Ishq Da Rang by Saman NovelR50440 Ishq Da Rang Episode 18
Rate this Novel
Ishq Da Rang Episode 18
Ishq Da Rang by Saman
افنان نے بیک مرر سے دیکھا تھا گاڑی اب بھی ان کے پیچھے تھی۔۔
افنان نے اپنے حاص بندوں کو بھی فون کر دیا تھا
مگر جب تک انھوں نے پہنچنا تھا اُس نے انھیں چکما دے رکھنا تھا۔۔
اس نے گاڑی ایک گلی کی طرف موڑی تھی جو زیادہ کھولی تو نہ تھی مگر گاڑی آسانی سے گزر سکتی تھی۔۔
اورگاڑی کی سپیٹ بڑھائی اسے معلوم تھا کہ یہ دلاور ملک کےبندے ہے اُس نے رفیق کو دیکھا تھا جو اس گاڑی میں ماجود تھا”
ایک دفعہ وہ لوگ اس کے بندوں کے ہاتھ لگ جائیں وہ ان سے سب اگلوا لے گا”
مگر یہ ٹائم یہ سب باتیں سوچنے کا نہیں تھا اسے عنایہ کی ٹیشن ہو رہی تھی جو اس صورتحال میں کافی گھبرا جاتی مگر یہ بھی شکر تھا کہ وہ فلحال سورہی تھی۔۔
افنان نے گاڑی گلیوں میں گھومانا شروع کر دی تھی وہ اب بھی اسکے پیچھے ہی تھے وہ کبھی گاڑی ایک گلی کی طرف موڑتا اور کبھی دوسری گلی میں ۔۔
پھر اس نے ایک سنسان گلی میں گاڑی موڑ کر گاڑی بند کر کے کھڑی کی تھی جہاں بکل اندھیرا تھا
۔۔اس نےگاڑی کی لائٹ بھی بند کر دی تھی اب وہاں بکل اندھیرا ہو چکا تھا
تھوڑی ہی دیر بعد اس کے پیچھے سے وہ گاڑی گزری
جب اسے یقین ہو چکا کہ وہ لوگ آگے نکل چکے ہے اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور ریورس موڑ کر دوسری گلی سے گاڑی باہر نکالی۔۔ اور سڑک پر لے آیا ۔۔
ویسے بھی اس کے آدمی پہنچ چکے تھے اسے میسج مل چکا تھا۔۔
اس کے بندوں نے دلاور ملک کے بندوں کو قبضے میں کر لیا تھے
اب آگے انھوں نے کیا کرنا تھا وہ اُنھیں معلوم تھا
اسنے ریلکس ہوکر گاڑی گھر کی طرف موڑ کر فل سپیٹ پر ڈالی۔۔
اسے عنایہ کی نیند پر حیرانی ہوئی جو اتنا سب کچھ ہونے پر بھی نہ جاگی وہ تو گدھے ،،گھوڑے سب بیچ کر سوئی تھی۔۔
اس نے نفی میں گردن ہلائی اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔
ارے لڑکی اُٹھ جاؤ،،، ہم گھر پہنچ چکے ہے ، افنان نے اس کا کندھا ہلایا تھا۔۔
عنایہ نے آنکھیں مسلتے ہوۓ سیٹ کی بیک سے سر اُٹھایا ۔۔
ہم اتنی جلدی پہنچ گے” عنایہ نے باہر دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔
جہاں گاڑی اندر پورچ میں روکی تھی۔۔
بکل میڈم ہم پہنچ گے ہے اب اترو کہ گاڑی میں رات گزارنے کا اراہ ہے۔۔
(اتنا کچھ ہوا اور اس کے لیے اب بھی جلدی تھی،،،))
افنان صرف سوچ سکا تھا
عنایہ نیند میں جھولتی ہو اتری اور اندر کی طرف بڑھی ۔۔
افنان سارا سامان ملازم کو لانے کا کہہ کر خود بھی اندر کی طرف بڑھا تھا
رات کے اندھیرے میں وہ گھر سے گاڑی لے کر نکلا تھا۔۔
اس کی منزل اپنے حفیہ ٹھکانے کی تھی۔۔
جہاں اس کے حاص بندوں نے دلاور شاہ کے لوگوں کو رکھا ہوا تھا۔۔
تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکا تھا ۔۔
وہ گاڑی سے اترا اور اندر کی طرف بڑھا اس وقت وہ بلیک ٹراوزر کے اوپر بیلک ہوڈی پہنے ہوۓ تھا جس سے اس کا اونچا لمبا قد نمایاں ہو رہا تھا۔۔
اندر مین دروازہ کراس کرتے ہی وہ ایک اور دروازے سے اندر آیا اندر ہال میں ہی اس کا وفادار بندہ اظفر ماجود تھا۔۔
ہاں بولو اظفر کچھ بولا وہ کہ نہیں ؟ اس نے اظفر کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔۔
نہیں سر بڑی ڈھیٹ ہڈی ہے کچھ بھی نہیں اُگل رہا؛”
اظفر نے ہاتھ باندھتے ہوۓ کہا
کمال ہے اظفر تم بڑے بڑوں کے منہ کھلوا لیتے ہو تو پھر آج کہا کوتائی ہوئی تم سے “
ساتھ ہی اس نے قدم بڑھاۓ “
وہ چلتا ہوا بائیں جانب بنی سڑھیوں کی طرف آیا “”
جو نیچے کی طرف جاتی تھی
وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ایک ایک سٹپ نیچے اترا اور دائیں طرف بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں آیا
جہاں دو کرسیوں پر دلاور ملک کے وفاداروں کو باندھا گیا تھا ان میں سے ایک تو رفیق تھا۔۔دلاور ملک کا حاص بندہ جبکہ دوسرے کو وہ نہیں جانتا تھا ۔۔
اس کے دو آدمی ان دونوں کے پیچھے کھڑے تھے
اظفر نے انھیں ہاتھ سے باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود افنان کے پیچھے کھڑا ہوا “
دلاور ملک کے ہر منصوبے کا علم تو رفیق کو ہوتا تھا باقی سب تو اس کے مہرے تھے جنہیں وہ اپنے طریقے سے استعمال کرتا “
وہ وہی پر رکھی ایک کرسی پر بیٹھا اور ٹانگ کے اوپر ٹانگ جمائی”
ہاتھ پیچھے کر کے اظفر سے کوئی چیز مانگی ” جیسے اس نے سمجھتے ہوۓ وہ چیز اسے تھمائی “
وہ ایک تیز دار نوکیلا چاقو تھا
جیسے وہ اپنی انگلیوں میں گھومانا شروع کر چکا تھا”
اس نے اپنی نیلی آنکھیں رفیق کے چہرے پر گاڑھی۔۔
جو نیم بے ہوش کی حالت میں تھا دوسرا تو بے ہوش ہی ہو چکا تھا”
مگر رفیق شائد واقعی ڈھیٹ ہڈی تھی “
اتنا ٹارچر کرنے کے باوجود بھی وہ ہوش میں تھا ناصرف ہوش میں بلکہ افنان کے آنے پر اسے دیکھا اور مسکرایا “
جیسے اسے چڑانے کی کوشش کی ہو اس نے”
تم کچھ بھی کر لوافنان شاہ مگر میرا منہ نہیں کھلوا سکو گے”
رفیق نے اس کی آنکھوں میں دیکھا”
جو اس وقت غصے سے سرخ ہو رہی تھی
اور اگر میں تمہارا منہ کھلوا لو تو؟؟؟؟
افنان اب اگے ہو کر بیٹھا
ہہہہہہو،،،،،،،، تمہاری بھول ہے””
رفیق طنزیا ہنسا “”
مجھے چیلنج مت کرو تمہیں پتا ہے ؟؟
مجھے چیلنج بہت پسند ہے”
افنان پرسرار ہوا” اور اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی “
جبکہ اس کے لہجے پر ایک بار رفیق بھی گڑبڑایا “
کیا،،،،،،،،کیا کر لو گے تم؟؟؟؟؟ مارو گے ؟؟؟؟
مار دو کیونکہ میں تمہیں کچھ بھی نہیں بتانے والا””
رفیق نہ ڈر ہوا”
جبکہ کے افنان نے ہاتھ میں لیا چاقو اس کے کرسی پربندھے ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان میں رکھا
اور اسے آنگلیوں کے آرپار کرنے لگا ” وہ چاقو کی نوک کو ہر اگلی کے درمیان میں ماجود فاصلے میں مارتا “
تمہیں پتا ہے؟ مجھے یہ کھیل بہت پسند ہے اور جب اس کھیل میں سامنے والی کی ایک ایک انگلی کٹتی ہے تو مجھے اور بھی مزہ آتا ہے”
افنان نے چاقو تیز تیز چلانا شروع کیا تھا “
رفیق سانس روکے پٹھی آنکھوں سے اس کے چاقو کی حرکت دیکھ رہا تھا”
پھر اچانک افنان نے چاقواوپر کر کے نیچے اس کے ہاتھ پر مارا۔۔
وہی رفیق کی چینخ نکلی اس نے ڈر کر آنکھیں بند کر لی “
مگر یہ کیا؟؟؟؟؟؟ اسے تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی اور ہاتھ کی جانب دیکھا””
جہاں چاقو اس کی دو انگلیوں کے درمیان کرسی پر لگا تھا””
یہ تمہارے ہاتھ پر بھی لگ سکتا تھا میں تمہیں موقعہ دے رہا ہو
مگر اگلی بار میں کوئی رائیت نہیں برتنے والا” افنان نے اسے وارن کیا”
دیکھو مجھے کچھ نہیں پتا” رفیق اب بھی اپنی بات پر قائم رہا””
ٹھیک ہے پھر تم ہمارے کسی کام کے نہیں مگر میں تمہیں اس دلاور ملک کے کام کا بھی نہیں چھوڑوں گا ,,
افنان نے یہ کہتے ہی ایک زور دار مکہ اس کے منہ پر مارا جس سے اس کے ہونٹ کا کنارہ پھٹ چکا تھااور وہاں سے خون نکلنا شروع ہوا””
افنان نے دو تین مکے اس کے پیٹ میں مارے
پھر بھی رفیق کچھ نہ بولا
افنان و مزید غصہ آہا تھا اس کا ڈھیٹ پن دیکھ کر “”
تبھی اس نے آخری حربہ آزمایہ
چاقو سے اس کے دونوں ہاتھوں پر کٹ لگایا
جس سے رفیق کی چیخ و پکار شروع ہو چکی تھی
افنان نے اس کی چیخوں کا کوئی اثر نہ لیا “
تبھی اس نے چاقو سے اس کے گال پر کٹ لگایا تھا””
بتاتا ہو،،،،،،،، سب بتاتا ہو ،،،،،،،،، خدا کے لیے اگے کچھ مت کرنا “”
رفیق اور درد برداشت نہ کر سکا تھا تبھی بول پڑا “”
جلدی بولو؟؟؟؟
افنان نے چاقو کپڑے سے صاف کیا تھا””
،،مم مجھے،،،،،،،د،،،،،،،،دلاور ملک نے ،تمہیں ما،،،،رنے اور اس لڑ،،،،،،،،،لڑکی کو اُٹھانے کا حکم دیا تھا”””
رفیق نے درد برداشت کرتے ہوۓ کہا
وہ، تمہیں مار کر اس لڑکی کو کچھ ، دن اپنے پاس رکھ کر راتیں رنگین بنانا چاہتا تھا””
پھر اسے دبئی اسمگلر کرنا چاہتا تھا””
تاکہ وہاں اسے کسی شیخ کے آگے بیچ،،،،،،، سکے،،،،،
پلیز مجھے چھو،،،،، چھوڑ ،،،، دو
رفیق نے ساری بات بتا کر”””
آخر میں اس کے آگے ہاتھ جوڑے””
جبکے اس کی ساری باتیں سنے کے بعد اس کی رگیں تن چکی تھی””
ایک زور دار مکہ رفیق کے ناک پرمارا جو کرسی سمیت پیچھے گرا تھا”
خود بیٹھ کر اس کا گریبان پکڑا “”
تمہیں چھوڑ دو تاکہ تم دلاور ملک کے برے فعل میں اس کا ساتھ دو “”
تمہیں شرم نہیں آئی اس کے اتنے گھٹیا کام میں اس کا ساتھ دینے چلے تھے”
کیا تم اپنی بیٹیوں کو بھول گے رفیق ؟؟
تمہاری بھی تو دو بیٹیاں ہے تم نے کبھی سوچا کہ دوسری کی بہن بیٹی کی عزت سے کھل کر تمہاری اپنی بیٹیوں کے ساتھ کیاکچھ ہو سکتا ہے”
افنان نے اسے آئینہ دیکھایا “”
میں وعدہ کرتا ہو میں اپنی بیوی بیٹیوں کو لے کر کہیں دور چلا جاو گا “”
دلاور ملک کا ساتھ کبھی نہیں دو گا “”
وہ واقعی پشیمان ہوا تھا آج اس کی آنکھیں کھولی تھی افنان نے””
ورنہ وہ تو ہر برے کام میں دلاور کا ساتھ دیتا آیا تھا””
بھاگ کر جانا اس مسئلے کا حل نہیں ہے رفیق “”
اگر تم سچ میں اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا چاہتے ہو تو تمہیں دلاور ملک کے خلاف ہمیں ثبوت دینے ہو گے””۔۔۔
تاکہ اسے کڑی سے کڑی سزا ملے اور وہ کبھی پھر کسی کی بہن بیٹی پر بری نظرنہ ڈال سکے””
اس نے آج تک جو جو بھی کیا ہے اسکے ساری کالے جٹے تم ہمیں بتاو گے””
اور اگے بھی ہماری مدد کرو گے””
افنان نے اظفر کو اسے کھولنے کا اشارہ کیا تھا “”
اظفر جلدی سے اگے بڑھا اور اس کی کرسی کو سیدھا کر کے اس کے ہاتھ پاؤں کھولے “
میں آپ کی ہر طریقے سے مدد کرنے کے لیے تیار ہو”
مگر میری بیٹیاں ” رفیق کو اب اپنی بچیوں کی فکر ہوئی تھی”
تم فکر نہ کرو انھیں ہم کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچا دیں گے””۔۔۔۔
اور ان کی خفاظت کے لیے میں اپنے دو آدمی بھی بھیج دو گا””۔۔
افنان نے اس کی پریشانی دور کی
پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے میں آپ کی مدد کے لیے تیار ہو “۔۔ مجھے کیا کرنا ہو گا
رفیق نے اس سے پوچھا تھا
وہ تمہیں اظفر سمجھا دیں گا “”
اظفر !
افنان نے اس پکارا “”،،
جی سر “”
اظفر مودب سا اگے بڑھا
اظفر جاؤ پہلے اس کی مرہم پٹی کروا پھر اس کے بعد مجھ سے ملو”
افنان نے اسے سمجھایا
اوکے سر””
،، چلو “” اظفر نے آخر میں رفیق کو دیکھتے ہوۓ کہا اور اسے لیے کمرے سے باہر نکلا””
اب تو بہت ہو چکا دلاور “” تم نے میری عنایہ کے بارے میں غلط سوچا
میں تمہارا وہ حال کرو گا کہ تم موت کو ترسوں گےاورتمہیں موت بھی نہیں آئی گی
wait and watch
افنان نے ہوڈی سر پر لی اور جیبوں میں ہاتھ ڈالے باہر نکلا
اب اس کا ارادہ خاتم منیشن جانے کا تھاکیونکہ صبح ہونے میں تھوڑا ہی وقت رہتا تھا ۔۔
ہانیہ کی طبیعت آج صبح سے ہی ٹھیک نہیں تھی جب سے وہ پریکنٹ ہوئی تھی تب سے اس میں عجیب سا چڑچڑاپن آگیا تھا
اسے کچھ کھانے پینے کا بھی دل نہیں کرتا زیان اسے زبردستی کھلاتا تھا
آج بھی وہ طبیعت کی وجہ سے صبح سے بیڈروم میں ہی تھی
آسیہ بیگم نے اس کی طبیعت کی وجہ سے نیچے والا ایک روم میں شفٹ کر دیا تھا تاکہ اسے سڑھیاں ,,,اترنے چڑھنے میں کوئی مسئلہ نہ ہو
زیان آفس سے ایا تو وہ بیڈسے ٹیک لگا بیٹھے بیٹھے ہی سو رہی تھی ۔۔۔
زیان نے اپنا لائپ ٹوپ ,,,,والٹ اور کیز وہی ٹیبل پر رکھا اور بیڈ کی طرف آیا
