Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 19
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 19
Ishq Da Rang by Saman
بیڈ کے پاس آکر روکا اور جھک کر اس کے ماتھے پر پیار دیا””
وہ جو ابھی ہی سوئی تھی ماتھے پر جانا پہچانا لمس محسوس کر کےفوراً آنکھیں کھولی””
اپنے اوپر زیان کو جھکے دیکھ مسکرائی اور اچانک اس کے گلے میں بازوں کا ہار بنایا””
زیان اس کی اس حرکت پر مسکرایا اور وہی اس کے پاس بیٹھنے کی جگہ بنائی اور اس کو سینے سے لگایا
کیا بات ہے آج بہت پیار آرہا ہے اس ناچیزپر
اس نے اس کے بال سہلاۓ تھے
میں بہت بور ہوگی ہو آج ” ہانیہ اس کے سینے سے لگے ہی بولی
اچھا چلو تمہیں باہر لے چلو” زیان بغیر اپنی تھکن کا احساس کیے اس کو باہر لے جانے کے لیے تیار ہوا
نہیں آپ ابھی تھکے ہوۓ آۓ ہے اور میں آپ کوباہر لے جاؤ” ہانیہ اس کے کوٹ کے بٹن سے کھلتے ہوۓبولی
تو کیا ہوا اپنی جان کے لیے میں اپنی تھکن تو کیا ؟؟؟؟؟
اپنے آپ کوبھی بھول سکتا ہو””
زیان نے اس کے سر پر بوسہ دیا
آپ بہت اچھے ہے زیان ” ہانیہ نے اس کے سینے سے سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کرکہا
اچھا پر تم سے تھوڑا کم ” زیان نے اس کے گال پر کس کی تھی”
ہانیہ شرم سے سرخ ہوئی اور واپس اس کے سینے میں منہ چپھایا
زیان اس کی اس ادا پر فدا ہوا اور اسے اپنے سینے میں بیچا
جب ہمارا بے بی ہو جاۓ گا تب بھی آپ اسی طرح مجھ سے ایسے ہی پیار کرۓ گۓ؟؟؟؟؟
ہانیہ سیدھی ہو کربیٹھی “”۔۔۔
اب زیان کا ایک بازوں اس کے کندھے پر تھا وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر بیڈ کروان سے ٹیک لگاکر بیٹھا تھا””
نہیں “”۔۔۔ زیان نے یک لفظی جواب دیا
ہانیہ نے حیران ہو کر سر اٹھا کر اس کہ طرف دیکھا
بلکے اِس سے بھی زیادہ کرو گا تم میری روح میں بستی ہو اور روح کے بغیر جان کس کام کی””
زیان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا
تو کیا آپ اپنے بے بی سے پیار نہیں کرۓ گے
ہانیہ پریشان ہوئی
یہ کس نے کہا” وہ تو میرے جسم کا حصہ ہو گااسے پیار کیوں نہیں کرو گا
ویسے مجھے بیٹی چاہیے بکل تمہاری جیسی”
زیان نے اس کی ناک کو دبایا تھا
جی نہیں بیٹا ہو گا وہ بھی آپ جیسا”۔۔
ہانیہ نے ناراضگی دکھائی
مجھے اس پل کا شدت سے انتظار ہے جب ایک ننھا سا وجود ہمارے ہاتھ میں ہو گا”
زیان دنوں بازوں فولڈ کر کے اپنے سر کے نیچھے رکھے
کتنا حوبصورت احساس ہے نا” ہانیہ بھی حیالوں میں گم ہوتے ہوۓ بولی
تھوڑی دیر دنوں حوبصورت خیالوں میں گم ہوۓ
زیان آپ فریش ہو جاۓ میں آپ کے لیے چاۓ لے کر آتی ہو
ہانیہ کو احساس ہوا تھا کہ وہ جب سے ایا تھا ایسے ہی اس کو بھلانے کی کوشش کی تھی اور اس کا موڈ ٹھیک کیا تھا ورنہ وہ تو صبح سی ہی بےزار سی تھی
اوکے ” زیان سیدھا ہو کر بیٹھا اور اس کی طرف مسکرا کر دیکھا
ہانیہ بیڈ سے نیچے اترئی اور اس کا رات کا ڈریس نکال کر اس کو تھمایا””۔۔
تھنک یو جان “”۔۔ زیان نے اس کے ہاتھ سے ڈریس لیا اور اس کا گال دو انگلیوں سے چھو کر واش روم میں گھس گیا
ہانیہ بھی مسکراتی ہوئی باہر نکلی تاکہ زیان کے لیے اچھی سی چاۓ بنا سکے کیونکہ زیان کو شام میں اسی کے ہاتھ کی چاۓ چاہیے
ہوتی تھی
اسی لیے وہ کوشش کرتی تھی کہ شام میں وہ خود اس کے لیے چاۓ بناۓ”””
عنایہ جاؤ بچے دیکھو افنان ابھی تک نہیں اُٹھا “”۔۔
انیلا بیگم نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا “
جہاں دن کے 11 ہو چکے تھے اور افنان ابھی تک نیچے نہیں آیا تھا”
کیونکہ آج سنڈے تھا اسی وجہ سے عنایہ آج گھر ہی تھی
آج اس کہ آنکھ جلدی کھول گئ اسی لیے وہ سب کے ساتھ ٹائم پر ناشتہ کرنے کے بعد اب سمیرا بیگم اور انیلا بیگم کے ساتھ لیونگ روم ہی موجود تھی ۔۔
خاتم شاہ تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھنے کے بعد اپنے کمرے میں چلے گے “”،،،،
سکندر اور زوار شاہ آفس جا چکے تھے””،،،
وہ دونوں تو ہلکی پھلکی باتوں میں مصروف تھی””۔۔
جبکہ عنایہ میڈم صوفے پر لیٹی مسیج پر صبا سے باتوں میں بزی تھی”
کہ اچانک انیلا بیگم نے اسے افنان کو جاکر دیکھنے کا بولا ۔۔
انیلا بیگم اوپر والے پوریشن میں کم ہی جاتی کیونکہ ان کی ٹانگوں میں اکثر درد رہتا تھا”
اس نے موبائل وہی صوفے پر رکھا اور پاوں میں چپل پہنی
اس وقت وہ رات کے ڈریس میں ہی موجود تھی پنک شرٹ اور ٹراوزر میں البتہ سٹالر کا اضافہ۔کیا گیا تھا جو کہ گلے کی طرف سے لا کر دونوں سرے اگے کی طرف ڈالےگۓ تھے””
بالوں کے پیچھے کیچر سے قید کیا تھا مگر چند آوارہ لیٹے اس کے چہرے پر تھی
وہ اوپر آئی اور اس کے دروازے پر نوک کیا تھا””۔۔
دو تین بار نوک کرنے کے بعد بھی کوئی جواب وصول نہیں ہو
اس نے ناب پر ہاتھ رکھ کر گھمایا جو کے لاک نہ ہونے کی وجہ سے فوراً کھل گیا
اس نے آہستہ سے قدم آگۓ بڑھاۓ
۔
اور جواب وصول نہ ہونے کی وجہ سمجھ آئی
وہ بیڈ پر کمفرٹر ڈالےالٹا لیٹا گہری نیند میں تھا
وہ دبے قدموں سے چلتی اس کے بیڈ کے پاس آئی
اب وہ کنفیوس ہوتی انگلیاں چٹخانے لگی۔
اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ اسے کیسے جگاۓ “”۔۔
اس کادل 180 کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا
ان دنوں اس کا جب جب افنان سے سامنا ہوتا دل یوں ہی بغاوت پر اتر آتا””،،،
اُسے اِس وقت اُس کو جگانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا “”۔۔۔
وہ تھوڑا سا اس کی طرف جھکی اور ہاتھ اس کی طرف بڑھایا مگر پھر واپس بھی کھینچ لیا””،،،
وہ جو اس کے آنے پر ہی جاگ چکا تھا اسے دیکھانے کے لیے آنکھیں بند کی تھی ( اس کی حالت کا سوچ کر اپنی مسکراہٹ روکی اور سامنے لگے شیشے میں اس کو دیکھا جو اس پر جھکی اس کوجگانے کے لیے کبھی ہاتھ اگے بڑھاتی اور پھر کھینچ لیتی””،،
عنایہ نے دو تین بار ہاتھ بڑھایا اور پھر واپس کھینچ لیا””،،
مجھے سے نہیں ہو رہا میں ماما کو بھیجتی ہو””،،،
عنایہ خود سے بڑبڑاتی واپس پلٹی اس پہلے کہ وہ قدم بڑھاتی افنان نے ایک دم اس کی کلائی پکڑی اور اپنی طرف کھینچا “”،، وہ سیدھی اس کے سینے پر آئی تھی””،،،
عنایہ نے ڈر کر چینح مارنے کے لیے منہ کھولا اس سے پہلے ہی افنان نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چینح کا گلہ کھونٹا””
کیا ہوا میں ہو””،،، تم مجھے جگاۓ بغیر جارہی تھی کیوں؟؟؟؟ افنان نے آنکھیں دیکھائی البتہ آنکھوں میں شرارت صاف نظر آرہی تھی
عنایہ نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹانے کا اشارہ کیا
جو اس نے سمجھ کر ہٹایا””،،،،
آپ جاگ رہے تھے؟؟؟ عنایہ نے اسے گھورا
ہاں نا صرف جاگ رہا تھا بلکہ تمہاری حرکات بھی نوٹ کر رہا تھا
تم مجھ سے شرما رہی ہو؟؟؟
افنان نے اس سے پوچھا تھا عنایہ نے نفی میں گردن ہلائی تھی
مجھے سمجھ میں نہیں آئی کہ میں کیسے جگاؤ “”،، عنایہ نے اپنا آپ اس سے چھڑواتے ہوۓ کہا
افنان نے اس کے پیچھے اپنے ہاتھ باندھ کر اسے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا””،،،
تمہیں پریکٹس کرنی چاہیے آخر آگے چل کر کام آۓ گی “”،،، میں تمہیں سیکھاؤ گا کہ ہبی کو کیسے اُٹھایا جاتا ہے
افنان نے اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوۓ کہا جو کھول کر اس کے چہرے پر آۓ تھے””،،،
کیسے؟؟؟ عنایہ نے معصومیت سے کہا
افنان نے مسکرا کر اس کے گلے کے پیچھے سےہاتھ لے جا کر اسے اپنے چہرے کے ہاس کیا اور اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے
عنایہ نے اس کی شرٹ کو دونوں ہاتھوں میں تھاما “”
لمحے کافی معنی حیز تھے””، ،،، کافی دیر وہ اس کی سانسوں پر قبضہ جماۓ ہوۓ تھا
عنایہ کو اب اپنی سانس روکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
اِس نے اُس کی شرٹ کو جھٹکا دیا””،،،
افنان کو اس پر ترس آیا تھا اسی لیے اس کے لبوں کو آزادی بخشی
عنایہ تیز تیز سانس لے رہی تھی
اپنی سانسوں کو نارمل کر کے افنان کی طرف خفگی سے دیکھا””،،،
جو اسی کو محبت پاش نظروں سے اس دیکھ رہا تھا “”،،
کیا ہوا میں تو تمہیں سکھا رہا تھا کہ ہبی کو کیسے جگاتے ہے””: افنان نےمصومیت سے دیکھائی””،،،
آپ بہت برے ہے شاہ “”، عنایہ کو اس کی مصومیت ایک آنکھ نہ بائی””
اُف اب کیا جان لو گی ؟؟ افنان نے اس کے ہونٹ سہلاۓ “”،،،
میں نے کیا کیا؟؟؟؟؟ ایک تو آپ اتنے گندے گندے کام کرتے ہے میرے ساتھ میں آپ کی شکایت لگاؤ گی بڑی ماما کو””،،،،
عنایہ نے اپنا آپ چھڑوایا اس سے “”۔۔۔
لیکن وہ اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھا اسی لیے گیرا تنگ کیا تھا اس پر””،،،
پاگل ہو گئ ہو تم کچھ نہیں بتاؤ گی ماما کو ؛””” بلکہ کسی کو بھی ؟؟؟
میں نے تمہیں کیا کہا تھا؟””
افنان نے اس آنکھیں دیکھائی “””،،،،،
جی نہیں میں بتاؤ گی ضرور بتاؤ گی””،،،
عنایہ نے زبان چڑہائی
ٹھیک ہے تم بتانا پھر رحصتی جلدی ہو جاۓ گی ہماری “”،،،
سب کو پتا چلے گا ان کا بیٹا اپنی جان کے بغیر نہیں رہ سکتا “”،،،
افنان نے اس کی ناک دبائی
جی نہیں میری مرضی کے بغیر رخصتی نہیں لے سکتے آپ “”
آپ نے وعدہ کیا تھا””،، عنایہ کو اب فکر لاحق ہوئی
ہاں کیا تھا پر تم خود ہی میری مشکل آسان کر دو گی یہ سب باتیں گھر والوں کو بتا کر”::
افنان نے اس پر سے بازوں ہٹاۓ اسے اپنے گیرے سے آزاد کیا
وہ اس کے بازوں ہٹتے ہی جلدی سے اس کے پاس سے اٹھ کر دور جا کر کھڑی ہوئی
افنان نے اس کی جلدی بازی پر مسکرا کر اسے دیکھا
مگر اس کا خلیہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل آۓ تھے جو نائٹ ڈریس میں ہی گھوم رہی تھی۔۔
گھر میں نوکر چاکر بھی تو تھے اسے غصہ آیا
یہ کیا پہنے گھوم رہی ہو یہ نائٹ ڈریس رات کو پہننے کے لیے ہوتاہے “”،،،
جاؤ جینچ کرو اسے میں آرہا ہو فریش ہو کر
افنان ماتھے پر بل ڈالے کہا
اس میں اب کیا برائی ہے افنان””،،،،
عنایہ نے بے چارگی سے پوچھا
ادھر آو””،، افنان نے ہاتھ بڑایا تھا اس کی طرف “”،،،،
جس نے تھامنے سے فوراً انکار کیا ناجانے اب وہ کیا کرتا اس کے ساتھ””،،،
کچھ نہیں کرو گا پرامیس “”،،
وہ سمجھ گیا تھا اس کی جھجھک اسی لیے پیار سے بولا
وہ بھی جھجھکتی ہوئی اس کے پاس آکر بیٹھی””،،،،
وہ اٹھ کر بیڈ کروان سے ٹیک لگا کر بیٹھا “
عورت کی پہچان اس کے لباس سے ہوتی ہے
عورت کو ایسے کپڑے نہیں پہننے چاپیے جس سے اس کے نیشب وفراز سامنے نظر آۓ
عورت پردے میں چھپی ہوئی ہی اچھی لگتی ہے””،،،
ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا کتنے انسان کے بھیس میں بھڑیا چپھے ہوتے ہے
جو عورت کی عزت کو تار تار کرنے کے لیے تاک لگا کر بیٹھے ہوتے ہے
تمہیں اپنی آنکھ کان کھولے رکھنے ہے
تم کسی کی امانت ہو اور امانت کو تو سنبھال کر رکھا جاتا ہے””،،،
میں تمہیں یہ نہیں کہہ رہاکہ تم برقعہ لو””،،
مگر یار تھوڑی احتیاط کرو””،،، کرو گی نا؟؟؟؟؟
افنان اس کا ہاتھ تھامے پیار سے سمجھا رہا تھا اور وہ سمجھ گی تھی اسی لیے فوراً ہاں میں گردن ہلائی”””،،،،،
پر ،،،،،، شادی کی بعد تم میرے سامنے جیسے مرضی کپڑے پہن سکتی ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے “”،،، افنان نے آخر میں آنکھ کا کونا دبا کر معنی خیز سے کہا
اس کی بات سن کر اس کے گال دہک اٹھے تھے””،،،
چھوڑئیے مجھے نیچے جانا ہے ماما,,,,اور بڑی ماما کیا سوچ رہی ہو گی “”،،،
وہ اس کی گرفت سے ہاتھ نکال کر اٹھی اور باہر کی جانب قدم بڑھاۓ
نیچے جانے سے پہلے کپڑے جینچ کر لینا “”،،،،
افنان نے پیچھے سے ہانک لگائی
عنایہ اثبات میں گردن ہلاتی باہر نکلی اب اس کو روخ اپنے کمرے کی جانب تھا
اسے کپڑے جینچ کرکے ہی نیچے جانا تھا
وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو لیونگ روم میں انیلا بیگم اکیلی ہی بیٹھی تھی
سمیرا بیگم اور عنایہ کہیں نظر نہیں آئی تھی اسے””،،،
اسلام وعلیکم!
وہ ماں کو سلام کر کے ان کے پاس ہی صوفے
پر بیٹھا “”،،
وعلیکم واسلام “”!
آج تم لیٹ جاگے ؟؟؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟؟؟؟؟
انیلا بیگم جو ٹی وی پر کوئی شو دیکھ رہی تھی اس کی آواز پر پلٹی اور اس کی جانب متوجہ ہوئی””،،
جو فریش سا ان کے پاس بیٹھا تھا
اس وقت وہ نیوی بلیو پینٹ اور لائٹ پینک شرٹ میں بہت ہنڈسم لگ رہا تھا نیچے براون شوز پہنے۔۔
کورٹ اس نے ہاتھ میں ہی لے رکھا تھا
بال جل کی مدد سے نفاست سے سیٹ تھے
وہ بہت پیارا لگ رہا تھا””،،،،،،،
انیلا بیگم نے بے احتیار اپنے بیٹے کی نظر اتاری تھی
جی بس رات دیر سے نیند آئی اس وجہ سے صبح لیٹ آنکھ کھولی
چھوٹی ماما اور عنایہ کہا ہے “”،،، اس نے ٹریکٹ ہی پوچھا
آج عنایہ کی کوکنگ کلاس لے رہی ہے تمہاری چھوٹی ماما “”،،،،
انیلا بیگم نے ہنستے ہوۓ اسے بتایا تھا
