250.9K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Da Rang Episode 16

Ishq Da Rang by Saman

کیا ؟ ,,,,,, وہ اتنی زور سے چلائی تھی کہ آس پاس کی کئ سٹوڈنٹ نے موڑ کر اسے

دیکھا تھا اورکچھ نے وجہ بھی جانی چاہی۔۔۔

اُس نے ڈھیٹوں کی طرح مسکرا کر کندھے اُچکاۓ۔۔

عنایہ نے اُس کی کمر پر مکہ جڑھا تھا اور گردن کو نفی میں ہلا کر کچھ نہیں کا اشارہ کیا ۔۔

تبھی اس کے اشارہ پر سٹوڈنٹ اپنے اپنے کام میں دوبارہ مصروف ہو چکی تھی

جبکہ صبا اس کا مکہ کھا کر اسے غصے سے گھور رہی تھی۔۔

کیا؟؟؟؟ اب ایسے کیوں گھور رہی ہو؟ عنایہ انجان بنی تھی۔

کیا کی بچی کمر توڑ کر پوچھ رہی ہو کیا ہوا۔۔

صبا نے اپنی کمر سہلائی ۔

اور تم جو اتنے زور سے چیخی وہ کیا تھا مادام؟

عنایہ نے بھی اسے گھورا تھا۔۔

ہاں تو اتنی بڑی بات تم مجھے بتاو گی تو حیرت کا اظہار تو بنتا ہے نا”

صبا لاپروا بنی تھی۔

اس میں حیرت کی کیا بات ہے یار ؟ عنایہ نے حیران ہو کر پوچھا

تواور کیا تم ,,, یعنی کہ تم افنان بھائی کے ساتھ شاپنگ پر جارہی ہو اوپر سے ڈنر کا بھی پلان ہے

حیرت کی بات تو ہے نا,,صبا نے آنکھیں مٹکائی۔۔

اب تم مجھ سے ایک اور کھاؤ گئ”

شاپنگ پر جارہی ہوں کوئی ہنی مون پر نہیں جا رہی ۔۔

عنایہ نے چڑتے ہوۓ کہا

لڑکی تم جس سپیڈ پر جارہی ہو

وہ دن بھی دور نہیں جب تم ہنی مون پر بھی پہنچ جاؤ اور تو اور مجھے حالہ بھی بنا دو ۔۔

صبا نے یہ کہہ کر کلاس کی طرف دوڑ لگائی

جبکہ عنایہ کچھ دیر تو اس کی بات کا مطلب سمجھتی رہی

اور جب سمجھ آئی اس کے پیچھے بھاگی۔۔

زیان اسے چیک اپ کے لیے ہوسپٹل لایا تھا ٹیسٹ وغیرہ ہو چکے تھے اب رپورٹ آنا باقی تھی “”

وہ دنوں ڈاکٹر کے کیبن میں ہی بیٹھے تھے ہانیہ بہت گھبرائی ہوئی تھی ناجانے کیا ہو گا رپورٹ میں””

ریلکس مسز زیان اتنا کیوں گھبرا رہی ہے آپ ؟؟؟ ڈاکٹر نے مسکرا کر اس چھوٹی سے لڑکی کو دیکھا تھا “”

جس کا ایک ہاتھ زیان کے ہاتھ میں تھا جسے اس نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا “”

ہانیہ کی تو ویسے بھی ڈاکٹروں اور ہوسپٹل سے جان جاتی تھی ۔۔

نہیں تومیں کہا گھبرا رہی ہوں ,,ہانیہ نے اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کیا

اس کی بات پر زیان اور ڈاکٹر دونوں نے اپنی مسکراہٹ روکی۔””

ٔ

اور اسی وقت ایک نرس رپورٹ لے کر اندر داخل ہوئی۔۔”” اور ڈاکٹر کے آگے رپورٹ رکھ کر باہر نکل گئ””

ہانیہ نے زیان کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی ۔۔””

congregation,,, مسٹر اینڈ مسز زیان

میرا شک ٹھیک نکلا “” ڈاکڑ نے رپورٹ دیکھنے کے بعد انھیں دیکھتے ہوۓ کہا””

کیامطلب میں کچھ سمجھا نہیں ؟ زیان زیان نے بے چینی سے ڈاکڑ سے پوچھا

مبارک ہو مسٹر زیان شی از پریگنٹ”” ڈاکڑ نے انھیں مبارک دی ساتھ خوش خبری بھی سنائی۔۔۔

کیاآپ سچ کہہ رہی ہے ڈاکڑ ؟ زیان پرجوش ہوا۔۔

جی بکل مسڑ زیان اب آپ کو ان کابہت خیال رکھنا ہے خاص طور پر ان کی ڈائٹ کا کیونکہ یہ بہت ویک ہے اور ان کی عمر بھی اتنی نہیں ہے ۔۔

ہر مہینے چیک اپ بھی کروانا ہو گا۔۔ڈاکڑ نے پیشہ ورانہ کہا ۔۔

بکل ڈاکڑ افکورس””

تھینک یو ڈاکڑ ” زیان نے رپورٹ ان کے ہاتھ سے لی تھی اور ہانیہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف بڑھا۔۔

جبکہ ہانیہ سے تو شرم کے مارے نظریں ہی نہیں اٹھائی جا رہی تھی۔

وہ اس کا ہاتھ پکڑے ہی اسے گاڑی کے پاس لایا تھا اور اسے دروازہ کھول کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور خود گھوم کو دوسری طرف اگر کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔

تھینک یو سو مچ ” میری جان مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوش دینے کے لیے “” اس کاہاتھ پکڑ کر ہونٹوں کے پاس لے جاکر چوما “”

ہانیہ تو شرم سے سرخ ہو چکی تھی اور اس سے نظریں ہی نہیں ملا پارہی تھی۔

زیان اس کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ہانیہ نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا اور اسے خود کو دیکھتے پاکر اسکی آنکھوں پر ایک ہاتھ رکھا ۔۔

زیان نے اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹا کر چوما تھا۔۔

پلیز زیان آپ اس طرح مجھے دیکھنا بند کرۓ مجھے شرم آرہی ہے۔

ہانیہ نے شرماتے ہوۓ کہا۔۔

ٹھیک ہے جو حکم آپ کا” زیان نے کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد سرکو خم دیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے گھر کی طرف موڑی۔۔

گھر پہنچ کر انھیں آسیہ بیگم لیونگ روم میں ہی ملی “” عالیان بھی وہی موجود تھا۔

اسلام وعلیکم” زیان نے سلام کیا اور وہی ان کے پاس صوفے پر بیٹھا۔۔جبکہ ہانیہ دوسرے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔

وعلیکم اسلام ,, ہو آۓ ہوسپٹل سے؟؟ کیا کہا ڈاکڑ نے؟؟؟ سب خیریت ہے نا؟ آسیہ بیگم نے ایک ہی سانس میں پوچھا “

زیان ان کی جلد بازی پر مسکرایا ۔۔ان کا ہاتھ تھاما””

آرام سے ماما” کیا ہو گیا سب خیریت آپ دادی بنے والی ہے,,زیان نے انھیں خوش خبری سنائی ۔۔

ہا نیہ کا سر شرم سے جھک گیا “*

ماں صدقے جاۓ بہت بہت مبارک ہو بیٹا ” آسیہ بیگم خوشی سے نہال ہوئی”” زیان کے ماتھےپر پیار دیا اور اُٹھ کر ہانیہ کی طرف گئ تھی۔۔

جیتی رہو بیٹی بہت مبارک ہو “” اس کے ماتھے پر بھی لب رکھے تھے۔۔

سنا تم نے عالیان تم چاچو بنے والے ہو” آسیہ بیگم عالیان سے مخاطب ہوئی جو یہ حبر سن کر خوش ہوا تھا۔۔

جی۔۔جی۔۔ماما۔۔بہت مبارک ہو ,, وہ زیان سے بغل گیر ہوا۔۔

جبکہ ہانیہ شرما کر اپنے کمرے کی طرف گئ تھی۔۔

گھر ایک دم خوشیوں سے بھر گیا تھا آسیہ بیگم تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔تبھی خاتم میشن بھی فون کر کے یہ خبر سنائی تھی۔۔

اور وہاں بھی یہ خبر سن کر سب خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔۔۔

افنان عنایہ کو کالج سے لے آیا تھا اور اب اس کا تیار ہونے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ اسے شاپنگ پر لےکر جانا تھا۔۔وہ تھی کہ نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اب بھی وہ لیونگ روم میں بیٹھا اس کے نیچے آنے کا انتظار کر رہا تھا تبھی انیلا بیگم خوشی سے اپنی کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔

سمیرا ,,افنان۔۔۔ عنایہ ,,سب کو ایک ہی سانس میں پکارا تھا۔۔

یااللہ خیر” سمیرا بیگم جو کچن میں تھی ان کی بات سن کر باہر بھاگی “”

کیا ہوا بھابھی ؟؟” سمیرا بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔

مبارک ہو سمیرا تم نانی بنے والی ہو” انیلا بیگم نے اونچی آواز میں کہا ۔۔

جبکہ ان کی بات سن کر سمیرا بیگم کا منہ حیرت سے کھلا

جبکہ افنان جو صوفے پر بیٹھا تھا اچھل کر کھڑا ہوا تھا اور اپنی ماں کو دیکھا

ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہے؟؟ افنان نے پریشانی سے اپنی ماں کو دیکھا

ارے تم لوگوں کو خوشی نہیں ہوئی ہمارے حاندان میں نیا مہمان آنے والا ہے,,

انیلا بیگم خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔

جبکہ سمیرا اور افنان حیرت سے انیلا بیگم کو دیکھ رہے تھے۔۔۔