250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 6

Ishq Da Rang by Saman

تقریباًسب کی تیاری مکمل تھی۔۔۔۔”:”سواۓ عنایہ کہ کیونکہ اُس کے ایگزامز ہو رہے تھے اور وہ اُس میں مصروف تھی………”:”” سمیرابیگم نے کہا بھی تھا کہ ٹائم نکال کر اپنی شاپنگ کر لے یاکم ازکم اپنے کپڑے ہی لے لیں””::۔۔۔” باقی جو چھوٹا موٹا رہ جاۓ وہ پیپر ختم ہونے کے بعد کمپلیٹ کر لے گی”””۔۔۔۔؛؛:” مگر اُس کا کہنا تھا کہ ایگزامز کی ٹینشن میں اُس سے ٹھیک سےشاپنگ نہیں ہو سکے گی “”::””اس لیے وہ پیپر کے بعد اپنی شاپنگ آرام سے کریں گی “”:: ویسے بھی گھر کی پہلی پہلی شادی تھی وہ اپنے سارے آرمان پورے کرنے چاہتی ہے۔۔۔”

اور آج ا ُس کا لاسٹ پیپر تھا”:::

عنایہ “؛ آج تمہارا لاسٹ پیپر ہے ؟؟””” سمیرا بیگم نے ناشتے کہ ٹیبل پر اُس سے پوچھا تھا””؛؛؛ جی ماما “:؛؛ عنایہ نے جلدی جلدی ناشتہ کرتے ہوۓ کہا؛ّ:”؛ کیونکہ اُسے کالج سے دیر ہو رہی تھی””؛ّ اچھا تو پھر آج ہی اپنی شاپنگ شروع کر دو “:؛: تمہاری شاپنگ کمپلیٹ ہونے میں بھی پتہ نہیں کتنے دن لگے گے ؛:”” سمیرا بیگم بیٹی کی طرف دیکھتے یوۓ کہا”:؛:ْ” اوکے “::”آج ہی چلیں گے:؛”ْ عنایہ نے آخری نوالہ منہ میں ڈالتے ہوۓ کہا:؛::۔۔” کیا مطلب چلیں گے میں تمہارے ساتھ بلکل نہیں جارہی تم ایک چیز لینے کے لیے اتنی دکانیں گھومتی ہو”ْ:؛” اُوف اللّٰہ معاف کریں ۔۔” بھائی میں تو نہیں جارہی۔۔” سمیرا بیگم نے ہری جھنڈی دیکھائی تھی۔۔” تو پھر کون جاۓ گا میرے ساتھ ؟ اچھا چلیں میں ہانیہ آپی کو لے جاوگی ,,,عنایہ نےمعصوم سا منہ بنا کر کہا “” اس وقت ناشتے کے ٹیبل پر سمیرابیگم,,انیلا بیگم ,,عنایہ اور ہانیہ موجود تھی ۔۔”؛؛؛ ہانیہ کو بھی جلدی اُٹھنے کی عادت تھی ,,,

کیونکہ وہ یونیورسٹی جاتی تھی۔۔”:: اِن دِنوں تو اُس کو چھٹیاں تھی پھر بھی وہ جلدی اُٹھتی تھی۔۔

ارے”؛؛ میں کیا کرو گی جاکر,؟؟ ,ہانیہ نے چاۓ کا کپ اُٹھاتے ہوۓ کہا

وہ میں آپ کو آکر بتاو گی ” کہ کیا کرۓ گی جا کر ، ابھی تو میں کالج جارہی ہو “؛؛ اوکے اللّٰہ خافظ وہ بات مکمل کر کے جلدی جلدی نکلی تھی ۔۔

اسلام و علیکم !گڈ مارننگ “: کیا ہو رہا ہے لیڈیز ؟ افنان ابھی اُٹھا تھا ٹیبل پر بیٹھتے ہوۓ اُن سے مخاتب ہوا۔۔”؛:

آو بچے اُٹھ گے ؛ّ” انیلا بیگم نے کہا۔۔”” آپ ناشتے میں کیا لوگے بیٹا ؟؟ سمیرا نیگم نے پیار سے اُس سےپوچھا تھا

سمیرا بیگم کا اپنا تو کوئی بیٹا نہیں تھا مگر

انھیں افنان اپنا بیٹا ہی لگتا تھا اور وہ اُنھیں عزیز بھی بہت تھا۔۔” افنان خود بھی ا ُنھیں ماں کا درجہ ہی دیتا تھا ۔۔۔”ْ”؛

چھوٹی ماما ! آپ کے ہاتھ کے پراٹھے لو گا میں “:: افنان نے لاڈ سے کہا تھا “؛” ابھی لائی “:سمیرا بیگم نے کہا اور کچن کی طرف برھی تھی”؛:

باقی سب کہا ہے اُس نے اخبار کھولتے ہوۓ ہانیہ اور ماما کی طرف دیکھتے ہوۓپوچھا

تمہارے پاپا اور چھوٹے پاپا تو آفس چلے گے ہیں “؛: اور تمہارے لیے آفس آنے کا پیغام چھوڑ گے ہیں”:: عنایہ کالج چلی گی اور بابا جان اپنے کمرے میں ہیں “:” انیلا بیگم نے پوری تفصیل بتائی تھی

خیریت ہے آج دادا جان ابھی تک اپنے کمرے میں ہیں؟ ” ؛ اُس نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوۓ کہا تھا ۔” کیونکہ خاتم شاہ کو بھی جلدی اُٹھنے کی عادت تھی وہ ناشتہ جلدی ہی کرتے تھے اور پھر وہی ٹی وی لاونچ میں ہی بیٹھتے تھے۔۔”

ہاں بس تھوڑی طبیعت ٹھک نہیں اُن کی ،؛:” آج ناشتہ بھی اُنھوں نے اپنے کمرے میں کیا ہے”

اچھا ؛” چلیں میں دیکھ کر آتا ہو:” افنان نے اخبار فولڈ کر کے ٹیبل ہر رکھا اور اُٹھ کر خاتم شاہ کے کمرے کی طرف برھا۔۔

دروازے پر دستک دیتے ہوۓ اندر سے جواب سُنا تھا”” آجاؤ” خاتم شاہ کا جواب سنتے ہوۓ اندر کی طرف بڑھا تھا

اسلام وعلیکم …! دادا جان”

وعلیکم اسلام:” آؤ بچے ” خاتم شاہ جو بیڈ پر لیٹے ہوۓ تھے اُسے دیکھ کر بیڈکروان سے ٹیک لگائی تھی”

کیا ہوا ؟ دادا جان طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کی ؟” افنان وہی بیڈ کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا

بس یار اب عمر کا تقاضہ ہے” یہ سب کچھ تو چلتا رہے گے اب بوڑھا جو ہو گیا ہو ” اُنھوں نے مسکراتے ہوۓ کہا تھا

ارے”” ایسے کیسے بوڑھے ہو گے آپ ” ابھی تو آپ جوان ہو ” افنان نے شرارت سے کہا تھا”

ہاہاہاہا” اچھا ” خاتم شاہ نے قہقہ لگایا تھا “:اور کچھ سوچتے ہوۓ ایک دم لب بینچے تھے” افنان کی نظر سے اُن کا ایکدم خاموش ہو جانا نہ چپھا تھا”

کیابات ہے؟ دادا جان آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ؟” وہ بھی سنجیدہ ہوا تھا

کچھ نہیں یار بس ایسے ہی” انھوں نے اُسے ٹالا تھا”

کچھ تو ہے جو آپ مجھ سے چپھا رہے ہیں ” ہاں آگر مجھے بتانا نہیں چارہے تو وہ الگ بات ہیں”افنان نے کُرسی سے اُٹھتے ہوۓ کہا تھا”

بیٹھ جاو افنان ” خاتم شاہ نے کہا تھا اور وہ واپس بیٹھا تھا”

اور اُسے جو کچھ تھا “بتانا شروع کیا تھا اور جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے اُس کے چہرۓکے تعصرات سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے۔

آپ فکر نہ کرۓ دادا جان میں سب سنبھال لو گا” افنان نے ساری بات سنے کے بعداُن کا ہاتھ پکڑکر کہا تھا”

مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے ” خاتم شاہ نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔

چلے پھر آپ مطمین ہو جائیں اور آرام کریں ” میں ناشتہ کر کے نکلتا ہو آفس کا بھی چکر لگاو گا۔ افنان نے کہا تھا اور کُرسی سے اُٹھا تھا۔۔

جاؤبچے مگر غصے سے نہیں آرام سے کام لینا” خاتم شاہ نے کہا تھا

آپ بے فکر ہو جاۓ دادا جان” افنان نے کہا اور باہر نکلا تھا۔

آج اُس کا لاسٹ پیپر تھا اور وہ ابھی پیپر دے کر کنٹین میں اپنی دوست صبا کے ساتھ بیٹھی تھی اور سموسوں کے ساتھ انصاف کر رہی تھی۔

ارے یار اور کتنا ٹھوسنا ہے تم نے اب بس بھی کرو ” صبا جو کب سے اُسے کھاتے ہوۓ دیکھ رہی تھی ۔اب بیزار ہو کر اُس سے بولی تھی۔۔

کیوں ابھی کھایا ہی کیا ہے میں نے” عنایہ نے سموسے کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوۓ کہا تھا اور اُس کی بات سن کر صبا نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں پھلائی تھی۔

اوف” توبہ کرو لڑکی پورے تین سموسے کھانے کے بعد بھی تم کہہ رہی ہو ابھی کیاکھایا ہے ” ایک تو پتا نہیں اتنا کیسے کھا لیتی ہو تم مجھ سے تو نہ کھایا جاۓ اتنا” صبا نے ناک سکوڑ کر کہا تھا اور اُس کے آگے سے پلیٹ کھنچی تھی۔

اور اِس کا ہاتھ پکڑ کر کنچتھے ہوۓ لے کر باہر کی طرف بڑھی تھی۔۔اور وہ ارے ۔۔۔ارے ہی کرتی رہ گی تھی۔۔

وہ دیکھو: لگتا ہے تمہارا ڈرائیور آگیا ہے کالج کے گیٹ سے باہر نکل کر صبا نے دور کھڑی اُس کی گاڑی دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔

اچھا ” چلو یار موڈ ٹھیک کرو اپنا اب ” صبا نے عنایہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا جو ا ُس کے یوں کنچھ کر لانے سے منہ پھلا کر کھڑی تھی۔” عنایہ نے بھی اُس کے کہنے پر نظر اُٹھا کر دیکھا تھا۔۔” اوکے یار بھائی مجھے بھی لینے کے لیے آگے اب گھر جاکر فون پر بات کرو گی اوکے باۓ , صبا اُسے گلے مل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی وہ بھی سر جھٹکتی ہوئی اپنی گاڑی کی طرف آئی تھی مگر گاڑی سے افنان کو نکلتے دیکھ حیران ہوئی تھی کیونکہ آج سے پہلے وہ کبھی اُسے لینے نہیں آیا تھا۔۔”

افنان نے اُس کی حیرانگی کو نظرانداز کیاتھا اور فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اور وہ اُس کے سنجیدہ تعصرات دیکھ کر بنا کچھ بولے گاڑی میں بیٹھی تھی کوئی اور موقعہ ہوتا تو وہ ہزار باتیں سناتی مگر آج اُس کا مزاج دیکھ کر کچھ نہ بولی تھی جو بھی تھا وہ بھی اُس کے غصے سے ڈرتی تھی۔

اور وہی پر دور سے دیکھتا ایک شخص غصے سے تلملایا تھا۔۔۔اور اُن کی گاڑی کو آنکھوں سے اُجل ہونے تکا گھورتا رہا تھا۔۔

اپنی جیت کے نشے میں چور وہ عنایہ کے کالج کے باہر پہنچا تھا” اسے اپنا پلان پر پورا بھروسہ تھا اور وہ ابھی سے اپنےپلان کی کامیابی کے لیے خوش ہو رہا تھا چھٹی ہونے سے پہلے وہ وہاں پہنچ گیا تھا اور اب وہ اُس لڑکی کا کالج سے نکلنا کا انتظار کر رہا تھا “آج وہ اُس لڑکی کو کڈنیپ کرکے لے جانے ولا تھا اب وہ بتاۓ گا خاتم شاہ کو کہ بدنامی کیا ہوتی ہے بہت عاش کر لی تھی اُس نے اب ایسا داو کھلے گا وہ کہ جن لوگوں کی نظر میں وہ عزت واحترام کا حامل ہے وہی لوگ اب اُس پر ہنسے گے ,دلاور ملک خوشی سے خیالی پلاو بنا رہا تھا اور

گھٹیا پلانگ کر رہا تھا ۔ لیکن وہ بھول رہا تھا کہ اوپر والا سب ست بڑا پلائنر ہے وہ کیسے اُس کی رسی کھنچے گا اور اُس کی ساری پلائنگ دھری کی دھری رہ جاۓ گی۔

کچھ دیر بعد اُسے وہ لڑکی ایک اور لڑکی کے ساتھ ۽گیٹ سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی تھی۔

اور وہ اُس کا فارغ ہونے کا انتظارکرتا رہا اور جیسے ہی وہ لڑکی عنایہ سے گلے مل کر اپنے رہ گی تھی وہ جلدی سے باہر نکلا تھا۔

مگر۔۔۔ اُسےچند قدم لینے کہ بعد روکنا پڑا کیونکہ اس نے ایک گاڑی سے خاتم شاہ کے پوتےکو نکلتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔ جو عنایہ کو گاڑی میں بٹھا کر گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔

دلاور ملک گالیاں بکتاگاڑی میں بیٹھا تھا اور رفیق کا نمبر ملایا تھا ۔” ہیلو”……( گالی بکی تھی) تم نے تو کہا تھا کہ اُس لڑکی کو صرف ڈرائیور ہی لینے آتا ہے وہ …( گالی)…افنان شاہ تو شادی کی تیاریوں میں بزی پے “وہ آج اُس لڑکی کو خود لینے آنے والا تھا تم نے یہ بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی”دلاور ملک فون پر رفیق سے بولا تھا۔”

“سر میں آپ کو کال کرتا رہا ہو مگر آپ نے میری کال اُٹھائی ہی نہیں میں یہی بتانے کے لیے آپ کو کال کر رہا تھا کہ آج افنان شاہ خود اُس لڑکی کولینے کے لیے اُس کے کالج جا رہا ہے۔۔

صبح وہ پہلے آفس گیا تھا میں اُس کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔

اُس کے بعد جب وہ وہاں سے نکلا تب بھی میں اُس کے پیچھے ہی تھا مگر وہ گھر جانے کے بجاۓ وہ کالج کی روڈ کی جانب موڑا تھا تب سے میں آپ کا نمبر ٹرائی کر رہا تھا۔۔

رفیق نے تفصیل بتاتے ہوۓ کہا تھا۔۔

اچھا اچھا اب فون بند کرو “اب مجھے ساری خبر پہلے ہو جانی چاہیے سمجھے۔۔دلاور ملک نے غصے سے کہا اوربنا رفیق کا جواب سنے فون بند کر چکا تھا۔۔

کب تک چپھاو گے خاتم شاہ اپنی پوتی کو ایک دن تمہاری ناک کے نیچے سے اُسے اُڑا لے جاو گا۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔ ۔۔۔اُس نےقہقہ لگایا تھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے کلب کی جانب موڑی تھی کیونکہ اب اُسے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا تھا۔۔۔

عنایہ اور ہانیہ اِس وقت شہر کے مشہور شاپنگ مال میں تھی مگر عنایہ بیگم کا منہ بنا ہوا تھا وجہ تھی افنان کا ساتھ آنا دن کو کالج سے تو وہ اُس کے ساتھ آگئ تھی مگر پھر شاپنگ مال میں بھی وہ اُن کے ساتھ موجود تھا۔۔ اور اب بھی ایک دکان میں کھڑی کپڑے پسند کرہی تھی مگر عنایہ کا موڈ پھر بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا۔۔افنان بھی ایک سائیڈ پر کھڑا موبائل پر بزی تھا۔۔۔

کیا یار عنایہ موڈ ٹیھک کرو اپنا تمہیں پتا تو ہے ڈرائیور چاچا بزی تھے اِسی وجہ سے بھایو ساتھ آۓ ہیں تم اُن کا احسان مانے کے بجاۓ نخرے دیکھا رہی ہو” ہانیہ اُس کو سمجھانے والے انداز میں آہستہ آواز میں بولی تھی۔

ہاں تو کیا ہوتا اگر ہم ٹیکسی وغیرہ میں آجاتے۔۔عنایہ نے بھی ترک کر جوب دیا تھا۔۔

ہانیہ تم بھی اپنے لیے کوئی سوٹ پسند کر لو وہ سامنے دیکھو کتنا خوبصورت ڈریس ہے افنان ہانیہ کو سامنے ایک ڈریس کی جانب متوجہ کرتے ہوۓ بولا۔۔

ہانیہ سمجھ گئ تھی کہ وہ جان بوجھ کر اُسے وہاں بیج رہا ہے( کہی نہ کہی اُسے بھی پتا تھا کہ افنان عنایہ کو پسند کرتا ہے اور آگر یہ چھوٹی سی لڑکی اُس کی بھابھی بن جاۓ تو کیا بات ہو مگر وہ عنایہ کا افنان کے متعلق خیالات کو بھی جانتی تھی)۔ہانیہ وہاں سے دوسرے کاونٹر کی طرف بڑھی تھی جبکہ عنایہ وہی پر کپڑے دیکھ رہی تھی جب اچانک افنان نے اُس کا ہاتھ پکڑکر کونے میں لے کر آیا تھا۔۔

اب بولو کیا کہہ رہی تھی بہت شوق ہے تمہیں تماشہ بنانے کا کیا بکواس کر رہی تھی تم ابھی کہ ٹیکسی میں آجاتی “: افنان نے غصے سے اُس کا بازو دبوچ کر کہا تھا۔

ہاں آجاتی” میں آپ کے ساتھ نہیں آنا چاہتی تھی عنایہ کو بھی غصہ آیا تھا وہ اپنا بازو اُس کے ہاتھ سے چھوڑاتے ہوۓ بولی تھی۔۔

” کان کھول کر سن لو اور اپنے اِس چھوٹے سے دماغ میں بھی بٹھا لا کہ آج کے بعد تم جا بھی جاو گی میں خود تمہیں لے کر جاو گا” اور تمیں شاپنگ نہیں کرنی تو چلو یہاں سے لیکن اس کے بعد تمہیں کوئی نہیں لاۓ گا شاپنگ پر سمجھی” افنان نے اُس کا بازو چھوڑتے ہوۓ کہا تھا اور وہ پیر پٹختی ہوئی ہانیہ کی طرف بڑھی تھی” جو کوئی ڈریس پسند کر چکی تھی اور اُسے پیک بھی کروا لیا تھا۔۔” عنایہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ڈریس ا ُسی کے لیے لیا گیا ہے۔۔

اُس کے بعد اُس نے ساری شاپنگ کی تھی پھر بھی وہ اپنا بدلہ لے چکی تھی افنان کو پورے شاپنگ مال میں گما گما کراور بچاری ہانیہ ویسے ہی پسی تھی ساتھ” اللّٰہ اللّٰہ کر کے اُس کی شاپنگ مکمل ہوئی تھی اور ان دونوں نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔۔

آج خاتم منشن کو خوب سجایا گیا تھا کیونکہ آج گھر کی لاڈلی کی مہندی جو تھی ہر طرف جگمگاتی لائٹش تھی ۔ کیو نکہ مہندی کا فنکشن باہر لان میں ہونا تھا جیسے خوب سجایا گیا تھا,ہر طرف پیلے۔اور سرخ کلر کے پھولوں سے خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی۔۔