لیے براۓ مہربانی میرا ہاتھ چھوڑ کر ڈرائیوگ پر توجہ دیں۔۔
عنایہ نے اس کی گرفت سے ہاتھ نکالا تھا۔۔
افنان مسکرا کر ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوا۔۔
کچھ دیر کے وقفہ کے بعد اس نے عنایہ کی طرف دیکھا تھا جو نا جانے باہر سڑکوں پر کیا تلاش کررہی تھی۔۔
ارے ۔۔۔ زرہ ادھر بھی توجہ دے لو کیا باہر ڈھونٹ رہی ہو۔۔
افنان نے جیسے اسے احساس دلایا کہ وہ بھی وہاں موجود ہے۔۔
جی کیا مسئلہ ہے آپ کا ؟ عنایہ نے باہرکے منظر سے نگا ہٹا کر اس کی طرف پلٹ کر دیکھا۔۔
کچھ نہیں لوتمہارا کالج بھی آ گیا ۔۔۔افنان نے اس کےکالج کے اگے گآڑی روکتے ہوۓ اسے کہا
آپ پلیز جلدی آجائیے گامجھے لینے ,,, عنایہ نے گاڑی سے نکلتے ہوۓ کہا۔
اوکے ڈئیر وائفی ۔۔۔ افنان مسکرایا۔۔
اوکے باۓ۔۔۔عنایہ کالج کے گیٹ کی طرف بڑھتے ہوۓ بولی۔۔
باۓ۔۔ افنان اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ گیٹ سے اندر نہ چلی گی۔پھر اس نے بھی گاڑی سٹارٹ کی اور آفس کی طرف موڑی کیونکہ آج اس کا ارادہ آفس جانے کا تھا۔۔۔۔
وہ رات لیٹ پہنچے تھے سب سو چکے تھے اسے لیے کسی سے رات کو ملاقات نہ ہوسکی تھی۔۔
جب وہ دونوں تیار ہوکر نیچے آۓ تو ,,حیدر اور آسیہ بیگم ڈائینگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔ دونوں یک زبان سلام کیا اور اگے بھرۓ۔۔
وعلیکم اسلام آگے بچوں ۔۔ سب سے پہلے حیدر صاحب نے جواب دیا تھا۔۔
جی بابا کیسے ہے آپ ,,زیان ان کے گلے لگتے ہوے کہا
میں بکل ٹھیک ہو ,, حیدر صاحب مسکراۓ ۔۔
اسلام و علیکم ,,,, بابا کیسے ہے ,, ہانیہ نے اگے بھر کر ان کے آگے سر رکھا تھا۔۔
وعلیکم اسلام ,,, میں بکل ٹھیک ہو مجھے کیا ہونا ہے بھلا چنگا تو ہو,, حیدر صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ۔۔
تم لوگوں نے آنے کا بتایا ہی نہیں بڑی جلدی واپسی کرلی۔۔
آسیہ بیگم ان سے ملتے ہوۓ بولی تھی۔۔
بس ماما ,, ہانیہ کی طبیعت تھوڑی ٹھیک نہیں تھی اس لیے جلدی آنا پڑا۔۔
زیان چیڑ پر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا۔۔ ہانیہ بھی اس کے ساتھ والی چیڑ پر بیٹھی ۔۔
یا اللّٰہ خیر کیا ہوا میری بچی کو؟ آسیہ بیگم ایک دم فکرمند ہوئی ۔۔جو ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی ۔ سربراہی کرسی پر حیدر صاحب موجود تھے۔۔ عالیان کو چونکہ چھٹیاں تھی یورنی سے اسہ لیے وہ اپنی مرضی سے اٹھتا تھا۔۔اس وقت بھی وہ وہاں موجود نہ تھا۔۔
کچھ نہیں پھوپھو یہ توبس ایسے ہی پریشان ہو رہے ہے کچھ زیادہ نہیں بس ویکنسی سی محسوس ہورہی تھی شائد تھکاوٹ کی وجہ سے۔۔
ہانیہ نے پہلے زہان کو گھورا پھر آسیہ بیگم کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
اچھا ,,,آسیہ بیگم نے جیسے بات کو تول نہ دی ویسے تو وہ سمجھ گئ تھی
زیان تم ہانیہ کو ڈاکڑ کے پاس لے جانا چیک اپ کے لیے۔۔آسیہ بیگم نے زیان کو کہا
جی ضرور ۔۔زیان ناشتے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔
اور پھر سب نے مل کر ناشتہ کیا تھا سواۓ ہانیہ کے کیونکہ اس نے صرف جوس لیا تھا۔۔زیان نے ناشتے کا کہا بھی مگر اس نے انکار کر دیا کیونکہ اس کا دل اعجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔
آسیہ بیگم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی جو وہ فوراًچھپا گئ تھی۔۔
جب وہ کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو گیٹ کے پاس ہی اسے صبا اپنا انتظار کرتے ہوۓ ملی۔۔
وہ اس کی طرف بڑھی ۔۔
بدتمیز دو دن سے کیوں نہیں آرہی کالج ،،، میں تو سمجھی آج بھی میرا آنا بے کار ہی ہوا،،،،، آج بھی تم چھٹی کرو گی ۔۔۔ صبا اسے دیکھتےہی نان سٹاپ بولنا شروع ہوگئ تھی۔۔
آرام سے زرہ سانس لے لو لڑکی,,عنایہ نے اس دانتوں کے نمائش کروائی تھی۔۔
ہاں ,,,یہاں میری سانس اٹکی ہوئی تھی اور تم کہہ رہی ہو سانس لے لو,,صبا نے آخر میں اس کی نقل اتاری تھی۔۔
جس پر عنایہ کھکلا کر ہنسی تھی۔۔
یہ میں کیا دیکھ رہی ہو,,زرہ مجھے چھٹکی توبھرو کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔
صبا نے ایکٹیگ کرتے ہوۓ کہا جبکہ عنایہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اس نے ایسا بھی کہا دیکھ لیا۔۔
کیا ہوا مجھے بھی بتاو گی کہ نہیں ڈرامہ کوئین۔۔عنایہ نے اسے گھورا۔۔
پہلے مجھے خود یقین توکر لینے دو,,صبا نے اس کے آگے بازو کی تھی اور عنایہ نے اس کی بات کو سمجھتے ہوۓ زور سے چھٹکی کاٹی ۔۔
آوچچچچچچ۔۔۔۔ظالم اب اتنے بھی زور کی نہیں کہا تھا۔۔۔
صبا نے منہ بنایا تھا اور بازو کو ملا تھا
اب اگر تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ کیا دیکھا تو میں اس سے بھی زور کی ماروگی۔۔
عنایہ نے اسے وارنگ دی۔۔
یہی کہ تم میری نقل اتارنے پر غصہ ہونے کے بجاۓ ہنسی ہو وہ بھی اتنی زور کی۔۔صبا نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔۔
توبہ ہےلڑکی میں سمجھی پتا نہیں کیادیکھ لیا۔
عنایہ نےاس کے کندھے پر ہلکی سی چپت ماری۔۔
او۔۔۔ظالم لگتا ہے آج مجھے توڑ پھوڑ کر ہی دم لو گی۔۔صبانے کندھا ملا تھا۔۔
عنایہ ایک بار پھرہنسی تھی۔۔تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا ڈرامہ کوئین ۔۔۔
یااللہ آج سورج کہاسے نکلا لڑکی بار بار ہنس رہی ہےکچھ تو گڑبڑ ہے ,,اس نے ایک ہاتھ کو گھوماتے ہوۓ کہا۔۔
کوئی گڑبڑ نہیں ہے چلو کلاس کے لیے لیٹ ہو رہے ہے ۔۔باقی میں اپنے نہ آنے کی وجہ بریک میں بتاؤ گی۔۔
عنایہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندرکلاس کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
