624.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 24

Ishq Da Rang by Saman

میں بنا دیتی ہو ناشتہ بھابھی “…

وہ دودھ شیلف پر رکھتے ہوۓ بولی

میں نے سوچا تم ماں بیٹی کے چونچلے جانے کب ختم ہو اسی لیے میں خود ہی بنا لیتی ہو ناشتہ”،،،

انیلا بیگم پراٹھے کا پیڑا لیتے ہوۓ بولی

بھابھی کیا بات ہے آگر آپ کو کوئی بات بری لگی ہے تو مجھے بتاۓ یوں طنز کے تیر کیوں چلا رہی ہے”،،،

سمیرا بیگم کو ان کے رویے کی سمجھ نا آئی تھی”

سمیرا میں گھما پھیرا کر بات نہیں کرو گی”،،

کل جو کچھ بھی ہوا ” اس کی کیا گارنٹی ہے کہ ان لوگوں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا” کچھ غلط کیے بنا ہی چھوڑ دیا

اور اگر چھوڑ بھی دیا ہو تو کون یقین کرۓ گا …”

دنیا والے اسے شک کی نظروں سے ہی دیکھے گے وہ دنیا کی نظروں میں ہمیشہ مشکوک رہے گی”،،

بھابھی مجھے دنیا کی پرواہ نہیں” آپ اپنی بات کریں”

سمیرا بیگم نے بھی دوٹوک بات کی تھی

دیکھو سمیرا میرا ایک ہی بیٹا ہے اسی لیے میں نہیں چاہتی کہ ایک ایسی لڑکی اس کی زندگی میں شامل ہو جاۓ جس کے دامن پر داغ ہو

میں نہیں چاہتی کہ وہ کسی مجبوری یا کسی کی خوشی کے حاطر اپنی زندگی برباد کرۓ

اسی لیے میرا نہیں خیال کے یہ رشتہ آگے بڑھنا چاہیے

تم سمجھ رہی ہو نا میری بات “،، انیلا بیگم نے ان کی طرف دیکھا جو بے یقینی سے انھیں دیکھ رہی تھی

یہ وہی انیلا بیگم تھی جنہیں عنایہ اپنی بیٹی سے بھی زیادہ عزیز تھی

کیا رشتے اتنی جلدی بدلتے ہے انھیں تو یقین ہی نہیں آیا تھا کہ جو کچھ انھوں نے کہا وہ حقیقت ہے؟؟

ہم عنایہ کی شادی کسی اچھی جگہ کردیں گے “،،،

انیلا بیگم نے انھیں ساتھ تجویز بھی دی

اس کی زندگی کا فیصلے کرنے کے لیے اس کے ماں باپ موجود ہے آپ اس کی فکر مت کریں

سمیرا بیگم کی آنکھیں نم ہوئی تھی اور وہ وہاں سے نکلتی چلی گی تھی

مگر دراوزے کے پاس ہی انھیں افنان ملا تھا جس کے چہرے پر خصہ صاف نظر آرہا تھا

جیسے وہ ان کی ساری باتیں سن چکا ہو…”

سمیرا بیگم روکی اور اسے شکوہ بھری نظروں سے دیکھا “

جس نے ان کے دیکھنے پر نظریں چرائی وہ ان کے سامنے شرمندہ ہوا

وہ اس پر سے نظریں ہٹا کر جلدی سے آگے بڑھی۔۔۔

ماما میجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے” افنان نے کیچن میں داخل ہوتے ہوۓ انیلا بیگم سے کہا

بولو بیٹا میں سن رہی ہو ” انیلا بیگم نے پراٹھا بناتے ہوۓ کہا

نہیں یہاں نہیں میں آپ کا آپ کے کمرے میں انتظار کر رہا ہوں،

وہ بغیر ان کا جواب سنے باہر نکل گیا

تھوڑی دیر بعد وہ بھی پراٹھا اتار کر چولہا بند کرتی باہر نکلی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھی

شاید انھیں معلوم تھا کہ وہ کیا بات کرنے والا ہے

وہ کمرے میں آئی تو زوار شاہ بھی وہی موجود تھے

وہ دونوں باپ بیٹے صوفے پر بیٹھے تھے وہ چلتی ہوئی بیڈ پر جاکر بیٹھی تھی۔

کیا بات ہے؟؟؟ بیٹا تم کچھ پریشان لگ رہے ہو؟؟؟؟

زوار شاہ نے بیٹے کے جبڑے غصے سے بھینچے دیکھے تو بولے

بابا کیا جو کچھ بھی ہوا اس میں عنایہ کی غلطی ہے ؟؟؟ کیا مجھے اس سب کے بعد اسے اپنی زندگی سے نکال دینا چاہیے؟؟؟؟

افنان بنا اپنی ماں کی طرف دیکھے اپنے باپ سے مخاطب ہوا

افنان یہ……… یہ کیسی باتیں کر رہے ہو”،، تم نے یہ سوچا بھی کیسے؟؟؟

اِس سب میں اس معصوم بچی کا کیا قصور”…

وہ بچاری تو تمہارے اور بابا جان کے دوشمنوں میں پسی تھی کیا تم بھول گۓ کہ دلاور ملک نے تمہیں تکلیف پہچانے کے لیے عنایہ کا استعمال کیا

زوار شاہ کو اس کی بات سن کر غصہ آیا تھا

مجھے نہیں بابا یہ ماما کو سمجھاۓ جو عنایہ کو میری زندگی سے نکالنا چاہتی ہے

جو مجھ سے میری ہی زندگی چھینا چاہتی ہے اپنے ہاتھوں سے”،،

افنان نے انیلا بیگم کو خفگی سے دیکھا

اس میں غلط کیا ہے ؟؟ وہ لڑکی صبح سے شام ان غنڈوں کے پاس رہی کیا معلوم اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ہو…اور……………

بسسسس………”یہ کیا بکواس کر رہی ہو انیلا ؟ تم ہوش میں تو ہو

زوار شاہ نے ان کی بات کاٹی اور اونچی آواز میں مخاطب ہوۓ

افنان بھی اپنی ماں کو تاسف سے دیکھ رہا تھا””

اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا وہ کورے کاغذ کی طرح صاف ہے

اس بات کی گارنٹی دیتا ہو میں آپ کو اور اگر کچھ ہوا بھی ہوتا میں تب بھی اپناتا اسے”،،،

افنان نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا,,,

میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دو گی

آگر ایسا ہماری ہانیہ کے ساتھ ہوتا تو آپ کیا کرتی؟

افنان ایک دم غصے سے کھڑا ہوا

اللہ نہ کرۓ “:؛ انھوں نے دہل کر دل پر ہاتھ رکھا

اس کی جگہ ہانیہ بھی ہو سکتی تھی ماما “،،، زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے

اور اگر عنایہ مجھ سے دور ہوئی تو میری سانسیں بھی مجھ سے دور ہو جاۓ گی وہ میری زندگی ہے ماں”،،،

افنان غصے سے کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا

جبکہ انیلا بیگم نے سر جھکا لیا اور سوچ میں گم ہو گئ “،،،

زوار شاہ نے انھیں دیکھ کر تاسف سے گردن ہلائی اور وہ بھی کمرے سے باہر نکل گۓ تھے,,

افنان کمرے سے تو کیا غصے میں گاڑی لے کر گھر سے ہی نکلا آیا تھا

اسے آج اپنی ماں کی باتوں پر افسوس ہوا تھا”،،،،

وہ کیسے ایسا سوچ سکتی تھی اس سب میں اس معصوم سی لڑکی کا کیا قصور تھا

ایسا کیسے سوچ سکتی ہے ماما آپ ؟؟ کیسے؟؟

اسنے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا تھا

وہ کافی دیر بے مقصد سڑکوں پر گاڑی گھماتا رہا

اسے گھر سے نکلے کافی دیر ہو چکی تھی زوار شاہ کا بھی فون آچکا تھا”،،،

وہ اس کے لیے پریشان ہورہے تھے”،،،

اس نے واپس گاڑی گھر کی طرف موڑی “”،،

کچھ دور جانے کے بعد ایک گاڑی اس کی گاڑی کے آگے کھڑی ہوتھی

آگر وہ ایک دم بریک نا لگاتا تو گاڑی ضرور اس گاڑی سے ٹکڑا جاتی

وہ غصے سے گاڑی سے اترا اور دوسری سامنے کھڑی گاڑی کی طرف بڑھا

اس نے چند قدم ہی لیے کہ اس گاڑی سے نکلنے والے کو دیکھ کر ایک دم روکا””،،،،،،،