Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 13
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 13
Ishq Da Rang by Saman
پھر بھی افنان زرہ احتیاط سے کرنا جو بھی کرو گے۔۔
زیان نے سمجھانہ چاہا تھا۔۔
افنان نے اثبات میں سر ہلایا جیسے وہ اس کی بات سمجھ گیا ہو ۔۔۔
ارے بھائی باتوں میں ہی ٹرخانے کا ارادہ ہے یا کچھ کھانے پینے کا بھی بندوست کیا ہے ؟
حیدر صاحب جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی کمرے سے نکل کر اُن کے پاس آکر بیٹھے تھے “*( ان کی طبیعت تھوڑی خراب تھی اسی لیے وہ کمرے میں آرام کر رہے تھے ۔)۔
جی ۔۔۔۔جی ۔۔۔ میں دیکھ کر آتی ہو”؛ آسیہ بیگم جو سمیرا اور انیلا بیگم کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی صوفے سے اُٹھتے ہوۓ بولی۔۔
پھوپھو ،،آپ بیٹھے میں دیکھتی ہو ” ہانیہ ان سے پہلے ہی ا ُٹھی تھی ۔۔
عنایہ بھی ساتھ ہی کھڑی ہوئی ,,آپی میں بھی چلو آپ کے ساتھ؟
ہاں چلو”: ہانیہ اس لیے ہی کچن کی طرف بڑھی۔۔۔
برو,, میں نے سُنا ہے آپ نے کوئی سیاسی پارٹی جوائن کر لی ہے
عالیان جو زیان اور افنان کے ساتھ والے صوفے پر گیم کھلنے میں مصروف تھا اچانک پوچھا ۔۔
شکر ہے تمہیں یاد آیا کہ موبائل کے علاوہ بھی کوئی موجود ہے ۔۔
افنان نے اس کے سوال پر ہلکہ سا طنز کیا ۔۔
عالیان نے خجلت سے سر کھجایا
ہاں نہ صرف جوائن کی بلکے میں اگلے سال الیکشن میں بھی حصہ لینے والا ہو
افنان نے اسے جواب دیا
یہ تو بہت اچھی بات ہے برو”ْ عالیان دل سے خوش ہوا تھا۔۔
افنان مسکرایا تھا
پر یار تم آفس کو بھی دیکھو ماموں لوگ کب تک سنبھالیں گےاب انھیں بھی ریسٹ ملنی چاہیے
زیان جو ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا بیچ میں بولا
کیوں نہیں میں آفس کو بھی دیکھو گا ساتھ۔۔
اچھی بات ہے ،،،،،، زیان نے اس کی بات سنی تھی
اور کچھ دیر بعد کھانا لگنے کی اطلاع دی گئ تھی
اور پھر خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا۔۔۔
ایک خوشگوار شام گزار کر وہ لوگ واپس رخصت ہوۓ تھے۔۔
دن ہونہی گزرے تھے ہانیہ اور زیان کا ولیمہ بڑی دھوم دھام سے ہو چکا تھا
اور وہ دونوں ہنی مون کے لیے شمالی علاقہ جات چلے گے تھے چونکہ ہانیہ کی خواہش تھی شمالی علاقہ دیکھنے کی اسی لیے
زیان اسے وہاں لے گیا تھا مگر اس وعدے کے ساتھ کے وہ اگلے سال اس کے ساتھ یورب کنٹری بھی جاۓگی ..
زندگی اپنی روٹین پر چل نکلی تھی عنایہ کی بھی کلاسس سٹارٹ ہو گی تھی اس نے کالج جانا شروع کر دیا تھا
افنان کے ساتھ اس کا رویہ بھی کافی حد تک ٹھیک ہو چکا تھا
عنایہ کو کالج چھوڑنے اور لانے کی زمہ داری افنان نے اپنے سر لی تھی۔
وہ اُس کے معملے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا
پچھلے دو دن سے وہ اپنے ایک جلسے کی تیاریوں میں مصروف تھا اسی وجہ سے وہ عنایہ کو بھی کالج سے چھٹی کروا چکا تھا ۔۔
لیکن آج عنایہ کا گھر بیٹھنے کا کوئی موڈ نہیں تھا اسی لیے وہ آج شاپنگ پر جانے کی ضد کر رہی تھی سمیرا بیگم سے،،،،،” جو کے کسی طور پر نہیں مان رہی تھی،،،، افنان نے سختی سے مانا کیا تھا کہ عنایہ کو اکیلے بایر نہیں بجنا
لیکن عنایہ سمجھے تب نہ؛” اس کی ایک ہی ضد تھی کہ وہ جاۓ گی اور آج ہی جاۓ گی
ماما ،،، پلیز چلیں نا میرے ساتھ میں نے شاپنگ کرنی ہے,,
میں بور ہو چکی ہو
عنایہ ماں کی منتیں کررہی تھی
افنان آتا ہے تو میں اسے کہو گی وہ تمہیں لے جاۓ گا۔
سمیرا بیگم نے سمجھانا چاہا ۔۔
کیا افنان ۔۔افنان مجھ سمجھ نہیں آتا ہر
معملے میں افنان کو لانا ضروری ہے ۔۔
مجھے نہیں جانا اُن کے ساتھ ،، آپ چل رہی ہے ؟
تو ٹھیک ورنہ میں صبا کو لے جاو گی ۔۔
۔
وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی تھی
عنایہ اب تم حد سے بھر رہی ہو ،،،، اس سے پہلے میرا ہاتھ اٹھے جاؤ اپنے کمر میں” سمیرا بیگم نے غصے سے کہا
کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا:” سب بہت بُرے ہے میں کسی سے بات نہیں کرو گی
عنایہ روتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔
بیچھے سمیرا بیگم نے نفی میں گردن ہلائی تھی ۔۔کیونکہ یہ اس کا روز کا ڈرامہ تھا ۔۔
بات بات پر ناراض ہو جاتی اور پھر تھوڑی دیر بعد راضی بھی ہو جاتی تھی۔۔
انھیں پتا تھا افنان آۓ گا تو وہ اسے منا لے گا۔۔
سمیرا بیگم کبھی کبھی اپنی بیٹی کے بچپنے سے پریشان بھی ہوجاتی اور کہیں نہ کہیں افنان کی وجہ سےمطمئن بھی تھی۔۔
وہ رات کو کافی لیٹ آیا تھا پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے اندر کی طرف بڑھا ۔۔
اندر خو کا عالم تھاسب سو چکےتھے۔۔
وہ خاموشی سے اوپر کی طرف بڑھ رہا تھا
جب پیچھے آہٹ ہوئی اس نے موڑ کر دیکھا تو سمیرا بیگم کو اپنے کمرے سے نکلتے پایا۔۔ جو اس کی گاڑی کی آواز سن کر کمرۓ سے نکلی تھی۔
اسلام وعلیکم ! آپ سوئی نہیں ابھی تک؟ وہ ان کی طرف بڑھا اور سلام کے ساتھ سوال بھی کیا
ہاں بس نیند نہیں آرہی تھی۔۔ تم کھانا کھاؤ گے؟
سمیرا بیگم نے اس کو جواب دیا اور ساتھ ہی کھانے کا پوچھا
نہیں میں کھا آیا ہو بس اب آرام کرو گا
افنان نے جواب دیا اور ان کی طرف دیکھا جو کچھ پریشان لگ رہی تھی
کیا ہوا چھوٹی ماما ؟ آپ کچھ پریشان لگ رہی ہے؟
افنان نے ان کی پریشانی کی وجہ جانی چاہی
ہاں بس عنایہ کی ٹینشن :” سمیرا بیگم نے جواب دیا
چلیں وہاں چل کر بیٹھیے ،،، افنان انھیں لیے صوفے کی طرف بڑھا
ہاں اب مجھے بتائیے کہ کیا ہوا ہے ؟ افنان انھیں بیٹھا کر خود ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا۔۔
کیا بتاؤ میں اس لڑکی کے بچپنے سے پریشان ہوگئ ہو ,,روز کوئی نہ کوئی مسلہ ہوتا ہو ۔
اور وہ کھانے سے منہ موڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔۔
سمیرا بیگم کچھ توقف کے بعد بولی
کیوں آج کیا ہوا؟ آج پھر ناراض ہے وہ؟ افنان نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا۔۔
ہاں :” وہ آج شوپنگ پر جانے کی ضد کر رہی تھی اور میں نے انکار کر دیا بس تب سے ناراض ہو کر بیٹھی ہے اندر ،،، نہ کھانا کھایا اور نہ ہی کمرۓ سے باہر نکلی۔۔
سمیرا بیگم نے ساری تفصیل بتائی تھی۔۔
بس اتنی سی بات میں دیکھتا ہو اسے آپ پریشان نہ ہو اور سو جاۓ۔۔
افنان نے انھیں تسلی دیتے ہوۓ کہا
کیسے پریشان نہ ہو ” مجھے ڈر ہے وہ اپنی ضد اور غصے کی وجہ سے کوئی نقصان نہ اُٹھالے
سمیرا بیگم نے بے چینی سے کہا
ریلکس چھوٹی ماما” کچھ نہیں ہو گامیں ہو نہ اُس کی ہر تکلیف اپنے اوپر لے لو گا ” آپ کومجھ پر یقین ہے نہ؟
افنان نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہاتھا۔۔
ہاں تم ہو اسی لیے تم سے شِعر کر لیتی ہو ورنہ یہ سب باتیں سوچ کر میرا دل ہولتا رہتا ہے۔
سمیرا بیگم نے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
بس پھر آپ اس کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دے۔۔ ہے تو وہ پاگل سی لڑکی پر میں اسے ہنڈل کر لوگا۔۔
افنان نے شرارت سے کہا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر سمیرا بیگم نے اسے آنکھیں دیکھائی تھی۔۔
تم میرے سامنے ہی میری بیٹی کی بُرائی کر رہے ہو۔۔انھوں نے مصنوعی غصہ دیکھایا۔
ہاں جی بس تھوڑی سی:” افنان نے سر کھجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
اسے کل شاپنگ پر لے جانا افنان پلیز اور اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔۔
سمیرا بیگم ایک بار پھر فکرمند ہوئی تھی۔۔
یہ بھی کوئی کہنے والی بات ہے ضرور لے جاؤ گا اور ڈھر ساری شاپنگ کروا گا آپ کی بیٹی کو اب خوش :”
افنان نے مسکرا کر کہا سمیرا بیگم بھی اس کی بات سن مسکرائی تھی۔۔
آپ سو جاۓ بہت رات ہوگی ہے افنان نے انھیں کھڑا کرتے ہوۓ کہا ۔
ہاں میں اب سونے جارہی ہو تم بھی جاؤ ریسٹ کرو میں بھی نہ تم تھکے ہوۓ آۓ ہو اور میں نے تمہیں روک لیا ۔۔
سمیرا بیگم نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا جس کے چہرے پر تھکان صاف نظر آرہی تھی۔۔ مگر وہ پھربھی اپنی تھکاوٹ کر نظرانداز کر کے ان کے پاس بیٹھا تھا۔۔
کوئی بات نہیں چھوٹی ماما ,, اب اتنا بھی تھکا ہونہیں ہو کہ آپ کے ساتھ دو گھڑی بیٹھ بھی نہ سکو۔۔
افنان انھیں پکڑ کر ان کے کمرے کے پاس لایا تھا۔۔
خوش رہو،، وہ اس کے سر پر یاتھ پھِر کر اندر کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔
افنان بھی اوپر کی طرف بڑھا تھا۔۔
اپنے کمرے میں جانے کے بجاۓ وہ اس کے کمرے کی طرف آیا تھا ۔۔
دروازے کی ناب گھمائی جو کے ہمیشہ کی طرح لاک نہیں تھا۔۔
دروازہ کھول کر اندر کی طرف بڑھا تھا اندر کمرے میں ملکجا سا اندھیرا تھا وہ اندازے سے چلتا سوئچ بوٹ کی طرف آیا تھا اور لائٹ کا بٹن آن کیا۔۔۔۔
